طاہرہ طاہری کے ساتھ گفتگو

رضا کار ادارے جہاد سازندگی کے واقعات، امدادی کام اور سنندج کے اسکول

فائزہ ساسانی خواہ
ترجمہ: سید مبارک حسنین زیدی

2017-11-30


طاہرہ طاہری انقلاب اسلامی کی کامیابی کے اوائل سے ہی سرگرم خواتین میں سے ایک ہیں۔ وہ رضا کارانہ طور پر اس ادارے میں بھرتی ہوئیں اور اسلامی جمہوری ایران کے خلاف صدامی فوج کی مسلط کردہ جنگ شروع ہونے کے بعد، رضاکار ادارے جہاد سازندگی کی طرف سے ہلال احمر ٹرین کے ساتھ کئی مرتبہ زخمیوں کی مدد کرنے ملک کے جنوبی علاقے میں گئیں۔ انہیں ثقافتی امور انجام دینے اور شہر سنندج کے اسکولوں میں پڑھانے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ انھوں نے ایرانی زبانی تاریخ کی سائٹ سے گفتگو کے دوران اُن سالوں میں گزرے اپنے واقعات کے بارے میں بتایا۔

 

آپ کب سے رضاکار ادارے جہاد سازندگی میں داخل ہوئیں؟

جب سے امام خمینی نے حکم دیا کہ نکلیں اور آپ لوگوں سے جو کام بھی ہوسکتا ہے وہ انجام دیں۔میں نے چھان بین کی اور صوبے کے رضاکار ادارے جہاد سازندگی کو ڈھونڈ لیا۔ اُس زمانے میں خوزستان میں سیلاب آیا ہوا تھا اور ہمیں سیلاب زدگان کی مدد کیلئے بھیجا گیا۔

 

آپ کی تعلیم کتنی تھی؟

میں نے انٹر کیا ہوا تھا، لیکن مختلف کورسز جیسے ابتدائی طبی امداد کا کورس اور ٹیلی فون ایکسنچ کے کورس کی ٹریننگ حاصل کی ہوئی تھی۔

 

خوزستان میں سیلاب آنے کے بعد حالات کیسے تھے؟

گھر بھی ٹوٹ پھوٹ چکے تھے اور پانی کچھ لوگوں کو بہا کر بھی لے گیا تھا۔ گاڑی کے ذریعے بعض علاقوں کو عبور کرنا ممکن نہیں تھا ، ہمیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے لے جاتے ۔ صفائی ستھرائی والے کام انجام نہیں دے سکتے تھے، صرف غذا، جیسے روٹی، کھجور اور کھانے کے ڈبے لے جاتے۔ اُس علاقے میں اُن کی خوراک صرف بلوط تھی اور سیلاب نے اُن درختوں کو جڑ سے اکھاڑ دیا تھا۔ ہر گھر میں نہیں جاتے تھے، ہیلتھ سنٹر یا اسکولوں میں ٹھہر جاتے ، لوگوں کو اطلاع دیتے  اور وہ لوگ آجاتے۔

جب خوزستان سے واپس آئے تو ہم رضاکار ادارے جہاد سازندگی کے مرکزی دفتر گئے۔ ہم نے ڈاکٹر شمس کی شاگردی میں امدادی کاروائیوں کا ٹریننگ کورس کیا ہوا تھا۔ ہمیں مہارت حاصل کرنے کیلئے ہسپتال بھیج دیا گیا۔ ہسپتال ایسے افراد کیلئے تھا جنہیں  سل کی طرح کی بیماریاں تھیں، ہم نے وہاں ضروری چیزوں کی ٹریننگ حاصل کی۔ اس کے بعد ہمیں کچھ ڈاکٹروں اور امدادی کارکنوں کے ساتھ دہ دز اور ایذہ کی طرف بھیج دیا۔ ہمارے ساتھ ایک لیڈی ڈاکٹر تھیں جن کا تعلق اصفہان سے تھا۔ ہم دور دراز دیہاتوں میں سے ایک دیہات ایذہ میں محروم لوگوں کے ہیلتھ سنٹر میں گئے اور وہاں پڑاؤ ڈال لیا۔ ظہر ہوچکی تھی اور ہم گاؤں والوں کو زحمت میں ڈالنا نہیں چاہتے تھے کہ وہ لوگ ہمارے لئے کھانا لیکر آئیں۔ ہم نے گاؤں سے کچھ روٹیاں خریدیں۔ روٹی کے کناروں کو الگ کرلیا تاکہ اُنہیں ایک طرف رکھ دیں۔ لیڈی ڈاکٹر نے کہا: "جاؤ انہیں جاکر گائے کے آگے ڈال دو۔" میں نے کہا: "اطاعت" لیکن جب اُن کا دھیان بٹا میں نے اُنہیں میز کے نیچے رکھ دیا۔ اُس سے اگلے دن ہم لوگ بھوکے تھے، لیکن کھانے کو کچھ نہیں تھا۔ ہم اُس دن تک کسی گاؤں میں نہیں گئے ہوئے تھے، ہمیں کوئی تجربہ نہیں تھا اور ہم اپنے ساتھ کچھ لیکر نہیں گئے تھے۔ لیڈی ڈاکٹر نے کہا: "وہ روٹی جو میں نے گائے کے سامنے رکھنے کیلئے کہا تھا اُس کا کیا ہوا؟!"میں جاکر لے آئی اور کہا: "ہم بھی گائیں!"

