زبانی تاریخ (ایران) :: زبانی تاریخ؛ مجازی ورکشاپ سے لیکر تمام موضوعات میں کردار ادا کرنا

فصل کی خبریں؛ خزاں 2017ء

زبانی تاریخ؛ مجازی ورکشاپ سے لیکر تمام موضوعات میں کردار ادا کرنا

مریم اسدی جعفری
ترجمہ: سید مبارک حسنین زیدی

2018-01-18


ایرانی اورل ہسٹری سائٹ کی رپورٹ کے مطابق، "فصل کی خبریں" (سیشن نیوز)  اس سائٹ پر ایک سلسلے کی رپورٹ پیش کرنا کا عنوان ہے۔ اس رپورٹ میں مکتوب اور مجازی ذرائع ابلاغ میں سائٹ کے موضوع سے  متعلق خبروں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ جس میں آپ خزاں 2017ء کی خبروں کو پڑھیں گے۔

 

ستمبر / اکتوبر 2017

٭ "ہمراہ" نامی کتاب، جو دفاع مقدس کے زمانے میں کماندر انچیف سید یحیی (رحیم) صفوی کی زوجہ مہرشاد شبابی کی روایت  پر مشتمل ہے،  کی رونمائی 24 ستمبر کو دفاع مقدس کے تحقیقاتی اور دستاویزی سنٹر میں ہوئی۔

http://defamoghaddas.ir/fa/node/11056

فارس نیوز ایجنسی نے بھی اس کتاب کے راوی کے ساتھ گفتگو  کی۔

http://www.farsnews.com/newstext.php?nn=13960702001449

٭ مؤلف حمید حسام کی کتاب "آب ہرگز نمی میرد" (پانی کبھی نہیں مرتا) کا جائزہ لینے والی نشست،   24 ستمبر  کو حمید حسام، کتاب کے راوی مرزا محمد سلگی، جواد کامور بخشایش اور گل علی بابائی کی موجودگی میں تہران کی شہید چمران لائبریری میں منعقد ہوئی۔

http://www.farsnews.com/13960702000897

٭ "کتاب کی زبانی تاریخ" کی نشستوں کے دوسرے سلسلے کی پچیسویں اور آخری  نشست  26 ستمبر کو، عطائی مطبوعات کے انچارج بہروز عطائی فرد کی موجودگی میں خانہ کتاب کے اہل قلم سرا میں منعقد ہوئی۔

http://www.oral-history.ir/?page=post&id=7371

٭ انجمن زبانی تاریخ ایران کے رکن سید محمد میر کاظمی نے ریڈیو پر  ہونے والے  پروگرام "ثقافتی بات چیت"  میں دفاع مقدس کی یادوں کی اہمیت کے بارے میں کہا: "جنگ کے واقعہ سے دور رہنا ہمیشہ نقصان دہ نہیں۔ بہت سے واقعات وقت گزرنے کے ساتھ مکمل ہوتے ہیں  اور دفاع مقدس کے مطالب کو زیادہ فاصلہ گزرنے کے بعد درک کرنا آسان ہوتا ہے۔" ریڈیو ثقافت نے بھی "چاپ اول" (پہلا ایڈیشن)  والے پروگرام میں جو 26 ستمبر کو نشر ہوا، دفاع مقدس کے دوران سپاہ پاسداران کے کمانڈر محسن رضائی  کی زبانی تاریخ کی کتاب جو "راہ" کے عنوان سے شائع ہوئی ، کو سننے والوں کیلئے متعارف کروایا۔ یہ کتاب، مرحوم ڈاکٹر حسین اردستانی اور غلام علی رجائی کے ساتھ محسن رضائی کی 21 جلسات پر مشتمل گفتگو کا ماحصل ہے۔

٭ 26 اور 27 ستمبر کو  صوبہ خوزستان کی انتظامی کونسل میں دفاع مقدس کے دوران اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت کے کردار  کے بارے میں 30 کتابوں اور 151 دستاویزات کی رونمائی ہوئی۔

٭ "جاسوسی اڈے کی زبانی تاریخ "  کے سلسلے میں ہونے والی نشستوں کا پہلا اجلاس 27 ستمبر کو امریکا کے سابقہ سفارت خانہ میں منعقد ہوا۔ خط امام کے پیروکار طالب علم اور سیاسی مسائل کے ماہر  علی رضا افشار نے اس اجلاس میں تقریر کی۔

http://www.isna.ir/news/96070503562

٭ دفاع مقدس کے موضوع 20 عناوین کتاب کی رونمائی ، 27 ستمبر کو شیراز کے آرٹ شعبے سے متعلق ہال میں ہوئی۔ "جلو تر از خط مقدم" (فرنٹ لائن سے آگے) شہر لارستان کے رہائی پانے والوں کی یادوں کے ساتھ،  "ہمت آزاد" شہید غلام رضا آزادی ہمت کی یادوں کے ساتھ، "از ریشتہ تا ریشن" (شروع سے آخر تک) جناباز حبیب اللہ فیجانی کی یادوں کے ساتھ اور "قاب فیروزہ ای" (فیروزی رنگ کا فریم) جانباز اسماعیل جمالی کی زوجہ کی یادوں کے ساتھ اس آثار کے نمونے ہیں۔

٭ دفاع مقدس میں یادوں بھری رات  کے سلسلے کا 284 واں پروگرام ، 28 ستمبر کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوئی۔ اس پروگرام میں مجید یوسف زادہ، سید احمد نبوی اور رحیم افشار نے عراق کی ایران پر مسلط کردہ جنگ کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔ اسی طرح دو کتابوں "برسد بہ دست خانم ف" (خانم ف کو ملے)سید احمد نبوی کے واقعات اور "سایہ تاک" (درخت کا سایہ)رحیم افشاری کے واقعات ،  کی اس پروگرام میں رونمائی ہوئی جسے سورہ مہر مطبوعات نے چھاپا اور دونوں کو راحلہ صبوری نے تالیف کیا۔

http://www.oral-history.ir/?page=post&id=7356

٭ "زبانی تاریخ میں انٹرویو کے اصول" کی خصوصی نشست  4 اکتوبر کو ادربیل کے آرٹ شعبے میں منعقد ہوئی۔

٭ تسنیم نیوز ایجنسی نے (12 مہر)4 اکتوبر کی مناسبت سے، امام خمینی کے عراق سے ہجرت کرنے کا دن، اُن دنوں کے شاہدوں  کی یادوں پر مشتمل ایک رپورٹ  شائع کی۔

https://www.tasnimnews.com/fa/news/1396/07/12/1535891

اسی نیوز ایجنسی نے ایک دوسری رپورٹ میں، زبانی تاریخ کے آثار کا تعارف اور کمانڈر شہید حسین ہمدانی کی مربوط یادوں کو بیان کیا۔

https://www.tasnimnews.com/fa/news/1396/07/14/1538048

٭ پہلے روایت تہوار  کی پریس کانفرنس،  4 اکتوبر کو روایت فتح انسٹیٹیوٹ کی کوششوں سے منعقد ہوئی۔ اس تہوار  کی کوشش ہے کہ انقلاب اور دفاع مقدس کی تعارفی فضا کو کوریج دینے کیلئے اُن کی زبانی تاریخ کو ریکارڈ اور درج کرے۔

https://www.tasnimnews.com/fa/news/1396/07/12/1536715

اسی طرح  اس تہوار کے رائٹرز کلب کا پہلا جلسہ، 17 اکتوبر کو سرچشمہ ثقافتی مرکز میں  منعقد ہوا جس میں حجت الاسلام و المسلمین سعید فخر زادہ اور محمد قاسمی پور نے تقریر کی۔

https://www.tasnimnews.com/fa/news/1396/07/25/1548587

٭ "آن بیست و سہ نفر" (وہ 23 افراد) نامی کتاب کے آذری ترجمہ جس میں احمد یوسف زادہ کی اسیری کے واقعات بھی شامل ہیں،  6 اکتوبر کو  اسلامی جمہوریہ ایران کی ثقافتی مشاورت کے توسط سے باکو نامی کتاب کی پانچویں بین الاقوامی نمائشگاہ میں تقریب رونمائی ہوئی۔

