"کمانڈروں کی بیویوں کی زبانی تاریخ" کی پہلی مقدماتی کتاب مؤلفین کی نگاہ میں

واقعات اور جنگ کی اجتماعی تاریخ کو اکٹھا کرنا

مریم اسدی جعفری
ترجمہ: سید مبارک حسنین زیدی

2018-03-20


جب جنگ ہوتی ہے تو اُس کے اثرات معاشرے کے تمام طبقات پر پڑتے ہیں۔ اس دوران جو زیادہ سختیوں کو تحمل کرتے ہیں وہ جنگ کے اعلیٰ افسران اور اُن کے گھر والے ہوتے ہیں۔ عراق کی ایران کے خلاف آٹھ سالہ جنگ بھی اس قانون اور قاعدے سے مستثنیٰ نہیں۔ ایسی جوان لڑکیاں جن کی ابھی نئی نئی شادی ہوئی تھی، انہیں دن رات اپنے شوہروں کے ایک ٹیلی فون کے انتظار میں رہنا پڑتا اور وہ زندگی اور اپنے فرزندوں کی تربیت کے بوجھ کو تن تنہا اپنے کاندھوں پر اٹھاتیں۔ ان کے شوہروں کو بھی جنگ کے دوران زیادہ مصروفیت کی وجہ سے اتنا وقت نہیں ملتا تھا کہ وہ اپنے گھر والوں کی خیریت دریافت کرلیں۔

اگرچہ آخری سالوں میں ہم نے مشاہدہ کیا کہ جنگ میں خواتین کے کردار کے بارے میں متعدد آثار منظر عام پر آئے، لیکن دفاع مقدس کے تحقیقی اور دستاویزی  مرکز کے علاوہ کسی نے بھی جنگ کے اعلیٰ افسران کی بیویوں سے رجوع نہیں کیا۔ اس مرکز کے سماجی اسٹڈی گروپ نے "کمانڈروں کی بیویوں کی زبانی تاریخ" کے عنوان سے ایک مقدماتی کام کے سلسلے میں اقدام کرکے اُن کے واقعات کا اندراج اور تالیف کی ہے۔ "ہمراہ" نامی کتاب جو ڈاکٹر مہر شاد شبابی  کی کمانڈر انچیف ڈاکٹر سید یحیی (رحیم) صفوی کی ہمراہی میں اَن کہی روایت پر مشتمل ہے، اس مجلد  کا پہلا منصوبہ شمار ہوتا ہے۔ ڈاکٹر شبابی کا میجر جنرل صفوی کی زندگی کا بیان، بہت دلچسپ اور پڑھنے والا ہےاور جنگ کے دوران اس کمانڈر کی زندگی کے نئے زاویوں کو سامنے لایا ہے۔  قم یونیورسٹی سے فلسفہ اسلامی کے شعبہ میں اپنی تعلیم مکمل کرنے والی زہرا اردستانی، جنہوں نے تقریباً پانچ سال پہلے دفاع مقدس کے تحقیقی اور اسنادی مرکز میں کام کرنا شروع کیا اور وہ اس کتاب کی مؤلفہ اور انٹرویوز لینے والی ہیں۔ آپ آگے چل کر ایرانی اورل ہسٹری سائٹ کی زہرا اردستانی سے "ہمراہ " نامی کتاب کے بارے میں ہونے والی گفتگو کا مطالعہ کریں گے۔

 

آپ دفاع مقدس کے تحقیقاتی اور اسنادی مرکز کے دیرینہ رئیس مرحوم ڈاکٹر حسین اردستانی  کے بھائی کی بیٹی ہیں۔ آپ ہمیں اپنے جنگی زبانی تاریخ کی فضا میں داخل ہونے کیلئے ڈاکٹر اردستانی کے کردار اور تاثیر کے بارے میں بتائیں۔

