گزشتہ دہائیوں میں شہر اراک میں ہونے والی قرآنی نشست کے بارے میں

ایک مکمل روایتی طریقہ کار

احسان منصوری
ترجمہ: سید مبارک حسنین زیدی

2017-09-18


محمد رحیم بیرقی مرکزی صوبے کے ایک سرگرم قرآنی شخصیت  ہیں جنہوں نے چند سالوں سے تہران میں سکونت اختیار کی ہوئی ہے۔ ار اک میں ہونے والی قرآن کریم کی سرکاری اور جدید نشستیں ہوں یا روایتی نشستیں، یہ شخصیت ہر جگہ فعال نظر آئی اور یہ  یونیورسٹی میں قرآن کے  استاد ہیں۔ ہم نے اُن کے ساتھ شہر اراک میں ہونے والی قرآنی نشست اور خاص طور سے مرحوم استاد محمد حسن نہرمیانی کے بارے میں بات چیت کی۔ مرحوم استاد نہرمیانی اراک میں قرآن کریم کے مشہور استادوں میں سے  تھے، اس طرح سے کہ انقلاب کے بعد اراک کی نئی نسل کے پاس معارف قر آن سے متعلق جو کچھ بھی ہے وہ اس شخص کے مرہون منت ہے؛ اراک کی میونسپلٹی سے ریٹائر ہونے والا شخص جس کے کندھوں پر ہمیشہ عبا رہتی، انھوں  نے ۷۰ سال سے زیادہ عرصہ اراک میں قرآن کریم کی تعلیم میں صرف کیا اور سن ۲۰۰۰ء میں رہبر معظم انقلاب کی خاص عنایات ان کے شامل حال رہیں اور یہ بیسویں صدی کے پہلے عشرے کے وسط میں خالق حقیقی سے جاملے۔ یہ انٹرویو ، محققین کو قرآن کی پرانی نشستوں، طرز تعلیم، برتاؤ کے طریقہ کار اور قرآن کریم کی تعلیم کے وسائل کے بارے میں مفید مطالب فراہم کرسکتا ہے۔  

 

آپ کی استاد نہرمیانی سے کس زمانے میں جان پہچان ہوئی؟

استاد نہرمیانی کی زیارت کی توفیق کا معاملہ سن ۱۹۸۸ یا ۸۹ سے مربوط ہے۔ جمعہ والے دن ظہر کے بعد مرحوم استاد کی موجودگی میں اور آقا نور الدین کے مزار پر بہت ہی مناسب اور بہترین معنوی فضا قائم ہوتی تھی جو قرآنی نشستیں منعقد کرنے کیلئے بہت ہی مناسب ہوتی تھی۔ البتہ اس پروگرام میں زیادہ تر عمر رسیدہ  لوگ آتے تھے اور جوان حضرات کم ہی شرکت کرتے تھے۔ میں بھی ان سے لگاؤ پیدا کرنے کی وجہ سے کچھ دنوں بعد ان نشستوں میں شرکت کرلیتا تھا۔ مرحوم حاجی شہاب جو قرآن کے بہترین استادوں میں سے تھے اور اسی طرح میرے ایک رشتہ دار جن کا نام جناب حاجی شمسی – جو اس دنیا سے جا چکے ہیں اور میرے گاؤں کی ایسی شخصیت تھے جو  قرآنی نشستوں میں استادی کا لباس زیب تن کرتے تھے – نے مجھے استاد نہرمیانی کی نشست کے بارے میں بتایا۔ جس وجہ سے میں بھی جمعہ  کو ہونے والی اس نشست میں شرکت کیلئے جانے لگا۔ جناب شمسی جن کے ہاتھ میں ایک بڑا سا قرآن ہوتا تھا وہ ہر ہفتے ہونے والی اس قرآنی نشست میں ہمیشہ موجود ہوتے تھے۔ بہت سے ایسے لوگ جو استاد کے درجہ پر پہنچ چکے ہیں انھوں نے ایک زمانے میں ان کے سامنے زانوئے ادب تہہ کئے ہیں، لیکن مجھے ایسے لوگوں کے بارے میں کچھ یاد نہیں۔

