بڑے پیمانے پر کئے جانے والے پہلے آپریشن کے بارے میں بریگیڈ کمانڈر علی صدیق زادہ کی یادوں کے ساتھ

تیسرا حربہ اور وقت پر اصلی غفلت

زہرا ابوعلی
ترجمہ: سید مبارک حسنین زیدی

2017-12-26


دفاع مقدس کے دوران اسلامی جمہوریہ ایران کے فوجی کمانڈروں کی یادوں کی مؤلفہ زہرا ابو علی،  نے بریگیڈ کمانڈر علی صدیق زادہ سے ایک تفصیلی گفتگو کی ہے، جس کے کچھ حصے کو انھوں نے ایرانی زبانی تاریخ کی سائٹ کے اختیار میں دیا ہے۔ انھوں نے اس گفتگو پر اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے:"دفاع مقدس کی آٹھ سالہ تاریخ میں 26 ستمبر 1981ء کادن ایک عاطفی نقطہ سمجھا جاتا ہے۔ اس دن صدام کی جارحانہ فوج کے خلاف، جب اسلامی سرزمین کے بعض حصوں پر قبضے کو تقریباً ایک سال ہوچکا تھا، ایران کے سب سے پہلے وسیع آپریشن کا کامیابی سے آغاز ہوا۔ میں ثامن الائمہ (ع) آپریشن کے مختلف زاویوں کی تحقیق کیلئے جو آبادان محاصرہ کی شکست پر ختم ہوا، ریٹائر بریگیڈیر علی صدیق زادہ سے ملنے مشہد گئی۔ آپریشن کے وقت، وہ 77ویں خراسان ڈویژن کے تیسرے ستون  کے سربراہ تھے۔ اس عہدے پر یہ جانتے ہوئے ہونا کہ آپریشن کو منظم کرنا اور اس کی منصوبہ بندی کرنا تیسرے ستون کے وظائف میں سے ہے، اس بات کی علامت ہے کہ اس دشوار اور کامیاب آپریشن کی کامیابی کے راز کو ان کے جیسے واقعات میں تلاش کرنا چاہئیے؛ ایسا آپریشن جو امام خمینی (رہ) کے فرمان اور چاہت یعنی "آبادان کے محاصرے کو ٹوٹنا چاہئیے" کی وجہ سے عمل میں آیا ۔"

 

میں شکر گزار ہوں کہ آپ نے وقت نکالا اور ہماری دعوت کو قبول کیا۔ شروع میں اپنے بارے میں بتائیں۔

میں علی صدیق زادہ ہوں،  میں جنوری 1942ء میں یزد میں پیدا ہوا۔ میں سولہ سال کا تھا جب میرے والد مجھ سے بچھڑ گئے۔ میرے والد کی جدائی کے غم نے میروں پیروں کو ڈگمگا دیا، اس  کے بعد میرے چچا حسین نے ہماری زندگی کے سامان کو اپنی گاڑی پر لادا اور ہمیں اپنے پاس تہران لے آئے۔

 

فوج میں آنے کا شوق کیسے پیدا ہوا؟

میٹرک کرنے کے بعد  میں اپنے دوست حسین آذر خوش کے ساتھ شاہراہ پاستور جایا کرتا جہاں پتھر کی کرسیاں لگی ہوئی تھیں اور ابھی بھی ہیں اور ہم وہاں کالج میں داخلے کے لئے ایک ساتھ امتحان کی تیاری کرتے۔ اُس وقت کالج میں داخلہ کا امتحان ملکی سطح پر نہیں ہوتا تھا، ہر کالج کا اپنے لئے الگ سے ایک داخلہ امتحان ہوتا تھا۔ ہم نے داخلے کیلئے تہران یونیورسٹی کے ٹیکنیکل کالج میں سول انجینئرنگ  اور قومی یونیورسٹی (آج کی: شہید بہشتی یونیورسٹی) میں  فن تعمیر میں فارم بھرا ہوا تھا۔ ایک دن ہم پڑھائی میں مصروف تھے کہ ہمارے پاس سے ایک  تھرڈ لیفٹیننٹ گزرے، پالش ہوئے جوتوں اور کیڈٹ کالج کے لباس کے ساتھ۔ اُس کے ستاروں کی چمک نے ہمیں اپنی طرف مائل کیا۔ حسین نے کہا: علی ہم کیڈٹ کالج چلیں؟

اُس افسر کا جذبہ سبب بنا کہ ہم تہران یونیورسٹی اور قومی یونیورسٹی پر کیڈٹ کالج  کو ترجیح دیں۔ صرف ہم ہی نہیں تھے۔ سن 1960ء میں داخلہ امتحان میں شرکت کرنے والے 200 افراد میں سے شاید 40 سے زیادہ ہماری طرح کے جوان تھے جو افسری لباس کے دلدادہ ہوگئے تھے اور انھوں نے کیڈٹ کالج کو دوسرے کالجوں پر ترجیح دی ۔

 

پڑھائی مکمل ہونے کے بعد آپ کو کون سے ڈویژن میں بھیجا گیا؟

میں کیڈٹ کالج سے فارغ ہونے کے بعد اور پیدل مارچ کا ابتدائی دورہ کرنے کے بعد، شیراز میں پیدل مارچ کے مرکز سے خراسان کے چھٹے ڈویژن میں گیا۔

 

آپ کب تک مشہد میں رہے؟

میں سن  1969ء تک مشہد میں تھا، پھر میں بیر جند کے چوتھے ٹریننگ سینٹر منتقل ہوگیا۔

 

وہاں کون سی  ملازمت کیلئے منتقل ہوئے؟

میں  کیپٹن تھا اور میں وہاں پہلی بٹالین کے پہلے گروہ کا کمانڈر تھا۔ اگست 1974ء میں شیراز کے پیدل مارچ سینٹر میں اعلیٰ کورس کرنے بھی گیا۔

 