ایک دفعہ ہم ایک گاؤں گئے۔ وہاں تک پہنچنے کیلئے ہمیں ٹیلے کے اوپر سے گزرنا تھا  اور ہمیں خود کو دوائیوں ا ور دوسرے وسائل کے ساتھ پہنچانا تھا۔ جو ڈاکٹر ہمارے ساتھ تھی، اگر کسی کو جلد کی کوئی بیماری ہوتی، یا تو اُس کا معالجہ کرتی یا اُسے تہران کے کسی ڈاکٹر کا پتہ دیتی۔ اس طرح کے گاؤں کا سفر مجھے یاد ہے  ایک دفعہ ہم نہر  کو عبور کرنا چاہتے تھے۔ نہر  میں پانی چڑھا ہوا تھا۔ اگر ہم اپنا دھیان نہیں رکھتے تو پانی ہمیں اپنے ساتھ لے جاتا۔ دوائی کے بیگ ہمارے ہاتھوں میں تھے۔ اپنی حفاظت کیلئے ہمارے پاس کوئی وسیلہ نہیں تھا۔ میں نے کسی سے چھتری لی اور پانی میں ڈائل دی تاکہ رکاوٹ بن جائے، چھتری ٹیڑھی ہوگئی۔ ہمارے ساتھ جو ڈاکٹر تھا وہ آگے چل رہا تھا۔ اُس نے اپنی پینٹ کے پائنچوں کو گھٹنوں تک چڑھایا ہوا تھا۔ اُس نے مجھ سے کہا: "میں آگے چل رہا ہوں آپ میرے پیچھے آئیں۔ مجھے ٹھنڈے پانی سے حساسیت ہے۔ ممکن ہے میری حالت خراب ہوجائے اور میں پانی کے اندر گر جاؤں۔ اس بیگ کی جیب میں ایک انجکشن ہے  کہ جسے فوراً باہر نکال کر میری زبان کے نیچے ڈال دینا۔" خدا کا احسان ہے کہ کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔

اصل میں رضاکار ادارے جہاد سازندگی اور آپ جہادی کارکنوں کو اس  سفر کا پہلا پہلا تجربہ تھا اور آپ لوگوں کو اس سفر میں جن ضروری چیزوں اور وسائل کی ضرورت تھی آپ نے اُس کی فکر نہیں کی تھی؟

جی۔ صحیح ہے۔ دیکھیں ادارے کو پتہ نہیں تھا کہ وہ ہمیں وسائل فراہم کرتا اور خود ہمیں بھی پتہ نہیں تھا۔ کیونکہ یہ ادارے کا پہلا تجربہ تھا اور ہم لوگ بھی اُس زمانے تک اس طرح کے سفر پر نہیں گئے تھے، ہم نے بھی وسائل کی درخواست نہیں دی۔ ہم کچھ دنوں تک وہاں رہے۔ ڈاکٹروں نے مریضوں کا معاینہ کیا اور ہم لوگوں نے بھی جو ہم سے ہوسکا انجام دیا اور واپس لوٹ آئے۔ واپس آتے ہوئے راستے سے ہم نے لوبیا کے ٹن پیک خریدے۔ ہمیں اُس ٹن پیک کو کھولنے کیلئے  اوپنر سے استفادہ کرنا چاہیئے تھا، ہم نے اُسے نہر کے کنارے پڑے نوکیلے پتھر سے کھولا۔

جب ہم تہران پہنچے تو ادارہ جہاد سازندگی نے کچھ لوگوں کو دماوند اور کچھ لوگوں کو ورامین بھیج دیا۔ ہم ادارہ جہاد سازندگی کے ساتھ ورامین چلے گئے اور وہاں ٹیچرز ٹریننگ سنٹر میں پڑاؤ ڈالا۔ جیسا کہ نیا نیا انقلاب آیا تھا، وہاں کی چھٹی تھی۔ اندر داخل ہوتے ہی دو کمرے تھے جن میں سے ایک نگہبان کیلئے تھا جس میں مرد حضرات ٹھہرے اور ہم دوسرے کمرے میں ٹھہر گئے۔ راتوں کو ہم وہیں رہتے۔ کبھی تہران چکر لگا لیتے اور واپس آجاتے۔ ہم ورامین کے گاؤں اور  ڈسپنسریوں میں جاتے۔

 

ادارہ جہاد سازندگی کی تعمیراتی،  زراعتی، صحت و سلامتی، ثقافتی نامی مخصوص کمیٹیاں تھیں؛ آپ نے خود صحت  والے سیکشن کا انتخاب کیا تھا  یا  تقیسمات کے وقت آپ کو اس سیکشن میں بھیجا گیا تھا؟

میں نے خود انتخاب کیا تھا۔

 

آپ کے ساتھ صرف صحت کمیٹی کے کارکنان جاتے تھے؟

جی۔ جنہوں نے ٹریننگ کی ہوئی تھی۔

 

تہران کے اندر ایک مرکزی سنٹر قائم ہوگیا تھا اور  آپ اُس سنٹر کی بنیاد پر تقسیم ہوتے تھے؟

جی،  اوروہاں  لوگ ذاتی بنیادوں پر کام کر رہے تھے۔ ہم نے وہاں ڈسپنسری سے بات کی ہوئی تھی۔  جناب ڈاکٹر نصریان نے جناب ڈاکٹر عرب کا ہم سے تعارف کروایا جن کا تعلق ورامین کے ایک گاؤں سے تھا۔ ہمارے لئے تہران سے بھی ڈاکٹر بھیجتے تھے۔

 

ورامین کے دیہاتوں کی صورت حال کیسی تھی؟

کچھ دیہاتوں میں پانی نہیں تھا، وہ لوگ کہیں اور سے پانی لاتے تھے۔ صاف ستھرے پانی کو استعمال کرنے کی ٹریننگ دینا ڈسپنسری اور صحت ڈپارٹمنٹ والوں کی ذمہ داری تھی۔ شروع میں جب گئے تھے ، صفائی ستھرائی کی ٹریننگ کا بندوبست نہیں تھا۔ ہم صبح سے باہر نکل جاتے اور ایک گھر سے دوسرے گھر جاتے۔ گھر والوں کے حالات کی چھان بین کرتے اور بچوں کو ویکسین لگانے کیلئے لاتے۔ ایک دفعہ جب ہم خود پر توجہ کرتے  اور دیکھتے کہ ہم گیارہ گھنٹے چلے ہیں۔ ہمارے پاس گاڑی بھی تھی۔ ادارہ جہاد سازندگی میں ہماری گاڑی کے ڈرائیور کا نام تاجیک تھا۔ پٹرول کا کوپن ملتا تھا، ہم دو تین دیہاتوں میں جاتے اور ہماری گاڑی کے حصہ کا پٹرول ختم ہوجاتا۔ ہم نے  گورنر ہاؤس میں بات کی ہوئی تھی اور وہ ہمیں پہچانتے تھے ، وہ مجھے پٹرول کے اضافی کوپن دیتے جس سے ہم  تمام دیہاتوں میں جاسکتے تھے۔