 

قرآنی نشستیں منعقد ہونے کا طریقہ کار کیا تھا؟

نشست ا س طرح منعقد ہوتی تھی کہ عام طور سے افراد بیٹھ جاتے ، رحلوں اور قرآن کو کھول لیتے اور استاد نہرمیانی خود آیات کی تلاوت کیا کرتے تھے۔ لوگ بھی پڑھنا شروع کردیتے اور جب بھی کہیں غلط پڑھتے، استاد اُن کی غلطی پکڑ لیتے؛ زیادہ تر حروف کی حرکتوں اور تجوید کی کلی موارد پر اکتفا کیا جاتا تھا جیسے ادغام ، اقلاب ، اظہار اور اخفا وغیرہ۔  بعض دفعہ غلطی کرنے پر ٹوکتے نہیں تھے، بلکہ کہتے تھے دوبارہ پڑھو۔ پڑھنے والے کی غلطی کی مناسبت سے اُسے اس چیز کی وضاحت دیتے یا اُن الفاظ اور حرکتوں کی غلطی کے بارے میں بتاتے۔ اگر کوئی عام بات ہوتی تو سب کو بتاتے تھے۔

 

قرائت کا کون سا طریقہ رائج تھا؟

استاد کی قرائت کا طریقہ،  ایک خاص طریقہ تھا، آپ اس کا نام نہ تو تحقیق رکھتے سکتے ہیں اور نہ ہی ترتیل۔ ان کی تلاوت کی رفتار اور طریقہ آج کی ترتیلی یا تحقیقی سرعت سے مختلف تھا؛ وہ زیادہ تر ایک مکمل روایتی طریقے اور منفرد انداز میں پڑھا کرتے تھے۔ مجھے یاد ہے اُس زمانے میں اگر کوئی لحن میں یا نغمے والے انداز میں بات کرنا چاہتا، استاد  بہت حساس تھے ، فوراً ٹوک دیتے۔ اُن کا ٹونوں اور  مختلف لحنوں پر کوئی اعتقاد نہیں تھا۔ جب ہم اُس زمانے کے بعض استادوں سے بات کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں اُستاد (نہرمیانی) خود سہ گاہ (ایرانی میں موسیقی کا ایک طریقہ کار) پڑھتے تھے، لیکن وہ خود اس بات کو نہیں مانتے تھے کہ میں جس طریقہ سے پڑھ رہا ہوں آپ اُس کا کوئی نام رکھیں۔ وہ اس چیز میں مداخلت کی اجازت نہیں دیتے تھے۔

 

وہ کیوں؟

وہ اس مسئلے کو اعتقادی نگاہ سے دیکھتے تھے  کہ قرآن کوموسیقی رجحانات اور لحن و طرز کی طرف نہیں لے جانا چاہیے۔

 

قرآن کی تفسیر بھی ہوتی تھی؟

جب میں مزار پہ ہونے والی نشستوں میں جاتا تھا تو میں نے نہیں دیکھا کہ وہ تفسیر کرنا چاہتے ہوں، لیکن ضرورت پڑنے پر وہ آیات کے بارے میں وضاحت دیتے تھے۔  مجھے نہیں یاد کہ اُنھوں نے تفسیر بیان کی ہو۔ کبھی کبھار آیات کے معنی بیان کرتے اور معانی کی بحث میں وارد ہوتے لیکن کلی طور پر ترجمہ اور آیات کی وضاحت نہیں کرتے تھے۔

 

قرآنی نشست کتنے عرصہ سے ہوتی چلی آرہی تھی؟

نشست کتنے سال پرانی تھی ، اس بارے میں مجھے کچھ نہیں معلوم، فقط اتنا پتہ ہے کہ کئی سالوں سے مستقل منعقد ہو رہی ہے اور جب تک اُستاد اپنے پیروں پر کھڑے رہے کبھی بھی چھٹی نہیں ہوئی۔ البتہ کبھی بہت زیادہ سردی ، ہیٹر نہ چلنے اور دروازہ نہ کھلنے کی وجہ سے ممکن ہوتا کہ کوئی خلل ایجاد ہوجائے وگرنہ یہ ایسا پروگرام تھا جس میں چھٹی کی گنجائش نہیں تھی۔