سن  1978ء میں آپ کہاں تھے؟ کون سے عہدے پر تھے اور کیا کر رہے تھے؟

1977- 1978 کے سالوں میں، میں نے اپنے دوست روح اللہ سروری کے ساتھ دافوس کورس مکمل کیا  اور ستمبر 1978ء میں اپنی بیوی کی وجہ سے جو مشہد کی رہنے والی تھی، 77 ویں ڈویژن میں آگیا۔ چونکہ میں نے اسٹاف کورس کیا ہوا تھا، میں ڈویژن کو منظم کرنے والا افسر بن گیا۔میرے کام کی شروعات کے ساتھ فوجی گورنر نے بھی کام شروع کیا۔  انقلاب کی شروعات اور مظاہروں کی وجہ سے میں کوشش کرتا تھاخود کو فوجی گورنر سے دور رکھوں اور میں دفتر میں مصروف ہوجاتا تھا۔ اُسی سال بریگیڈیر جعفری جو بہت مومن اور تجربہ کار شخص تھے ، خراسان ڈویژن کی کمانڈ اُنہیں سونپ دی گئی۔ وہ اس منصب پر فائز ہونے سے پہلے چہل دختر ٹریننگ سینٹر کے کمانڈر تھے۔ مجھے یاد ہیں وہ بعض اوقات چند گھنٹوں کیلئے خراسان کے آیات کرام، آیت اللہ عبد اللہ شیرازی اور آیت اللہ (سید حسن) قمی جو اُس موقع سر فہرست تھے، سے ملاقات کرنے جاتے اور کہتے: ہم نوکر ہیں اور مجبور! وہ اُن سے کہتے کہ لوگوں کو فوجیوں سے درگیر ہونے سے منع کریں۔ بہت اعتقاد والے انسان تھے اور انقلابی سرگرمیوں کے بارے میں سختی نہیں کرتے تھے۔ دسمبر 1978 ء میں کمانڈر انچیف غلام علی اویسی نے بریگیڈیر جعفری کو ڈویژن کی سربراہی سے عزل کردیا۔

 

کیوں؟

کیونکہ جس طرح سے کمانڈر انچیف اویسی وظائف انجام دینے کو کہہ رہے تھے وہ اس طرح وظائف انجام نہیں دے رہے تھے۔

 

اُن کی جگہ کون آیا؟

بریگیڈیر میر ہادی جو پہلے کرج کی فوجی گورنر تھا اور بقول اُس کے، اُس نے وہاں پر امن برقرار کردیا تھا، لیکن ایک ہفتہ سے زیادہ نہیں رہا اور چلا گیا اور جرنل کے عہدے پر پہنچا۔ وہ شاہ کے ملک سے باہر سفر جاتے ہی چلا گیا  اور واپس نہیں آیا۔ وہ جس زمانہ میں تھا (10 دی) 31 دسمبر 1978ء والا حادثہ پیش آیا۔ چونکہ اس مدت میں مشہد کے حالات بہت سخت اور بحرانی ہوگئے تھے، اُسے بھی ہٹا دیا گیا۔ اُس کے بعد شیراز کے ہوائی اڈے  کی بریگیڈ کا کمانڈر بریگیڈیر یزدجردی 77 ویں ڈویژن کا کمانڈر بنا۔

 

سن 1978ء کے نا امن دنوں میں آپ نے چھاؤنی ترک کردی تھی؟

نہیں؛ میں، ابو الفتح کرمی جو اس وقت شیراز میں ہے اور حسین نیک رو چھاؤنی میں رکے رہے تاکہ اسلحہ عوام مخالف لوگوں کے ہاتھ نہ لگ جائے۔ آہستہ آہستہ جب ہم انقلاب کی کامیابی کے قریب ہونے لگے، کچھ وظیفہ شناس افسر چھاؤنی میں آئے  اور جب اُنہیں ہماری نیت کا پتہ چلا، وہ گئے اور کچھ قابل بھروسہ سپاہیوں کو  لیکر آئے ۔ سب نے قسم کھائی کہ اسلحہ خانہ کی حفاظت کریں گے۔ ہم دن رات کھڑے رہے اور چھاؤنی کی حفاظت کرتے رہے۔

 

فوجی اپنی چھاؤنیوں میں کب واپس گئے؟

انقلاب کی کامیابی سے پہلے، امام خمینی (رہ) نے سپاہیوں اور افسروں کو پیغام دیا کہ بیرکوں کو ترک کردیں، ہماری چھاؤنی میں تقریبا 300 لوگوں کا اسٹاف تھا کہ جس میں 90 فیصد سپاہی تھے، انھوں نے بیرکوں کو چھوڑ دیا۔ انقلاب کی کامیابی کے کچھ دنوں بعد، حاجی آقا (محمد تقی) فلسفی کو مشہد بھیجا گیا۔ حاج آقا (عباس واعظ) طبسی کے پاس اس وقت آستان قدس رضوی کا عہدہ نہیں تھا۔ انھوں نے آیت اللہ شیرازی کے گھر کے سامنے سپاہیوں کو جمع کیا۔ آیت اللہ نے بھی فوجیوں سے مطالبہ کیا کہ اب چھاؤنی میں واپس چلے جائیں اور اپنی ڈیوٹی کو جاری رکھیں۔ سپاہی چھاؤنی سے دوستی کرنے آگئے ۔ وہ لوگ صبح سویرے آئے تھے۔

 

 

انقلاب کے بعد 77 ویں ڈویژن کے سب سے پہلے کمانڈر کرنل شاپور قبادی تھے؟

کرنل شاپور قبادی، شیراز کے پیڈرسٹری کالج کے کمانڈر تھے۔ وہ انقلاب سے پہلے مشہد کے تین مرکزی بریگیڈ کے کمانڈر بن گئے تھے۔ اُن کے پاس فوجی علم اس قدر زیادہ تھا کہ انھوں نے مشہد کے فوجی گورنر کے عنوان سے اپنے کندھوں سے ذمہ داریوں کو ہٹا دیا تھا۔ کرنل نے  مشہد میں اپنے ماتحت دس بٹالینوں کو تقسیم کیا ہوا تھا۔ زمانہ جنگ کی حکمت عملیوں کی طرح حدود کو معین کیا ہوا تھا۔ یعنی یہ کہ آپ کی حد اس روڈ سے اُس روڈ تک ہے۔اس لئے کہ اپنے وظائف  کی طرف بھی متوجہ نہ ہو اور واقعی میں کنٹرول بھی ہوجائے۔ انقلاب کے بعد جب یزد جردی 77 ویں  ڈویژن کے کمانڈر تھے، قبادی، اسٹاف کے سربراہ ، ڈویژن کے نائب اور کچھ دوسرے لوگوں کو  گرفتار کیا ہوا تھا۔ میں نے جناب ] حجت الاسلام و المسلمین سید عبد الکریم [ ہاشمی نژاد سے کہا: یہ کرنل (قبادی)ابھی حال ہی میں مشہد آئے ہیں اور انہوں نے کچھ نہیں کیا ہے انہیں آزاد  ہونا چاہیے۔ دوسری طرف سے میں نے تین بریگیڈ کے سپاہیوں اور افسروں کو تیار کیا کہ وہ جناب ہاشمی نژاد کے پاس جائیں اور کہیں کہ انھوں نے کوئی  مخالف حکم نہیں دیا ہے۔ وہ دو رات گرفتاری کے بعد آزاد ہوگئے اور اُس کے بعد 77 ویں ڈویژن کے کمانڈر اور بریگیڈیر بن گئے۔

