" کتاب کی زبانی تاریخ" مطبوعات فرہنگ معاصر کے انچارج کی زبانی

دو زبانوں میں فرہنگ لغات کی پیداوار اور طباعت کے واقعات

مریم رجبی
ترجمہ: سید مبارک حسنین زیدی

2017-10-29


ایرانی اورل ہسٹری سائٹ کی رپورٹ کے مطابق، " کتاب کی زبانی تاریخ" کی نشستوں کے دوسرے سلسلہ کی اکیسویں نشست کے دوسرے اجلاس میں مطبوعات فرہنگ معاصر کے انچارج جناب داؤد موسائی سے گفتگو ہوئی۔ یہ نشست منگل کی صبح، مورخہ ۱۲ ستمبر ۲۰۱۷ء کو  مؤلف اور محقق  ہمت نصر اللہ حدادی کی کوششوں سےخانہ کتاب فاؤنڈیشن کے اہل قلم سرا میں منعقد ہوئی۔

میں منصوبہ بندی کے تحت  آگے بڑھتا تھا

داؤد موسائی نے نشست کے آغاز میں انقلاب کے دوران سفید کتابوں کی چھپائی کے بارے میں کہا: "میں اُس زمانے میں پبلشر نہیں تھا اور دوسری طرف سے ایسے افراد اُن کتابوں کو چھاپ رہے تھے جن کے عقائد اُس طرز تفکر کے تھے؛ دراصل اُن کتابوں کی چھپائی میں کچھ تجارتی پہلو تھا جبکہ عقیدتی پہلو کچھ زیادہ تھا۔ کتابوں کی چھپائی میں زیادہ تر بائیں بازو کی پارٹیاں ملوث تھیں جس میں اُن کے عقائد سے زیادہ اُن کا تجارتی اور مالی پہلو زیادہ اہمیت کا حامل تھا۔ میں اُس زمانے میں کتابوں کی بائنڈنگ کرتا تھا اور شاید تجارتی لحاظ سے میرا دل چاہتا تھا کہ میں ایسی کتابوں کو پرنٹ کروں، لیکن انسان کو ایک کام پہ عقیدہ رکھنا چاہئیے تاکہ وہ اُسے صحیح طریقہ سے انجام دے سکے۔ مجھے معلوم تھا کہ یہ کام وقتی ہے اور چند مہینوں بعد اس کا وجود بھی نہیں ہوگا، اور ہوا بھی ایسا ہی۔ بہت سے لوگوں نے اس راستہ سے مال اور ثروت جمع کیا، لیکن میں نے ان لوگوں کا انجام اچھا نہیں دیکھا اور وہ [لوگ بھی] کامیاب افراد نہیں بنے۔ جس کام کی کوئی بنیاد اور اساس نہ ہو، وہ تو اصلاً کسی مقام پہ پہنچ ہی نہیں پاتا۔"

انھوں نے دوران انقلاب اور کتاب کی زیادہ  پیدوار کے بارے میں کہا: "انقلاب کے زمانے میں میرے کام کی وضعیت اچھی نہیں تھی اور مجھے اس بھرے دستر خوان سے کچھ نصیب نہیں ہوا، کیونکہ میری بائنڈنگ کی جو دوکان تھی، اُسے مخصوص کام کیلئے بنایا گیا تھا۔ میں اپنے کام کیلئے، ایک منصوبہ بندی کے تحت آگے بڑھتا تھا۔ میں پہلے کتابوں کی انڈیکس (فہرست) بنانے کا کام تھا، پھر میں نے بائنڈنگ کرنا شروع کردی، پھر میں ایک چاپخانہ لگانا چاہتا تھا اور میں نے جو تمام وسائل مہیا کئے ہوئے تھے، وہ اسی طرح کے کاموں کیلئے تھے۔ اُس زمانے کی زیادہ تر کتابوں کی جلد نازک اور کاغذی ہوتی تھی، میرے پاس ایسا کوئی سسٹم نہیں تھا اور مجھے ہاتھ سے کام کرنا پڑتا اور کوئی ایسا کام نہیں تھا جو ہم اُس ورکشاپ میں انجام دے سکتے ہوں، اسی وجہ سے اُس زمانے میں جب شاید زیادہ تر لوگ دن رات کام کرتے تھے، میری ورکشاپ تقریباً بند ہوگئی۔"

فرہنگ حییم کی طباعت کا ماجرا

جناب موسائی نے مزید کہا: "ہمارے ملک میں بہت سے کام اتقافی طور پر انجام پاتے ہیں۔ اس معنی میں کہ میں اپنے کام کے بارے میں بہت سوچا کرتا تھا اور اپنے آپ سے کہتا تھا کہ اگر میں کتابوں کی بائنڈنگ یا فہرست بناتا رہوں، اس کے لئے ہر صورت میں مجھے ایک پبلشر سے کام لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ممکن ہے کسی بھی وجہ سے وہ پبلشر مجھے کام دینے سے انکار کردے ، یا میرے رقیب پیدا ہوجائیں جو مجھ سے کم قیمت پر اُسی کام کو انجام دینے لگیں، میں اسی وجہ سے انقلاب سے پہلے اس فکر میں تھاکہ مجھے خود اپنے آپ کو آرڈر دینے والا ہونا چاہیے، کیونکہ اگر میں اسی طریقے سے کام کرتا رہا تو یہ کام مجھے کہیں نہیں پہنچائے گا۔

انقلاب آگیا اور جہاں تک میں نے ایک عرصے تک جناب یہودا بروخیم کے ساتھ کام کیا تھا،  جب وہ ایران سے چلے گئے،تو  میں سوچنے لگا کہ جب میرے پاس کام کی سہولیات موجود ہیں، میں کسی طریقہ سے لغات کی طباعت کا امتیاز حاصل کرلوں اور اس کام کو انجام دوں، کیونکہ مجھے ہمیشہ سے یہ کام کرنے کی آرزو تھی۔ اُس زمانے میں میرے پاس گاڑی تھی اور ہمیشہ ظہر کے وقت جناب بروخیم مجھے سے درخواست کرتے کہ میں اُنہیں اُن کے گھر تک چھوڑ دوں۔ جب ہم گاڑی میں بیٹھتے، میں ایک ۲۱ سالہ جوان تھا، میں اُن سے کہتا کہ آپ فلاں کام کیوں نہیں کرتے تو وہ جواب دیتے کہ نہیں ہوسکتا اور میں ہمیشہ اپنے آپ سے کہتا اگر کسی دن میں کسی جگہ پہنچ گیا، میں سب سے پہلے ان کاموں کو انجام دوں جو میں ان صاحب سے کہتا ہوں اور یہ انجام نہیں دیتے۔اسی وجہ سے میں نے کوشش کی کہ فرہنگ لغات حییم کے صاحب امتیاز کو ڈھونڈوں اور اور ان لغات کی طباعت کروں۔