٭ صوبہ اصفہان کے آرٹ شعبے سے تازہ شائع ہونے والے آثار کی  11 اکتوبر کو رونمائی ہوئی۔ "دی ھشت"(29 دسمبر) محمد رمضانی کے واقعات اور "موقعیت اللہ وکیل" (اللہ وکیل کی پوزیشن) رمضان اللہ وکیل کے واقعات  ان آثار میں سے ہیں۔

٭ دفاع مقدس کے مؤلفین گل علی بابائی اور حمید حسام نے  11 سے  15  اکتوبر  کو کتاب فرینک فر ٹ کی 69 ویں نمایشگاہ  میں مطبوعات صریر کے اسٹال میں شرکت کی۔ ان دنوں میں مطبوعات ایران کے کچھ لوگ "وقتی مہتاب گم شد" (جب چاند گم ہوا) نامی کتاب کے راوی علی خوش لفظ کی عیادت کے لئے گئے۔ وہ جنگ میں زخمی ہونے کی عارض ہونے والی بیماری کے علاج کیلئے جرمنی کے شہر کلوگن میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔

٭ تاریخ شفاہی کے ایگزیکیٹو ادارے کا پہلا سیمینار، 16 اکتوبر کو ایران کے دستاویزی ادارے قومی لائبریری  کے توسط اور انجمن تاریخ ایرانی، انجمن زبانی  تاریخ اور تاریخ کی محقق خواتین کی انجمن کے تعاون سے قومی لائبریری کی آرکائیو عمارت میں منعقد ہوئی۔

http://www.oral-history.ir/?page=post&id=7413

http://oral-history.ir/?page=post&id=7414

٭ ساسان ناطق کے قلم سے لکھی گئی کلام اللہ اکبر زادہ کے واقعات پر مشتمل کتاب "سربازان نیار" (نیار کے سپاہی) کی 16 اکتبور کو شہر اردبیل میں  مقدس اردبیلی ہال میں تقریب رونمائی ہوئی۔

٭ وزارت امور خارجہ کی زبانی تاریخی کی کتابوں کا جائزہ لینے والی نشست، "خاطرات سیاسی و دیپلماتک از دولت اصلاحات"(حکومت اصلاحات کے سیاسی اور ڈپلومیٹک واقعات)، "از طرابلس تا دمشق"(طرابس سے دمشق تک)، "دیپلماسی در عمل"(عمل میں ڈپلومیسی) نامی کتابوں کی مرکزیت پر  17 اکتوبر  کو وزات امور خارجہ کی خصوصی لائبریری کے اجلاس ہال میں منعقد ہوئی۔

http://www.oral-history.ir/?page=post&id=7416

٭ 17 اکتوبر کو آیت اللہ مہدوی کنی کی یاد میں ہونے والی قومی سیمینار میں، انقلاب اسلامی کے دستاویزی مرکز کی کوششوں سے امام صادق (ع) یونیورسٹی میں مرحوم آیت اللہ محمد رضا مہدوی کنی کی آواز پر مشتمل آڈیو فائل کی رونمائی ہوئی۔ اس فائل میں آیت اللہ مہدوی کنی نے اپنی یادوں کو بیان کیا ہے۔

٭ صوبہ گیلان کے معاشرتی، سیکیورٹی اور سیاسی امور کے نائب محمد احمدی پور نے 17 اکتوبر کو گیلان کی قومی لائبریری اور دستاویزی مرکز کے نئے انچارج  کا تعارف کرواتے ہوئے کہا: "دستاویزات، زبانی تاریخ اور تحریری آثار  کیلئے اہتمام کرنا ایک ضرورت ہے اور آئندہ نسلوں تک پہنچانے کیلئے اسے مورد توجہ قرار پانا چاہیے۔" اسی طرح اسلامی مشاورتی کونسل  میں رشت کے نمائندہ غلام علی جعفر زادہ نے کہا: رشت میں دستاویزات کی دیکھ بھال اور حفاظت، زبانی تاریخ کے اندارج اور ریکارڈ کا کام اور قومی لائبریری کو اپنے حال پر چھوڑ دیا گیا ہے اور انھوں نے ملک کے مسئولین سے  مطالبہ کیا کہ گیلان پر ایک خاص نگاہ ڈالی جائے۔

٭  18 اکتوبر کو مشہد کی فردوسی یونیورسٹی کے شعبہ  سوشل سائنس کے ماہر استاد، ہما زنجانی زادہ کی یاد میں ہونے والے مراسم میں، ان کی پڑھائی اور تحقیق کے  ملے جلے طریقہ کار  اور اُن کو اہداء کی جانے والی یادداشتوں کی زبانی تاریخ کے ایک حصے کے طور پر رونمائی ہوئی۔

٭ دفاع مقدس کی یادوں پر مشتمل کتاب "تلخ و شیرین 2" کا تنقیدی جائزہ لینے والی نشست ،  18 اکتوبر کو کتاب گرگان کی صوبائی نمایشگاہ کے دوران منعقد ہوئی۔ تنقید کرنے والے احمد خواجہ نژاد نے اس نشست کے  میں کہا: "اس کتاب کے 50 راوی ہیں کہ جس میں بہت مشکلات تھیں اور ہر کوئی ایسا کام انجام دینے کیلئے تیار نہیں اور اس زحمت کو مدنظر رکھتے ہوئے کتاب کی کیفیت قابل قبول ہے۔"

٭ "پادشاہان پیادہ" (پیدل چلنے والے بادشاہ)نامی کتاب کی تقریب رونمائی  19 اکتوبر کو ، چہلم میں فعال انجمنوں کےقومی سیمینار میں اور مشعر ایمانی سوسائٹی کے تعاون سے ہوئی۔ اس کتاب میں چہلم کی پیدل مارج میں شرکت کرنے والے  بہت سے غیر شیعہ اور غیر مسلم کے واقعات جمع کئے گئے ہیں۔

٭ 20 اکتوبر کو کتاب شہر کرد کی بارہویں نمایشگاہ کے دوران ، چار کتابوں پر ہونے والی تحقیقی نشست میں "آقای سفیر" نامی کتاب کا تنقیدی جائزہ لیا گیا۔ یہ کتاب محمد مہدی راجی کی اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد  ظریف  کے ساتھ  40 گھنٹوں پر مشتمل گفتگو کا نتیجہ ہے جس میں اُن سے سن 2013ء تک اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر کے عنوان سے  رہنے کے بارے میں بات ہوئی۔

٭ دفاع مقدس کے دوران صوبہ خوزستان کے شہروں کے کردار پر تالیف کیلئے بھیجی جانے والی ہدایات کی بنیاد پر،  جنگ کی زبانی تاریخ کی تالیف اور ریکارڈ کا پلان،  خوزستان میں دفاع مقدس کے تمام آثار کی حفاظت اور اُنہیں شائع کرنے والے ادارے کی کوششوں سے تمام اداروں کو بھیجا گیا ہے۔ اسی طرح زبانی تاریخ کی ٹریننگ ورکشاب خاص طور سے صوبہ کی  ایگزیکیٹو مشینری کا آغاز ہوا اور اب تک جنگ کے بارے میں  200 گھنٹوں پر مشتمل فلم اور 60 گھنٹوں کی آڈیو جمع ہوچکی ہیں۔