 

آپ کس زمانے میں بریگیڈ کے کمانڈر بنے؟

انقلاب کی کامیابی کے بعد جناب ہاشمی نژاد بھی چھاؤنی میں آگئے۔ ایک دن مجھے آواز دی اور کہا: میں چاہتا ہوں تم تین بریگیڈ کے کمانڈر بن جاؤ! میں نے کہا: میں انقلابی اور مکتبی نہیں ہوں، کوئی دعویٰ بھی نہیں کرتا، لیکن وطن پرست ہوں۔ انھوں نے کہا: مجھے تم پر اعتماد ہے۔ میں نے کہا: نہیں بنوں گا۔ تعجب سے پوچھا: کیوں؟ تم نے تو اتنے عرصے میں ثابت کیا ہے کہ تم خدمت کرنا چاہتے ہو؟ میں نے کہا: میں خدمت کرنا چاہتا ہوں، لیکن تین بریگیڈ میں جانے کیلئے ضروری ہے کہ تہران سے حکم صادر ہو، ہم فوجی حکم کے تابع ہیں۔ انھوں نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور کہا: اس وقت تہران میں کون دستور صادر کرتا ہے؟ میں نے کہا: وہاں جو بھی ہو، جب تک تہران سے دستور نہیں آئے گا میں نہیں جاؤں گا۔ بالآخر انھوں نے تہران سے دستور لے لیا اور میں تین بریگیڈ کا کمانڈر بن گیا۔

 

ستمبر 1980ء میں آپ کہاں تھے؟

کسانوں کی کاشت اچھی نہیں ہوئی تھی؛ اُس وقت قوم کو یہ یقین دلانے  کیلئے  کہ جمہوری اسلامی کا نظام مردمی نظام ہے، کسانوں کی کاشت کو فوج کے سپاہیوں کے سپرد کیا گیا۔ اسی وجہ سے چھاؤنیاں لوگوں کی مدد کے کام انجام دے رہی تھیں۔ ڈویژن کسانوں کی مدد کیلئے مختلف بریگیڈوں کو باری باری بھیجتا۔ اسی وجہ سے تین بریگیڈوں کے تمام سپاہی سوائے نگہبانوں اور اسٹاف ممبروں کے،  ہر روز صبح سویرے کسانوں کی مدد کیلئے گاڑی پر کھیتوں کی طرف روانہ ہوجاتے اور مغرب کے وقت چھاؤنی واپس آتے۔ ہم سرخس علاقے میں گندم کی کاشت میں مصروف تھےکہ وائرلیس کے ذریعے ہمیں اطلاع دی گئی: جنگ شروع ہوگئی  ہے، فوراً مشہد آؤ، تم لوگوں کو ملک کے غرب کی طرف بڑھنا چاہئیے!

6 ستمبر والے دن ہم نے 110 ویں بٹالین کو  میجر پرویز حبرانی کی  کمانڈ میں کردستان بھیجا تاکہ سنندج میں پڑاؤ ڈالیں۔ کچھ دنوں تک قزوین چھاؤنی میں  گاڑی کے منتظر رہے تاکہ ماموریت پر جائیں۔ گاڑی پہنچانے میں وقت لگ گیا۔ جب عراق نے ملک پر حملہ کیا، بری فوج نے پلان کو تبدیل کردیا اور حکم دیا یہ بٹالین دوسری بٹالین کے ساتھ سرپل ذھاب کے علاقے بھیجی جائے۔

 

کون سی بٹالین کے ساتھ؟

148 ویں بٹالین ، بریگیڈ کے اسٹاف، جنگی سپورٹ اور سروس سپورٹ کے یونٹوں کے ساتھ سرپل ذھاب بھیجے گئے۔ راستے میں بری فوج کا پیغام آیا کہ 148 ویں بٹالین کو جنوب کیلئے الگ کردیاجائے۔ جنوب کو  اولویت دی گئی۔ 148 ویں بٹالین اہواز گئی  اور 92 ویں آپریشن ڈویژن کے کنٹرول میں قرار پائی۔ ہماری 110 ویں بٹالین وقت پر سرپل ذھاب پہنچی اور گولہ باری اور پیش قدمی  سے عراق کو عقب نشینی کرنے پر مجبور کردیا۔ کچھ عرصے بعد میں بٹالین کا دورہ کرنے کیلئے ملک کے غرب میں قلعہ شاہین چھاؤنی گیا اور 110 ویں بٹالین جو فرنٹ لائن پہ تھی ہم نے اُس کا دورہ کیا۔

اکتوبر 1980ء میں کرنل حبرانی آئے اور کہا: جناب، کرمانشاہ ڈویژن  کا ایک  کیپٹن کردی لباس پہنے ہوئے ہے اور وہ قصر شیرین جانا چاہتا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ اُس کے پاس پیلے رنگ کی کار بھی ہے اور وہ سٹرک کے اُس پار کھڑا ہے۔ نگہبان کسی کو گزرنے کی اجازت نہیں دے رہا، چونکہ قصر شیرین دشمن کے قبضہ میں تھا۔ میں نے جاکر دیکھا یہ کیپٹن کیا کہہ رہا ہے۔ میں نے کہا: تم کیا چاہتے ہو؟ وہ بولا: آپ شادی شدہ ہیں؟ میں نے کہا: ہاں، شادی شدہ ہوں۔ اُس نے شائستہ انداز میں کہا: میرے بیوی بچے قصر شیرین میں ہیں۔ اگر آپ میری جگہ ہوں تو کیا کریں گے؟ میں نے کہا: وہ لوگ قصر شیرین کیسے گئے؟ اُس نے کہا: میری بیوی قصر شیرین کی رہنے والی ہے اور وہ اپنے والدین سے ملنے گئی تھی۔ جنگ شروع ہوئی تو وہیں رہ گئی۔ میں چاہتا ہوں جاکر اُنہیں لے آؤں۔ میں نے تعجب سے پوچھا: کس طرح جاؤ گے؟ سو میٹر آگے جاؤ گے، دشمن تمہیں مار دے گا۔ وہ بولا: آپ مجھے جانے کی اجازت دیں، اگر میں مارا بھی گیا تو کوئی بات نہیں۔ میں نے کہا: میں جانے کی اجازت دیتا ہوں، کیونکہ انسان کیلئے بیوی بچے مقدس ہوتے ہیں  اور ایک چیز جس کے لئے ہم جنگ کر رہے ہیں وہ ناموس کی حفاظت ہے۔ میں تمہیں درک کرتا ہوں۔ جاؤ، لیکن ایک درخواست ہے! اس نے کہا: حکم کریں! میں نے کہا: میں عام طور سے دن میں یہاں اور راتوں کو قلعہ شاہین چھاؤنی میں ہوتا ہوں۔ اگر جاکر واپس آجاؤ تو وہاں آجانا تاکہ تمہیں دیکھ لوں! خوشی خوشی بولا: ٹھیک ہے، ضرور  کرنل صاحب۔ اس نے اپنا شناختی کارڈ بھی دکھایا اور ہم نے دیکھا کہ ہاں، سب چیزیں صحیح ہیں اور 81 ویں زرہی ڈویژن  کا افسر ہے۔