 

استاد نہرمیانی کیسے آیا جایا کرتے تھے؟

جس زمانے میں ، میں شرکت کرتا تھا، یہ خود آتے تھے اور خود ہی جاتے تھےچونکہ یہ بہت ہی با نشاط، خوشحال اور اپنے دوستوں سے اہل مزاح تھے۔ یہ اپنی عمر کے آخر تک زیادہ کمزور نہیں پڑے۔ آخری ایام میں بھی ان کی آنکھیں ضعیف ہوگئی تھیں، اور اُن کی توانائی ا ور ہمت بھی ایکسیڈنٹ اور عمر رسیدہ ہونے کی وجہ سے کم ہوگئی تھی اور کچھ ڈھلک سے گئے تھے، وگرنہ وہ قرآنی نشستوں میں اصولی طور پر خوشحال اور سرور میں ہوتے تھے۔

 

اُن کا حافظہ کیسا تھا؟

دلچسپ بات یہ ہے کہ لوگوں کے نام کی نسبت ان کا حافظہ صحیح تھا۔ میرے خیال میں تنہا جس چیز نے استاد پر غلبہ نہیں کیا وہ فراموشی اور غفلت تھی۔ میں اُس زمانے میں جوان تھا اور وہ مجھے پہچانتے تھے۔ میں اُس وقت ۱۶ سال کا تھا ، وہ میرے ساتھ بہت محبت اور مہربانی سے پیش آتے تھے۔ پہلی نشست میں جب مرحوم شمسی نے استاد سے میرا تعارف کروایا اور میں نے تلاوت کی، اُنہیں میری تلاوت پسند آئی، انھوں نے میری تعریف کی۔ اس حال میں کہ میری قرائت کرنے کا طریقہ استاد نہرمیانی اور وہاں پر موجود لوگوں  کے طریقہ سے مختلف تھا، لیکن انھوں نے مجھ سے یہ نہیں کہا کہ بالکل میری طرح پڑھو اور انہیں اصلاً قرائت کے طریقہ کار سے کوئی سروکار نہیں تھا؛ وہ صرف میری وقف، ابدا اور تجویدی غلطیوں کو پکڑتے تھے۔ مجھے اُن سالوں میں دیکھ کر پڑھنے اور روانی سے پڑھنے میں کوئی مشکل نہیں تھی وہ میری بعض اخفا ، ادغام اور قلب میم کی غلطیاں نکالتے۔ بہت زیادہ دقیق غلطیوں جیسے مدوں کے توازن پر زیادہ توجہ نہیں دیتے تھے۔

 

وہ قرآن کی طرف دیکھ کر غلطی نکالتے تھے؟

استاد کو پورا قرآن حفظ تھا، لیکن اُن کی نگاہ اس طرح ہوتی تھی کہ ہمیشہ قرآن اُن کے سامنے کھلا ہوتا تھا۔ اُن کا طریقہ یہ تھا کہ وہ حتماً قرآن کی طرف  نگاہ کریں، لیکن یہ کہ غلطی نکالتے وقت قرآن حتماً کھلا ہو، ایسا نہیں تھا۔

 

مزار پر ہونے والی نشستوں میں دوسرے شہروں اور صوبوں سے لوگ آتے تھے؟

مزار پر ہونے والی نشست بالکل ایک روایتی نشست تھی، یعنی ایسا نہیں تھا کہ دوسرے صوبوں سے بھی لوگ آکر اُس میں شرکت کریں۔ یہ صرف ایک مقامی نشست تھی جس میں گلی کوچوں اور دوسرے محلے سے لوگ آتے تھے، مثلاً مرحوم شمسی کا گھر شاہراہ البرز پر تھا۔ یہ جو کہا جاتا ہے کہ یہ نشست  آدھی صدی پرانی ہے، مجھے نہیں معلوم، لیکن جب میں جاتا تو یہ پرانے پن سے زیادہ کی حکایت کر رہی ہوتی، یعنی پتہ چل رہا ہوتا تھا کہ یہاں بہت سالوں سے پروگرام ہو رہا ہے۔