٭ رائٹر اکبر صحرائی نے  دفاع مقدس کی ادبیات کو حقیقت پسندی سے نزدیک ہونے کے بارے میں کہا: " اگر ادبیات سے ہماری مراد، زبانی تاریخ کے دائرے میں ہو، تو ہم نے حقیقت کو اچھی طرح دکھایا ہے۔ یہ موضوع،  حقیقتوں سے لیا گیا ہے اور عام طور سے اس میں جنگ  کو اپنی آنکھوں سے نظارہ کرنے والوں کے واقعات شامل ہیں۔"

٭ صوبہ ہمدان میں  دفاع مقدس کے آثار کی حفاطت کرنے اور اُنہیں نشر کرنے والے ادارے کے سیکریٹری جنرل مہدی ظفری نے اسٹوڈنٹس کی اسلامی انجمنوں کی یونین کی زبانی تاریخ جمع ہونے کے آغاز اور ہمدان کے اسٹوڈنٹس کے توسط سے 22 اکتوبر 1978ء کو ہونے والے واقعہ  کے بارے میں بتایا۔ اس دن ہمدان کے اسٹوڈنٹس پہلوی حکومت کے مظالم کے خلاف اعتراض کرتے ہوئے مظاہرہ  کرتے ہیں اور اُن میں کچھ لوگوں جام شہادت نوش کرتے ہیں۔

٭ گل علی بابائی اور جواد کلاتہ نے مہر نیوز ایجنسی کے ساتھ ہونے والے انٹرویوز میں، 27 ویں محمد رسول اللہ (ص) ڈویژن کے کمانڈروں کی زبانی تاریخ اور اس ڈویژن سے تعلق رکھنے والے شہید کمانڈروں  کے واقعات پر مشتمل کتابوں  کے شائع ہونے  کے طریقہ کار کو بیان کیا۔

http://www.mehrnews.com/news/4098374

http://www.mehrnews.com/news/4099523

٭ اسی طرح اس نیوز ایجنسی نے بنیاد دعبل مطبوعات کے انچارج محسن مظاہری اور "نوحہ خوانی" کتابوں کے مجموعہ کو جمع کرنے والے اور محقق متین رضوانی پور سے ہونے والی گفتگو میں، اس مجموعہ کی زبانی میراث اور ثقافت کی نسبت پر تحقیق کی۔

http://www.mehrnews.com/news/4095062

٭ بریگیڈ کمانڈر نجف دری کے روایت کے مطابق امنیتی اداروں کے کارناموں  کی تاریخی روایت پر مشتمل "پشت دروازہ ھای شہر" (شہر کے دروازوں کے پیچھے) نامی کتاب کے محقق اور مؤلف حسین کاوشی نے مہر نیوز ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے روایت میں شخصیت پرستی  کی اہمیت اور اس کتاب میں تاریخی کے اہم عناوین کی وضاحت کے بارے میں بتایا۔

http://www.mehrnews.com/news/4116302

٭ پویا رپورٹرز کلب نے ایک انٹرویو میں جواد خضرائی  - جن کے پاس ستمبر کے آخری دنوں تک "دفاع مقدس اور تہران کی مزاحمتی ثقافت کی ترویج کے میوزیم" اور "دفاع مقدس اور انقلاب اسلامی میوزیم"  کے مینجنگ ڈائریکٹر کا عہدہ تھا -  سے ان مجموعوں اور زبانی تاریخ کے دائرہ کار میں  انجام پانے والے اقدات  کا جائزہ لیا۔

https://www.tasnimnews.com/fa/news/1396/07/11/1534248

٭ گیلان میں آرٹ شعبے کے ثقافتی انچارج محمد پرحلم نے گیلان کے رہائی پانے والوں کے زبانی واقعات کے اشاعت  کے تسلسل کی جو سن  2009ء سے شروع ہوا ، کے بارے میں بتایا اور مزید کہا: "یہ منصوبہ گیلان کے آرٹ شعبے میں سر فہرست ہے۔"

٭ سماجی ماہر علی اصغر سعیدی نے ایک رپورٹ میں دستاویزی ادارے اور قومی لائبریری کے تعاون سے زبانی تاریخ  کی تشکیل کے تاریخچے کو دہرایا۔

http://www.irna.ir/fa/News/82702054

٭ روزنامہ ابتکار نے "ابتکار زبانی تاریخ کے مؤرخین  کو درپیش مسائل اور  دشواریوں  کا جائزہ لیتا ہے: محقق یا باز پرس کرنے والا" کے عنوان سے ایک یاد داشت کو شائع کیا۔

http://www.ebtekarnews.com/?newsid=91096

٭ "شبیہ افسانہ ھا" (افسانوں کی طرح)کے عنوان پر یادوں کے مجموعے کی پہلی کاپی جسے سید غلام رضا حسینی نے لکھا اور جس میں ہر شہداء کا ایک  واقعہ شامل ہے، مطبوعات ہنگام کے توسط سے منظر عام پر آئی۔

٭ "خاطرہ علیہ تاریخ" (تاریخ کے خلاف واقعہ) کے مقالوں پر مشتمل مجموعہ، جس میں فرزاد آبادی  کی طرف سے کی جانے والی  تنقید، واقعا ت اور جمع ہونے والی گفتگوئیں ہیں، مطبوعات مہرگان خرد  کے توسط سے  شائع ہوئی۔

٭ "ردپایی بر آسمان" (آسمان پر نقش قدم) جو سمنانی فداکار عبد الوہاب ناظمیان کے دفاع مقدس کے یادوں کے مجموعے پر مشتمل ہے،  جسے مرتضی حاجیان نژاد نے دوبارہ لکھا، مطبوعات سورہ مہر اور صوبہ سمنان کے آرٹ شعبہ کی کوششوں سے اشاعت ہوئی۔

٭ رضا خان کی طرف سے پردے پر پابندی کے دوران ایرانی مرد و خواتین کی جدوجہد کے واقعات پر ایک کتاب جس کا عنوان "چادری کہ جا نماند" (وہ چادر جو سر سے ہٹی نہیں) ہے، اس کتاب کو مصطفی فاروئی فیروزی نے تالیف کیا اور مطبوعات بوی شہر بہشت کے توسط سے اشاعت کے بازار کی طرف روانہ ہوئی۔

٭ محسن کاظمی نے "شہروند آسمان"(آسمان کا رہنے والا) نامی ایک کتاب لکھی جس میں بریگیڈ کمانڈر پائلت محمود انصاری کی یادداشتیں اور واقعات  شامل ہیں۔

http://www.ibna.ir/fa/doc/note/252596

 

اکتوبر / نومبر 2017

٭ دفاع مقدس میں یادوں بھری رات کے سلسلے  کا 285 واں پروگرام،  جمعرات 26 اکتوبر 2017ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا۔ اس پروگرام میں سید جواد پویان فر، علی محمد سوزن چی اور علی اصغر جہان بخش نامی خلاء بازوں نے دفاع مقدس کے دوران گزری اپنی یادوں سے پردہ اٹھایا۔

http://www.oral-history.ir/?page=post&id=7427

٭ دوسرے پہلوی دور حکومت کے وزیر اعظم حسن علی منصور کو قتل کرنے والے اور اُن کے حامیوں اور سیاسی  فعالیت کرنے والے عبد اللہ مہدیان کی زندگی اور جدوجہد پر مشتمل روایت کا ڈاکومنٹری پروگرام "عملیات سفید" (سفید کاروائی) 26 اکتوبر کو جمہوری اسلامی ایران کے ڈاکومنٹری چینل سے دکھایا گیا۔ یہ ڈاکومنٹری، ایک طرح حزب مؤتلفہ اسلامی کی زبانی تاریخ کو مخاطبین کے سامنے لیکر آتی ہے۔

٭ "روزی کہ شہید شدم" (جس دن میں شہید ہوا)نامی کتاب کے راوی حسین حسن زادہ، جمہوری اسلامی ایران پر صدامی افواج کی مسلط کردہ  جنگ میں زخمی ہونے کے  سبب  28 اکتوبر کو جام شہادت نوش کرتے ہیں۔ یہ کتاب ابو القاسم وردیانی کے قلم اور روایت فتح مطبوعات کے توسط سے چاپ ہوگئی ہے۔