وہ دو دن بعد قلعہ شاہین چھاؤنی آیا۔ رات کے گیارہ بج رہے تھے۔ خوش تھا۔ اُس نے کہا: باہر آئیں، میری بیوی اور دو بچوں کو دیکھیں۔ میں نے تعجب سے کہا: کیسے گئے؟ اُس نے کہا: اُس دن 50 میٹر آگے گیا اور  کھڑا ہوگیا، اپنی گاڑی کے انٹینے پر ایک سفید کپڑا باندھ دیا۔ میں آگے گیا۔ کسی نے مجھ پر فائرنگ نہیں کی۔ میں نے عراقی کمانڈر سے کہا: ہم فوجی ہیں۔ آپ جنگ کرنے پر مجبور ہیں۔ اس وقت میرے جسم پر سول ڈریس ہے۔ مجھے اس مشکل کا سامنا ہے۔ شاید یہ مسئلہ تمہارے ساتھ ہوتا اور میں تمہاری مدد کرتا۔ میں درخواست کرتا ہوں کہ میری مدد کرو ۔ عراقی کمانڈر نے میری رہنمائی کی، حتی مجھے ایک تحریر بھی لکھ کر دی تاکہ محفوظ رہوں اور میں گیا اور ایک دن وہاں رہا، اپنے بیوی بچوں کو گاڑی پر سوار کیا اور اُسی تحریر کے ساتھ واپس آگیا۔

 

آپ مشہد کب واپس آئے؟

نومبر کا مہینہ تھا۔ ڈویژن کے کمانڈر تبدیل ہوگئے تھے۔ مجھے واپس آنے کا حکم دیا گیا ۔

 

ڈویژن کے کمانڈر کون بنے تھے؟

کرنل شہاب الدین جوادی۔ میں مشہد آیا۔ ڈویژن کے کمانڈر کرنل جوادی نے کہا: میں چاہتا ہوں تمہیں نیچے کی طرف ایک عہدہ پر نصب کروں۔ میں نے کہا: کیا مطلب ہے؟ انھوں نے کہا: ڈویژن میں تین ستونوں کے سربراہ ہوجاؤ، چونکہ تم پیدل اسٹاف کے وہ واحد افسر ہو جس میں ڈویژن آپریشن کو چلانے کی صلاحیت ہے۔ میں نے مذاق میں کہا: نہیں، اب تک تو ہمیں اوپر کی طرف منصوب کیا گیا تھا اور ہمیں بریگیڈ بنا دیا گیا تھا، اب ہمیں نچلا عہدہ دے رہے ہیں!

 

 

تین ستونوں کے سربراہ کے عنوان یا منصوبہ بندی اور آپریشن کیلئے کیا تھا اور کیا نہیں تھا اور اُن دنوں ڈویژن کے یونٹوں  کے اِدھر سے اُدھر ہونے کے بارے میں بتائیں؟

آپریشن کی تحقیق میں مجھے ڈویژن کے پاس موجود چیزوں کے بارے میں پتہ چلا ،اُس تاریخ تک یعنی فروری 1981ء کے اختتام پر ڈویژن کی تمام صلاحیتیں علاقہ میں نہیں بھیجی گئیں، لیکن فوجی یونٹس، توپخانے اور حتی ڈویژن کی سپورٹ کیلئے زرہی پیدل مارچ کا آدھا ڈویژن مغربی شمال سے جنوب تک پھیل چکا تھا۔ بریگیڈ کے دو مرکز جنگی علاقے میں بھیجے بھی جا چکے تھے، لیکن ڈویژن کا مرکز یعنی  ڈویژن کا اسٹاف علاقہ میں نہیں تھا۔ البتہ ایک طرح سے تھا بھی، یعنی ڈویژن کا پرسنل اسٹاف، ستونوں کے ارکان، آپریشن کے آفیسرز، انٹیلی جنس، لوجسٹک اور مرتب اسٹاف محاذ پر تھا اور چکر لگاتے تھے اور مسائل کو ڈویژن کے مرکز میں حل کرتے تھے۔

 

گویا نئے کمانڈر نے علاقے میں یونٹوں کی موقعیت سے آگاہی کیلئے، مغربی محاذ سے لیکر جنوب تک دورہ کیا ہوا تھا؟

جی ہاں؛  دسمبر سن 1980ء کے اختتام پر ڈویژن کمانڈر جناب کرنل سید الشہاب الدین جوادی ، اسٹاف کے عمومی اور خصوصی کارکنوں اور بعض بٹالینوں کے کمانڈروں کے ساتھ آبادان گئے  جو تقریباً  28 افراد تھے۔  ہم دشمن کے قبضے میں موجود تمام علاقوں کا معائنہ کرچکے تھے اور مغربی گیلان  سے ماہ شہر اور وہاں سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے آبادان آ گئے تھے۔ ڈویژن کمانڈر کے ساتھ اروند کے ساحل اور پھر خسرو آباد کے علاقے جو رمیلہ کے علاقے سے مشہور ہے اور کرنل تولائی کی کمانڈ میں 129 ویں بٹالین کے مستقر ہونے کی جگہ تھی، کا دورہ کیا۔ ڈویژن کے کمانڈر ایک ایک مورچے کا معائنہ کر رہے تھے اور افسر، درجہ دار اور سپاہیوں کو نقدی انعام دے رہے تھے۔ اُن میں سے 153 ویں بٹالین کے ایک گروہ کے کمانڈر  فرسٹ لیفٹیننٹ بنائی کو انعام دیا، کیونکہ اُس نے 31 اکتوبر 1980ء کی رات ذوالفقاریہ نخلستان میں عراقیوں کی طرف تقریباً 400 گرنیڈ پھینکے تھے۔ بعد میں فرسٹ لیفٹیننٹ بنائی کیپٹن کے درجے کے ساتھ حاج عمران کی بلندیوں پر شہید ہوگئے۔