میں ایک دن کام پہنچانے کیلئے بروخیم کی کتاب فروشی پہ گیا ہوا تھا ، میں نے دیکھا ایک محترم شخص جناب بروخیم کی بیٹی سے اپنی تالیف کے پیسوں کی بابت جر و بحث کر رہا ہے۔میں نے اُن کی باتیں سن لیں اور میں سمجھ گیا کہ ان کتابوں کے  تمام حقوق کا تعلق کتاب فروشی بروخیم سے نہیں اور مرحوم حییم تالیف کی بابت پیسے لیتے رہے ہیں۔ جیسے ہی وہ شخص دوکان سے باہر نکلا، میں بھی فوراً اُس کے پیچھے ہولیا ، میں نے اُس سے کہا کہ میں سالوں سے جناب بروخیم کیلئے بائنڈنگ کا کام انجام دے رہا ہوں پھر  میں نے اُس سے اُس کی مشکل کے بارے میں سوال کیا۔ اُس نے کہا میں مرحوم حییم کا جانشین  ہوں اور جناب بروخیم ہمیں ہر مہینے کچھ مبلغ دیا کرتے تھے، لیکن اب کہتے ہیں کہ اس کتاب کو تو سب لوگ چھاپ رہے ہیں اور یہ غیر قانونی ہے، ہم بھی اب تالیف کی بابت پیسے نہیں دیں گے۔ میں نے اُس شخص سے اُس کا نمبر لیا اور اگلے دن اُس سے ملنے گیا اور اپنا پورا تعارف کروایا۔ جس شخص میں ذرا سا بھی ہوش تھا، وہ سمجھتا تھا کہ جس ملک میں ابھی انقلاب آیا ہو، اُس ملک کو سیٹ ہوتے ہوتے تقریباً د س سے بیس سال کا عرصہ لگے گااور میں مطمئن تھا کہ بروخیم کے گھر والے ایران واپس نہیں آئیں گے۔ میں نے اُس شخص سے کہا میں  یہ کام انجام دینے کیلئے تیار ہوں اور تم نے اب تک جتنے پیسے لئے ہیں میں اُس کے علاوہ پچاس فیصد اور زیادہ دوں گا۔ وہ شخص تعجب کرنے لگا۔ جب ہماری گفتگو ذرا آگے بڑھی تو  مجھے پتہ چلا کہ یہ شخص، مرحوم حییم کی بہن کا بیٹا ہے۔ اُس نے اپنے ماموں کے بارے میں بتایا کہ انھوں نے اس لغت کیلئے بہت زحمت اٹھائی ہے اور آخری دنوں میں جب وہ ہاسپٹل کے بیڈ پر تھے، وہ اپنے لغات کیلئے پریشان تھے اور وہ چاہتے تھے کہ اُن کی لغات کو مرنے نہ دیا جائے۔ میرے ذہن میں جنون تھا اور میرا دل چاہ رہا تھا کہ میں کچھ کام انجام دوں، میری اس گھرانے کے ساتھ موافقت ہوگئی، البتہ اس کام میں بہت پاپڑ بیلنے پڑے۔ اس ماجرے میں تقریباً ڈھائی سال سے تین سال کا عرصہ لگا۔ میں جب اپنے ساتھیوں سے بھی بات کر رہا ہوتا، وہ مجھے کہتے کہ تم دیوانے ہو جو یہ کام انجام دے رہے ہو اور وہ مجھ سے کہتے جب سب ہی لوگ اس کتاب کو غیر قانونی طریقے سے چھاپ رہے ہیں تو تم بھی غیرقانونی چھاپو، لیکن میرا ہمیشہ سے یہ عقیدہ تھا کہ زندگی میں صحیح کام کرنے چاہئیے۔ میں نے اُس زمانے میں، اپنی حد تک  اس کام پر بہت پیسے خرچ کئے اور اس کے ساتھ مستضعفین کے ادارے میں بھی سرگرم ہوگیا۔"

جناب موسائی نےبروخیم اموال کے ضبط ہونے اور یہ کہ اس ماجرے کے مد مقابل مستضفعین کا ادارہ ہے، کی افواہ کے بارے میں کہا: "جناب بروخیم کے تمام اموال ضبط ہوچکے تھے، لیکن کتاب کا امتیاز حییم گھرانے کیلئے تھا۔ جناب بروخیم اس کتاب کے حقوق کو خریدنا چاہتے تھے، لیکن وہ جانتے تھے کہ جناب حییم کو فائدہ دیان پڑے گا  اور یہ کام سیاست ، ضمیر یا کسی دوسری نگاہ سے میری نزدیک صحیح تھا۔ معاملہ وکیل کرنے تک پہنچ گیا اور آخر کار وہ ہار گئے، لیکن انھوں نے کہا کہ بہت زیادہ فلمیں  اور بٹر پیپر موجود ہے جن سب کا تعلق اموال بروخیم سے ہے، اب میں اُس سے استفادہ کرنا چاہتا تھا۔ میں نے اُنہیں ایک ملین، سات لاکھ تومان دیئے جو بہت زیادہ پیسے تھے۔ میں نے بائنڈنگ کی ورکشاپ کو بیج ڈالا اور سات لاکھ تومان نقد دیئے۔ ان سب کے درمیان بعض لوگوں نے مستضعفین فاؤنڈیشن والوں سے کہہ دیا تھا کہ داؤد موسائی، یہودی ہے اور جیسا کہ ایک رسم کے طور پر، یہودی صرف یہودیوں کو اپنے اندر جگہ دیتے ہیں، خانوادہ حییم نے لغات کا امتیاز مجھے دیا ہے! اسی وجہ سے فاؤنڈیشن کے رئیس نے مجھ سے کہا اگر تم مسلمان ہو، اپنی بات کو ثابت کرنے کیلئے کوئی ثبوت لیکر آؤ۔میں نے اپنے تمام گھر والوں کے شناختی کارڈ کے ساتھ اپنے دو چچا زاد بھائیوں نبی اللہ موسائی اور داؤد موسائی کی شہادت کا فارم بھی لے جاکر فاؤنڈیشن کے رئیس کو دیا۔ فاؤنڈیشن کے رئیس کو جب پتہ چلا میں مسلمان ہوں، وہ شرمندہ ہوگیا، وہ میری دل جوئی کرنا چاہتا تھا اور مجھ سے معافی طلب کر رہا تھا اسی وجہ سے اُس نے میرا ساتھ دیا اور مجھ سے اُس ایک ملین سات لاکھ تومان میں سے ایک ملین تومان کا چیک قبول کرلیا اور میں نے ہر مہینے پچاس ہزار تومان ادا کئے اور میرے حق اور حقوق کو سرکاری طور پر قبول کرلیا گیا۔ تقریباً سن ۱۹۸۴ یا ۱۹۸۵ میں میرا مسئلہ حل ہوگیا۔ کچھ بدبختوں نے ثقافتی امور سے مربوط وزارت، خانہ وزارت ارشاد میں کہہ دیا کہ میں صہیونی ہوں؛ جبکہ میں نے اپنی پوری زندگی میں اسرائیل کو نہیں دیکھا۔

