نشستیں تعمیراتی ہوتی تھیں

۱۹۶۰ ء کے عشرے سے متعلق آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی کےجیل کے واقعات

2017-09-11


تمہید:

جیل کے ان واقعات پر نگاہ ڈالنا شاید ان چند موضوعات میں سے ہو جن پر بے تحاشا مصروفیات کے باوجود گفتگو کرنا آیت اللہ مکارم شیرازی کے لئے اطمینان کا باعث ہو۔ انھوں نے ایک دن بہت سی مصروف کے باوجود اپنے ان یادگار دنوں کے بارے جس چاہ اور جوش و خروش کے ساتھ بتایا وہ قابل بیان نہیں۔ انھوں نے کہا: سن ۱۹۶۲ء میں حکومت کی کوشش یہ تھی کہ انہیں چند دیگر علما کے ساتھ ، جو قم اور تہران کے حوزے میں نمایاں حیثیت رکھتے تھے، گرفتار کرکے محرم اور صفر میں ہونے والے عزاداری کے تمام تر پروگراموں سے دور رکھے۔ آقا صاحب بہت انکساری سے بتا رہے کہ انہیں باقی تمام جگہوں پر جدوجہد کے مقابلے  (اس موقع پر) میں کسی تکلیف کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ہماری پوری گفتگو  کے دوران، شروع سے آخر تک موصوف کا لہجہ نشاط اور سرور سے سرشار تھا، لہذا آنے والی سطور میں آپ جو مطالعہ کریں  گے اس سے محظوظ ہوں گے۔

 

آپ کو طاغوت کے زمانے میں کتنی بار جیل جانا پڑا؟

• گذشتہ حکومت کے دور میں، میں تین بار جیل  گیا۔ دوبار مختصر وقت کے لیے اور ایک بار نسبتاً زیادہ وقت کے لئے۔

 

پہلی بار کب اور کیوں جیل جانا پڑا؟

• پہلی بار قم میں، ۵ جون ۱۹۶۳ء کے قیام سے پہلے مجھے جیل بھیجا گیا اور اس کی وجہ ، مجھ پر شاہ کے خلاف لوگوں کو بھڑکانے کا الزام تھا۔ انھوں نے مجھے گرفتار کیا اور جیل میں ڈال دیا۔

 

دوسری بار آپ کو کب جیل بھیجا گیا اور اس کی کیا تفصیلات ہیں؟

• دوسری بار جیل میں رہنے کا دورانیہ سب سے طولانی تھا۔ ۵ جون ۱۹۶۳ء کی رات کو حکومتی اہل کاروں نے مجھے، جناب فلسفی اور الحاج آقا شیخ عباس علی کو گرفتار کیا اور ڈیڑھ ماہ بعد ہم تینوں کو چھوڑ دیا۔

 

آپ کو کس جیل میں رکھا گیا ؟

• ہمیں پولیس تھانے کی کوٹھڑی میں قید کیا گیا اور ہم وہ لوگ تھے جنہیں سب سے پہلے گرفتار کرکے قید کیا گیا۔ ہم وہیں پر تھے اور قید خانے میں مزید مختلف افراد کا اضافہ ہوتا رہا یہاں تک کہ ہماری تعداد اٹھارہ ہوگئی۔ چونکہ ۱۸ ایک گمراہ فرقہ کا نعرہ بھی ہے (ہنستے ہوئے) تو ہم آپس میں ایک دوسرے سے مذاق میں کہا کرتے کہ کاش ہم میں سے یا تو ایک آدمی کم کردیں یا پھر بڑھا دیں تاکہ اس ۱۸ کے عدد سے تو جان چھوٹے۔  خیر،  گرفتاریاں بڑھتی رہیں یہاں تکہ ہماری تعداد ۵۳ ہوگئی۔

 

۵۳ افراد بھی تو ایک دوسرے گروپ کی مشکل ہے!