 

آپ بچوں کو کون سی ویکسین لگاتی تھیں؟

ہم پوچھتے کہ کون سی ویکسین لگ چکی ہے اور کون سی ویکسین نہیں لگی ہے۔ ہم ان معلومات کا اندارج کرلیتے۔ ہم بہت سے دیہاتوں میں گئے اور تین مہینے کے بعد والی ویکسین لگاتے تھے۔

 

اُن کی اہم ترین مشکلات کیا تھیں؟

پانی نہیں تھا، اُنہیں کنویں سے پانی نکال کر لانا پڑتا تھا، بعض اوقات بجلی بھی نہیں ہوتی تھی۔

 

گارے سے بنے ہوئے گھر تھے؟

گارے سے بنے ہوئے بھی تھے اور اینٹ سے بنے ہوئے بھی۔ بعض جگہوں پر صرف گارے سے بنے ہوئے گھر تھے۔  

 

آپ نے کتنے دیہاتوں کا دورہ کیا؟

ہم نے ورامین کے ۹۰ دیہاتوں کا احاطہ کیا ہوا تھا اور گاڑی سے جاتے تھے۔ ہم ڈاکٹروں کو  عام طور سے جمعہ والے دن لے جاتے تھے۔ بعدمیں ہم نے آہستہ آہستہ صفائی ستھرائی کی ٹریننگ دینا بھی شروع کردیں؛ کیا کام کریں، کیا کام نہ کریں۔

 

آپ صحت کمیٹی کی انچارج تھیں؟

جی۔ البتہ شروع میں اُسے میڈیکل کمیٹی کہتے تھے، بعد میں اُسے صحت کمیٹی کہنے لگے۔ تہران میں منعقد ہونے والے کمیٹیوں کے اجلاس میں میرے علاوہ، تمام کمیٹیوں کے انچارج مرد تھے۔ شروع میں صحت کمیٹی کے انچارج ڈاکٹر عرب تھے بعد میں انھوں نے یہ ذمہ داری مجھے سونپ دی۔ ایک میٹنگ میں جناب ڈاکٹر نصیری نے بغیر کسی ہم آہنگی کے مجھ سے کہا: "ہم نے محترمہ طاہری کو صحت کے مربی کے طور پر منتخب کرلیا ہے تاکہ وہ دوسرے مربیوں کے ساتھ کام کریں۔" میں بوکھلا گئی۔ میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کہوں۔ میں نے بعد میں ان سے کہا: "آپ نے مجھ سے کچھ کہا نہیں تھا!" وہ بولے: "خاص طور سے نہیں کہا تھا، اگر میں بتادیتا تو آپ کا جواب انکار میں ہوتا۔" اس مجموعے کے تحت کچھ لوگوں کی تعداد بھی تھی۔

 

مجموعے کے تحت کام کرنے والے افراد کتنے سال کے تھے؟

سب مجھ سے زیادہ جوان تھے۔ میں ۲۶ سال کی تھی۔ لیکن وہ لوگ ۲۰ سے ۲۲ تک اور اس حد تک تھے۔ میں نے اُن سے کہا: "میں نہیں کہوں گی کہ کیا پہنو اور کیا نہیں پہنو، لیکن میں چاہتی ہوں آپ لوگ صاف ستھرے رہیں، چونکہ ہم لوگ وہاں اُنہیں صحت و صفائی کا درس دینے جا رہے ہیں،  لہذا پہلے مرحلے میں ہمیں صاف ستھرا ہونا چاہیے۔" میں حجاب کے معاملے میں بھی کوئی تذکر نہیں دیتی، چونکہ انقلاب کی شروعات تھیں اور حجاب کی پابندی ابھی لازمی نہیں ہوئی تھی۔ صرف یہ کہا: "میں خود اس حلیے (چادر کے ساتھ) میں جاؤں گی۔ یہ جو ہم انقلاب لائے تھے اس میں ایک ہدف تھا۔" اگلی نشست میں جس میں ہم کارکنان کو تقسیم کرنا چاہتے تھے کہ کون سے گاؤں جائیں اور کتنے لوگ ہوں، میں نے دیکھا کہ دو تین لڑکیوں نے چادریں پہنی ہوئی ہیں۔ میں شروع سے ہی چادر کے ذریعے حجاب کرتی تھی، لیکن  کالی چادر کے ساتھ صفائی نہیں دکھائی جاسکتی تھی۔ جب ہم دیہاتوں میں جاتے تو بالکل بھی گہرے رنگ کا لباس نہیں پہنتے تھے، چونکہ میں اُن سے کہتی کہ ہم دیہات کی طرف جا رہے ہیں، ہم دیہات والوں کے لئے نمونہ ہیں اور ہم اُنہیں صفائی ستھرائی سکھانا چاہتے ہیں، وہ یہ چیز دیکھیں کہ میرے لباس کا رنگ ہلکا لیکن صاف ہے۔ گہرے رنگ میں گندگی کا پتہ نہیں چلتا۔ میں مانتو اور سر پر مقنعہ پہن کر جاتی تھی۔

 

اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ ان دیہاتوں  کے لوگوں کا تعلق  محروم علاقوں سے تھا،  وہ ٹریننگ کے خلاف کچھ کہتے نہیں تھے؟

ہمیں اس لحاظ سے کوئی مشکل پیش نہیں آئی اور  لوگوں نے پسند کیا ۔ جب ہم ویکسین لگانے جاتے، بچے ہمارے پیچھے پیچھے چلنے لگتے۔ ایک گھر سے دوسرے گھر تک ہمارے ساتھ آتے اور ہمیں خالہ کہہ کر بلاتے۔ ہم بچوں کے ساتھ بہت اچھا رویہ اختیار کرتے تھے۔ ہم اُن پر حکم نہیں چلاتے تھے اور نہیں کہتے تھے: "بیٹھ جاؤ، لائن میں لگ جاؤ  ..." ہم کہتے کہ اگر ایک دوسرے کو دھکا نہیں دو گے، ہم تمہارے لئے فلاں کام انجام دیں گے۔ کبھی ہم اپنی حیثیت کے مطابق بچوں کیلئے کچھ لے جاتے۔

 

یہ آپ کے رویہ سے تعلق رکھتا ہے کہ آپ اوپر سے نیچے تک نہیں دیکھتی تھیں...