فرہنگ لغات  حییم کی چھپائی میں سن ۱۹۷۹ سے لیکر سن ۱۹۸۴ تک کا عرصہ لگا۔ جو لوگ فرہنگ لغات حییم کو غیر قانونی طور پر چھاپ رہے تھے میں نے اُنہیں ڈھونڈا اور اُن کی شکایت کئے بغیر، اُن سے دوستی  اور پیسے کے ذریعے اُن سے فلم اور بٹر پیپر کو لے لیا۔ جب میں خود ان لغات کو منظر عام پر لے کر آیا، اتنی اچھی اور صاف ستھری تھیں کہ غیر قانونی طور پر چھپنے والی لغات اُس کے سامنے پھیکی  پڑ گئیں، اُن میں رقابت کی توانائی نہیں تھی اور وہ ایک طرف ہوگئیں۔"

لوگوں کو قرآن پسند آنا

انھوں نے مزید کہا: "جب انقلاب آیا تو میں اپنی بائنڈنگ ورکشاپ بیچ چکا تھا اور فہرست بنانے والی ورکشاپ  بھی بیکار پڑی ہوئی تھی۔ ہمارے گھر میں ایک قرآن تھا، ایک دن میں سوچنے لگا کہ یہ کام قرآن کے ساتھ بھی کیا جاسکتا ہے۔ میں نے کچھ قرآن اٹھائے اور سوروں کی بنیاد پر اُن کی فہرست بنائی۔ میں نے آیت اللہ مشکینی اور آیت اللہ منتظری سے اجازت لی، انھوں نے دستخط کردیئے اور کہا کوئی ممانعت نہیں ہے۔ انھوں نے بہت شوق دلایا اور قرآن کے کنارے لکھ دیا کہ یہ کام خدا کے نزدیک پسندیدہ ہے اور لوگوں کے آرام سے قرآن تک دسترسی حاصل کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ میں نے کچھ عرصے تک یہ کام انجام دیا جس میں فروخت  اور درآمد  بھی اچھی تھی اور لوگوں نے پسند بھی کیا۔"

نئے الفاظ کے ساتھ نئی فرہنگ لغات

جناب موسائی نے کہا: "تقریباً سن ۱۹۷۶ اور ۱۹۷۷ میں، میں جناب بروخیم سے کہا کرتا تھا کہ آپ فرہنگ لغات کو  اپ ڈیٹ کیوں نہیں کرتے؟ مجھے پتہ تھا کہ مغرب میں یہ کام انجام پا رہا ہے اور ہر پروڈکٹ کی ایک عمر ہوتی ہے اور یہ عمر ایک وقت ختم ہوجائے گی۔ اگر آپ نیا کام نہیں کرسکتے اور تکرار میں پڑ جائیں، تو آپ ترقی نہیں کرسکتے۔ یہ ایسا حادثہ ہے جو اس ملک میں تمام افراد کے ساتھ پیش آیا ہے۔ سن  ۱۹۸۲ یا ۱۹۸۳ میں میرے تمام کام ختم ہوچکے تھے اور میری مالی حالت اچھی نہیں تھی۔ ملک کے اُس بحرانی حالات میں، میں خود ہی خود سوچ رہا تھا کہ لوگوں کی زندگی تو نہیں روک جائے گی اور کچھ لوگ ہیں جو لینگویج سیکھنا چاہتے ہیں۔ کوئی ملک سے باہر نہیں جاسکتا تھا اس کے باوجود میں نے سوچا کہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ کوئی ملک دنیا کی گردش سے ہٹ کر اپنا کام چلا سکے اور ہم ہر صورت میں ایک دن اس عالمی دنیا میں شامل ہوجائیں گے۔ وہ پہلی شخصیت جس سے میں نے رجوع کیا، جناب کریم امامی تھے۔ وہ ایران کے بہترین ماہرین زبان میں سے ایک  اور انگریزی روزنامہ کیہان کے ایڈیٹر تھے۔ میں یا تو کبھی کسی کام کو ہاتھ نہیں لگاتا اور اگر ہاتھ لگاتا ہوں، اپنی پوری توان کے ساتھ اسے اچھے طریقے سے انجام دیتا ہوں۔ جناب امامی نے مجھ سے کہا کہ میں تھوڑا صبر کروں، لیکن میں یہ سوچ رہا تھا کہ مطبوعات امیر کبیر کے اموال ضبط ہوچکے ہیں اور میں چاہتا تھا کہ امیر کبیر کے کم کام کرنے یا بالکل کام نہ کرسے سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کروں۔ میں جانتا تھا کہ فرہنگ لغات آریان پور کے مقابلے میں فرہنگ لغات حییم پر جو تنہا الزام لگے گا وہ یہ تھا کہ وہ لوگ پرانے ہوگئے تھے۔ میں جلد از جلد اُنہیں نیا کرنا چاہتا تھا تاکہ اُن پر سے یہ الزام ہٹ سکے۔