٭ ایران کے قدیمی میوزیم کھلنے کی 80 ویں سالگرہ اور ملک قومی میوزیم اور لائبریری کی تاسیس کی تقریب، 28 اکتوبر کو ملک قومی میوزیم اور لائبریری میں منعقد ہوئی۔  اس تقریب کے دوران "روزگار ملک" (ملک کے حالات) اور "راہنمائی موزہ ملی ایران" (ایران کے قومی عجائب گھر کی رہنمائی)نامی دو کتابوں اور دونوں میوزیم کی 80 ویں  یادگاری ٹکٹ کی رونمائی ہوئی۔ "روزگار ملک" نامی کتاب میں ملک میوزیم کو وقف کرنے والے حاج حسین ملک کے واقعات اور اُن کی سرگرمیوں اور گزری زندگی کی زبانی تاریخ ، 80 شاہدوں کی روایت کے مطابق ہے۔

٭ مشہد کی پیام نور یونیورسٹی میں  شعبہ معلومات سائنس کی گروپ انچارج ثریا ضیائی نے 28 اکتوبر کو اپنی وبلاگ پر  طالب علموں کو اس طرح کا پیغام دیا: "زبانی تاریخ میں تعلیم کی ذمہ داری (سو نمبر) پہلا حصہ: زبانی تاریخ کی کتابوں کی معلومات میں جستجو  اور ناموں کا مشخص کرنا (تحریری، آڈیو فائل وغیرہ کی صورت میں انٹرویو)جہان تشیع کے موضوع اور اسلامی سائنس سے وابستہ موضوعات پر (75 نمبر) دوسرا حصہ: زبانی تاریخ کی دو فصلوں کا خلاصہ (25 نمبر)۔"

٭ "ہر ماہی شاہد یاران کا دستاویزی نقطہ نظر" نامی خصوصی نشست  یکم نومبر کو شاہد مجلوں کے مینیجنگ ڈائریکٹر اور ایڈیٹر  محبوب شہبازی، ایثار گروں کے اسنادی مرکز کے سینئر مشیر ڈاکتر کیانوش کیانی ہفت لنگ اور دفاع مقدس کے صحافیوں کی انجمن کے مینجنگ ڈائریکٹر سعید علامیان کی موجودگی میں مطبوعات کی 23 ویں نمایشگاہ کے شاہد مجلوں کے اسٹال پر پر منعقد ہوئی۔

http://www.isna.ir/news/96081006500

٭ دفاع مقدس کی یادوں بھری رات کا پروگرام، مطبوعات کی 23 ویں نمایشگاہ کے انعقاد کی مناسبت سے اور دفاع مقدس میں عکاسوں اور صحافیوں کے واقعات بیان کرنے کی مرکزیت پر،  2 نومبر کو مصلای امام خمینی ؒ میں ہونے والی مطبوعات کی 23 ویں نمایشگاہ   کے سیمینار ہال میں منعقد ہوا۔

http://www.oral-history.ir/?page=post&id=7443

٭ صوبہ مازندران میں ولی فقیہ کے نمائندہ آیت اللہ نور اللہ طبرسی  نے 5 نومبر کو اُن کے ساتھ شہر ساری کے پانچویں دورے میں ثقافتی اور سماجی اسلامی کونسل کے ارکان سے ملاقات میں، ثقافت، آداب و رسومات  اورعلاقے کے مشہور افراد کے تجزیہ پر زور دیا اور کہا: "شہر ساری کی اسلامی کونسل کو خواص، ناموروں، مشہور و عظیم  شخصیات اور علماء کی زبانی تاریخ تیار کرنے کیلئے شروع سے لیکر  اب تک کا اقدام کرنا چاہیے۔"

٭ قزوین کے آرٹ شعبے میں 6 نومبر کو شہید معلمہ ررقیہ رضائی لایہ کے بارے میں  لکھی گئی "نو عروس" (نئی دلہن)نامی کتاب کی مرکزیت پر تنقید اور اُس کا جائز لینے کیلئے ایک خصوصی نشست منعقد ہوئی جسے زینت السادات موسوی اور مریم طحان نے لکھا ۔ محترمہ موسوی نے  اس نشست میں انٹرویو اور زبانی تاریخ کے عمل میں موضوع کو پالینے اور موضوع کو سمجھ لینے کو اہمیت کا حامل جانا اور انٹرویو لینے جانے والے حضرات کی ذہنی خیال پردازیوں سے اجتناب کرنے کی ضرورت پر تاکید کی۔

٭ تہران یونیورسٹی میں  تطبیقی ادبیات کے مایہ ناز استاد ڈاکٹر سعید فاطمی کی یاد میں  11 نومبر کو رشت کے گیلان شناسی کالج میں تقریب منعقد ہوئی۔ گیلان کی قومی لائبریری اور مرکز اسناد کے انچارج ژالہ حساس خواہ نے اس تقریب میں اظہار خیال کیا: "بہت جلد ہی ڈاکٹر سعید فاطمی کی داستان کو زبانی تاریخ کی صورت میں اُن کی زوجہ کے توسط سے قلمبند کیا جائے گا۔"

٭ صوبہ کرمانشاہ میں دفاع مقدس کی دستاویزی کونسل،  11 نومبر کو اس صوبہ  کے دفاتر اور ادارہ جات میں ملازمت کرنے والے فدا کاروں اور عظیم افراد  کی زبانی تاریخ کے محور پر شہدائے مطلع الفجر ہال میں جلسہ منعقد ہوا۔  اس جلسہ میں، اداروں میں کام کرنے والے فدا کاروں کی زبانی تاریخ کے منصوبہ کو انجام دینے کیلئے اداروں اور دفاتر کی شرکت کرنے کی منظوری دی گئی اور ہر ادارے ، تنظیم اور دفتر کو ایک جلد کتاب تالیف کرنی ہوگی۔

٭ سات جلدوں پر مشتمل محمد رضا آل ابراہیم کی تالیف شدہ "فرہنگ افسانہ ھای مردم استھبان" (استھبان کے لوگوں کے افسانوں کی ثقافت) کی تقریب رونمائی  16 نومبر کو شہر استھبان میں منعقد ہوئی۔ اس کتاب کو استھبان کے لوگوں کی زبانی روایتوں کی بنیاد پر جمع اور تالیف کیا گیا ہے۔

٭ کرمان پٹرولیم انڈسٹری کے میوزیم کی پریس کانفرنس، 19 نومبر کو  ہوئی جس میں ایران کی پٹرولیم انڈسٹری کی دستاویزات اور میوزیمز کے انچارج نے تقریر کی۔ انھوں نے شروع میں پٹرولیم انڈسٹری میں زبانی تاریخ کی جمع آوری کے کام کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ میوزیم کی مینجمنٹ اور پٹرولیم انڈسٹری کی زبانی تاریخ   انقلاب کی کامیابی کے بعد سے جمع ہور ہی ہے۔ انھوں نے مزید کہا: "اس وقت ہمیں معین فر اور زنگنہ (پٹرولیم کے وزراء) کی یادوں اور باتوں کو جمع کر رہے ہیں، حتی معین فر کی کتاب جس نے انڈسٹری کے دائرہ میں پہلی بار  کچھ باتیں کی ہیں اور زبانی تاریخ کی شکل میں جمع ہوئی ہے، بہت جلد شائع ہونے والی ہے۔"

٭ الزہرا (س) یونیورسٹی کے تعلیمی سائنس اور  نفسیات فیکلٹی کی لائبریری میں 20 نومبر سے  26 نومبر تک  "بحران اور سوگ سے روبرو ہونے پر اطلاعات پہنچانے، ٹریننگ ، مشاورت اور علاج" کے نقطہ نظر پر ہفتہ کتاب منایا گیا۔ "زلزلہ اور بحران کی زبانی تاریخ کا اسٹال" اس پروگرام میں لگے اسٹالوں میں سے ایک تھا۔