میرے مرحوم چچا کا مجھے کام کیلئے شوق دلانے یا دعوت دینے میں کوئی براہ راست کردار نہیں تھا۔ دفاع مقدس کی فضا میں کام شروع کرنا خود میری تجویز تھی۔ میرا بچپن اور نوجوانی جنگ میں گزرا ہے، میرا ذہن اور دل اُس معنوی فضا سے جڑا ہوا ہے اور اس جہت سے مجھے خود دفاع مقدس  میں دلچسپی ہے۔ میرے چچا رشتہ داروں میں ایک صاحب اثر شخص تھے اور اُن کی رائے اور باتیں ہمارے لیے اہمیت رکھتی تھیں۔ حقیقت میں اُن کی باتوں نے غیر معمولی طور پر اپنا اثر دکھایا اور مجھے اس ماحول کی طرف رغبت دلائی۔ لیکن جب میں نے کام شروع کرنے کا فیصلہ کیا، میں نے ڈاکٹر اردستانی سے کہا کہ وہ میری مدد کریں۔ انھوں نے مجھے دفاع مقدس کے تحقیقاتی اور اسنادی مرکز کے سماجی اسٹڈی گروپ میں متعارف کروایا۔ اس گروپ میں کچھ عرصے کام کرنے کے بعد، میں نے جنگی کمانڈروں کی بیویوں کی زبانی تاریخ کے سلسلے میں کام شروع کردیا۔

جہاں تک کہ دفاع مقدس کی تحقیقات اور دستاویزوں کی نگہداشت کے مرکز میں جنگی کمانڈروں کی بیویوں کے بارے میں کوئی معلومات موجود نہیں، آپ نے محترمہ شبابی سے آشنائی کیلئے کون سی دستاویزات اور منابع  سے استفادہ کیا؟ شاید خالی ذہن کے ساتھ انٹرویو  کا آغاز کیا ہو تاکہ کام کا معمول گفتگو کے طریقے کو آگے لے جائے۔

جب میں کمانڈروں کی بیویوں والے منصوبہ پر کام شروع کیا، ایک طریقے سے میں نے دوسری روش کو اپنایا۔ البتہ میں نے زبانی تاریخ اور زندگی نامہ کی تحریر کے بارے میں عمومی معلومات حاصل کرنے کیلئے  زبانی تاریخ سے مربوط کتابوں اورمقالوں کا مطالعہ کیا تاکہ مجھے اُن کی خصوصیات اور مقاصد کے بارے میں پتہ چلے۔ لیکن خاص طور سے محترمہ شبابی کے بارے میں، "جنوب لبنان سے جنوب ایران تک: کمانڈر انچیف ڈاکٹر سید رحیم صفوی کے واقعات" نامی کتاب کو میں نے بطور کامل پڑھا تاکہ مجھے پتہ چلے کہ انھوں نے اپنی بیوی کے بارے میں کیا کچھ کہا ہے۔ البتہ واقعات کا ایک بہت ہی مختصر حصہ اُن کی زوجہ سے متعلق تھا۔ انھوں نے کردستان میں ساتھ گزاری زندگی اور محترمہ شبابی کے ہاتھ بٹانے کو مختصر سے حصے میں بیان کیا تھا۔ لیکن میں واقعاً خالی ذہن کے ساتھ گئی اور میں نے اپنی پوری کوشش اس بات پر لگادی کہ میں اس بات کا اندازہ لگاؤں کہ کمانڈروں کی بیویوں کی زبانی تاریخ کی تالیف سے دستاویزی مرکز کے ہدف کی بنیاد پر  محترمہ شبابی کی زندگی کے کون سے پہلوؤں  پر تحقیق کروں۔ لہذا میں اس مقصد کو پورا کرنے کیلئے ایسی معلومات اور واقعات کی جستجو میں تھی جو مرکز کے مطالبات پر پورا اُترتے ہوں اور میں اسی سلسلے میں سوالات اٹھایا کرتی تھی۔