میں نے پہلے فرہنگ لغات حییم کی دو جلدیں جناب امامی کو دیں اور میں سوچ رہا تھا کہ اگر وہ اپ ڈیٹ ہوجائیں تو باقی اور کو بھی اُن کے ساتھ اپ ڈیٹ کیا جاسکتا ہے۔ جناب کریم امامی نے مجھ سے کہا اس دو جلدی فرہنگ کو تین طریقوں سے اپ ٹو ڈیٹ کیا جاسکتا ہے؛ پہلا طریقہ یہ کہ اُسے ظاہری طور پر تھوڑا سا تبدیل کرکے کچھ حروف وغیرہ کا اضافہ کرکے نیا بنادیں گے، دوسرا طریقہ یہ کہ کچھ پرانے الفاظ کو حذف کردیں اور نئے الفاظ کا اضافہ کریں کہ میں پرانے الفاظ کو حذف کرنے کے حق میں نہیں تھا اور میری رائے یہ تھی کہ حذف کا کام ملک سے باہر ہورہا ہے، کیونکہ وہاں مختلف منابع موجود ہیں، لیکن ایران میں ہمارے پاس کوئی منبع نہیں ہے اور ہمیں پرانے الفاظ کو حذف نہیں کرنا چاہئیے۔ انھوں نے بھی میری بات قبول کرلی۔ تیسرا طریقہ یہ کہ اس پوری فرہنگ کو تبدیل کردیا جائے اور اس کی جگہ ایک نئی فرہنگ لغات ہو اور آخر میں کہنے لگے اگر ان تین میں سے کسی بھی طریقے کو قبول کروں تو  اُسے انجام نہیں دوں گا، کیونکہ اگر اتنی زحمت اٹھانا طے پائے  تو پھر کیوں حییم کا نام آئے؟ اس کام کو ہم اپنے نام سے کریں! میں اُنہیں  قائل نہیں کرسکا اور حقیقت میں میرا سر پتھر سے ٹکرایا۔ میں نے جناب بہاء الدین خرمشاہی سے رجوع کیا انھوں نے بھی قبول نہیں کیا۔ سن ۱۹۸۴ء میں ایک شخصیت انگلینڈ سے آئی اور یہاں پر یونیورسٹی میں استاد کی حیثیت سے لگ گئی، انھوں نے لسانیات پڑھی ہوئی تھی اور اُن کا نام علی محمد حق شناس تھا۔ میں نے اُن سے بات کی، انھوں نے مجھ سے کہا یہ کام ایک اچھا خیال ہے اور وہ اس کام کو انجام دے سکتے ہیں۔انھوں نے کہا اُن کی بیوی کا تعلق آیرلینڈ سے ہے اور ہم کچھ موارد میں اُس سے بھی مدد لے سکتے ہیں۔ اسی طرح کہا انھوں نے میرا ایک محمد رضا باطنی نامی دوست ہے جن سے ہم ایک مخصوص وقت لیتے ہیں تاکہ ایک دوسرے سے مل سکیں ، میں راضی ہوگیا۔ طے پایا کہ یہ کام شروع ہوجائے اور ایک چھوٹی فرہنگ لغات حییم اپ ڈیٹ کی جائے۔ جناب حق شناس نے کہا اُن کے پاس دو اچھے طالب علم ہیں جن سے اس کام میں مدد لی جاسکتی ہے۔ میں چونکہ چاہتا تھا کہ کام  میں کوئی نقص نہ ہو، میں نے کہا ڈاکٹر باطنی بھی اس کام پر نظارت کریں ۔ ایک دن ڈاکٹر حق شناس نے مجھ آواز دی اور مجھ سے وہی جناب امامی والی بات دہرائی۔ انھوں نے کہا ایک نئی اور بنیادی فرہنگ لغات پر کام کرتے ہیں اور فرہنگ حییم کو ایک طرف رکھ دیتے ہیں اور یہ بھی کہا کہ اس نئی فرہنگ لغات میں تقریباً تین سے چار سال کا عرصہ لگے گا۔ ان باتوں کیلئے کوئی قرار داد نہیں لکھی گئی۔ میں نے خود ہی سوچا کہ ہم اُن فرہنگ لغات کی مدد سے فرہنگ حییم کو اپ ٹو  ڈیٹ کریں گے ، حییم کی فرہنگی لغات کبھی بھی میرے ذہن سے نہیں نکل سکیں اور ابھی بھی نہیں نکلیں۔ میں نے جناب حییم کی وصیت پہ عمل کیا اور میں نے اُن کی فرہنگ لغات کو مرنے نہیں دیا۔ آج حییم کی فرہنگ لغات موجودہ بہترین معیار کے ساتھ  شائع ہوتی ہے، اس طرح سے کہ میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ حتی ہم فرہنگ لغات حییم کا فرہنگ لغات آکسفورڈ سے مقائسہ کرسکتے ہیں۔

طے پایا کہ جناب حق شناس جدید فرہنگ لغات کا کام شروع کریں اور نیز جناب باطنی ہفتہ میں ایک دفعہ آکر کام کا جائزہ لیں۔  کام بہت اچھے طریقے سے آگے بڑھ رہا تھا ، پانچ چھ مہینے بعد، میں نے دیکھا کہ ڈاکٹر حق شناس کے کمرے سے شور و غوغا کی آواز آ رہی ہے، ڈاکٹر حق شناس اور ڈاکٹر باطنی کے درمیان ایک بحث چھڑ گئی۔ وہ ایک کلمہ کے اوپر جرح و بحث کر رہے تھے۔ اگلے دن ڈاکٹر باطنی کی تحریر مجھ تک پہنچی، جس میں انھوں نے لکھا میں گمان کرتا ہوں کہ میرا یہاں آنا بے سود ہے۔ میں نے بہت کوشش کی یہ رابطہ  برقرار رہے، لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ اس ماجرے سے میں سمجھ گیا کہ ڈاکٹر باطنی کوئی خاص آدمی ہیں اور مجھے اُنہیں چھوڑنا نہیں چاہئے۔ میں نے ڈاکٹر سے کہا کہ جو لوگ باہر جانا چاہتے ہیں آپ اُن کے لئے ایک پاکٹ سائز کی فرہنگ لغات مہیا کریں تاکہ وہ اُس سے استفادہ کرسکیں۔ ڈاکٹر نے کہا آج کل تو کوئی بھی باہر نہیں جا رہا، میں نے کہا آہستہ آہستہ لوگ جانے لگیں گےاور یہ لغت اُن کے کام آئے گی۔ انھوں نے ایک اسسٹنٹ مانگا، میں محترمہ فاطمہ آذر مہر کو اُن کے اسسٹنٹ کے طور پر لے آیا۔ تقریباً ڈھائی سے تین سال تک، ڈاکٹر حق شناس ایک کمرے میں، اور ڈاکٹر باطنی ایک دوسرے کمرے میں مصروف رہے۔ ان دو لوگوں کی دوستی اور ہمراہی اپنی جگہ پر تھی، صرف یہ لوگ ایک ساتھ کام نہیں کرتے تھے۔ وہ فرہنگ لغات جس پر ڈاکٹر حق شناس کام کر رہے تھے، وہ ہزار صفحوں کی تھی۔ انھوں نے کہا میں نے ابھی ڈھائی سال کام کیا ، ۲۵۰ صفحے بنے ہیں، اگر میں اسی طریقے سے کام کروں تو دس سال لگ جائیں گے۔ مجھے دھچکا لگا اور میں نے اُن سے کہا کہ آپ نے تو مجھ سے کہا تھا چار سال کا عرصہ لگے گا۔ میں نے خود کو چار سال کے لئے آمادہ کیا ہوا تھا۔ میری مالی حالت اچھی نہیں ہے اور اس کام کیلئے میں نے قرضہ لیا ہے، اگر مجھے پہلے سے پتہ ہوتا کہ دس سال لگ جائیں گے تو  میں یہ کام شروع ہی نہیں کرتا۔ ڈاکٹر حق شناس نے کہا کہ اب تو ایسا ہوگیا ہے اور اب ہماری قراردادختم۔ میں نے پوچھا: کون سی قرارداد؟ انھوں نے کہا: مہینے کی تنخواہ کے علاوہ، تم مجھے کچھ فیصد بھی دو۔ میں نے کہا کھیل کے قوانین کو کھیل سے پہلے طے کیا جاتا ہے، ہماری قرار داد چار سال کی تھی اور اب دس سال تک پہنچ گئی ہے۔ ہم نے ایک دوسرے سے بحث کی اور میں نے کام بند کردیا۔ ڈاکٹر حسین سامعی جو ڈاکٹر حق شناس کے ساتھ فرہنگ لغات کے کام میں مشغول تھے ، وہ بھی چلے گئے، میں نے بہت اصرار کیا، وہ نہ مانے۔

