زبانی تاریخ اور اُس کی ضرورتوں پر انٹرویو – اکیسواں حصہ

نئے سوالات

حمید قزوینی

2017-09-26


ہم یہ بات بیان کرچکے ہیں کہ انٹرویو سے پہلے اصلی موضوع سے متعلق سوالات کی ایک فہرست تیار کرلیں اور اُسے انٹرویو کیلئے اپنے ساتھ لے جائیں۔

واضح سی بات ہے کہ سوالات کا دائرہ صرف اس فہرست تک محدود نہیں رہے گا، انٹرویو لینے والا گفتگو کے دوران، نئے سوالات اور جدید نکات سے روبرو ہوگا تو اُسے چاہیے  مطالب کی تکمیل اور اُن کی مزید وضاحت کیلئے اُن سوالات کو اٹھانے کیلئے اقدام کرے۔ ان سوالات کا تعلق زیادہ تر راوی کی گفتگو سے متعلق ہوتا ہے اور یہ اُس کی گفتگو میں دقت کرنے سے مل جاتے ہیں۔ اسی طرح محقق نئے سوالات پوچھ کر اور کہے جانے والی باتوں کے واضح ہونے کیلئے ایسے نکات بیان کرکے، اپنی توجہ اور دلچسپی کو راوی پر ظاہر کرسکتا ہے اور اس طرح وہ راوی کے مزید مطالب بیان کرنے کے انگیزہ کو ابھار سکتا ہے۔

واضح ہے کہ راوی کی باتوں کو سنتے وقت  قوت خیال اور ذہن کی منظر کشی کی مدد  سے نئے سوالات جنم لیں گے۔ حقیقت میں انٹرویو لینے والا خود کو راوی کی جگہ قرار دیتا ہے اور واقعات رونما ہونے کے زمانے میں راوی کے حالات اور ذہن میں موجود باتوں کو کھولتا  ہے اور مبہم نکات کو ڈھونڈ کر اُس کے ابہام کو دور کرتا ہے اور واقعہ کی تکمیل، موضوع کی مزید وضاحت اور راوی کے ذہن کو ابھارتے ہوئے نئے سوالات سامنے رکھتا ہے۔

فطری سی بات ہے ان سوالات کا دائرہ اور تقسیم، راوی کی باتوں پر دقت دینے کے معیار، انٹرویو لینے والے کے مورد نظر موضوع سے متعلق  علم اور معلومات، دماغ کے گھوڑے دوڑانے اور ذہنی منظر کشی سے وابستہ ہے۔

اس طرح کے سوالات کے اندارج اور پیش کرنے کی کیفیت کے بارے میں مندرجہ ذیل موارد پر توجہ دینی چاہئیے:

۱۔ تمام سوالات، حتی سادہ اور چھوٹے سوالات اور توضیح دینے والے نکات لکھے ہوئے ہونے چاہئیے تاکہ مناسب وقت پر اُنہیں پیش کیا جائے۔ بغیر کسی شک و تردید کے اس بات کا امکان پایا جاتا ہے کہ مضبوط سے مضبوط حافظہ بھی مختلف موضوعات کے سامنے فراموشی اور غفلت کا شکار ہوجائے اسی لئے صرف حافظہ پر بھروسہ نہیں کرنا چاہئیے۔

۲۔ بات کو مکمل کرنے والا سوال بالکل مورد بحث موضوع کی حدود میں ہو اور اُسے راوی کے مطالب سے مربوط ہونا چاہیے۔ ہر طرح کے ایسے سوال  اور غیرمربوط نکتے سے اجتناب کرنا چاہئیے جس کی وجہ سے راوی کی گفتگو کا موضوع بدل جائے یا انٹرویو اپنے اصل راستے سے ہٹ جائے۔

۳۔ نیا سوال اور ابہام کو  واضح کرنا، عام طور سے کھلے سوالوں کے ذریعے انجام پاتا ہے۔ کھلا سوال راوی کی مدد کرتا ہے کہ وہ اپنی رائے کو مزید تشریح اور کھلے انداز میں بیان کرے اور کلی جوابات دینے یا صرف ہاں اور نہیں کہنے پر اکتفا نہ کرے۔

۴۔ نئے سوالات اٹھانے کے مسئلہ کو بعد والی نشست پر مٹ ٹالیں۔ اس بات پر توجہ رکھیں کہ سوال اُس وقت کرنا چاہیے جب راوی کا ذہن اُس میں الجھا ہوا ہو۔ وقت گزرنے کے بعد ممکن ہے راوی اُس موضوع کی نسبت فراموشی یا سوچ بچار میں تبدیلی کا  شکار ہوجائے۔ انٹرویو کا وقت ختم ہوجانے کی صورت میں، سوالات اور مربوط نکات پیش کرنے کیلئے کسی اور وقت کا تعین کرلیں۔

۵۔ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ ممکن ہے کبھی یہ سوالات بحث کے درمیان اٹھائے جائیں، اُنہیں کم سے کم جملوں اور کلمات کی لڑی میں پروئیں تا کہ راوی کا ذہن موضوع سے دور ہونے کی وجہ سے گفتگو کا سلسلہ ٹوٹ نہ جائے۔

۶۔ سوالات راوی کے ذہن میں یہ تصور ایجاد نہ کردیں کہ انٹرویو لینے والا موضوعات اور واقعات کی معلومات پر راوی سے زیادہ تسلط رکھتا ہے۔ اس بات کی وجہ سے راوی میں اعتماد بہ نفس کی کمی واقع ہوگی جس کی وجہ سے وہ بہت سے مطالب بیان کرنے سے ہچکچائے  گا۔



 
صارفین کی تعداد: 544


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
محترمہ فاطمہ زعفرانی بہروز کے ساتھ گفتگو

مریم بہروز کی گرفتاری اور انقلاب کی خاطر سونا جمع کرنے کی داستان

ہم نے ایک خود ہی اعلامیہ بنایا جس کا متن کچھ اس طرح سے تھا: "اس زر و زیورات کی ظاہر سے زیادہ کوئی قیمت نہیں ۔ ہم ان زیورات کو نظام کے استحکام اور انقلاب کے دوام کی خاطر مقدس جمہوری اسلامی کےنظام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں" اس وقت امام قم میں تھے
جماران ہال میں یادوں بھری رات کا پروگرام

امام خمینی اور انقلاب اسلامی کی کچھ یادیں

گذشتہ سالوں میں ایک موقع نصیب ہوا کہ ہم محترم مؤلفین کے ساتھ، رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کے انقلاب اسلامی سے متعلق واقعات لینے جائیں۔ ایک دن جب وہ واقعہ سنانے آئے، تو پتہ چل رہا تھا کہ اُنہیں کسی بات پہ شکوہ ہے۔ میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سمجھ گیا تھا کہ جب رہبر حضرت امام کے بارے میں بات کرتے ہیں، اُن کی حالت بدل جاتی ہے اور وہ خود سے بے خود ہوجاتے ہیں