کبھی ایسا ہوتا ہے کہ بعض انٹرویو لینے والوں کے بارے میں انٹرنیٹ اور کتابوں میں کوئی معلومات موجود نہیں  ہوتی۔ پس آپ کے پاس انٹرویو لینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوتا، تاکہ پتہ چلے ہونے والی گفتگو سے کیا نتیجہ حاصل ہوگا اور پھر آپ باخبر افراد کی معلومات سے استفادہ کرتے ہیں۔ اس سے پہلے کہ ہم "ہمراہ" نامی کتاب کے پہلے حصے کے بارے میں بات کریں، بہتر ہوگا ہم کتاب کے نقطہ عروج یعنی جنگ کے زمانے کے بارے میں بیان کریں۔ میرے خیال سے محترمہ شبابی اور کمانڈر صفوی کے محبت بھرے خطوط نے کتاب کو اور زیادہ دلچسپ بنا دیا ہے۔ کیا آپ گمان کرتی تھیں کہ محترمہ شبابی کے واقعات میں ایسا دلچسپ موضوع چھپا ہوا ہوگا؟

واقعاً مجھے اس نتیجہ کی اُمید نہیں تھی اور مجھے نہیں معلوم تھا کہ مجھے کیسی شخصیت کا سامنا کرنا ہوگا۔ چونکہ مجھے محترمہ شبابی کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا۔ میں کمانڈر صفوی کی ذاتی زندگی کے بارے میں بھی کچھ نہیں جانتی تھی۔ میں اُنہیں صرف ایک فوجی کمانڈر کے حوالے سے پہچانتی تھی اور مجھے ان دونوں کے روابط اور ذاتی زندگی کے بارے میں بالکل بھی اندازہ نہیں تھا۔ دراصل میں صرف اس چیز کے درپے تھی  کہ میں کس طرح ان کے واقعات کو حاصل کرسکتی ہوں اور اُنہیں پڑھے جانے والے متن کے سانچے میں ڈھال لوں۔ شروع کی نشستوں میں محترمہ شبابی سے ملنے کے بعد ، اُن کے رویے، مطالب اور باتوں کے انتخاب سے مجھے کچھ حد اُن کی ذات کے بارے میں آگاہی حاصل ہوئی کہ میں اُن کی بنیاد پر بعد والی نشستوں میں، راوی سے ایک طرح کا رابطہ قائم کرسکوں اور اُن  مورد نظر اور حساس نقاط کو پہچان لوں۔ میری کوشش تھی کہ میں راوی کی ذاتی شناخت کی بنیاد پر، انٹرویو کی نشست کو منظم کروں تاکہ مورد نظر اہداف تک پہنچ جاؤں۔

راوی کے اندر نمائشی انداز یا کم سخن جیسی خصوصیات کا پہلی نشست میں پتہ چل جاتا ہے اور یہ زبانی تاریخ میں ہونے والے انٹرویو کے عمل پر اثر انداز ہوتا ہے۔ کیا محترمہ شبابی واقعات بیان کرنے اور خطوط دکھانے سے انکار نہیں کرتی تھیں؟ کیا انھوں نے اپنے ذاتی واقعات کو صراحت کے ساتھ بیان کردیا؟ شاید ڈاکٹر شبابی اور کمانڈر صفوی کے مقام کے پیش نظر، بعض واقعات کو بیان نہ کرنا، فطری سی بات ہو۔

خوش قسمتی سے خطوط کے معاملے میں دوسری والی بات پیش آئی۔ ہمیں ان لوگوں کے خطوط کی موجودگی کے بارے میں خبر نہیں تھی۔ اگر وہ خود سے خطوط کی بات نہیں کرتی اور ہمیں نہیں دکھاتیں تو ہمیں بھی کسی اور طریقے سے اُن کی موجودگی کے بارے میں  پتہ نہیں چلتا۔ خطوط کو دکھانے سے مجھے بہت خوشی ہوئی اور اس نے کام کے عمل میں ہماری اچھی مدد کی تھی۔ محترمہ شبابی اور کمانڈر صفوی کے ذاتی واقعات اور اُن کی پرگرم زندگی  کے بارے میں، خوش قسمتی سے ذاتی اور نمائشی دونوں علتوں کی وجہ سے، انہوں نے  بتانے کا اشتیاق ظاہر کیا۔ محترمہ شبابی نے ہمارے ساتھ بہت اچھا تعاون کیا۔ لیکن بہرحال یہ بات بھی بعید نہیں، جس طرح کہ آپ نے اشارہ کیا، انھوں نے اپنے معاشرتی مقام کے وجہ سے بعض واقعات کو بیان نہ کیا ہو۔

 