اگلے دن ہم ڈویژن کے کمانڈر اور گروپ کے ساتھ معائنہ کرنے کیلئے خرم شہر کے پل کی طرف گئے۔ پل کا ایک حصہ ہمارے اختیار میں تھا اور ہماری ایک بٹالین بھی اُس کے نیچے مستقر تھی۔ ہم جیسے ہی پہنچے، پل  کے نیچے ہونے والی دشمن کی گولہ باری نے ہمیں امان نہیں دی۔ کرنل جوادی نے جیسے ہی حالات کو دیکھا دونوں ہاتھوں کو اپنے سر پر مارا اور کہا: "میرے سر میں خاک! میں زندہ ہوتے ہوئے  عراقیوں کو یہاں آتا دیکھوں! مجھے اپنے ملک میں آزادانہ طور پر پھرنا نہیں چاہئیے، مجھے اپنے سر کو چھپانا پڑے گا تاکہ عراقی مجھے مورد ہدف قرار نہ دیں! عراقی جسے ہماری طرف ٹیڑھی نگاہ سے دیکھنے کی جرائت نہیں تھی، اب  وہ بے شرمی سے خرم شہر کو ہماری سرزمین سے جدا کررہا ہے!"

 

77 واں ڈویژن نے کب جنوب میں پڑاو ڈالا؟

26 فروری 1981ء کو بری فوج کے کماندر انچیف بریگیڈیر قاسم علی ظہیر نژاد کی طرف سے ڈویژن کیلئے ایک حکم نامہ  آیا جس میں لکھا ہوا تھا "77 ویں ڈویژن کا وظیفہ ہے کہ اروند کے علاقے کی کمانڈ، ادارے کے یونٹوں اور ماتحتوں کی ذمہ داری قبول کرے ، موجودہ آپریشن کو کنٹرول کرے، دارخوین سے لیکر فاو تک اسلامی جمہوریہ ایران کی ملکی سرحدوں کی حفاظت کرے اورمناسب موقع پر علاقائی دشمن  کی چالوں کو بیکار بناکر اُسے عقب نشینی پر مجبور کرے اور فیصلہ کن جارحیت کا زمینہ فراہم کرے، آبادان کے محاصرے کو توڑے، خرم شہر کو آزاد کراتے ہوئے سرحدی لائنوں کو تقسیم کرے۔" 77 ویں ڈویژن کا مرکز  18 مارچ 1981ء  والے دن سے بری فوج کے کمانڈر کے دستور کے مطابق جنوبی علاقے میں پڑاو ڈال دیا اور ہم نے اروند کے آپریشنل ہیڈکوارٹر کو  قانونی طور پر اپنے ہاتھ میں لے لیا۔

 

ڈویژن اسٹاف کے کمانڈروں کا پہلا جلسہ کہاں ، کس وقت اور کن لوگوں کی موجودگی میں تشکیل پایا؟

ڈویژن اسٹاف کا  سب سے پہلا جلسہ، 8 اپریل سن 1981ء  میں اسٹاف کی کمانڈ میں ماہ شہر میں تشکیل پایا۔ اس جلسہ میں فوجی ،  کمیٹی، پولیس، بحری افواج، امنیتی ادارے، فدائیان اسلام کے کمانڈروں اور سپاہ آبادان کے کمانڈر  نے شرکت کی۔

 

تیسرا ستون، دوسرے ستون کی معلومات اور آگاہی کی بنیاد پر منصوبہ اور حکمت عملی تیار کرتا ہے؛ دوسرے ستون نے علاقے اور دشمن کی صلاحیتوں کے بارے میں آپ کو کیا معلومات فراہم  کی تھیں؟

 ڈویژن کے دوسرے رکن کے سربراہ میجر احمد بیانی نے اسٹاف کے پہلے جلسے میں کہا: تحقیق اور چھان بین کے بعد ہمیں پتہ چلا ہے کہ دشمن کی فوجیں کارون کے مشرق میں ہیں، جس میں تین زرہی ڈویژن سے، چھ زرہی بریگیڈ اور  آٹھ میکانی،  44 ویں اور 49 ویں بریگیڈ سے دو پیدل بٹالینز، ایک چھان بین کرنے والی بٹالین (صلاح الدین)، بحری افواج کی 113 ویں بریگیڈ کی ایک بٹالین، خاص فوجیوں کی ایک بٹالین اور جیش الشعبی کے سپاہی شامل ہیں۔ اسے کے ساتھ کارون کے مغرب میں تین زرہی ڈویژن کی تیسری بریگیڈ اور دو پیدل اور زرہی بریگیڈ امددای فورس کے  عنوان سےہے،   ان کی چھان بین ہوچکی ہے۔

 

راستوں اور مراکز کے بارے میں آپ کے پاس کیا تدابیر تھیں؟

میجر بیانی کی گفتگو کے بعد، میں نے اپنی افواج کے فرنٹ لائن پر مستقر ہونے کی کیفیت اور پورے  علاقے کی وضعیت کے بارے میں بات کی: ذوالفقاریہ میں عراقی فوجیوں  کی دیوار کی نوک کے سامنے، تقریباً چار کلومیٹر، یعنی شیراز کی 37 ویں زرہی اور فدائیان اسلام گروہوں کا درمیانی فاصلہ فوجیوں سے خالی ہے۔ چونکہ علاقے میں ڈویژن کے داخل ہونے کے بعد تیسرے ستون کا پہلا اقدام سرحدی لائن کی شناسائی تھا، تیسرے ستون کے افسروں میں سے ایک ،میجر سروری، کرنل محوی کے ساتھ چھان بین کیلئے ہیلی کاپٹر کے ذریعے سہ راہ شادگان گئے تھے کہ دشمن کی فائرنگ کی وجہ سے انہیں یہ کام زمینی انجام دینا پڑا۔ اس  چھان بین کے نتیجے میں جنوب مشرقی علاقے شادگان سے لیکر ماہ شہر – آبادان کے ہائی وے  تک پھیلی ہوئی فوج کی طرف متوجہ ہوئے؛ شیراز کا 37 واں زرہی گروہ تقریباً  اس علاقے تک پھیلا ہوا تھا اور دشمن کی پیش قدمی والے حصے کے مقابل میں، تقریباً چار کلومیٹر فدائیان اسلام کے مستقر ہونے کی جگہ تک، کوئی  یونٹ مستقر نہیں تھا۔ البتہ زمین کے اس فاصلہ کو پانی نے روکا ہوا تھا۔ اس دوران دشمن کی مشرق کی طرف والی فرنٹ لائن کھلی ہوئی تھی، نہ آبادان کی طرف والی۔ صحیح ہے کہ شاید  خطرناک نہ ہو، لیکن اس علاقے میں ہماری فوجوں کی دفاعی لائن  جدا جدا تھی۔