میں نے ڈاکٹر باطنی سے کہا میں نے معاشرے میں یہ بات عام کردی ہے کہ  میں ایک نئی فرہنگ لغات پر کام کر رہا ہوں، آپ نے اس فرہنگ لغات پر کتنا کام کرلیا ہے؟ انھوں نے کہا: ۲۰۰ صفحوں میں سے ۴۰ صفحوں پر کام کیا ہے۔ میں نے کہا: اس کام کو تھوڑا بڑھائیں۔ وہ بھی مان گئے۔ میں نے اس کام کے متعلق سن ۱۹۸۴ء میں ڈاکٹر حق شناس سے بات کی تھی، ہم نے مئی ۱۹۸۵ء میں کام کا آغاز کیا اور تقریباً سن ۱۹۸۷ یا ۱۹۸۸ میں یہ تعلق ٹوٹ گیا، ہم نے بھی فرہنگ لغات حییم کی اچھی فروخت پر اکتفاء کیا ہوا تھا۔ کچھ عرصہ بعد کیخسرو شاپوری نامی ایک شخص کا ہم میں اضافہ ہوا جو بعد میں میرا پارٹنر بنا۔ اُس نے مجھ سے کہا کہ ڈاکٹر حق شناس کی پیش کردہ فرہنگ لغات پر کافی پیسہ خرچ ہوچکا ہے، اسے حتماً تألیف ہوناچاہیے۔ میں نے کہا میں ڈاکٹر حق شناس کے ساتھ کام نہیں کرسکتا۔ اُس نے کہا تم یہ کام مجھ پر چھوڑ دو۔ یہاں مجھے یہ کہنا چاہئیے کہ ہزار کلمات کی فرہنگ لغات  کا منظر عام پر آنا جو اس وقت دنیا کی بہترین فرہنگ لغات میں سے ایک ہے، اس سے پہلے کہ میری احسان مند ہو، جناب شاپور کی احسان مند ہے۔ اُس نے دوبارہ اس کام کو شروع کیا اور اپنے کندھوں پر اس کی ذمہ داری لی۔ فرہنگ ہزارہ پر تقریباً ساڑھے تین سال سے کام نہیں ہوا تھا اور تقریباً سن ۱۹۹۲ء میں اُس پر دوبارہ کام شروع ہوا ، ہم نے ایک دفعہ پھر ڈاکٹر حق شناس سے موافقت کرلی۔ ڈاکٹر باطنی کی ایک جلدی فرہنگ لغات سن ۱۹۹۳ ء میں منظر عام پر آئی۔ اس  فرہنگ لغات پر سن ۱۹۸۵ء سے سن ۱۹۹۲ کے آخر تک کام ہوا اور اس کے ہزار صفحے ہیں۔ ایک نئی فرہنگ لغات نئے کلمات کے ساتھ تھی۔"

روایت شکنی اور ایک ایسی تحریر جس کی اربوں میں قیمت تھی

انھوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا:"ہم نے ڈاکٹر باطنی کی فرہنگ لغات کو انگلش – فارسی  کی جدید لغت کے نام سے چھاپا اور سن ۱۹۹۳ء میں تہران کی بین الاقوامی نمائش میں پیش کیا۔ ہم نے اس فرہنگ کی جلد کیلئے بہت اچھا ڈیزائن بنوایا اور اس کے لئے  ایک بکس بنوایا۔ ہم نے اُس زمانے میں اس کتاب کے دس ہزار نسخے چاپ کئے۔ اُس زمانے میں اس کتاب کی قیمت ۱۱۰۰ تومان تھی۔ اس قیمت کے ساتھ دس ہزار نسخوں کے تقریباً گیارہ ملین تومان بنتے ہیں اور یہ بہت بڑا سرمایہ تھا۔ ہم دس روزہ نمائشگاہ میں بہت ہی بدبختی کے ساتھ صرف ڈھائی سو یا تین سو نسخے بیچ سکے۔ اُن چھ ، سات سالوں میں جب ہم اس فرہنگ لغات کے کام میں مصروف تھے، سب مجھ سے پوچھتے تھے کہ یہ فرہنگ لغات کب منظر عام پر آئے گی اور جب اس کی صرف اتنی سی تعداد فروخت ہوئیں، مجھے بہت افسوس ہوا اور میں تقریباً خود کو ہارا ہوا سمجھ رہا تھا۔ مجھے پتہ تھا کہ میرا یہ کام، غلط نہیں ہے، لیکن میں کام کی غلطی کو پکڑ نہیں پا رہا تھا۔ نمائشگاہ کے بعد ڈاکٹر  باطنی نے مجھ سے کہا کام کامیاب نہیں رہا، کیا کرنا چاہتے ہو؟ میں نےکہا: آپ بیٹھیں اور کتاب دوسرے ایڈیشن پر کام کریں۔ ڈاکٹر باطنی واقعی سوچنے لگے کہ میرا ایک دیوانے سے سروکار ہے ، انھوں نے مجھے نصیحت کی۔ میں نے حکم چلانے کی انداز میں کہا اپنے کام کو انجام دیں اور وہ بھی مان گئے۔ کچھ ہی عرصے بعد میں سمجھ گیا کہ غلطی، روایتی انداز میں ہے۔ ایران میں دو فرہنگ لغات، حییم اور آریان پور موجود تھیں، مجھے روایت شکنی کرنی چاہئے تھی۔ میں نے اس فرہنگ لغات کے تقریباً ۱۲۰۰ یا ۱۵۰۰ نسخے  استادوں کیلئے  مفت بھیجے اور ڈاکٹر زرین کوب نے یہ فرہنگ دریافت کرنے کے بعد، مجھے ایک یادداشت بھیجی جو میرے لئے اربوں سے زیادہ قیمتی تھی۔ اس کام کے کرنے سے، میں نے چار سال کی مدت میں اس فرہنگ لغات کی ایک لاکھ جلدیں بیچیں۔"