• بہرحال ہم ۵۳ لوگ تھے اور جگہ اتنی کم کہ ہر ایک کے حصے میں بمشکل ایک میٹر جگہ آرہی تھی۔ سب نے مجھے پوری ٹیم کا انچارج بنا دیا تاکہ نمازجماعت اور تقریر وغیرہ کے لئے منظم پروگرام بنایا جاسکے۔ کچھ ہی دیر گزری تھی کہ مزید چند افراد کو لایا گیا۔ جنہیں ملا کر اب کل تعداد ۶۰ ہوگئی۔ اب صورت حال یہ تھی کہ ایک آدمی بھی اگر مزید آتا تو ہمارا لیٹنا تو درکنار بیٹھنا بھی  محال ہوجائے۔ اب ہم نے سوچا کہ برآمدے میں بھی ڈیرہ ڈالنا پڑے گا۔ لیکن رفتہ رفتہ چند افراد کے رہا ہونے پر جگہ پھر سے کشادہ ہوگئی۔ اس جیل میں ایک چھوٹا سا صحن اور ایک کمرہ تھا۔ جولائی شروع ہونے والا تھا۔ گرمی شدید تھی جس کی وجہ سے ہم صحن میں بھی زیادہ دیر تک نہیں بیٹھ سکتے تھے، ہمارے پاس وہی ایک کمرہ تھا۔ بڑی مشکل سے گزارا ہو رہا تھا۔ مجھے یاد ہے کمرے کی پچھلی طرف اسلحے کا گودام تھا جہاں سے سپاہیوں کے آنے جانے اور اسلحہ اٹھانے کی آوازیں آتی رہتی تھیں۔ ایک دفعہ میں نے سنا کہ سپاہی آپس میں شکوہ شکایت کر رہے تھے، کہہ رہے تھے کچھ سپاہیوں کا نشانہ ٹھیک نہیں، ایک گولی بھی ضائع نہیں ہونی چاہیے اور کچھ نہ سہی، ایک گولی سے ایک بندہ تو زخمی ہونا چاہیے۔ انہیں فائرنگ کرنا نہیں آتی۔ گولیوں کو  ضائع کر رہےہیں!

 

کس بنا پر آپ کی گرفتاری عمل میں آئی؟

• میں نے محرم الحرام کے پہلے عشرے میں تہران کی ہدایت مسجد میں، ایک جوشیلی تقریر کی جس کی وجہ سے لوگ بھڑک اٹھے۔ اس تقریر پہ خود حکومت بھی حساس ہوگئی اور اس نے اگلے دن سے مسجد کو تالا لگا دیا۔ میں "گلاب درہ" اور امام زادہ قاسم جا رہا تھا کہ ہماری گاڑی کے آگے اچانک ایک جیب آکر رکی۔ اس سے دو سپاہی اتر کر آئے اور مجھے گرفتار کرکے تھانہ "دربند" لے گئے۔ وہاں طے پایا کہ تھانیدار خود چند سپاہیوں کے ساتھ مجھے پولیس تھانے لیکر جائے گا لیکن جب ہم گاڑی میں بیٹھ گئے تو تھانیدار نے مجھے مخاطب کرکے کہا: "یہ لوگ آپ کو وہاں لے جائیں گے اور وہاں آپ کی خوب دھنائی کی جائے گی۔ بہتر یہی ہے کہ آپ یہ اشتہارات وغیرہ پھینک دیں۔ میں بھی کہیں رستے میں اتر جاؤں گا اور فون کرکے آپ کے گھر اطلاع دے دوں گا۔" اور اس نے ایسا ہی کیا اور رستے میں ہی کہیں اُتر گیا۔

 

کیا وہ واقعی آپ کے گھر اطلاع دینا چاہتا تھا یا اس کی کوئی چال تھی؟

• نہیں، اس کی نیت بری نہیں تھی۔ اس نے سچ مچ گھر اطلاع دیدی تھی۔ جب وہ گاڑی سے اترا تو گاڑی میں موجود دو سپاہی آپس میں گفتگو کرنے لگے، ایک بولا: "ہمارا انجام بھی یزید والا ہی ہوگا۔" دوسرے نے کہا: "نہیں، یزید سے بھی برا کہو۔ کمینے ہمارے حصے کی روٹی لے جاتے ہیں۔عاشورا ہے۔  سب مجلس ماتم میں مشغول ہیں اور ایک ہم ہیں کہ علما و ذاکرین کو گھسیٹ گھسیٹ کر جیلوں میں ڈال رہے ہیں۔" ان سپاہیوں کی گفتگو اور اس تھانیدار  کے رویہ سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ حکومت اندر سے کھوکھلی ہوچکی ہے۔ مجھے وہاں دو تین دن ہی ہوئے ہوں گے کہ تہران کے چند امام جماعت کو، جو کسی نشست میں جمع ہوئے تھے، گرفتار کرکے لایا گیا اور یوں ہماری تعدد ۵۳ ہوگئی۔

 