٭ انقلاب اسلامی کے دستاویزی مرکز نے آیت اللہ سید مصطفی خمینی  کے بارے میں اور اسلامی تحریک کو چلانے میں اُن کے کردار پر ،انقلابی جدوجہد کے دوران موجود زبانی تاریخ اور دستاویزات کی بنیاد پر ایک رپورت شائع کی۔

http://www.mehrnews.com/news/4122614

٭  اسی طرح اس مرکز نے ایک رپورٹ میں، "انقلاب دوم" نامی ایک کتابی بستے کو جاسوسی اڈے (سابقہ امریکی سفارت خانہ)کی تسخیر کی 38 سالگرہ  پر متعارف کروایا اور پیش کیا۔اس بستہ میں، اس جیسی کتابیں "تاریخ شفاہی جنبش دانشجویی مسلمان" (مسلمان اسٹوڈنٹس تحریک کی زبانی تاریخ) اور "بحران" ہیں، جس میں جاسوسی اڈے کو تسخیر کرنے کے زمانے میں امریکی صدر جمی کارٹر کے مشاور ہملٹن جورڈن کی یادوں کو متعارف  کرایا ہے۔

http://www.farsnews.com/newstext.php?nn=13960814001092

٭ ایرنا نیوز ایجنسی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی سے پہلے،پہلوی حکومت کی ایک برجستہ شخصیت جعفر شریف امامی کے دفتر میں کام کرنے والے ابو الفضل محمد حسینی کی یادوں کے کچھ حصوں کی روایت کے مطابق ایک رپورٹ – ایک مفصل انٹرویو میں بیان کیا ہے۔

http://www.irna.ir/fa/News/82715475

٭ انجمن قلم ایران کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ممبر محسن پرویز نے سینما کے اقتباسی آثار میں، جنگ اور انقلاب کے واقعات اور زبانی تاریخ کی کتابوں سے عدم استفادے کی دلیل کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیا۔

www.mehrnews.com/news/4149268

٭ طہورای گنبد کاووس ثقافتی فاؤنڈیشن کے مینیجنگ ڈائریکٹر مہدی باقریان نے حجت الاسلام علی اکبر نصرتی کے توسط سے روایت ہونے والی صوبہ گلستان کی انقلابی تاریخ کے بارے میں بتایا۔ علی اکبر نصرتی کو انقلاب کے راوی کے عنوان سے منتخب کرنے کی اہم ترین دلیل، اُن کا صوبہ گلستان کی تاریخ پر تسلط اور صوبہ کے زیادہ تر سیاسی اور تاریخی واقعات میں اُن کا حاضر ہونا ہے۔

٭ صوبہ اصفہان میں فداکاروں کے امور اور شہیدوں کی فاؤنڈیشن نے اس سوبہ کے شہداء کے آثار پر آٹھ لاکھ اسناد کو تین جلدی کتاب کی صورت میں شائع کیا اور اصفہان کے شہداء کے بارے میں  تقریبا 1200 سو  زبانی تاریخ کے انٹرویو ریکارڈ کئے ہیں۔

٭ دفاع مقدس کی ہر سال منتخب ہونے والی کتاب کے 17 ویں دورے  کے ترجمان محسن شاہ رضائی نے کہا: "496  کتاب کے عناوین واقعات کے حصے اور 451 کتاب کے عناوین دستاویزات کے حصے  نے اس فیسٹیول میں سب سے زیادہ اعداد و شمار کو خود سے مختص کیا ہے۔ زبانی تاریخ والے حصے نے بھی 31 کتاب کے عناوین  سیکریٹریٹ بھیجے گئے۔" دفاع مقدس کی ہر سال منتخب ہونے والی کتاب کے 17 ویں دورے میں  منتخب ہونے والوں کو جنوری 2018ء کے آخری ہفتہ میں متعارف کروایا جائے گا۔

٭ امام رضا (ع) کی زیارت کو پیدل جانے والے زائرین کے خدمت گزاروں کے آثار کی حفاظت اور اُنہیں شائع کرنے والے یونٹ کے انچارج سید محسن موسوی گرماروری نے کہا: امام رضا (ع) کی زیارت کو پیدل جانے والے زائرین  کی تصاویر اور تحریری مواد تشکیل کے مراحل میں ہے۔ جوانوں کے درمیان اس سنت کی ثقافت کو  زبانی تاریخ کے ذریعے رائج کرنا چاہیے۔"

٭ خراسان رضوی میں ثقافتی ورثہ، دستکاری اور سیاحت کی جنرل انتظامیہ کے  تاریخی آثار کے اندراج  کے مسئول فرامرز صابر مقدم  نے اس صوبہ کے مخفی اور آشکار آثار  کے اندارج کو سر فہرست قرار دیتے ہوئے کہا: " مخفی آثار کے دائرے میں، زبانی تاریخ، آداب اور رسومات کے کچھ حصے اور ثقافت میں رسومات، موسیقی اور فنون و ہنر کے کچھ حصے کا قومی اندراج کرانے کیلئے کام جاری ہے۔ "

٭ صوبہ گیلان کے گورنر مصطفی سالاری نے قومی لائبریری اور مرکز اسناد کے انچارج سے ملاقات   میں تاکید کی: "صوبائی دستاویزی مراکز میں موجود مشکلات خاص طور سے مرکز گیلان ، پر توجہ کرتے ہوئے، اسناد کے اسکین اور زبانی تاریخ کے ریکارڈ کا کام سرفہرست ہونا چاہیے۔"

٭ انقلاب اسلامی اور دفاع مقدس کے میوزیم وار اسلامی جمہوریہ ایران کی فضائی افواج نے انقلاب اور دفاع مقدس سے متعلق ثقافتی، تحقیقی، تربیتی دائرے میں تعاون کو بڑھانے کیلئے، تعاون کے معاہدے پر دستخط کئے۔ اس میوزیم میں زبانی تاریخ کے جلسات میں فضائی افواج کے ماہرین کی شرکت کہ اب تک 70 سے زیادہ جلسے منعقد ہوچکے ہیں، میوزیم اور فضائی افواج کے تعاون کا ایک نیا افق ہے۔

٭ مترجم  اور  کہانی لکھنے والے کاوہ میر عباسی اس بات کے قائل ہیں کہ: "بلند مرتبہ افراد کے واقعات سے دلچسپی رکھنے کی وجہ لوگوں کی تاریخ معاصر کی نسبت  تجسس رکھنا ہے۔ میں ان واقعات کو شرح حال زندگی اور حتی خود واقعہ شمار نہیں کرتا بلکہ زیادہ تر زبانی تاریخ ہے۔"

٭ مترجم ابو الفضل اللہ دادی کا عقیدہ ہے: "آج کل ہماری ادبیات میں یادداشت لکھنے کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے، لیکن ہمارے ہاں ادبی شخصیات کی نسبت یادداشت لکھنے والے سیاسی افراد زیادہ ہیں ۔ ہاشمی رفسنجانی، محمدی ری شہری اور ناطق نوری کی یادداشتیں ان  یادداشتوں کے نمونے ہیں۔ ادبیات کے دائرے میں بھی واقعات زیادہ تر زبانی طرف کی طرف مائل ہیں کہ ہوشنگ ابتھاج کی یادوں پر مشتمل کتاب "پیر پرنیان اندیش" اور "ایران کی معاصر ادبیات کی زبانی تاریخ" کا مجموعہ ان  آثار  کے نمونے ہیں۔ "