ہم نے بالکل ایسا رویہ نہیں رکھا تھا۔  اگر ہم اس طرح کا رویہ رکھنا چاہتے تو وہ ہم بالکل بھی قبول نہیں کرتے۔ ہم جہادی اور انقلابی طرز کا کام کرنا چاہتے تھے۔ کبھی کچھ گھر والے ہماری دعوت کرتے کہ ہم اُن کے مہمان بنیں، جیسا کہ ہمیں اُن کے حالات کے بارے میں معلوم تھا ہم نہیں جاتے تھے۔ البتہ بعض بچوں نے ہم سے دوستانہ تعلق قائم کرلیا تھا۔

 

یہ نصیحتیں ادارہ جہاد سازندگی میں، ورامین یا دوسری جگہوں کی طرف جانے سے پہلے آپ کو کی جاتیں؟

نہیں۔ جیسا کہ ادارہ جہاد سازندگی نے نیا نیا کام شروع کیا تھا، اس بارے میں اُسے کوئی تجربہ نہیں تھا۔ سب ہی صفر سے شروع کر رہے تھے۔ البتہ ہم خود  جب اکٹھے ہوتے تو ایک دوسرے کو تذکر دیتے تھے۔ ہم بعض ایسی جگہوں پر گئے تھے جن لوگوں نے گاڑی نہیں دیکھی تھی  اور ہمیں وہاں کوشش کرنی پڑتی کہ بچوں کو اپنی طرف متوجہ کریں۔

 

بچوں کی غذائیت اچھی نہیں تھی؟

ہاں۔ ان کے چہروں سے صاف پتہ چل رہا ہوتا تھا۔بعض  تو بہت کمزور تھے اور اُن کی آنکھیں باہر نکلی ہوئی تھیں۔ ہم نے دیہاتوں میں کچھ لوگوں کو پہچان لیا تھا اور جب اگلی دفعہ جاتے تو اُن کے بارے میں پوچھتے تھے۔ بعض اوقات وہ کہتے کہ فلاں کا ماں یا باپ کو یہ بات پسند نہیں کہ ہم کہیں اُن کے بچے  کے ساتھ یہ مسئلہ ہے۔ ہم جاتے ، دروازہ کھٹکھٹاتے اور کہتے جس کسی کو ڈاکٹر کی ضرورت ہے آجائے۔ ہم ایسے لوگوں کے دروازوں تک جاتے اور کہتے: "ڈاکٹر آیا ہوا ہے، اگر تم چاہتے ہو تو میں تمہارے بچے کو تم سے پہلے ڈاکٹر کے پاس بھیجوں گی۔" ہم بہت ہی ملائم انداز میں بات کرتے تاکہ راضی ہوجائیں۔

 

جب آپ اُن کو اس حال میں دیکھتیں تہران سے اُن کیلئے لباس، خوراک اور ضرورت کی دوسری چیزیں  جمع نہیں کرتی تھیں؟

نہیں۔ ہم اس کی رپورٹ ادارہ جہاد سازندگی میں دیتے تھے۔ مثلاً ہم کہتے کہ یہ لوگ ثفافتی غربت کا شکار ہیں۔ وہ لوگ کوشش کرتے کہ اس مسئلہ کو حل کریں اور ان مسائل کو مربوط کمیٹیوں کے سپرد کریں۔ جیسا کہ مجھے خود دستکاری جیسے کاموں میں دلچسپی تھی میں نے خواتین کیلئے  گلدستے سجانے کی کچھ کلاسوں کو منعقد کیا جو جنگ کے بعد اور ایسے زمانے میں شروع کیں جب میں نے ادارہ جہاد سازندگی کو چھوڑ دیا تھا۔

 

گاؤں کی شرائط اور اُن کے پاس جو محدود وسائل تھے اُن کے ساتھ کام کرنا، آپ کیلئے ان سب کو تحمل کرنا سخت نہیں تھا؟

ہم تحمل کرتے تھے۔  ایک خاتون جس کا نام مینا ... وہ اپنے گھرانے کی واحد لڑکی اور اٹھارہ اُنیس سال کی تھی۔  وہ خاص شرائط میں بڑی ہوئی تھی  اور اُس کے گھر والے اس کے آنے پر بالکل راضی نہیں تھے۔ ایک دفعہ اُس کے گھر والے ورامین آئے  اور اُسے کیلئے بہت سی کھانے پینے کی چیزیں لائے۔

 

آپ کو ورامین جانے کیلئے اپنے گھر والوں کی طرف سے کسی مشکل کا سامنا نہیں تھا؟

نہیں۔ میرے والد اس کے باوجود کہ بہت مذہبی تھے، لیکن انھوں نے ادارہ جہاد سازندگی کے ساتھ کام کرنے پر کبھی مخالفت نہیں کی۔

 

آپ کتنے گھنٹے کام کرتی تھیں؟

ہمارے کام کا وقت معین نہیں تھا۔ ہم صبح آٹھ بجے سے کام شروع کرتے اور کبھی شام کو چار یا پانچ بجے واپس آتے، چونکہ تنخواہ تو لیتے نہیں تھے، بعد میں ہمیں  پیسے دیئے گئے۔ ہم لوگ بہت بچت کرتے تھے۔ ہماری کوشش ہوتی تھی کہ ادارہ جہاد سازندگی پر زیادہ خرچہ نہ پڑے اور ادارہ ہمارے لئے پیسے خرچ نہ کرے۔

جمعہ والے دن  ہم قرچک میں اینٹوں  کے بھٹوں پر ڈاکٹر کو لے جاتے تاکہ وہاں پر موجود بیماروں کا علاج کریں۔  ہم نے نسخوں کو پڑھنا سیکھ لیا تھا۔ اگر بعض جگہوں پر مشکل درپیش ہوتی تو ڈاکٹروں سے پوچھ لیتے تھے اور پھر گاؤں والوں کو دوائیاں دے دیتے تھے۔ مجھے یاد ہے ایک دفعہ ایک فرد دوائیاں لانا بھول گیا، میں مریض بن کر گاڑی میں سو گئی اور ڈرائیور سائرن بجاتا ہوں تہران گیا اور ہم نے  صرف ۴۵ منٹ  کے عرصہ میں دوائیوں کو پہنچا دیا۔