 

کیوں جدا جدا تھی؛ کیا ڈویژن اپنے فوجیوں کے ساتھ علاقے میں مستقر نہیں تھا؟

نہیں؛ ہماری فوجی ہماری دسترس میں نہیں تھے۔ وہ مغربی شمال اور مغربی محاذوں پر تھے۔ جب تک وہ وہاں سے فارغ ہوکر آئیں ہم وحدت کے ساتھ فوجیوں کو منظم و مرتب کر رہے تھے اور اقدامات کو بھی ترتیب کے ساتھ انجام دے رہے تھے۔

 

اس موقع پر تیسرے رکن نے  کون سے پلان اور منصوبے کی پیش گوئی کی تھی؟

پہلا مرحلہ یہ تھا کہ دشمن کی پیش قدمی کے سامنے رکاوٹ کھڑی کریں، یعنی اُنہیں  پیش قدمی اور دوبارہ حربہ کا موقع نہ دیں۔ اگلے مرحلے میں ہمیں قبضہ ہونے والی جگہوں پر دشمن کی موقعیت کی اصلاح کرنی تھی، یعنی سرپل کے علاقے میں  غافل گیرانہ حربے کو استعمال کرتے ہوئے دشمن نے جن جگہوں پر قبضہ کیا ہوا تھا، وہاں حملہ کریں۔ مکمل منصوبہ بندی کا آخری مرحلہ کارون کے مشرق میں دشمن کی  فوجوں کو منہدم کرنا تھا۔

 

ثامن الائمہ آپریشن کیلئے مورد نظر طرز کیا تھی؟

اس آپریشن کیلئے بہت سے کام انجام دیئے گئے تھے، کم سے کم تین کام کہ تیسرا مورد بندے حقیر کو منظور تھا اور وہ یہ تھا کہ ہم دشمن کو جگہ کے لحاظ سے غافل گیر نہیں کرسکتے تھے، لیکن وقت  کے لحاظ سے غافل گیر کرسکتے تھے۔ دوسرا مسئلہ ایک ساتھ پیش قدمی یا کام کی ٹیکنک اور آپریشن کی تدبیر کا تھا۔ دشمن سوچ رہا تھا ہم محاذی ٹیکنیک انجام دیں گے، لیکن ہم نے دونوں طرف سے حملہ کیا، البتہ محاذی ٹیکنک بھی استعمال کی تھی۔ محاذی ٹیکنک کی ذمہ داری دوسری اور تیسری بٹالین  پر تھی، دوسری بٹالین فیاضیہ کے علاقے میں پل مارد کی طرف سے اور تیسری بٹالین  شمال کی طرف سے، نہر کارون کے متوازی، سلمانیہ کی طرف اور سلمانیہ پہنچ گئے۔

 

وہی پل جس پر دشمن نے مشرقی کارون میں حملہ کیا تھا؟

جی ؛ہماری ذمہ داری دشمن کی فوجوں کو پسپا کرنا تھا۔ ہم اس پل پر قبضہ کرکے دشمن کو علاقے میں گھیر سکتے تھے اور وہ عقب نشینی نہیں کرسکتے تھے اور نابود ہوجاتے۔ دوسرا مسئلہ دشمن کے فرار کو روکنا اور دشمن کی قوت بڑھانے کیلئے آنے والی سپورٹ کو بھی روکنا تھا کہ جسے پہلی بریگیڈ نے محاذی ٹیکنیک انجام دیکر دشمنی کی احتیاطی فورس پر ضربہ لگایا اور دشمن نے سرپل ہائی وی  کے جن راستوں پر قبضہ کیا ہوا تھا ہم نے اُسے کھول دیا تھا۔

 

یعنی کون سے راستے؟

آبادان کی طرف جانے والا ماہ شہر ہائی وے اور  اہواز کی طرف جانے والا آبادان ہائی وے۔ یہ بالکل علمی اور قدیمی  پلان تھا  اور «5-101» آئین نامہ کے مطابق بنا تھا۔کہا جائے کہ کسی بھی جنگی کتاب اور منبع کا اس سے مقابلہ نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ یہ ایسی کتاب ہے جو ہمیں اسٹاف جنگ کا طریقہ سکھاتی ہے۔

دو طرفہ ٹیکنک بہترین ترکیبوں میں  سے ہے اور دشمن کا پیچھے سے محاصرہ کرلیتی ہے۔ یہ پلان بہت ہی پیچیدہ ہے۔ ایک بریگیڈ شمال سے جنوب کی طرف اور دوسری بریگیڈ بھی جنوب سے شمال کی طرف حربہ لگانے میں مصروف ہوتی ہے۔ ہمیں ایسا کام کرنا تھا کہ یہ دونوں بریگیڈ آپس میں ایک دوسرے کو نہ ماریں، کیونکہ ایک دوسرے کے سامنے جنگ کر رہے تھے۔ گولہ باری کو اس ترتیب سے مارنا تھا کہ اپنے لوگ، اپنوں ہی کو نہ ماریں۔ ایک بریگیڈ دارخوین سے سلمانیہ کی طرف، کارون کے کنارے پر حرکت کر رہا تھا، دوسرا بریگیڈ بھی کارون کے کنارے سے، نیچے کی طرف سے قصبہ پل کی طرف حرکت کر رہا تھا۔ ان دونوں بریگیڈ کو قصبہ پل اور حفار پل کے درمیانی فاصلہ میں ایک ساتھ عمل انجام دینا تھا وار کارون کے مشرقی کنارے کا دفاع کرنا تھا۔