٭ اصفہان کے آرٹ شعبے نے محسن محمدی فشارکی اور فضل اللہ خدادادی کے قلم سے لکھی گئی کتاب " از خاطرہ تا داستان" (یادداشت سے کہانی تک) کی اشاعت کی۔ اس کتاب کی تیسری فصل میں، تاریخ، سفر ناموں، اور اسکرپٹ کے روایی قالبوں کے کہانی، یادداشت اور زبانی  تاریخ سے ارتباط کا جائزہ لیا گیا۔ خدادادی نے بھی ایک انٹرویو میں اس کتاب کے بارے میں بات چیت کی۔

https://www.tasnimnews.com/fa/news/1396/08/15/1565764

٭ سینئر صحافی ہوشنگ اعلم نے ایسنا نیوز ایجنسی کے ساتھ ہونے والے انٹرویو میں اپنے صحافت کے آغاز اور پہلی  خبروں کی رپورٹ لکھنے سے لیکر آج کے اہل قلم افراد کی پریشانی اور جوان صحافیوں اور رپورٹروں کی مشکلات پر بات کی۔

http://www.isna.ir/news/96080201379

٭ "اسلامی معاشرے کے اسٹوڈنٹس کی زبانی تاریخ " جو اس مجموعے کو تشکیل دینے والی انجمن کے افراد کی یاد داشتوں کی بنیاد پر جمع کی گئی اور جس میں اس طالب علم تنظیم کی کارکردگی کا جائزہ لیا  گیا ہے،  انقلاب اسلامی کے دستاویزی مرکز کے توسط سے شائع ہوئی۔ اس کتاب کو مرتب کرنے والے مجید پور نجمی ہیں۔

٭ علی رضا قاسم خان، ایرانی سینما میوزیم کے نئے منیجنگ ڈائریکٹر کے عنوان سے متعارف ہوئے۔

 

نومبر/ دسمبر 2017

٭دفاع مقدس میں یادوں بھری رات کے سلسلے کا 286 واں پروگرام جو اس پروگرام کے منعقد ہونے کی پچیسویں سالگرہ کے موقع پر تھا،  23 نومبر 2017 کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا۔ اس  تقریب میں حاج ماشاء اللہ آخوندی، مرتضی سرنگی اور مسعود دہ نمکی نے دفاع مقدس کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

http://www.oral-history.ir/?page=post&id=7487

٭ بہزاد یعقوبی کی تالیف کردہ کتاب "مساجد دار الاخلافہ"(دار الحکومت کی مساجد) کی تقریب رونمائی، 23 نومبر کو شہر تہران کی اسلامی کونسل کے اراکین احمد مسجد جامعی اور محمد جواد حق شناس کی موجودگی میں ہوئی۔ جناب مسجد جامعی نے اس پروگرام میں تہران کی کچھ مسجدوں کی زبانی تاریخ  کے اندراج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید کہا: "تہران ایسے واقعات سے بھرا پڑا ہے اور "مساجد دار الاخلافہ" تہران گردی کے ثمرات میں سے ایک ہے۔"

٭ "تاریخ و فرہنگ بوانات" (بوانات کی تاریخ اور ثقافت) نامی کتاب  کی 29 نومبر کو  کتاب فارس کی سولہویں نمائشگاہ میں رونمائی ہوئی۔ اس کتاب کے لکھاری سبحان برزگر نے لائبریری تحقیقات اورمختلف حکومتی مراکز سے معلومات جمع کرنے کے علاوہ ، کتاب سے مربوط سے زبانی تاریخ کی جمع آوری کیلئے حتی ایک تصویر حاصل کرنے کیلئے، ایک دن میں 600 سے 700 کلومیٹر تک ڈرائیونگ کی ہے۔

٭ دفاع مقدس کی زبانی تاریخ کے دائرے میں حکمت عملی  کی سطح کو بیان کرنے والا جلسہ،  یکم دسمبر کو دفاع مقدس کی دستاویزات اور اسناد کے ادارے کے انچارج غلام رضا علامتی کی موجودگی میں منعقد ہوا۔ اس جلسے میں اسلامی جمہوریہ ایران پر صدامی فورسز کی مسلط کردہ جنگ کی زبانی تاریخ کے اعداد و شمار وار دقیق معلومات کے  بارے میں  انقلاب اسلامی و دفاع مقدس میوزیم اور دفاع مقدس کے دستاویزی ادار کے درمیان تعاون کو مورد توجہ قرار دیا گیا۔

٭ مطبوعات فارس کے سینئر ہمایون یزدان پور کے آثار پر، 2 دسمبر کو ستائیسویں " زوم میں صحافی" نشست میں تنقید اور اُس کا جائزہ لیا گیا۔ اس صحافی کے ساتھیوں نے اس نشست میں یزدان پور کے واقعات کو بیان کیا۔

https://www.mehrnews.com/news/4160903

٭ آرٹ شعبے کے صوبائی مراکز میں ثقافت و پائیدار مطالعات کے  دفاتر کے مسئولین کی ساتویں سالانہ نشست  3 سے 5 دسمبر تک آبادان کی میزبانی میں منعقد ہوئی۔  اس نشست کے دوران ہونے والے وقفے میں اس مجموعے کے مرکزی دفتر کے انچارج محمد قاسمی پور نے کہا: "واقعہ کی تحقیق، اندارج، ریکارڈ اور واقعات کو جمع کرنے اور اُنہیں کتاب بنانے کے عنوان سے آرٹ شعبے کے پائیدار ثقافت کے 30 دفاتر  پورے ملک میں اس سلسلے میں کام کر رہے ہیں۔ سن 2011ء سے لیکر اب ان تمام دفاتر کی  212 عناوین پر مشتمل کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔"

٭  4 دسمبر کو انقلاب اسلامی اور دفاع مقدس میوزیم کے منیجنگ ڈائریکٹر اور  پولیس فورس کے میوزیم اور تمام دستاویزات کے  جنرل منیجر کے مابین ہونے والے ایک جلسے میں دفاع مقدس کے دوران پولیس فورس کے کردار کو بیان کرنے کیلئے اور زیادہ تعاون پر تاکید ہوئی۔ انقلاب اسلامی اور دفاع مقدس میوزیم میں دفاع مقدس کی تحقیقات اور مطالعات کے سیکریٹری جنرل  علی اصغر فلاح زادہ نے ایک رپورٹ میں ان دو مجموعوں کے درمیان ہونے معاہدے کے طریقہ کو بیان کیا اور کہا: "ابھی تک جنگی زبانی تاریخ کے 480 جلسے پولیس فورسز کے ماہرین کی موجودگی میں منعقد ہوچکے ہیں۔ اسی طرح اُس زمانے میں تھانوں کی فورسز کی یادوں کے عنوان پر 12 کتابیں، شہید سوداگر خصوصی لائبریری کو بطور ہدیہ دی جاچکی ہیں۔"

٭ 6 دسمبر کو سال  کی کتاب کے عنوان سے شائع ہونے والی کتاب الیکٹرونک بینکنگ کے دوسرے مرحلے میں آیا ہے: "سال کی کتاب الیکٹرونک بینکنگ  کا پہلا شمارہ آٹھ فصلوں اور 230 صفحوں سے زیادہ پر پچھلے سال شائع ہوا ․․․ اس کتاب کا دوسرا مرحلہ بھی پہلے شمارے ی نسبت کچھ تبدیلیوں کے ساتھ آٹھ فصلوں میں تالیف اور اس سال موسم سرما میں شائع ہوگا ․․․ اور الیکٹرونک بینکنگ  کی زبانی تاریخ اُن مطالب میں سے ہیں جو اس کتاب میں پیش کئے گئے ہیں ․․․ سال کی کتاب الیکٹرونک بینکنگ نے پہلی بار، "ایران کی الیکٹرونک بینکنگ کی زبانی تاریخ" کی فائل کو کھولا ہے۔ زبانی تاریخ ، تاریخ میں تحقیق کا ایک ایسا طریقہ کار ہے جو واقعات، اتفاقات اور حوادث کو  ماجرے کو دیکھنے والوں، سننے والوں اور مشاہدین اور دیکھنے والوں کی بنیاد پر شناخت اور تشریح کرتی ہے۔ اگرچہ ایرانی الیکٹرونک بینکنگ کی عمر ابھی اتنی زیادہ نہیں، لیکن اسی مدت میں ہی اپنی حقیقت پر توجہ کرتے ہوئے، اپنے اندر ایسی  زبردست تبدیلیاں لائی ہے کہ جو مکمل طور سے تاریخی روایت کی صلاحیت رکھتی ہے۔"

