زبانی تاریخ اور اُس کی ضرورتوں پر انٹرویو – پچیسواں حصہ

انٹرویو کا اختتام

حمید قزوینی
ترجمہ: سید مبارک حسنین زیدی

2017-11-01


تمام دوسری سرگرمیوں کی طرح زبانی تاریخ میں ہونے والے انٹرویو کا بھی اختتام ہوتا ہے۔ فطری سی بات ہے انٹرویو ختم کرنے کے طریقے کی بھی اتنی ہی اہمیت ہے جتنی اُس کے شروع کرنے کی اہمیت ہے۔ شاید یہ مثال دینا مبالغہ آرائی نہ ہو، اگر ہم کہیں جس طرح موسیقی سے تعلق رکھنے والا ایک فنکار کوشش کرتا ہے کہ وہ اپنی نغمے کا آغاز دھیمی دھن سے کرے اور پھر آہستہ آہستہ اُسے اوپر لے جائے اور آخر میں اُسی دھیمی دھن پر واپس آکر اپنے کام کو اختتام تک پہنچائے، زبانی تاریخ کے انٹرویو میں بھی اُس کے آغاز و انجام کو اُس کے ہلکے اور طبیعی انداز میں ہونا چاہیے تاکہ انٹرویو اپنی فطری حددد سے باہر نکلنے نہ پائے اور راوی کو بھی واقعات بیان کرنے میں کسی مشکل کا سامنا نہ ہو۔

بہرحال انٹرویو لینے والا، بات چیت کے عمل میں کوشش کرتا ہے، سوالوں کو ایک موضوع اور حالات کی ترتیب سے اور ایک معین نقطہ سے شروع کرتا ہے اور ایک خاص نقطہ پر ختم بھی کرتا ہے۔ ہر نشست (شاید انٹرویو چند نشستوں پر مشتمل ہو)کے اختتام پر اُس کی ذمہ داری ہے راوی کی نصیحتوں کو لکھ لے اور اُس کی چھان بین کے معاملے میں ضروری توجہ اور دقت سے کام لے۔ اُن بعض نصیحتوں میں مندرجہ ذیل موارد شامل ہوسکتے ہیں:

۱۔ شائع ہونے کے طریقہ کار کے بارے میں (شائع ہونے سے پہلے مطالعہ، مطالب  میں صحیح اور غلط باتوں کی چھان بین، متن کی حروف چینی، مکتوب چھپائی، یا ڈیجیٹل وغیرہ)

۲۔ خاص افراد اور موضوعات کے بارے میں جن کے متعلق گفتگو ہوئی ہے

۳۔ بعد والی نشستوں یا نشست تکمیلی میں انٹرویو  کو جاری رکھنے کا طریقہ

۴۔ صوتی یا ٹائپ شدہ فائلوں کو محفوظ دستاویزات یا ریکارڈ میں رکھنے کے بارے میں

۵۔ انٹرویو کے ضمیمیوں کے بارے میں جیسے تصویریں اور اسناد وغیرہ

 

راوی کا مکتوب رضایت نامہ

زبانی تاریخ کے انٹرویو سے مربوط ایک ضروری امر یہ ہے کہ راوی سے اس بات کا مکتوب رضایت نامہ لے لیا جائے کہ ریکارڈ رکھنے ، انٹرویو شائع ہونے اور اُس سے استفادہ کرنے کا طریقہ کار کیا ہوگا۔ کیونکہ ہر طرح کے زبانی معاملے میں ممکن ہے بھول چوک کی وجہ سے یا مختلف اور برخلاف بات سمجھنے کی وجہ سے بعد میں طرفین میں کوئی مشکل ایجاد ہوئے اور ناقابل جبران نتائج کا سامنا کرنا پڑے۔ اسی وجہ سے احترام کی رعایت ، حدود کے بیان اور موضوع کے دائرے کو مشخص کرتے ہوئے راوی کو مکتوب تحریر پیش کرنے کیلئے راضی کیا جائے تاکہ کسی بھی قسم کی غلط فہمی پیدا  ہونے  کے احتمال کو روکا جائے۔