 

ادارہ جہاد سازندگی میں، کمیٹیوں کا اجلاس کس طرح تشکیل پاتا تھا؟

ہم اپنی کمیٹی کے انچارج کے ساتھ میٹنگ رکھتے اور ہماری کمیٹی کا انچارج دوسری کمیٹیوں  کے ساتھ میٹنگ رکھتا۔ اُس زمانے میں ایسا نہیں تھا کہ ہم مسلسل اپنے کاموں کی رپورٹ دیں، بعد میں کام اور  زیادہ منظم ہوگئے۔ اس طرح بھی نہیں کہ رپورٹیں مکتوب صورت میں ہوں، اپنی ضرورتوں کو زبانی ہی بتا دیا کردیتے اور اپنے کارکردگی کی رپورٹ پیش کردیتے۔

 

جنگ شروع ہونے والے دن آپ کہاں تھیں؟

جنگ کے شروع میں، جب تہران پر بمباری ہوئی، ہم ورامین جانے کیلئے ادارہ جہاد سازندگی کی سیڑھیوں سے نیچے اُتر رہے تھے۔ ساتھیوں نے مجھے سے کہا: "تہران پہ حملہ ہوا ہے!" ماحول کشیدہ نہ ہونے کیلئے میں نے کہا: "ارے نہیں بھئی، کچھ نہیں ہوا، خوامخواہی میں سستی مت دکھاؤ!چلیں" جیپ میں بیٹھ کر ورامین کی طرف جانے لگے۔ راستے میں خبروں کے ذریعے اعلان ہو کہ عراق نے ایران پر حملہ کردیا ہے۔ جب ہم ورامین پہنچے، مغرب ہوچکی تھی اور آہستہ آہستہ اندھیرا چھا رہا تھا۔ میں نے ساتھیوں سے کہا: "چلو ٹیلی فون کرنے والے بوتھ پر چلتے ہیں، اپنے اپنے گھر والوں سے کہو کہ تم خیریت سے ہو۔" جب ہم وہاں پہنچے تو دیکھا بند پڑا ہے۔

جنگ شروع ہوئے چند دن گزرے تھے کہ ہم ہلال احمر کی ٹرین کے ذریعے جنوب گئے۔ ہمارے علاوہ، نرسیں بھی تھیں۔ ٹرین میں، آپریشن تھیٹر، نرسوں کا کمرہ، میڈیکل اسٹور اور ڈاکٹر موجود تھا۔ ہمارے لئے بہت دلچسپ تھا۔ قم ریلوے اسٹیشن پر بہت رش تھا۔ لوگ خدا حافظی کرنے آئے ہوئے تھے۔ صلوات پڑھ رہے تھے اور نقل بانٹ رہے تھے اور ٹرین کو قرآن کے نیچے سے گزار رہے تھے۔ راستے میں کہا گیا: "اہواز اور دزفول پر شدید حملہ ہو رہا ہے۔" ٹرین کے باورچی خانہ والے حصے نے کہا: "ہمارے پاس کھانے پکانے کے لئے سامان نہیں ہے، طے پایا کہ بکرا خرید کر ذبح کریں تاکہ باورچی کھانا پکائیں۔" ہم بھی کٹر انقلابی تھے، ہم نے کہا: "یہ صحیح نہیں! کچھ لوگ محاذ پر لڑ رہے ہیں اور ہم بکرا کھائیں؟" ہم نے شعر بنایا کہ: "جو کوئی بھی بکرا روٹی کھائے، وہ یہاں سے دفع ہوجائے۔"

دزفول سے تھوڑا پہلے، ابھی تاریکی نہیں پھیلی تھی۔ ہماری ٹرین کے ایک طرف، وہ ٹرین تھی جس تہران کی طرف جا رہی تھی۔  دوسری طرف وہ ٹرین تھی جس میں گولہ بارود بھرا ہوا تھا اور وہ اہواز کی طرف جا رہی تھی اور فائرنگ کی آواز بھی آرہی تھی۔ تین ٹرینیں روکی ہوئی تھیں۔ سپاہ کے فوجیوں میں سے کچھ لوگ ٹرین میں موجود تھے۔ مسافروں سے کہا گیا: "نیچے اتر جائیں" سب نیچے اُتر گئے۔ کہنے لگے: "زمین پر لیٹ جائیں!" میرے لباس کا رنگ ہلکا تھا۔ میں نے دیکھا کہ اگر میں لیٹوں، میرے کپڑے گندے ہوجائیں گے۔ پھر میں نے سوچا اگر یہاں حملہ ہوا تو کوئی  فرق نہیں؛ ایک طرف پٹرول سے بھری ٹرین ہے اور دوسری طرف گولہ بارود سے بھری ٹرین ہے، اگر  دھماکہ ہو تو ہمارا تو کچھ بھی نہیں بچے گا، تو پھر کیوں میں اپنے کپڑوں کو گندا کروں۔ میں نہیں لیٹی! سپاہیں میں سے ایک نے کہا: "محترمہ طاہری ..." میں نے کہا: "جناب سپاہی، کوئی فرق نہیں پڑتا!" اُسے ہنسی آگئی۔ ماحول تھوڑا بہتر ہوا، میں نے دیکھا ایک ڈاکٹر گولہ بارود سے بھری ٹرین کے نیچے پناہ لیئے ہوئے تھا اور ایک دوسرا ڈاکٹر پٹرول سے بھری ٹرین کے نیچے چھپا ہوا تھا!