 

دونوں بریگیڈ ایک دوسرے پر حملہ نہ کریں، اس کے لئے آپ کی تدبیر کیا تھی؟

ہم نے آکر شمال سے جنوب اور جنوب سے شمال کی طرف ہونے والی حرکت کے درمیان 500 میٹر چوڑی دو لائنیں کھینچی ۔ شمال کی طرف سے آنے والی تیسری بریگیڈ جو کرنل فرمنش کی کمانڈ میں تھی،  وہ اس لائن سے اوپر فائرنگ نہیں کرسکتی تھی، کرنل کھتری کی کمانڈ میں دوسری بریگیڈ نے 500 میٹر خلاء کی ذمہ داری قبو ل کی اور اُس کا دھیان رکھا ہوا تھااور اُنھوں نے پلان کے مطابق عمل کیا تاکہ ایک دوسرے کی فائرنگ اپنے ہی فوجیوں کے ضائع ہونے کا سبب نہ بنیں۔ پہلی بریگیڈ نے بھی کرنل امینیان کی کمانڈ میں عمل کیا۔ یہ ٹیکنک بہت پیچیدہ تھی۔ اس میں بہت دقت کی ضرورت تھی، اس طرح سے کہ جنگی یونیورسٹیوں کے اساتید جو  وہاں میدان عمل میں اپنی ذمہ داری نبھانے آئے ہوئے تھے، جب اُنہوں نے پلان کو دیکھا تو اعتراض کیا، لیکن ہم نے اُنہیں قائل کرلیا۔ انھوں نے آمادہ فائرنگ پر بھی اعتراض کیا۔ ہمیں آپریشن کیلئے آمادہ فائرنگ کی پیشن گوئی کرنی تھی کہ اگر حملہ ہر روز ہوا، تو اس آمادہ فائرنگ  کو شروع کیا جائے۔ ہم نے 20 منٹ طے بھی کئے،  لیکن جب ہم نے موجود گولوں کا حساب کتاب لگا کر دیکھا تو 20 منٹ زیادہ وقت ہے اور ممکن ہے گولہ بارود کم  پڑ جائے۔ اسی وجہ سے آمادہ فائرنگ کو 10 منٹ کیلئے نظر میں رکھا۔ البتہ جب آپریشن بالکل غافل گیری میں انجام پاتا ہے، عام طور سے آمادہ فائرنگ کی ضرورت نہیں پڑتی، لیکن ممکن ہے آپریشن کے پہلے مرحلےمیں ہمارا راز فاش ہوجائے۔ اسی وجہ سے ہم نے پیشن گوئی کی کہ اگر ہمارا آپریشن فاش ہوگیا، ہم اس آمادہ فائرنگ کا آغاز کرسکیں۔

 

آپریشن کا نام ثامن الائمہ (ع) کیوں رکھا تھا؟

کرنل  جوادی نے  جنرل (ولی اللہ) فلاحی سے کہا ہوا تھا چونکہ ڈویژن امام رضا (ع) کی زیارت کرکے آیا ہے، آپریشن کا نام ثامن الائمہ (ع) ہو۔ جنرل نے بھی اس رائے کو قبول کرلیا تھا۔

 

تیسرے ستون کے تخمینوں کو نظر  میں رکھتے ہوئے، اس جنگ میں ہم اور دشمن ایک دوسرے  کی نسبت کیا توازن رکھتے تھے؟

ہم اس جنگ میں طاقت کا توازن اور حتی برتری رکھتے تھے۔ ہم نے تمام مسائل کا حساب کیا ہوا تھا۔ ٹینک بھی نئے اور جدید نہیں تھے۔ اسی وجہ سے ہم نے اپنی زرہی کمی کو 92 ویں اور 16ویں ڈویژن کی دو زرہی بٹالین استعمال کرکے جبران کیا۔ آپ یہ بھی جان لیں کہ ہمارے پاس پانچواں محاذ بھی تھا۔ پہلا محاذ دوسری بریگیڈ، دوسرا محاذ تیسری بریگیڈ، تیسرا محاذ پہلی بریگیڈ اور چوتھا محاذ بری افواج کے طیارے تھے۔ ہمارا پانچواں محاذ فضائی آرمی تھی جو وارد عمل ہوئی۔ ہم نے دزفول کی وحدتی چھاؤنی میں فضائی آرمی کو قانع کیا کہ علی الصبح  کارون کے مغرب میں پروازیں انجام دیں۔ اگر دشمن کے پاس ٹینک تھے  تو اس کے بدلے میں ہمارے پاس ہیلی کاپٹر تھے۔ یعنی تمام حساب کتاب اور ہر عمل کا ہمارے پاس ایک ردعمل  تھا۔ ہمارے پاس فوجی کم تھے تو  برادر رحیم صفوی نے ہمیں 2400 فوجی دے دیئے اور نظامیوں اور لوگوں کی  فوج نے مل کر کام انجام دیا۔ خدا کا شکر ہے کہ چند مہینوں کی ٹریننگ سے، جنگ کیلئے مکمل تیار ہوگئے۔ دستوں اور گروہوں تک  بریگیڈوں کو آپریشن کیلئے قانع کیا ہوا تھا۔ آپریشن کے معاملے میں کوئی بھی آنکھ نہیں چراتا تھا۔ دستوں اور گروپوں کے کمانڈرز، اپنے ایک ایک فوجی کو خندق میں لے جاتے اور اُنہیں علاقے دکھاتے۔ ہر کسی کی ذمہ داری واضح ہوچکی تھی۔ یونٹوں کے لائنوں کی حد حتی تیر لگنے کے لحاظ سے، پیش قدمیاں اور فائرنگ، ہر چیز واضح تھی۔ لیکن آپریشن شروع ہونے کا حکم کب آئے گا، یہ نہیں معلوم تھا۔ تمام پلان واضح تھے اور دن بہ دن مکمل تر ہوتے جا رہے  تھے۔

دشمن علاقے کی طرف ہونے والی یونٹوں کی حرکت سے سمجھ گیا تھا کہ ہم آپریشن کرنا چاہتے ہیں، لیکن اُسے اُس کے وقت کا  نہیں پتہ تھا۔  حتی بریگیڈ کے کمانڈر اور اُس کے نائب کو بھی آپریشن شروع ہونے کے وقت کا نہیں پتہ تھا۔ ہر بریگیڈ کو اپنے علاقے میں اینٹی فرد اور اینٹی ٹینک مائنز کو چاک کرنا تھیں۔ دشمن کو مائنز لگانے کے نقشہ کا علم تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈویژن کا انجینئرنگ یونٹ، رات کو مائن کی رکاوٹ کو کھولتا اور اُن پر علامت لگادیتا تھا، لیکن دشمن متوجہ ہوجاتا اور وہ اُنہیں دوبارہ بند کردیتا۔ ڈویژن انجینئرنگ یونٹ کے افراد نے واقعاً بہت زحمت اٹھائی تھی۔