مطبوعات فرہنگ معاصر کے انچارج نے مزید کہا: "ہم نے کتابوں کی نمائش میں ایک نئی سوچ کے ساتھ کام کو آگے بڑھایا اور اشتہار میں دیا کہ جن کے پاس پرانی فرہنگ لغات ہے، وہ اُسے نمائشگاہ میں لاکر خریدی ہوئی قیمت میں تھوڑے سے فرق کے ساتھ ایک نئی فرہنگ لغات دریافت کریں۔ ایک دن نمائشگاہ میں ایک بوڑھا آدمی آیا، اور مجھے سے کہا آپ فرہنگ کو عوض کررہے ہیں؟ میں بولا: جی۔ اُس نے پوچھا: آپ مسلمان ہیں یا یہودی؟ میں بولا: میرے مذہب سے آپ کو کیا فرق پڑتا ہے؟ وہ بولا: مسلمان ایسے کام نہیں کرتے، یہودی اس طرح کے کام انجام دیتے ہیں۔ میں نے کہا: ہاں، میں یہودی ہوں! اُس نے کہا: میرے پاس ایک فرہنگ لغات ہے جسے میں تبدیل کرنا چاہتا ہوں، لیکن اب میرا ارادہ بدل گیا ہے۔ میں نے اس کی وجہ پوچھی، اُس نے کہا کہ تم لوگ پرانی فرہنگ لغات کی جمع آوری کرتے ہو، اُسے ایک تاریخی چیز کے عنوان سے بہت ہی مہنگے داموں میں بیچتے ہو۔ مجھ اس بات سے بہت تعجب ہوا۔ اُس کی فرہنگ لغات جو سن ۱۹۶۶ء کی تھی، میں نے وہ لی اور اُسے ایک نئی فرہنگ لغات تھما دی، پھر میں نے اُس کی آنکھوں کے سامنے اُس کی پرانی فرہنگ لغات کو پھاڑ دیا اور اُس سے کہا  میں مسلمان ہوں، میں یہ کام کر رہا ہوں تاکہ لوگ اپ ڈیٹ فرہنگ لغات سے فائدہ حاصل کریں۔ یہ پرانی فرہنگ لغات ہمارے کسی کام کی نہیں۔"

جناب موسائی نے کہا: "ڈاکٹر باطنی کی فرہنگ لغات کا دوسرا ایڈیشن سن ۱۹۹۷ء میں اور ہزار کلمات والی فرہنگ لغات سن ۲۰۰۱ء میں تألیف ہوئی اور بہت کامیاب فرہنگ لغات تھی۔ سوشل میڈیا کے رشد کے ساتھ، ہمارے پاس اس میں داخل ہونے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ ہم نے ایک رسک لیا اور اپنی ایک بیکار فرہنگ (فرہنگ لغات کا پہلا ایڈیشن) کو سی ڈی میں لے آئے تاکہ کسی بھی مشکل کی صورت میں ہم مطمئن رہیں اور کہہ دیں کہ پرانی اور قدیمی فرہنگ تھی۔ ہماری ہمیشہ سے یہی کوشش ہوتی تھی کہ معقول کام انجام دیں۔ میں نے ایک ایسے باہوش جوان کو ڈھونڈا جس نے اسمبلی کی سائٹ تک دسترسی حاصل کرلی تھی۔ اُس نے آکر ایک نیا ڈیزائن بنایا اور ہم نے تمام چالوں سے کام لیا تاکہ کوئی بھی سی ڈی کا لاک کھولنے میں کامیاب نہ ہو۔ خود کتاب کی قیمت شاید چھ ہزار تومان تھی ، ہم نے اس سی ڈی کی قیمت ۴۸۰۰ تومان رکھی۔ یہ سی ڈی چھ کمپیوٹروں میں انسٹال ہوسکتی تھی۔  ہم نے یونان سے ایک اعلیٰ درجہ کا سافٹ ویئر تالا منگوایا۔ ہم نے یہ تمام کام کئے تاکہ ہمارے منابع محفوظ رہیں۔ ہم تقریباً دو سے تین سالوں تک یہ سی ڈی نکالتے رہے اور اُس میں سے تقریباً دو ہزار بیچی بھی۔ ایک دن ایک شخص نے مجھے فون کرکے کہا: "میں آپ سے معافی کا طلبگار ہوں۔ میں نے سڑک کے کنارے سے آپ کی سی ڈی کی ایک ڈپلیکیٹ کاپی ۵۰۰ یا ۱۰۰۰ تومان میں خریدی ہے۔ میں نےکہا: اگر معافی مانگ رہے ہو، یعنی تمہیں پتہ ہے کہ یہ کام صحیح نہیں ہے؟! وہ بولا: ہاں۔ میں نے کہا: تم آؤ تاکہ آپس میں بات کریں اور اپنے ساتھ وہ سی ڈی بھی لیتے آنا۔ وہ آیا اور اپنے ساتھ سی ڈی بھی لایا۔ میں نے اُسے کچرے کی بالٹی میں پھینک دیا اور اسے ایک نئی سی ڈی دیکر اُس سے کہا: تم اس کے پیسے بھی نہیں بھرو گے۔ ہمیں آہستہ آہستہ پتہ چلا کہ ہمارے کام کا تالا کھل گیا ہے اور وہ بازار میں آچکا ہے، اسی وجہ سے ہم نے اُس کام کو جاری نہیں رکھا۔ ہم نے اس کام کو نمونہ کے طور پر انجام دیا تھا تاکہ دیکھیں  اس آشفتہ بازار میں کامیاب ہوسکیں گے یا نہیں؟ ہمیں  بعد میں پتہ چلا کہ بعض ہیکروں کیلئے پیسے کا مسئلہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا، گویا وہ تالا کھولنے کے ایک مقابلہ میں حصہ لے رہے ہیں!"