٭ 9 دسمبر کو اعلان ہوا ، زبانی تاریخ  کی دستاویزات کا منصوبہ اور قومی پینشن فنڈ کے مینجنگ ڈائریکٹروں  کا تجربہ سن 2017ء میں اس مجموعہ میں جاری ہوا ہے۔

٭ 10 دسمبر  کو پیام آزادگان معلومات سائٹ نے خبر دی کہ "پیام آزادگان فاؤنڈیشن  کے ریسرچ اور پبلشر شعبہ ، دفاع مقدس کی اسناد اور دستاویزات فاؤنڈیشن کے ساتھ مل کر، زبانی تاریخ کی  مجازی ورکشاپ منعقد کریگا۔ لہذا تمام محترم رہائی پانے والوں اور ان کے  محترم گھر والوں جنہیں کمپیوٹر سے مکمل آگاہی ہے اور جو انٹرنیٹ تک دسترسی رکھتے ہیں اس مجازی ورکشاپ میں شرکت  کی دعوت دی جاتی ہے۔ اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ مجازی ورکشاپ میں شرکت کرنے کا خرچہ پیام آزادگان فاؤنڈیشن کے ذمہ ہوگا اور شرکت کرنے والے کیلئے مفت ہے۔ یہ ورکشاپ جو 10 جلسوں میں منعقد ہوگی شرکت کرنے والوں کو معتبر سرٹیفیکٹ  عطا کرے گی۔ ورکشاپ پہلے ہفتے میں ٹریننگ کے ساتھ شروع ہوگی اور شرکت کرنے والے ہر شخص کے پاس ایک ہفتہ کے اندر جواب دینے کی فرصت ہوگی۔ اسی طرح شرکت کرنے والا ہر شخص پانچویں اور نویں جلسے میں استاد سے آن لائن رابطہ برقرار کرسکتا ہے۔"

 ٭ ہفتہ تحقیق و ہنر انقلاب اسلامی کی مناسبت سے ہونی والی خصوصی تحقیق نشست "واقعات کا لکھنا اور واقعات کی تحقیق"  10 دسمبر کو آرٹ شعبے کے سلمان ہراتی ہال میں منعقد ہوئی۔ اس نشست میں حجت الاسلام سعید فخر زادہ، محمد قاسمی پور اور جواد کامور بخشایش  حاضر ہوئے اور باتیں کیں۔

http://www.oral-history.ir/?page=post&id=7529

٭ زبانی تاریخ کی نشتوں کے سلسلے کی دوسری نشست،21 دسمبر کو "جنگ میں زنانہ چہرہ نہیں ہوتا" کے عنوان سے  علامہ طباطبائی یونیورسٹی کے  سوشل سائنس شعبے میں منعقد ہوئی جس میں اسماعیل عادلی زاد اور نیما شجاعی باغینی نے تقریر کی۔

یہ تحریر شائع ہونے والی  تاریخ 13دسمبر  کوزکریا رازی بین الاقوامی کانفرنس کے  مجازی صفحے پر موجود ہے: محترمہ آزادہ کریمی نے ڈاکٹر والی اللہ مسیبی کی نمائندگی کرتے ہوئے ایک آرٹیکل "محمد بن زکریا رازی کی سنتی طب کی تحقیقات اور آثار میں زبانی تاریخ کی اہمیت" میں نمایاں کیا اگرچہ زبانی تاریخ، تاریخ لکھنے کا ایک طریقہ ہے، لیکن ایرانی ڈاکٹروں اور سائنسدانوں نے صدیوں پہلے اس طریقہ سے استفادہ کیا ہے۔ اس تحقیق میں رازی کے آثار کی جستجو کرتے ہوئے رازی کے مقالات اور تحقیقات میں زبانی تاریخ کے کردار پر اشارہ ہوا  اور ذکر ہوا  ایک مشخص جگہ اور زمانے میں کسی شخصی واقعے کے تجربے سے فائدہ ا ٹھانا، زبانی تاریخ کا اہم ترین فلسفہ ہے۔ رازی نے اپنی تحقیقات میں رونما ہونے والے حادثے کی دقیق جگہ اور وقت کو اور انسانی اور فطری خصوصی شناخت سے کام لیا ہے۔ "

٭ لرستان یونیورسٹی کے پرنسپل خسرو عزیزی نے لرستان میں دفاع مقدس کے آثار کی حفاظت اور اُنہیں شائع کرنے والے ادارے کے مینجنگ ڈائریکٹر سے ملاقات میں جو  16 دسمبر کو ہوئی، اُمید کا اظہار کیا کہ یہ دونوں ادارے لرستان کے سپاہیوں کی زبانی تاریخ کے اندراج اور اُنہیں ریکارڈ کرنے میں ایک دوسرے سے تعاون کریں گے۔

٭ آستان قدس رضوی کی لائبریری، میوزیم اور مرکز اسناد فاؤندیشن کی کوشش سے  اور اس فاؤنڈیشن کے خصوصی پروگراموں کے تسلسل میں سن 2017 عیسوی میں مشہد کے دنیائے اسلام میں ثقافتی  دار الحکومت کے عنوان سے منتخب ہونے کی مرکزیت پر ایک خصوصی نشست "دنیائے اسلام میں تصویری زیارت کا دار الحکومت کے عنوان سے مشہد  کا تعارف" 17 دسمبر کو حرم امام رضا (ع) کے جوار میں منعقد ہوئی۔ "مشہد میں زیارتی عکاسی کی زبانی تاریخ" اس تحقیقی نشست میں  ہونے والے موضوعات میں سے ایک تھی۔

٭ "الوادع مہتاب" کے عنوان سے شہید علی خوش لفظ کی تشییع جنازہ کی تقریب، جمعرات  21 دسمبر 2017ء کی صبح آرٹ شعبے کے ایریے میں گمنام غوطہ خور شہیدوں کے مزار کے کنارے (تہران کےشاہراہ حافظ اور شاہراہ سمیہ  کی طرف جانے والے چوک)سے شروع ہوئی اور شہید کے جنازے کو تدفین کیلئے ہمدان منتقل کیا جائے گا۔ "جب مہتاب گم ہوا" نامی کتاب کے راوی جمشید (علی) خوش لفظ  20 دسمبر بروز بدھ، تہران کے خاتم الانبیاء (ع) ہسپتال میں اسلامی جمہوریہ ایران پر صداقی فورسز کی مسلط کردہ جنگ میں کیمیائی اثر سے زخمی  ہونے کی وسے شہادت کے درجے پر فائز ہوئے۔ "جب مہتاب گم ہوا: علی خوش لفظ کی یادیں" نامی کتاب کیلئے انٹرویو اور مرتب کرنے کا کام حمید حسام نے کیا اور مطبوعات سورہ مہر  کے توسط سے شائع کیا گیا ہے۔

http://www.oral-history.ir/?page=post&id=7543

٭ صوبہ اردبیل میں دفاع مقدس کے آثار کی حفاظت اور اُنہیں شائع کرنے والے ادارے کے مینجنگ ڈائریکٹر علی واحد نے اس ادارے میں زبانی تاریخ کی تحریک کے آغاز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: " جنگی واقعات کے موضوع پر ابھی تک 250 سپاہیوں کے انٹرویوز لئے جاچکے ہیں۔ ہمارا ارادہ ہے کہ ان واقعات کو ایک جامع کتاب کی شکل میں شائع کریں۔"