کیا کمانڈر صفوی نے بھی اپنے واقعات بیان کرنے میں اُسی طرح آپ کے ساتھ تعاون کیا؟

میری کمانڈر اور اُن کی زوجہ کے ساتھ دو مشترکہ انٹرویو کے علاوہ، اُن سے کوئی اور براہ راست گفتگو نہیں ہوئی۔ اُن دو نشستوں میں بھی جو جناب یحیی نیازی کی موجودگی میں انجام پائیں، زیادہ تر اُن کے سوالات پیش ہوئے اور میں نے کمانڈر سے صرف کچھ چھوٹے چھوٹے سوالات پوچھے۔ لیکن محترمہ شبابی سے انٹرویو کی مدت کے دوارن، غیر مستقیم طریقے اور اُن (محترمہ شبابی) کے ذریعے،  میں کمانڈر سے اپنے سوالات کے جواب حاصل کرلیتی۔ حقیقت میں محترمہ شبابی کے واقعات کی طباعت میں کمانڈر کو اہمیت دینا، ایک طرح سے محترمہ شبابی کی قدر دانی ہے کہ انھوں نے  جنگ کے دوران زندگی کی سختیوں کو تحمل کیا۔ اسی وجہ سے انھوں نے اس کام کیلئے کافی وقت بھی لگایا اور اپنی زوجہ کے ذریعے میرے سوالوں کا جواب دیا۔ جذباتی تعلقات بیان کرنے کے مسئلہ میں بھی کوئی مخالفت نہیں کی اور بہت آسانی سے اس موضوع کا سامنا کیا۔ میں نے اُن مشترکہ انٹرویوز میں، کمانڈر صفوی کے جذباتی احساسات اور اُن کی محترمہ شبابی کی طرف توجہ کو زیادہ محکم انداز میں دیکھا ہے۔ میرے خیال سے ایک طرف سے کمانڈر صفوی کی عورت اور مرد کے رابطہ پر مختلف نگاہ اور  دوسری طرف سے معاشرتی ذمہ داریوں کے ساتھ بیوی کے فرائض نبھانے کی وجہ، اُن کیلئے مددگار ثابت ہوئی کہ وہ  ہمیشہ اپنی زوجہ کیلئے ایک اچھے مددگار ثابت ہوں اور وہ اس کام میں ہر طرح کے تعاون سے کوئی دریغ نہیں کریں اور معاشرے کے سامنے اپنے جذباتی تعلقات آشکار ہونے پر کسی ذاتی خوف کا شکار نہ ہوں۔ البتہ محترمہ شبابی اور کمانڈر صفوی نے اشارہ کیا ہے کہ شاید کتاب کی طباعت کے بعد کچھ گلے شکوے کئے جائیں۔ وہ معاشرتی ماحول کے بارے میں کچھ پریشان تھے، لیکن بہت زیادہ نہیں تھے۔ میں نے اُن سے  کہا تھا کہ اگر وہ چاہتے ہیں تو ہم عام لوگوں کے لئے کتاب لکھتے ہیں اور جنگ کے غیر نظامی رخ کو سامنے لاتے ہیں،جنگ کی وجہ سے زندگی سے لاحق ہوجانے والی دشواریوں میں انہی  جذباتی تعلقات کا بیان ہونا، شادی شدہ زندگی کے لطف اور بیوی بچوں کی نفسیاتی ضروریات  کی طرف توجہ دینا بہت اہم ہے۔ اسی طرح جنگ کے دوران اہم عہدوں پر فائز ہونے کے باوجود  کمانڈر  (صفوی) او ر اُن کے رتبے کے برابر والے افسران کا سادہ زندگی بسر کرنا، بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔

 

ہمیں کمانڈر صفوی اور محترمہ شبابی کے ساتھ ہونے والی دو مشترکہ نشستوں کے بارے میں بتائیں۔ کیا دلائل کا بیان کرنا انٹرویو میں بہتری کیلئے موثر رہا؟