رات دس بجے ہم دزفول پہنچے۔ دوبارہ فائرنگ کی آواز آئی۔ کہنے لگے: "نیچے اتر جائیں اور اسٹیشن پر لیٹ جائیں  تاکہ صبح آگے بڑھیں۔" گھپ اندھیرے کے اندر دزفول اسٹیشن کے ہال میں سوئے۔ جب صبح آنکھ کھولی تو پتہ چلا کہ واش ر وم کے دروازے کے پاس سوئے ہوئے تھے۔ صبح اہواز کی طرف گئے اور وہاں جاکر ٹھہر گئے۔ ٹرین میں کوئی زخمی نہیں تھا اور ہم ایسے ہسپتال گئے جو اہواز سے ۱۵ کلومیٹر کے فاصلہ پر تھا۔ بیڈوں کے علاوہ، ہسپتال کے برآمدے بھی زخمیوں سے بھرے ہوئے تھے۔ ہم نے عصر کے وقت تک  مدد کی۔ ایک زخمی عورت  کے جسم میں عفونت ہوگئی تھی اور نرسیں اُس طرف نہیں جا رہی تھیں، لیکن ایک لڑکی جو ظاہری طور پر اتنی مذہبی بھی نہیں لگ رہی تھی وہ اُس کا بہت خیال رکھ رہی تھی۔ ہم نے اُس کا بہت شکریہ ادا کیا۔

 

زخمیوں میں عام افراد تھے یا فوجی تھے؟

زیادہ تر عام افراد تھے۔ اس کے اگلے دن پہلے زخمی کو ٹرین میں لائے جو ایک بیہوش جوان تھا۔ وہاں تھے یہاں تک کہ ٹرین میں موجود ہسپتال کے بیڈ پر ہوگئے ، ہم تہران واپس آئے۔ ہم نے زخمیوں کو مختلف شہروں میں تحویل دیا۔ زخمیوں کے ددرمیان ایک ایسا آدمی تھا جس کی دونوں آنکھیں چلی گئی تھیں۔ ایک دفعہ اور بھی سن ۱۹۸۱ء کے نوروز کے موقع پر شاہراہ ایران کی ایک مسجد کی طرف سے، بس کے ذریعے اہواز کی طرف گئے جہاں خواتین اور حضرات جمع ہوتے اور سپاہیوں کے لباس اور لحاف وغیرہ کو دھوتے یا سیتے تھے۔

 

وہاں جمع ہونے والے تمام کارکنان سب کے سب تہرانی تھے یا اہواز سے بھی تھے؟

ہم دو بسوں میں تہران سے گئے ہوئے تھے، لیکن خود اہواز اور دوسرے شہر سے بھی لوگ آئے ہوئے تھے۔

 

آپ کچھ عرصے کیلئے شہر سنندج بھی گئیں۔ آپ اس شہر میں کس کام کیلئے داخل ہوئی تھیں؟

ہم وہاں ثقافتی کام کیلئے گئے تھے۔ دوستوں نے رابطہ کیا کہ تعلیمی ادارے میں کچھ مدد کی ضرورت ہے اور میں بھی چلی گئی، چونکہ میں نے انقلاب سے ایک سال پہلے بوڑھوں کے ساتھ کام کرکے  اَن پڑھ لوگوں کیلئے ایک پیشکش دی تھی۔ سنندج میں ضرورت کے اعلان کے وقت، تعلیمی ادارے کے انچارج جناب خانی تھے۔ میں جناب مومنی کے پاس گئی اور پھر مجھے وہاں بھیج دیا گیا۔ میں تہران کے تعلیمی ادارے کی طرف سے تین سال  کیلئے سنندج گئی۔

 

کس طرح گئیں؟

پہلے دن جب میں وہاں کا سفر کرنا چاہ رہی تھی، میرے ذہن میں کچھ نہیں تھا۔ میں اکیلی اور ایک معمولی بس سے وہاں گئی۔ میں ٹرمینل میں داخل ہوئی بس چلنے کا وقت ۱۱ بجے کا تھا۔ بس میں سارے مرد بیٹھے ہوئے تھے جنہوں کردی لباس پہنا ہوا تھا۔ میرے علاوہ صرف ایک اور خاتون بس میں سوار ہوئی تھی ، وہ بھی کرد تھی۔ بتایا گیا تھا کہ ہمدان کے بعد بہت خطرناک ہے۔ میں تھوڑا پریشان تھی، کیونکہ انقلاب مخالف گروہوں سڑکوں کو بند کرکے ، لوگوں کو بسوں سے اتار لیتے تھے۔

جب ہم دہگلان پہنچے تو ڈرائیور نے کہا: پس اس سے آگے نہیں جائے گی، صبح تک صبر کرنا پڑے گا تاکہ راستہ کی صفائی ہو، جیسے ہی اُجالا نکلے چل پڑنا۔ وہاں پر سپاہ آپریشن انجام دے رہی تھی اور مخالف پارٹیوں کو باہر نکال رہی تھی۔ صبح ہوئی تو سپاہ نے گزرنے کی اجازت دیدی۔ میں نے وہیں سے ٹیکسی پکڑی اور سنندج کے  تعلیمی ادارے پہنچی۔ اُس کے بعد میں ہاسٹل میں محترمہ رستار کے پاس گئی۔

 

آپ اور محترمہ رستار کے علاوہ اور کون لوگ وہاں تھے؟

کرمانشاہ، قزوین، اصفہان اور دوسرے شہروں کے بہت سارے لوگ تھے۔ ہر منزل پر دو گھر، جس میں دو کمرے اور ایک کچن تھا۔ ہم تقریباً بارہ لوگ تھے جو ان کمروں میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ اُس وقت گرمیاں تھیں اور اسکول ابھی کھلے نہیں تھے، ہم بچوں کے سا تھ کھیلتے۔ نویں اور دسویں کلاس کے بچے تھے۔ ہم اُن کے ساتھ کھیلتے اور نجیر بنانے والے چچا کے شعر کو ہم اس صورت میں پڑھتے کہ: زنجیر بنانے والے چاچا، ہاں ... امام آگئے، کیا کیا لائے؟، انقلاب اسلامی، کس آواز سے؟ اللہ اکبر۔

 

آپ کے سنندج جانے پر آپ کے گھر والوں نے کوئی اعتراض نہیں کیا؟

نہیں۔ ایک دفعہ میری والدہ سنندج آئیں، لیکن میں کبھی کبھار تہران چکر لگا لیا کرتی تھی۔

 