 

آپریشن کا وقت اور دن کونسا تھا؟

25 دسمبر 1981ء کو یونٹوں نے اپنی آمادگی کا اعلان کیا۔ 25 دسمبر کی شام کو آپریشن کا پلان بریگیڈ کے یونٹوں تک پہنچا جنہوں نے پلان کو شروع کرنا تھا۔ یعنی پلان، شروع ہونے کیلئے حکم میں تبدیل ہوگیا۔ ڈویژن کی کمانڈ کی طرف سے مہر بستہ لفافے بریگیڈ کیلئے بھیجے گئے۔ بریگیڈ کے کمانڈرز بہت مطمئن تھے، کیونکہ یونٹوں کو  اچھی طرح تیار کیا ہوا تھا۔ میں نے سنا کمانڈرز لفافہ کھولنے کے بعد، تخت پر چڑھے اور خوشی کے آنسوؤں کے ساتھ آپریشن کی وضعیت کے بارے میں بات کی۔ بریگیڈ کے ارکان کے کمانڈروں نے بھی آپس میں بات کی۔ بعد میں سب نے ایک دوسرے سے  گلے مل کر خدا حافظی کیا اور ایک دوسرے کیلئے کامیابی کی آرزو کی۔ جبکہ دشمن نے اصلاً یہ خواب میں بھی نہیں دیکھا تھا، ہم نے رات کی تاریکی میں فوجیوں کو مطلوبہ جگہوں پر بھیج دیا۔ وہ آگے گئے۔ مائنز سے پاک شدہ میدان، جہاں سے یونٹوں کو گزرنا تھا، ہم نے اُس راستے پر پہلے سے ہی ایسی لکڑیاں نصب کردی تھی کہ جس کا ہماری طرف والا حصہ لال رنگ کا تھا اور لکڑی کا  دوسرا حصہ کالے رنگ کا۔ افراد کو پتہ تھا کہ انہیں لال رنگ والی علامت کے درمیان سے گزرنا ہے۔ ہم نے سامان رکھنے کی جگہیں بنائی ہوئی تھیں اور ہم نے وہاں گولہ بارود کے بکس رکھے ہوئے تھے۔ ہم نے یونٹوں کو بتا بھی دیا تھا کہ آگے بڑھو گے  تو ان پوائنٹس پر ہم نے تم لوگوں کے لئے آر پی جی، مارٹر، گن، اور اسٹین گن رکھی ہوئی ہیں۔ اب ضروری نہیں ہے کہ یہ سب سامان لے جانے کیلئے دوبارہ اتنا لمبا فاصلہ طے کرو۔ اسی طرح ہم نے فوجیوں کے لئے ٹھنڈا پانی اور گرم کھانا تیار کرکے رکھا ہوا تھا۔ مقررہ وقت پر جو 26 دسمبر 1981ء کی رات کے ایک بجے تھا۔ آپریشن "نصر من اللہ و فتح قریب" کے کوڈ سے شروع ہوا۔

 

آپریشن کے نتیجے کے بارے میں بتائیں

امام خمینی (رہ) کے فرمان (آبادان کے محاصرے کو توڑنا) پر عمل اور آپریشن میں کامیابی نے بعد والے آپریشنوں کیلئے تمام سپاہیوں کے دلوں میں اُمید  کی کرن پیدا کردی تھی۔ اس آپریشن میں ملک کی مقدس سرزمین کا تقریباً 200 کلومیٹر مربع حصہ آزاد ہوا۔

 

شہداء کی تعداد کیلئے آپ کی پیشن گوئی کتنی تھی؟

پہلے ستون کے انچارج میجر محمد اقبالی نے آپریشن کے اسٹاف جلسے میں کہہ دیا تھا: ہمارے تخمینوں کے مطابق اس آپریشن میں تقریباً 900 لوگوں کی جانوں کا نقصان ہوگا  کہ ہم نے آمادہ اور متبال فوجی رکھے ہوئے ہیں۔ لیکن یہ پلان اتنا دقیق اور علمی طرز کا بنا ہوا تھا کہ آپریشن کے بعد، شہید اور زخمی سب ملا کر ٹوٹل 550 تھے، جبکہ دشمن کے تین ہزار سے زیادہ لوگ مارے گئے  اور اُن کے 1761 افراد قیدی بنے۔ دشمن کے 90 ٹینک اور لوگوں کو لے جانے والی گاڑیاں اور 100 کاریں تباہ ہوئیں اور جو مال غنیمت ہاتھ آیا، 160 ٹینک اور لوگوں کو لے جانے والی گاڑیاں، 150 کاریں اور 155 ملی لیٹر گولے پھینکنے والی پانچ مشینیں اور دوسرے مختلف اسلحہ تھے۔

 

میں آپ کی شکر گزار ہوں کہ آپ نے حوصلہ کے ساتھ میرے سوالات کا جواب دیا

میں بھی آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ 


سائیٹ تاریخ شفاہی ایران
 
صارفین کی تعداد: 68


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
جنوبی محاذ پر ہونے والے آپریشنز اور سردار عروج کا

مربیوں کی بٹالین نے گتھیوں کو سلجھا دیا

سردار خسرو عروج، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے چیف کے سینئر مشیر، جنہوں نے اپنے آبائی شہر میں جنگ کو شروع ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔
لیفٹیننٹ کرنل کیپٹن سعید کیوان شکوہی "شہید صفری" آپریشن کے بارے میں بتاتے ہیں

وہ یادگار لمحات جب رینجرز نے دشمن کے آئل ٹرمینلز کو تباہ کردیا

میں بیٹھا ہوا تھا کہ کانوں میں ہیلی کاپٹر کی آواز آئی۔ فیوز کھینچنے کا کام شروع ہوا۔ ہم ہیلی کاپٹر تک پہنچے۔ ہیلی کاپٹر اُڑنے کے تھوڑی دیر بعد دھماکہ ہوا اور یہ قلعہ بھی بھڑک اٹھا۔