جیسا کہ میں نے عرض کیا محترمہ شبابی سے ہونے والے انٹرویو کے دوران، میں نے کمانڈر صفوی سے کچھ سوالات محترمہ شبابی کے ذریعے پوچھے۔ کمانڈر صاحب تعاون کرتے اور سوالوں کے جواب دے دیتے۔ اسی وجہ سے اُن نشستوں میں، چند سوال سے زیادہ سوال نہیں پوچھے۔ چونکہ زیادہ تر ابہامات کا جواب، انٹرویو کے دوران تدریجی طور پر میں محترمہ شبابی کے ذریعے کمانڈر سے لے لیتی۔ میں سوچ رہی تھی کہ شاید کمانڈر صفوی کے پاس شاید ایسے مطالب ہوں جنہیں انھوں نے بیان نہ کیا لیکن ایسا نہیں تھا اور سوائے ان کے اپنے ایک دو واقعات کے علاوہ، نہائی تحریر میں کسی اورمعلومات کا اضافہ نہیں ہوا۔ انٹرویوز کی نہائی تحریر کتاب کے آخر میں آئی ہے۔

 

البتہ اس انٹرویو کو ایک مخاطب کے  عنوان سے مطالعہ کرنا ہمارے لیے بہت جذاب تھا اور اس کی اشاعت ایک قابل تحسین اقدام لگ رہا ہے۔ وہ صفحات جو محترمہ شبابی اور کمانڈر صفوی کی آپس میں ابتدائی آشنائی سے مربوط ہیں، شادی سے پہلے سوالات کی صورت میں رد و بدل ہونے والے خطوط کو میں نے پڑھا ہے۔ سوالات بالکل مذہب اور عقیدہ کی بنیاد پر کئے گئے ہیں اور اُس میں آپ کو کوئی بھی ذاتی سوال نظر نہیں آئے گا۔ لیکن تدریجاً، یہ تعلق ایسی جگہ پہنچتا ہے کہ اس میں عاشقی بھی ہے  اور یہ اپنے اعتقادی بنیادوں کی بھی حفاظت کرتا ہے۔ زیادہ تر خطوط کے شروع میں "میرے محاذ کے ساتھی" اور "میرے ہمدل"  جیسی عبارتیں ایک ساتھ استعمال ہوئی ہیں اور تعلق کی اس کو قسم  شاید آج کی نسل  لمس اور درک نہ کرپائے۔ لیکن کمانڈر صفوی جیسی شخصیات اور اُن کی بیویوں کی زندگی کے طریقہ کار کو متعارف کرانا اور اُن کی اشاعت کرنا، انقلاب کی پہلی نسل کی مشترکہ زندگی کی کامیابی کے دلائل بیان کرنے میں مؤثر ہے۔ آپ کی رائے کیا ہے؟

مجھے نہیں معلوم میں ان مطالب کو منتقل کرنے میں کتنی کامیاب رہی ہوں۔ دفاع مقدس کے تحقیقاتی اور دستاویزی مرکز  کا سماجی سٹڈی گروپ اس ہدف کے درپے تھا۔ جنگ کے اعلی افسروں نے اپنے سے نیچے والے عہدیداروں کی نسبت  زیادہ سختی اور دباؤ کو برداشت کیا ہے۔ کیونکہ آٹھ سالہ جنگ میں وہ صبح و شام مستقل درگیر تھے اور زندگی کا پورا بوجھ اُن کی بیویوں کے کندھے پر تھا۔ ان خواتین اور مردوں نے جو جنگ کا بار اپنے کندھوں پر اٹھایا، یہ جوان اور کم سن و سال کے لوگ تھے۔ لڑکیاں سترہ یا اٹھارہ سال کی عمر میں مشترکہ زندگی کے آنگن میں داخل ہوجاتی ہیں۔ ہم ان انٹرویوز میں اس چیز کے درپے تھے کہ ان لڑکیوں کے وجود میں وہ کون سے خیالات اور تفکرات تھے جو باعث بنے کہ وہ اسی کم عمری میں اپنی زندگی کی حفاظت اور ترقی کیلئے شوہروں کی موجودگی کے بغیر جدوجہد کریں۔ یہ لوگ کس طرح اُن کی یاد میں تڑپتے ہوئے حالات کو سنبھالتی تھیں اور مرد حضرات اپنی جنگی ذمہ داری اور ذاتی زندگی میں کس طرح توازن برقرار رکھتے تھے۔ ہم نے کوشش کی ہے کہ اُس زمانے میں زندگی گزارنے کے طریقہ کار کو پڑھنے والوں تک منتقل کریں۔ اگر جنگی افسران اور اُن کی بیویاں پختہ عمر میں ہوتے، تو صبر اور حوصلے کا یہ معیار ایک فطری سے بات لگتی، لیکن جب اُنیس اور بیس سالہ  جوانوں نے اپنی اس طرح کی استقامت، ایثار، اور ہمدردی کا مظاہرہ کیا، اُن کے کام کی بڑائی اور اہمیت اور زیادہ نمایاں ہوگئی۔ میرے خیال میں اگر ان افراد کے زندگی گزارنے کا طریقہ، اُس کی جڑیں اور دوطرفہ تعلقات اچھی طرح سے بیان ہوجائیں تو حقیقت پسند اور اہل فکر جوانوں کیلئے موثر ثابت ہوگا۔