گاہک اور پبلیشر کا مستقبل

انھوں نے مزید کہا: "ایک دن کتابوں کے شو روم میں، ایک شخص ایک بارہ سالہ بچے کے ساتھ آیا اور اُس نے اپنے بچے کیلئے ایک انگلش سے فارسی لغت مانگی۔ میں نے اُس کے بیٹے سے پوچھا تمہیں کتنی انگلش آتی ہے؟ وہ بولا: میں نے لینگویج سینٹر میں ایک لیول پڑھا۔ میں نے اُسے ایک جیبی چھوٹی فرہنگ لغات دی۔ اُس بچے نے اپنے والد کی طرف رُخ کرکے کہا: اگر آپ خریدنا ہی چاہتے ہیں تو وہ مکمل اور بڑی فرہنگ لغات خریدیں۔ اُس کے والد نے کہا وہ بڑی والی فرہنگ لغات دیجئے اور وہ اُسے خریدنا چاہتا تھا۔ میں نے اُس کی طرف رُخ کرکے کہا آپ کا اس بڑی کتاب کو خریدنا ہمارے فائدے میں ہے، لیکن یہ فرہنگ لغات آپ کے بیٹے کے کام کی نہیں۔ اُس نے کہا: لیکن اُس کتاب میں تو زیادہ الفاظ ہیں۔ میں نے اُسی جگہ ایک سادہ سے لفظ کو دو فرہنگ لغات میں مقائسہ کیا اور اُنہیں دکھایا۔ مثال کے طور پر اُسی چھوٹی لغت میں اُس لفظ کے صرف چھ ہم معنی الفاظ تھے، لیکن بڑی والی لغت میں، تمام اصطلاحیں، ضرب المثل، مرکب افعال وغیرہ شامل تھے۔ میں نے اُس لڑکے سے پوچھا تم کونسی والی لغت سے زیادہ استفادہ کرسکتے ہو؟ اُس نے کہا: چھوٹی والی لغت زیادہ آسان ہے۔ انھوں نے میری بات مان لی اور وہ چھوٹی والی فرہنگ لغات خریدلی۔ میں نے اپنے سیلزمینوں سے کہا ہم زیادہ عرصے تک چلنے والا کام انجام دے رہے ہیں، ہمیں ساری زندگی والا گاہک چاہیے، میں نے اُنہیں تاکید کی کہ گاہکوں سے لٹک نہ جائیں، صرف کتاب بیچنے کی فکر نہ کریں، بلکہ اُس گاہک کے مستقبل اور مطبوعات فرہنگ معاصر کے مستقبل کی فکر کریں۔"

مطبوعات فرہنگ معاصر کے انچارج نے کہا: "ہمارا دل چاہتا تھا ہمارے پاس ہر زبان میں فرہنگ لغات کا مکمل نسخہ موجود ہو۔ ہمارا ہدف یہ تھا کہ اس نسخے کو مکمل کریں اور ہم چاہتے تھے کہ ہمارے مجموعے میں ایک فارسی لغات کی بھی فرہنگ ہو۔ شروع میں ہم نے چاہا کہ ایک فرہنگ فارسی تألیف کریں، لیکن ہم نے دیکھا کہ اس کام پر بہت لاگت آرہی ہے اور دوسری طرف سے وہ روایتی کام والا مسئلہ بھی موجود تھا۔ہم نے خود سے سوچا کہ اگر کوئی ایسی فرہنگ لغات موجود ہے جو ہماری معیار کے قریب ہو، ہم اُسے لے لیتے ہیں اور مرتب کردیتے ہیں۔ ہمارا جناب غلام حسین صدری افشار سے رابطہ تھا جو عظیم انسان ہیں۔ انھوں نے مطبوعات کلمہ کی طرف اشارہ یا۔ میں نے مطبوعات کلمہ کے انچارج سے بات کی اور کہا: اگر آپ اپنی فرہنگ لغات کو کسی بھی صورت میں کسی کے اختیار میں دینا چاہیں، ہم اس کام کے طلبگار ہیں۔ تقریباً سن ۲۰۰۰ء میں اُس چاپ خانے کے انچارج نے کہا میں ایک مجموعہ کو بیچنا  چاہتا ہوں جس میں فرہنگ لغات فارسی بھی ہے۔ میں نے اُس زمانے میں اس مجموعہ کیلئے کافی پیسے دیئے تاکہ وہ کتاب مجھ تک پہنچ جائے۔ ہم نے اس فرہنگ لغات  کے کام کو جناب صدری افشار اور اُن کی ٹیم کے ساتھ شروع کیا۔"

ایسی فرہنگ لغات پر ۱۰ سال کا عرصہ لگانا جسے کسی اور نے چھاپ دیا!

جناب موسائی نے مزید کہا: "سن ۱۹۸۷ یا ۱۹۸۸ میں ایک دن جناب علی رضا حیدری نے فون کرکے مجھ سے کہا کہ وہ آنا چاہتا ہے اور ایک دوست سے پہچان کروانا چاہتا ہے۔ وہ ڈاکٹر فرامرز بہزاد کے ساتھ میرے آفس میں آیا۔ جناب حیدری نے کہا کہ جناب بہزاد اس وقت ایک جرمن سے فارسی فرہنگ لغات پر کام کر رہے ہیں اور کہا: یہ کام، میرا کام نہیں ہے؛ اسی وجہ سے میں نے چاہا اُسے آپ سے ملوا دوں تاکہ آپ ملکر کام کریں۔ اُس کے بعد میں جناب بہزاد سے جو جرمنی میں تھے، رابطے میں رہا اور اُنہیں اُن کی فرہنگ لغات کے لئے جن منابع کی ضرورت ہوتی میں ڈھونڈ کراُنہیں بھیجتا۔ تقریباً دس سال بعد، یہ فرہنگ لغات تیار ہوگئی۔ اس عرصہ میں، میں نے کچھ خرچ نہیں کیا، لیکن جب طے ہوتا ہے آپ کسی فرہنگ لغات پر کام کریں، اگر اُس عرصے میں اُس سے ملتی جلتی کوئی چیز آجائے، تو وہ ردّ ہوجاتی ہے۔ جب کام ختم ہوا، جناب بہزاد اُسے میرے آفس لیکر آئے اور میں نے اُنہیں کچھ چھوٹی چھوٹی مشکلوں سے آگاہ کیا تاکہ اُسے دورکرلیں۔ میں نے انہیں ایک قرار داد دی اور ہم نے تقریباً تمام معاملات پر موافقت کرلی۔ ہماری قرار داد میں ایک بند ہوتا ہے کہ اگر بڑی فرہنگ چاپ ہو اور اگر اُس بڑی فرہنگ سے، چھوٹی فرہنگ لغات بنے، تو وہ بھی ہماری قرار دادوں اور ہونے والی موافقت سے تعلق رکھیں گی۔ انھوں نے اس مسئلہ کو قبول نہیں کیا اور کہا کہ اس فرہنگ  لغات کی چھوٹی فرہنگ نہیں بنے گی۔ ہم نے اصرار کیا ، وہ نہیں مانا اور کہا میں چاہتا ہوں تمہاری فیلڈ کے کچھ لوگوں سے مشورہ کروں۔ ایک دن جناب بہزاد آئے اور کہا کہ میں نے مشورہ کرلیا ہے، تمہارے ایک دوست نے کتاب مانگ لی اور میں نے بھی اُسے دیدی۔مجھے اس کام سے بہت افسوس ہوا کیونکہ اُس نے وہ کتاب علی رضا حیدری کو دی تھی! جب کتاب تیار ہوگئی، جناب حیدری نے اُس کا ایک نسخہ مجھے بھیجا، کتاب کے کونے میں میرا بہت شکریہ کیا ہوا تھا، لیکن  اس کے بعد، میں نے نہ اُن سے کوئی بات کی اور نہ ٹیلی فون کیا۔"