 

استاد نہرمیانی کا اخلاق کیسا تھا؟

مرحوم نہرمیانی بہت ہی ملنسار انسان تھے۔ وہ عمر رسیدہ ہونے کے باوجود دوسروں سے ہنسی مذاق کرتے تھے۔ اُن کے دانت بہت خوبصورت  تھے، جب وہ ہنستے تو اُن کے سارے دانت نظر آتے تھے۔ چونکہ وہ لوگوں کو پہچانتے تھے،  اس لئے ان لوگوں کے ساتھ خاص قسم کا مذاق کرتے تھے۔ جیسا کہ جوان افراد کم ہوتے تھے اُن کا سامنا زیادہ تر عمر رسیدہ افراد سے ہوتا تھا۔ وہ ہمیشہ عبا میں رہتے اور اُن کے سر پر مشہور ٹوپی رہتی۔ وہ ہمیشہ  یہ عبا اور ٹوپی پہنے رہتے چاہے سردی ہو یا گرمی۔ ان آخری سالوں میں جب تک استاد نہرمیانی صحیح و سلامت تھے، مزار پر ہونے والی نشستیں  تعطل کا شکار نہیں ہوئیں۔ آخری سالوں میں ان کے تمام رفقاء کا انتقال ہوگیا۔ اس دوران مزار پر تعمیراتی کام بھی ہوا اور وہاں کا ماحول تبدیل ہوگیا۔ ایک دفعہ مجھے یاد ہے کسی قرآنی نشست میں جاتے ہوئے، ان کا شہر جرد کے ٹول پلازہ پر کسی گاڑی سے ایکسیڈنٹ ہوگیا۔

 

ان کی ذاتی زندگی کس طرح کی تھی؟

استاد نہرمیانی ایک حقیقی مؤمن کی حیثیت سے بہت ہی قناعت پسند انسان تھے اور اُن کی زیادہ اخراجات والی زندگی نہیں تھی۔ اُن کا گھر بھی اُسی پرانی طرز کا ٹوٹا پھوٹا سا تھا۔ انھوں نے قرآن کی قرائت اور نشستوں کی بابت کبھی بھی پیسوں کا مطالبہ نہیں کیا۔ لوگ  استاد کو زیادہ تر گھر کے پروگراموں میں دعوت دیتے تھے ، البتہ میں ان کے گھر میں ہونے والے پروگراموں میں نہیں جاتا تھا۔

 

کہیں اور بھی نشست ہوتی تھی؟

مجھے معلوم تھا کہ ان کے گھر پر بھی نشست ہوتی ہے، البتہ میں نہیں جاتا تھا، اور اس کی وجہ بھی یہ تھی کہ میں جمعرات کی شب دعائے کمیل کیلئے مسجد آقا ضیاء جاتا تھا اور اُس کے بعد بسیج کی چھاؤنی، جمعہ کی صبح کو بہت تھک جاتا تھا اور میں دعائے ندبہ میں شرکت کرنے والوں میں سے نہیں تھا۔

 

یونیورسٹی میں بھی آتے تھے؟

میں سن ۱۹۹۲ء میں یونیورسٹی میں داخل ہوا، لیکن جہاں تک میرے علم میں ہے کسی نے انہیں یونیورسٹی آنے کی دعوت نہیں دی۔ اس کی وجہ بھی یہی تھی کہ ان کا انداز روایتی تھا۔ آخری سالوں میں استاد نہرمیانی کی یاد میں کچھ کام انجام پائے ہیں۔ خود ہم نے انجمن قرآن و نہج البلاغہ میں ان کیلئے ایصال ثواب کا پروگرام منعقد کیا؛ یہ سارے وہ کام ہیں جو اُن کا تعارف کروانے کیلئے کئے گئے تھے۔ چونکہ انہیں صرف ان کی ہی نسل والے جانتے تھے اور آج کی نسل شاید انہیں صرف ان کے نام سے جانتی ہو۔