 

بالکل ایسا ہی ہے۔ جنگ کے زمانے میں محترمہ شبابی کی تصویریں اور خطوط، اُن کو اپنے واقعات یاد دلانے میں  کتنے موثر رہے؟ کیا محترمہ شبابی کبھی  کچھ دیر کیلئے فراموشی کا شکار بھی ہوتیں؟

جی ۔ محترمہ شبابی کو بھی اور دوسرے افسروں کی بیویاں کو بھی،شدت کے ساتھ واقعات فراموش ہونے کا سامنا ہے۔ مجھے بہت توانائی صرف کرنی ہوگی، گذشتہ مطالب کی تکرارکروں، مجھے خود کو اُن کے حالات اور ماحول میں رکھنا ہوگا اور اُن کی بنیاد پر سوالات بنانے ہوں گے تاکہ اُنہیں واقعات یاد آجائیں۔ لیکن ان خطوط نے میری اچھی خاصی مدد کی تھی۔ میں خطوں کو پڑھتی اور اُن تحریروں میں کچھ ایسی باتیں تھیں  جو واقعات کے زمانے کے بارے میں بتاتیں۔ اگر ڈاکٹر شبابی، کسی وا قعہ کو بھول جاتیں اور آگے پیچھے کر دیتیں، میں خطوں کی مدد سے روایت کی تصحیح کرلیتی تھی۔ کبھی میں محترمہ شبابی سے کہتی، خط کا کچھ حصہ پڑھیں جو باعث بنے کہ جو حصہ بھول چکی ہیں یا فراموشی کی وجہ سے تاریخی غلطیاں ہوئیں اُنہیں یاد کرلیں اور معلومات کو بہتر بنالیں۔

 

کتاب "ہمراہ" کے پہلے حصے  اور محترمہ شبابی کی انقلابی جدوجہد کی طرف پلٹتے ہیں ۔ آپ نے کتاب کے مقدمے میں محترمہ شبابی کی سہلیوں کے ساتھ ہونے والے  انٹرویوز میں انقلاب کے زمانے اور کردستان کی طرف  اشارہ کیا ہے۔ ان انٹرویوز کی کیفیت او ر کتاب "ہمراہ" کی تالیف میں اس کی تاثیر کے بارے میں وضاحت  پیش کریں۔