 

انٹرویو کی جگہ ترک کرنے کا طریقہ

انٹرویو لینے والے کی ذمہ داری ہے  کہ نشست کے آخر میں، ٹیلی فون اور رابطہ قائم کرنے والے دوسرے ذرائع جیسے ایمیل اور ایڈریس راوی کو دے تاکہ اُس کے لئے انٹرویو لینے والے اور متعلقہ ادارے سے رابطہ قائم کرنا ممکن ہو۔ اسی طرح زبانی تاریخ کے محقق کو ہر طرح کی غیر معمولی اور انٹرویو کی حدود سے باہر درخواست کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ مثلاً ایسی درخواستیں؛ یادگار کے طور پر کوئی تحفہ یا ذاتی امور کیلئے کوئی خاص سفارش (خاص طور سے ایسے راویوں سے جن پر اہم سیاسی  اور اہم اداروں کی ذمہ داری ہو) یا رابطہ برقرار رکھنے پر بضد ہونا اور راوی کیلئے مزاحمت ایجاد کرنا صحیح نہیں ہے۔

مجھے یاد ہے چند سال پہلے ہمارے ساتھیوں میں سے کوئی ایک، کسی سیاسی اور بڑی شخصیت سے انٹرویو لینے کیلئے چند نشستوں کیلئے اُن کے پاس گیا۔ کئی عرصہ بعد اُس محترم شخصیت نے مجھ سے پوچھا کہ کیا آپ کے فلاں ساتھی کی مشکلات حل ہوگئیں؟ مجھے تو کسی بات کا علم نہیں تھا میں نے تعجب سے پوچھا کون سی مشکلات؟ انھوں نے بعض باتوں  کی طرف اشارہ کیا اور کہا: "آپ کا ساتھی جب بھی انٹرویو لینے آتا ، ایک مشکل بیان کرتا؛ دفتر کے مسائل سے لیکر اپنی پڑھائی اور اپنے گھر اور رشتہ داروں کے مسائل تک۔ ہر دفعہ مجھ سے جتنا ہوسکتا تھا میں بھی اُتنا انجام دے دیتا۔"  مجھے اب پتہ چلا کہ ہمارا وہ عزیز دوست اس سے زیادہ کہ وہ تاریخی سوالات کے جوابات کے درپے ہوتا، وہ اپنی ذاتی مشکلات کے حل کے درپے تھا۔



 
صارفین کی تعداد: 697


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
محترمہ فاطمہ زعفرانی بہروز کے ساتھ گفتگو

مریم بہروز کی گرفتاری اور انقلاب کی خاطر سونا جمع کرنے کی داستان

ہم نے ایک خود ہی اعلامیہ بنایا جس کا متن کچھ اس طرح سے تھا: "اس زر و زیورات کی ظاہر سے زیادہ کوئی قیمت نہیں ۔ ہم ان زیورات کو نظام کے استحکام اور انقلاب کے دوام کی خاطر مقدس جمہوری اسلامی کےنظام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں" اس وقت امام قم میں تھے
جماران ہال میں یادوں بھری رات کا پروگرام

امام خمینی اور انقلاب اسلامی کی کچھ یادیں

گذشتہ سالوں میں ایک موقع نصیب ہوا کہ ہم محترم مؤلفین کے ساتھ، رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کے انقلاب اسلامی سے متعلق واقعات لینے جائیں۔ ایک دن جب وہ واقعہ سنانے آئے، تو پتہ چل رہا تھا کہ اُنہیں کسی بات پہ شکوہ ہے۔ میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سمجھ گیا تھا کہ جب رہبر حضرت امام کے بارے میں بات کرتے ہیں، اُن کی حالت بدل جاتی ہے اور وہ خود سے بے خود ہوجاتے ہیں