 

وہ عمومی پروگراموں میں بھی شرکت کرتے تھے؟

وہ پڑوسیوں کے گھر ہونے والی  مجالس ختم میں شرکت کرتے اور قرآن پڑھا کرتے تھے۔ اگر آپ نے استاد نہرمیانی کی آواز کو سنا ہوا ہو تو آپ دیکھیں گے کہ استاد کی طرز کے خریدار صرف پرانی ہی لوگ تھے، خاص طور سے انقلاب کے بعد جب تلاوت کا علم اتنا آگے بڑھ گیا ہو کہ مصر کے قاریوں کے برابر ہوچکا ہو۔

 

ان نشستوں میں شاگردوں کو تیار کرنے کا عمل کیسا تھا؟

مرحوم نہرمیانی شاگردوں کی تربیت کے معاملے میں  زیادہ تر روایتی انداز میں کامیاب تھے۔ شہر کے قرآنی اساتید اور ماہرین کو ان کے حضور میں پہنچنے کی توفیق نصیب ہوئی ہے، لیکن یہ دعویٰ نہیں کیا جاسکتا کہ ان افراد کی تربیت میں کوئی خاص کام انجام پایا ہے، خاص طور سے نغموں کی تعلیم اور قرآنی لحن کی ابحاث کے معاملے میں جو اُس زمانے میں رائج تھا؛ اس کا سرچشمہ کہیں اور سے پھوٹ رہا تھا اور ایسا نہیں تھا کہ نغموں اور جدید لحن کےمعاملے میں  استاد نہرمیانی کی تعلیمات نے کوئی موقع فراہم کیا ہو۔ استاد نہرمیانی ایک روایتی استاد کے عنوان سے، خاص طور سے وقف، ابدا، تجوید اور متن پر تسلط اور پاک دل ہونے کے لحاظ سے ایک قرآن پر عمل کرنے والے انسان تھے۔ ایسے شخص تھے جن پر قرآن اور اہل بیت علیہم السلام کے فرامین صدق کرتے تھے۔ ان کا باطنی اخلاص  اور قلبی تقویٰ اس طرح سے استادوں کی زبان پرعام تھا کہ ہم کہہ سکتے ہیں: مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں، تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں(میر)۔ استاد نہرمیانی اس سے پہلے کہ تلاوت کے فنون پر مسلط ہوں، اسلامی اخلاق اور آداب کے پابند تھے۔ بندہ حقیر کی نظر میں استاد نہرمیانی کا مقایسہ اُن کے دور کے لوگوں سے کیا جانا چاہیے نہ آج کے لوگوں سے، چونکہ آداب قرآنی سے متعلق جو ان کا اخلاق تھا، آج کے دور میں اس کا ملنا مشکل ہے۔ 


سائیٹ تاریخ شفاہی ایران
 
صارفین کی تعداد: 52


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
جنوبی محاذ پر ہونے والے آپریشنز اور سردار عروج کا

مربیوں کی بٹالین نے گتھیوں کو سلجھا دیا

سردار خسرو عروج، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے چیف کے سینئر مشیر، جنہوں نے اپنے آبائی شہر میں جنگ کو شروع ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔
لیفٹیننٹ کرنل کیپٹن سعید کیوان شکوہی "شہید صفری" آپریشن کے بارے میں بتاتے ہیں

وہ یادگار لمحات جب رینجرز نے دشمن کے آئل ٹرمینلز کو تباہ کردیا

میں بیٹھا ہوا تھا کہ کانوں میں ہیلی کاپٹر کی آواز آئی۔ فیوز کھینچنے کا کام شروع ہوا۔ ہم ہیلی کاپٹر تک پہنچے۔ ہیلی کاپٹر اُڑنے کے تھوڑی دیر بعد دھماکہ ہوا اور یہ قلعہ بھی بھڑک اٹھا۔