جہاں تک کہ مرکز کا ہدف، صرف واقعات جمع کرنا نہیں ہے اور وہ جنگ کی اجتماعی تاریخ کے استخراج کے درپے ہے، بنابراین ہمارا کام واقعہ بیان کرنے اور زبانی تاریخ کو ملانا ہے اور ہمیں راوی کی باتوں سے زیادہ دستاویزات حاصل  کرنے چاہئیے۔  وہ باتیں جو محترمہ شبابی اپنے شوہر سے ذاتی تعلق کے بارے میں بتاتی ہیں، اُن کی یہ باتیں کفایت کرتی ہیں۔ لیکن جب وہ انقلاب کے دوران، کردستان اور سپاہ میں  امور خواتین  کے دفتر میں اُن کی فعالیت کے بارے میں بتاتی ہیں، تو اُس ماحول پر صرف راوی کی نگاہ اور اُس کا سمجھنا کافی نہیں ہے۔ مثلاً جب محترمہ شبابی دفتر امورِ خواتین کے آغاز، اس دفتر کے اقدامات اور سپاہ کے کمانڈر کی تبدیلی کے بعد اس دفتر کے انحلال کے بارے میں بتاتی ہیں، میں زبانی تاریخ میں کام کرنے والی کے عنوان سے، اس گفتگو پر اکتفاء کرنے کی قائل نہیں ہوں۔ یعنی میں مائل تھی کمانڈر محمد علی جعفری یا سپاہ میں امور خواتین کے د فتر کے انحلال میں موثر اور باخبر افراد کے پاس جاؤں اور اس دفتر کے بند ہونے کے دلائل اور مراحل کی کھوج لگاؤں اور ایک دقیق اور مستند تاریخ کا استخراج کروں۔ میں ذاتی طور پر اس طرف مائل تھی کہ محترمہ شبابی کے واقعات سے ایسے پہلو جو ذاتی نہیں ہے اُنہیں محترمہ شبابی سے مرتبط افراد کے سامنے بیان کروں تاکہ دقیق اور مستند تر تحریر  لکھوں۔ لیکن کچھ پابندیوں کی وجہ سے متاسفانہ اپنے ہدف کو کاملاً حاصل نہیں کرسکی اور میں صرف خود محترمہ شبابی کے ذریعے اُن دوستوں سے رابطہ قائم کرسکی جو اُس زمانے میں کردستان میں ساتھ تھیں اور اُن سے ایک مختصر سے گفتگو ہوسکی۔ اُن کے د وستوں میں سے ایک اصفہان میں تھیں کہ میں نے اُن سے بات کرنے کیلئے اصفہان کا سفر کیا۔ یہ گفتگوئیں بھی نسبتاً رضایت بخش رہیں اور میں نے محترمہ شبابی کی باتوں کے کچھ حصے کو اُن کے دوستوں کے واقعات کی بنیاد پر تکمیل کیا ۔

 

آپ کی کتاب زبانی تاریخ سے متعلق ہے اور ذاتی قضاوت اور آج کے خیالات کو اُس پر اثر نہیں ہونا چاہئیے۔ آپ نے نہائی انٹرویوز کے ذریعے راوی کی قضاوت کو کتاب کی تحریر میں داخل ہونے سے روکا ہے۔ کیا وہ تحریر جو ہم "ہمراہ" نامی کتاب میں پڑھتے ہیں، دقیقاً وہی تحریر ہے جو انٹرویوز سے لی گئی ہے؟ یا یہ کہ آپ نے اُس میں تعریف اور وضاحت کا بھی اضافہ کیا ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ اصل واقعات وہی ہیں جنہیں محترمہ شبابی نے بیان کیا ہے۔ مرکز اسناد کا ہدف یہ تھا کہ تحریر کو تھوڑا داستان کے انداز میں ہونا چاہئیے لیکن حقیقت سے دور نہ ہو اور مؤلف کی وضاحتوں کے درمیان حقیقت گم نہ ہونے پائے۔ اس کام کو کتاب کے سادہ بنانے اور آسانی سے پڑھنے کیلئے انجام دیا گیا ہے۔ چونکہ ہم چاہتے تھے کمانڈروں کی زبانی تاریخ سے جو جنگ کی بالکل باقاعدہ اور دقیق تاریخ ہے، اُس سے جدا ہو۔ کچھ جگہوں پر میں نے وضاحتیں دی ہیں لیکن بہت محدود۔ میں نے کوشش کی ہے کہ محترمہ شبابی نے جو بیان کیا ہے اُس میں داستان کا رنگ ہونا چاہیے اور ہم نے کوئی چیز اضافہ نہیں کی۔ ہم نے بلاوجہ کی داستان سازی بھی نہیں کی ہے۔ صرف کتاب کو آسانی سے پڑھے جانے کیلئے کچھ محدود وضاحتیں پیش کی گئیں ہیں۔

 