انھوں نے آخر میں کہا: "ہم نے جتنا بھی کام انجام دیا ہے، اُس کی کوئی  معاشی وجہ نہیں تھی، اُس کام کے پیچھے ایک ثقافتی اور قومی وظیفہ تھا۔ حکومت یہ کام انجام نہیں دیتی اور اس قرعہ کشی میں ہمارا نام نکلا اور ہم باکمال میل اس کام کو انجام دیتے ہیں۔"

" کتاب کی زبانی تاریخ" کی نشستوں کا نیا سلسلہ خانہ کتاب فاؤنڈیشن کے اہل قلم سرا میں اس ترتیب کے ساتھ منعقد ہوا: پہلی نشست بدھ، ۱۲ اپریل ۲۰۱۷ء کومطبوعات تہران – تبریز کے انچارج حاج بیت اللہ راد خواہ (مشمع چی) کی موجودگی میں، دوسری نشست بدھ، ۱۹ اپریل کو مطبوعات پرتو کے انچارج جمشید  اسماعیلیان کی موجودگی میں، تیسری نشست بدھ،  ۲۶ اپریل کو مطبوعات اشرفی کے انچارج ابو القاسم اشرف الکتابی کی موجودگی میں، چوتھی نشست بدھ، ۱۷ مئی کو مطبوعات مرتضوی کے انچارج حجت الاسلام بیوک چیت چیان کی موجودگی میں، پانچویں نشست منگل، ۲۳ مئی کو مطبوعات اسلامیہ کے انچارج سید جلال کتابچی اور مطبوعات علمیہ اسلامیہ کے انچارجوں سید فرید کتابچی اور سید محمد باقر کتابچی کے موجودگی میں، چھٹی نشست منگل،  ۳۰ مئی کومطبوعات اسلامیہ کے انچارج سید جلال کتابچی اور مطبوعات علمیہ اسلامیہ کے انچارجوں سید مجتبی کتابچی، سید فرید کتابچی اور سید محمد باقر کتابچی کی دوبارہ موجودگی میں، ساتویں نشست منگل، ۶ جون کو دار الکتب الاسلامیہ کے انچارج مرتضیٰ آخوندی کی موجودگی میں، آٹھویں نشست منگل، ۱۳ جون کو دوبارہ دار الکتب الاسلامیہ کے انچارج مرتضی آخوندی کی موجودگی میں، نویں نشست منگل، ۲۰ جون کو کارنامہ پبلشر کی صاحب امتیاز مہدیہ مستغنی یزدی،مطبوعات کارنامہ کے مرحوم انچارج، محمد زہرائی کے فرزندوں ماکان اور روزبہ زہرائی کی موجودگی میں، دسویں نشست بدھ، ۲۷ جون کودوبارہ کارنامہ پبلشر کی صاحب امتیاز مہدیہ مستغنی یزدی،مطبوعات کارنامہ کے مرحوم انچارج، محمد زہرائی کے فرزندوں ماکان اور روزبہ زہرائی کی موجودگی میں، گیارہویں نشست منگل،  ۱۱ جولائی کو نشر  رسا  کے انچارج محمد رضا ناجیان اصل کی موجودگی میں، بارہویں نشست اتوار،  ۱۶ جولائی کو  مطبوعات نو کے انچارج محمد رضا جعفری کی موجودگی میں، تیرہویں نشست منگل، ۱۸ جولائی کو ایک بار پھر مطبوعات رسا کے انچارج محمد رضا ناجیان اصل کی موجودگی میں، چودہویں نشست، منگل ۲۵ جولائی کو ایک بار پھر مطبوعات نو کے انچارج محمد رضا جعفری کی موجودگی میں، پندرہویں نشست، ہفتہ ۲۹ جولائی کو مطبوعات پیام کے انچارج محمد نیک دست کی موجودگی میں، سولہویں نشست، منگل ۸ اگست کواقبال پبلیکیشنز کے انچارج سعید اقبال کتابچی کی موجودگی میں، سترہویں نشست، ہفتہ  ۱۲ اگست کو ایک بار پھر اقبال پبلیکیشنز کے انچارج سعید اقبال کتابچی کی موجودگی  میں، اٹھارہویں نشست،منگل ۱۵ اگست کو  مطبوعات فرہنگ معاصر کے انچارج جناب داوود موسائی کی موجودگی میں، اُنیسویں نشست، منگل ۲۲ اگست کو مطبوعات مازیار کے انچارج جناب مہر داد کاظم زادہ کی موجودگی میں، بیسویں نشست، پیر ۲۸ اگست کو مطبوعات زوار کے انچارج جناب علی زوّار کی موجودگی میں۔

اسی طرح "کتاب کی زبانی تاریخ" کی ابتدائی نشستوں کا مرحلہ سن ۲۰۱۴ء کے وسط سے سن ۲۰۱۵ کی گرمیوں تک جناب ہمت نصر اللہ حدادی کی کوششوں سے خانہ کتاب فاؤنڈیشن کے اہل قلم سرا میں منعقدہوا۔ ان نشستوں کا نتیجہ "کتاب کی زبانی تاریخ" کے عنوان سے حاصل ہونے والی وہ کتاب ہے جو ۵۶۰ صفحات پر خانہ کتاب فاؤنڈیشن کی طرف سے اشاعت ہو


سائیٹ تاریخ شفاہی ایران
 
صارفین کی تعداد: 65


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

    جنوبی محاذ پر ہونے والے آپریشنز اور سردار عروج کا

    مربیوں کی بٹالین نے گتھیوں کو سلجھا دیا

    سردار خسرو عروج، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے چیف کے سینئر مشیر، جنہوں نے اپنے آبائی شہر میں جنگ کو شروع ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔
    لیفٹیننٹ کرنل کیپٹن سعید کیوان شکوہی "شہید صفری" آپریشن کے بارے میں بتاتے ہیں

    وہ یادگار لمحات جب رینجرز نے دشمن کے آئل ٹرمینلز کو تباہ کردیا

    میں بیٹھا ہوا تھا کہ کانوں میں ہیلی کاپٹر کی آواز آئی۔ فیوز کھینچنے کا کام شروع ہوا۔ ہم ہیلی کاپٹر تک پہنچے۔ ہیلی کاپٹر اُڑنے کے تھوڑی دیر بعد دھماکہ ہوا اور یہ قلعہ بھی بھڑک اٹھا۔