کیا آپ کو پتہ تھا کہ انقلاب مخالف پارٹیاں جیسے کوملہ اور ڈیموکریٹ وہاں پر ہیں؟

ہاں۔ ٹیچرز کا ہاسٹل چھاؤنی میں تھا۔ پہلے اُسی چھاؤنی کے سامنے انقلاب مخالفین نے  ۱۵۰ لوگوں کو قتل کیا تھا۔ ہاسٹل کے نیچے والی دو منزلوں کو شادی شدہ افراد کیلئے اور اُس کے دوسری تین منزلوں کو غیر شادی شدہ لوگوں  سے مخصوص کیا ہوا تھا۔

 

سنندج کے تعلیمی ادارے کی صورت حال کیسی تھی؟

وہاں کا تعلیمی ادارہ ختم ہوچکا تھا، کچھ لوگوں کو الگ کردیا گیا ۔ جب اُسے کھولنا چاہ رہے تھے، اُنہیں بہت سی مشکلات کا سامنا تھا کہ پہلے افراد کی جگہ دوسرے لوگوں کو وہاں لائیں۔ ہم سیکنڈری اسکول میں تھے کہ ایک دن صبح مخالف پارٹی کے لوگ اسکول میں گھس آئے اور اسکول کے اندر دیوار اور دروازے پر نعرے لکھنے لگے۔ تمام کلاسوں کے حاضری رجسٹر اور تمام کاغذات پر نظام کے خلاف نعرے لکھے ہوئے تھے۔ اسکول کے سرپرست نے تعلیمی ادارے کو اطلاع دیدی تھی اور انھوں نے کہا تھا کہ دس بجے تک اسکول نہ کھولیں جب تک کہ سب جگہ رنگ نہ ہوجائیں اور نئی کاپیاں نہ آجائیں، اس کے بعد کلاسیں شروع ہوں۔

 

اسکول کھلنے سے پہلے تک آپ لوگوں کا  شیڈول کیا تھا؟

بعض لوگ طالب علموں کے ساتھ ڈرائنگ بناتے تھے  اور سب مل کر تفریح پروگرام بناتے تھے۔ ہم اس لئے گئے تھے کہ اسکول کھلنے کے بعد کلاس میں داخل ہوں۔ ہماری کوشش ہوتی تھی کہ بچوں کو ہم سے اُنس و محبت ہوجائے۔

 

ایسا ہوا؟

بچے بہت اچھے تھے، لیکن ایک واقعہ پیش آگیا تھا۔ اسکول کے منیجر اور اُس کا ڈپٹی جن کا تعلق نظام مخالف پارٹیوں سے تھا، اسکول سے نکال دیا گیا تھا اور اُن کی جگہ غیر علاقائی افراد لائے گئے تھے، لیکن ہمارے اسکول کا سیکریٹری جرنل علاقائی آدمی تھا۔ ان بچوں میں سے اکثر کے والد یا اُن کے بھائی پہاڑوں میں تھے اور اُنہیں سوال کرنے کا حق تھا، چونکہ اپنے گھر والوں کے زیر اثر تھے۔ پہلے دن جب میں کلاس میں گئی طے تھا کہ میں سماجیات پڑھاؤں۔ میں نے بچوں سلام اور علیک السلام کیا۔ ایک بچی نے کہا: "آپ ہماری کلاس میں کیوں آئی ہیں؟ ہمارے استادوں کو باہر نکال دیا گیا ہے!؟ میں کچھ دیر خاموش رہی۔ پھر کہا: "بچوں، اب ہم نے اس بارے میں بات کرلی ہے۔ میں نے بحث کو درس اور کلاس کی طرف کھینچا اور کہا: اگر مجھ میں کوئی خرابی ہو، میں اپنی اصلاح کروں گی۔ اگر میں نے خود کو ٹھیک نہیں کیا تو آپ اسکول کے دفتر میں شکایت کردیں۔

میں بچوں سے بہت نرمی سے بات کرتی۔ایسا ہوگیا تھا کہ وہی لڑکی جس نے کہا تھا آپ کیوں کلاس میں آئی ہیں، وہ میری دوست بن چکی تھی اور ہم آپس میں باتیں کرتے تھے۔ ایک بچی جس کے گھر والے  اُسے آئندہ سال اسکول آنے کی اجازت نہیں دے رہے تھے اُس نے مجھ سے التماس کرتے ہوئے کہا آپ آکر میرے گھر والوں سے بات کریں اور اُنہیں قائل کریں کہ یہ اپنی پڑھائی جاری رکھے۔ میری شاگرد تھی جس کی ماں کا انتقال ہوگیا۔ ہم اُس کے گھر گئے۔ بہت ڈرتے ڈرتے گئے، چونکہ ہمیں پتہ تھا کہ اُس کے بھائی اور والد  کا تعلق مخالف پارٹی سے ہے۔ وہ ہمیں "جاش" یعنی ایجنٹ کہتے تھے۔ میں اپنی شاگرد کی خوشی کی خاطر گئی تھی۔ جیسے ہی اُن کی نگاہ مجھ پر پڑی، وہ سٹپٹا گئے۔ میں آگے بڑھی۔ اُن سے تعزیت کی ، مردوں نے میرا استقبال کیا اور مجھے گھر کے اندر کی طرف ہدایت دی ۔ میری شاگرد کے لئے بہت دلچسپ بات تھی کہ اُس کے اسکول کی پرنسپل اور استاد اُس سے ملنے آئے ہیں اور بعد میں وہ ہم سے بہت زیادہ دوست ہوگئی۔ یا یہ کہ میں اپنی ایسی شاگرد کے گھر جاتی ہوں جو کچھ عرصے سے اپنی ماں سے بچھڑ چکی ہے اور میں اُس کی مدد کرتی ہوں؛ وہ خود نویں کلاس کی طالبہ تھی، اُس کی ایک بہن تھی جو اُس سے چھوٹی تھی اور اُس کا ایک بھائی تھا جو اُس سے بڑا تھا۔ گھر کی ذمہ داری اس طالب علم پر تھی۔

 