اس وقت تالیف کے لئے کوئی نئی کتاب ہے؟

تقریباً سن 2011- 2012 میں دفاع مقدس کے تحقیقاتی اور دستاویزی مرکز نے اعلی افسروں کی بیویوں کے زندگی نامہ کو منظم کرنے والے منصوبہ کو شروع کیا اور کچھ افسروں کی بیویوں منجملہ کمانڈر رشید، کمانڈر جعفری، کمانڈر رضائی وغیرہ کی بیویوں سے گفتگو انجام پائی اور مرکز کے مؤلفین اُس کی تالیف میں مصروف ہیں۔ اگر افسروں کی بیویوں کی طرف سے اچھا تعاون ہوا اور اُن کی یادوں کو شائع کرنے کی اجازت  دیدی، وہ کتابیں بھی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بازار کی طرف روانہ ہوں گی۔ میں آج کل بحری فوج کے افسر علی شمخانی کی زوجہ محترمہ طباطبائی کی زبانی تاریخ کی تالیف میں مصروف ہوں۔

 

آپ کو محترمہ شبابی کی یادوں کی کتاب لکھنے سے جو تجربہ حاصل ہوا ہے کیا وہ محترمہ طباطبائی کے واقعات کی کتاب لکھنے میں آپ کے لئے مددگار ثابت ہوگا؟

ضرور۔جو کام بھی ہم آج انجام دے رہے ہیں، وہ کل کے کام کے لئے سرمایہ ہے۔ وہ فعالیت، ذہن کو کھولتی ہے اور انسان کی استعداد میں اضافہ کرتی ہے۔ اسی وجہ سے ہم کل اُس کام کو اچھی طرح انجام دیتے ہیں۔ میں نے کتاب "ہمراہ" کے لئے بہت جدوجہد کی  ہے کہ اب اُس جیسے کام کو انجام دینا میرے لیے آسان ہوگیا ہے۔ میں ایک طرف سے کتاب "ہمراہ" کو پڑھتی ہوں اور اپنے اوپر تنقید کرتی ہوں۔ دوسری طرف سے، محترمہ شبابی کی زبانی تاریخ کے تجربے کی خاطر میں ایک گام آگے ہوں۔ البتہ شاید یہ تجربہ سو فیصد میرے کام نہ آئے۔ چونکہ مجھے ہر دفعہ ایک نئی شخصیت کا سامنا ہے جس کے خیالات، عادات، جدید احساسات، رویہ اور زندگی محترمہ شبابی سے مختلف ہے۔ پس مجھے رابطہ قائم کرنے اور سوال اٹھانے کیلئے ایک نئی روش سے استفادہ کرنا چاہئیے۔ لیکن ہر صورت میں چونکہ مقصد مشترک ہے، عمومی فریم ایک ہی ہے۔ اسی وجہ سے ہر کام بعد والے کام کو اچھی طرح سے انجام دینے کیلئے ایک اچھی مدد ثابت ہوگا۔



 
صارفین کی تعداد: 436


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
محترمہ فاطمہ زعفرانی بہروز کے ساتھ گفتگو

مریم بہروز کی گرفتاری اور انقلاب کی خاطر سونا جمع کرنے کی داستان

ہم نے ایک خود ہی اعلامیہ بنایا جس کا متن کچھ اس طرح سے تھا: "اس زر و زیورات کی ظاہر سے زیادہ کوئی قیمت نہیں ۔ ہم ان زیورات کو نظام کے استحکام اور انقلاب کے دوام کی خاطر مقدس جمہوری اسلامی کےنظام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں" اس وقت امام قم میں تھے
جماران ہال میں یادوں بھری رات کا پروگرام

امام خمینی اور انقلاب اسلامی کی کچھ یادیں

گذشتہ سالوں میں ایک موقع نصیب ہوا کہ ہم محترم مؤلفین کے ساتھ، رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کے انقلاب اسلامی سے متعلق واقعات لینے جائیں۔ ایک دن جب وہ واقعہ سنانے آئے، تو پتہ چل رہا تھا کہ اُنہیں کسی بات پہ شکوہ ہے۔ میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سمجھ گیا تھا کہ جب رہبر حضرت امام کے بارے میں بات کرتے ہیں، اُن کی حالت بدل جاتی ہے اور وہ خود سے بے خود ہوجاتے ہیں