٭آذر بائیجان شرقی میں دفاع مقدس کے آثار کی حفاظت اور اُنہیں شائع کرنے والے ادارے کے مینجنگ ڈائریکٹر عزت اللہ جعفری نے دفاع کے مقدس کے فداکاروں، شہداء کے گھرانوں، فوج کے سپہ سالاروں، امدادی  کام کرنے والی اور فداکار خواتین، شہید ڈاکٹر مصطفی چمران کے ساتھیوں اور 450 شہید مولویوں اور شہید کے والد کی زبانی تاریخ کے ریکارڈ کی خبر دی۔

٭ دفاع مقدس کے دوران مؤلف اور صحافی سعید علامیان کا عقیدہ ہے: "زبانی واقعات خود لکھے جانے والے واقعات سے توانا اور غنی ہوسکتے ہیں، اگر تاریخ کے اُس دورے پر تسلط رکھنے والا ایک ماہر واقعہ نگار ، واقعہ  کو لکھے۔  زبانی واقعہ کو تحریری متن میں تبدیل کرنے میں، لہجے کے بالکل نزدیک ہواور امانت داری  کا خیال رکھا جائے۔"

٭ "ادبیات معاصر ایران کی زبانی تاریخ"  نامی مجموعے کے سیکریٹری محمد ہاشم اکبریانی نے ایران میں واقعات لکھنے کے بارے میں کہا: "لوگوں کی طرف سے واقعہ لکھنا چند  دلائل کی وجہ سے ناممکن ہوتا ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ بہت سی شخصیات معاشرے میں خود کو پہچنوانا نہیں چاہتیں۔ مثال کے طور پر کسی کمپنی کا ڈائریکٹر  جس کے پاس بہت زیادہ دولت ہے، وہ نہیں چاہتا  کہ میں معاشرے کو اپنی دولت کے بارے میں بتاؤں ․․․ دوسری بات یہ کہ بہت سے موارد میں واقعہ لکھنے میں خطرہ اور رسک ہوتا ہے۔  مثلاً اگر کوئی سیاستدان اپنی یادداشتیں لکھنا اور اُسی کتابی شکل میں لانا چاہے تو  ممکن ہے اُسے کچھ مشکلات کا سامنا ہو۔"

٭ مطبوعات وزارت امور خارجہ  کے منیجنگ ڈائریکٹر دامن پاک جامی  نے سابقہ وزیر خارجہ اور مستقبل قریب میں ایٹمی انرجی ادارے کے سربراہ علی اکبر صالِحی کی زبانی یادداشتوں پر مشتمل کتا ب کی اشاعت کی خبر دی اور مزید کہا: "ہم اس وقت اپنے ملک کی پہلے درجہ کی ڈپلومیٹک شخصیات کی زبانی تاریخ  کے اندراج کر رہے ہیں بہت جلد ہی وزارت امور خارجہ میں تحقیقی اور تربیتی مرکز اُنہیں منظر عام پر لائے گا۔"

٭ ملک کے مغربی علاقے کی قومی لائبریری اور مرکز دستاویزات کے سربراہ علی رضا تکلو نے اظہار خیال کیا: "ایران میں میک اپ کے استاد اور سینئر پروز شکری ہمدانی کے زندگی نامے اور انٹرویو  کا ریکارڈ، ایران میں میک اپ کی تاریخ مرتب کرنے کے عنوان سے، ملک کے مغربی علاقے ہمدان کی قومی لائبریری اور زبانی تاریخ کے دستاویزی مرکز کے شعبہ کے ذریعے اس پر کام جاری ہے اور اب تک پانچ انٹرویوز ہوچکے ہیں اور پیش گوئی کی جاتی ہے کہ یہ کام بیس جلسوں سے زیادہ پر مشتمل ہوگا۔"

٭ علمی رستمی نے مہر نیوز ایجنسی سے بات چیت کے دوران، "ماموستا: پاوہ کے امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کے واقعات اور زندگی نامہ" نامی کتاب کو مرتب کرنے کے مراحل کے بارے میں کہا: "میں اس کتاب کی تالیف کیلئے ایک سال تک انٹرویو لئے ہیں اور 14 مرتبہ پاوہ کی طرف سفر کیا ہے ․․․ اُس کے بعد فائنل انٹرویوز کی باری آئی اور اس کام کیلئے میں ایک دفعہ پاوہ میں پورے 75 دن  رہا۔ بالآخر اس کی تالیف اور اشاعت میں مجھے چار سال کا عرصہ لگا اور کام کے دوران ایک دوست کی تجویز پر سورہ مہر نے کتاب کی اشاعت کو اپنے ذمہ لے لیا۔"

٭ دفاع مقدس پبلشرز اسمبلی بورڈ کے چیئرمین  سردار علی ناظری نے جنگ کی محکم دستاویزات کی زندگی ناموں اور زبانی تاریخ کے سانچوں کی طرف حرکت  پر تاکید کی: "اس کے باوجود ہم ابھی تک واقعات کو صحیح سے پہچان نہیں سکے ہیں۔ جبکہ ہم ان حادثات کے رونما ہونے کے وقت سے دور ہو رہے ہیں اور جنگ کے بہت سے واقعات فراموشی کی نذر ہوگئے ہیں۔"

٭ بخارا میگزین کا 121 واں شمارہ، پہلی اور دسری پہلوی حکومت میں وزیراعظم محمد علی فروغی اور اُن کے کچھ شائع نہ ہونے والے واقعات ، اس خصوصی شمارے میں شائع ہوئے ہیں۔

٭ بیجار میں اسلامی ثقافت و ہدایت کے ادارے کے انچارج مہدی سلطانی نے سقز میں ہونے والے چودھویں تھیٹر فیسٹیول میں پہلے نمائشی گروپ کی شرکت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ""ئہ وانگہ ل" نامی نمائش جسے غلام رضا ہمتیان نے لکھا اور اُس کی ہدایات بھی دیں، اُس منظوم داستان کی بنیاد پر ہے جو گروس کے لوگوں کی زبانی تاریخ میں موجود ہے۔"

٭ ایران کی قومی لائبریری اور مطبوعات مرکز دستاویزات  نے "خوزستان کے پھیلاؤ کی زبانی تاریخ: احمد آل یاسین کے واقعات" نامی کتاب کو شائع کیا۔ 478 صفحات پر مشتمل اس کتاب کے انٹرویو، تحقیق اور مرتب کرنے کا کام رؤیا محمد لو نے انجام دیا ہے۔



 
صارفین کی تعداد: 348


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
محترمہ فاطمہ زعفرانی بہروز کے ساتھ گفتگو

مریم بہروز کی گرفتاری اور انقلاب کی خاطر سونا جمع کرنے کی داستان

ہم نے ایک خود ہی اعلامیہ بنایا جس کا متن کچھ اس طرح سے تھا: "اس زر و زیورات کی ظاہر سے زیادہ کوئی قیمت نہیں ۔ ہم ان زیورات کو نظام کے استحکام اور انقلاب کے دوام کی خاطر مقدس جمہوری اسلامی کےنظام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں" اس وقت امام قم میں تھے
جماران ہال میں یادوں بھری رات کا پروگرام

امام خمینی اور انقلاب اسلامی کی کچھ یادیں

گذشتہ سالوں میں ایک موقع نصیب ہوا کہ ہم محترم مؤلفین کے ساتھ، رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کے انقلاب اسلامی سے متعلق واقعات لینے جائیں۔ ایک دن جب وہ واقعہ سنانے آئے، تو پتہ چل رہا تھا کہ اُنہیں کسی بات پہ شکوہ ہے۔ میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سمجھ گیا تھا کہ جب رہبر حضرت امام کے بارے میں بات کرتے ہیں، اُن کی حالت بدل جاتی ہے اور وہ خود سے بے خود ہوجاتے ہیں