شہر کی صورت حال کیسی تھی؟

کبھی اسکول فون کرتے  تھے اور ہمیں دھمکیاں دیتے تھے کہ: اے کرائے کے نوکروں ہم تمہیں قتل کردیں گے!تعلیمی ادارے نے سختی سے منع کیا ہوا تھا کہ: کسی کو بھی مغرب کے وقت اور مغرب کے بعد سڑکوں پر نکلنے کا حق نہیں ہے، مغرب سے پہلے ہر صورت میں ہاسٹل میں ہونا چاہیے۔  ایک دو دفعہ کام زیادہ ہوگیا اور رات ہوگئی۔ ہم ڈرتے اور کانپتے ہوئے گاڑی میں سوار ہوئے۔ حتی ایک دفعہ بمباری کی گئی تو سنندخ کے کافی سارے لوگ چلے گئے، لیکن ہم لوگ ٹھہرے رہے۔ میں نے ایک دفعہ گاڑی کے ڈرائیور سے کہا: "تم بہت اچھے آدمی ہو۔" وہ بولا: "نہیں!" میں نے کہا: "کیوں!ایسے حالات میں یہاں رکے ہوئے ہو اور شہر کے لوگوں کو یہاں سے وہاں لے جا رہے ہو۔" اُس نے کہا: "نہیں، میں یہ کام پیسوں کیلئے کر رہا ہوں۔" میں نے کہا: "صرف پیسہ تمہیں اس بمباری کے عالم میں  شہر میں نہیں روک سکتا مگر پیسے کی کتنی اہمیت ہے؟ " کچھ دیر خاموش رہا اور پھر پوچھا: "کیا میں واقعی اچھا آدمی ہوں؟" میں نے کہا: "ہاں! تم رزق حلال بھی کما رہے ہو اور شہر کے لوگوں کو بھی ادھر سے ادھر لے جا رہے ہو۔" ہم نے لوگوں سے دوستی اور رابطے قائم کرلئے تھے۔

اُس لڑکی کا بھائی جو سیکنڈری میں میری شاگرد تھی اور جس کی ماں  کا انتقال ہوگیا تھا، شروع میں وہ مخالف پارٹی کا حصہ تھا۔ میری رفت وآمد کے بعد، اُس نے مخالف پارٹی کو چھوڑ دیا ۔ اس کے بعد بھی اُس کی بہن مجھ سے ملنے آتی تھی۔ اب اُس کے گھر والے مجھے پہچاننے لگے تھے۔ اُس کا بھائی یونیورسٹی میں قبول ہوگیا تھا  اور چناؤ کے وقت مخالف پارٹیوں کے ساتھ سابقہ رابطے کی وجہ سے اُسے ردّ کردیا گیا۔ اُس کے بہن نے کر مجھ سے بات کی اور میں نے اُن سے بات کی ، اُس کا مسئلہ حل ہوگیا ، وہ اپنی پڑھائی جاری رکھنے کیلئے یونیورسٹی چلا گیا۔ انھوں نے میرا بہت شکریہ ادا کیا اور بہت خوش ہوئے۔ حتی میں نے ایک دن شاگردوں کے والد کی دعوت کی اور اُن سے بات کی اور بچوں کیلئے اٹھائے جانے والی زحمتوں پر اُن کا شکریہ ادا کیا۔ اسکول کی ٹیم میں سے کوئی بھی اس جلسہ میں نہیں آیا، حتی علاقائی ٹیچرز بھی۔ والدوں کے سخت ردعمل کے خوف سے نہیں آئے،لیکن وہ جلسہ اس قدر موثر تھا  کہ ٹیچرز ایک ایک کرکے ہال میں آنے لگے۔

 

ادارہ جہاد سازندگی میں کی گئی فعالیت کا تجربہ آپ کے کام آتا ہے؟

نہیں۔ کام بالکل مختلف تھا۔ ان شاگردوں میں سے کچھ  اور شہر کے لوگ یہ سمجھتے تھے کہ ہم اُنہیں کنارے لگانے کیلئے آئے ہیں، یا ہم اُنہیں ان کے مذہب سے دور کرنا چاہتے ہیں۔ بعد میں انھوں نے دیکھا کہ ہمیں ان چیزوں سے کوئی سروکار نہیں، ہم آئے ہیں کہ بتائیں انقلاب آگیا ہے اور ہمیں ملک کی حفاظت کی فکر کرنا چاہئیے، لہذا انھوں نے ہمیں قبول کرلیا۔ ہم شیعہ سنی وحدت کے موضوع پر کام کرتے اور اختلافی مسائل کو چھیڑنے سے پرہیز کرتے تھے۔ ہماری کوشش ہوتی تھی کہ ہم اُن کی مساجد میں اُن کے ساتھ نماز پڑھیں اور اُن کی محافل اور جشن میں شرکت کریں۔ آخری سال جب میں وہاں تھی، میں دیہاتوں میں جاتی اور میری ایک کلاس کے تمام شاگرد لڑکے تھے۔ وہ مجھ سے بہت جلد گھل مل گئے اور مجھے خالہ کہنے لگے۔ میں سن ۱۹۸۵ء تک وہاں رہی۔

 

آپ نے اپنا وقت ایرانی اورل ہسٹری سائٹ کے سپرد کیا، اس بات پر ہم آپ کے نہایت شکر گزار ہیں۔ 


سائیٹ تاریخ شفاہی ایران
 
صارفین کی تعداد: 55


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
جنوبی محاذ پر ہونے والے آپریشنز اور سردار عروج کا

مربیوں کی بٹالین نے گتھیوں کو سلجھا دیا

سردار خسرو عروج، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے چیف کے سینئر مشیر، جنہوں نے اپنے آبائی شہر میں جنگ کو شروع ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔
لیفٹیننٹ کرنل کیپٹن سعید کیوان شکوہی "شہید صفری" آپریشن کے بارے میں بتاتے ہیں

وہ یادگار لمحات جب رینجرز نے دشمن کے آئل ٹرمینلز کو تباہ کردیا

میں بیٹھا ہوا تھا کہ کانوں میں ہیلی کاپٹر کی آواز آئی۔ فیوز کھینچنے کا کام شروع ہوا۔ ہم ہیلی کاپٹر تک پہنچے۔ ہیلی کاپٹر اُڑنے کے تھوڑی دیر بعد دھماکہ ہوا اور یہ قلعہ بھی بھڑک اٹھا۔