پولیس تھانے میں آپ کا وقت کیسے گزرتا تھا؟

• وہاں نماز جماعت ہوتی تھی جس کی امامت مرحوم مولانا حجۃ الاسلام و المسلمین اثنا عشری (صاحب تفسیر ا ثنا عشری) کرواتے تھے۔ مجھے یاد ہے جیل کی طرف سے جو کھانا آتا تھا مولانا مرحوم وہ بالکل تناول نہیں کرتے تھے، ہم جتنا بھی اصرار کرتے کہ آقاصاحب! اس وقت ہم مجبور ہیں کوئی اور چارہ نہیں۔ بالکل ایسے جیسے کسی شخص کے پاس مردار کے علاوہ کھانے کو کچھ بھی نہ ہو۔ لیکن وہ نہیں مانتے تھے۔ ایک بار ان کے لئے چند روٹیاں اور کچھ کھجوریں اخبار میں لپیٹ کر لائی گئیں۔ جب تک گرفتار رہے اسی پر گزارا کیا۔ ان کی رہائی کے بعد آقائے عز الدین زنجانی نے امامت کی ذمہ داری سنبھالی، اس کے علاوہ صبح اور شام میں تقریر ہوتی تھی۔

 

یہ پروگرام کس موضوع پر ہوتے تھے؟

• اس پروگرام میں جناب فلسفی میاندا ہوتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ علمی اخلاقی موضوع کے تحت اس بحث کو چھیڑا گیا کہ آیا اخلاق کے اصول فقط یہی چار ہیں جیسا کہ علمائے قدیم کہتے ہیں، یا نہیں، چار سے زیادہ ہیں؟ علمائے قدیم اس بات کے قائل ہیں کہ اخلاق کا دائرہ افراط و تفریط کے کا شکار نہیں۔ کچھ علماء کی رائے یہ ہے کہ بعض چیزیں تو چاہے جس قدر بڑھ جائیں دائرہ اخلاق سے خارج نہیں ہوتیں۔ خود میری رائے بھی یہی تھی۔ البتہ مرحوم مطہری پہلی والی رائے سے متفق تھے۔ بہرحال اس پر کچھ گفتگو چلی۔ اس کے علاوہ اور بھی موضوعات زیر بحث رہے۔

 

کوئی ایسا دلچسپ واقعہ جو ان مباحثوں سے مربوط ہو تو ذکر کیجئے؟

• جی ہاں، تھانے کے سپاہی آتے تھے اور کھڑکیوں کے پیچھے کان لگا کر ہماری گفتگو سنا کرتے تھے  اور جاکر اعلیٰ افسران کو رپورٹ دیتے۔ بس پھر کیا ہوا، وہ لوگ آئے اور کھڑکیوں کو سیل کرکے چلے گئے اب جو ہوا اور روشنی کا گزر تھا ہم اس سے بھی محروم ہوگئے، میں کبھی کبھار مذاق میں کہا کرتا: "اگر ہم بحث مباحثہ نہ کرتے تو یہ لوگ کھڑکیوں کو سیل نہ کرتے!"

 

آپ کے ساتھ جو باقی افراد قید میں تھے ان کا رویہ کیسا تھا؟

• ان دنوں یہ افواہ پھیل گئی تھی کہ ہم میں سے کچھ افراد کو قتل کر دیا جائے گا۔ اسی وجہ سے سب ایک دوسرے کو وصیت کرنے میں لگے ہوئے تھے، من جملہ شیخ عباس علی  اسلامی نے مجھے وصیت کی ، ویسے وہ محترم عالم دین ہونے کے علاوہ جامعہ تعلیمات اسلامی کے سربراہ بھی تھے، میں نے دیکھا کہ ان کا کل اثاثہ صرف ایک گھر اور ایک گاڑی ہے!

 

ان علمی بحث مباحثوں سے ہٹ کر، جیل کی صورت حال سے نمٹنے کے لیے قیدیوں کی کیا حکمت عملی تھی؟

• بہت سے دوست نماز شب پڑھتے تھے تاکہ اندرونی اور روحانی نشاط حاصل ہو۔ کچھ احباب سستی سے بچنے کے لیے وہیں صحن میں چہل قدمی کرتے تھے۔ جو ذرا جوان تھے انھوں نے اپنی اپنی جورابوں سے کھیلنے کیلئے والی بال والی گیند بنائی ہوئی تھی اور صحن میں ایک رسی باندھ کر کھیلتے تھے۔ بعض اوقات اداسی سے بچنے کے لئے آپس میں ہنستی مذات کرتے تھے، ان دنوں روزنامہ "توفیق" اخبار کی یہ ہیڈ لائن "تم نے کہا روٹی سستی ہوگی، کہاں ہے تمہاری سستی روٹی ..." وغیرہ۔ حکومت کو طعنہ دیا تھا۔ ہم بھی اس جملے کو دہراتے اور ہنسی مذاق کا حصہ بنا لیتے۔ تھانے کے مامور اکثر ایک دوسرے سے کہا کرتے: یار! یہ لوگ جیل میں سزا کاٹ رہے ہیں یا پکنک منا رہے ہیں جب بھی دیکھو خوش نظر آتے ہیں!" اس کے علاوہ ہماری مصروفیت ڈائری لکھنا تھی۔ ان گزرتے دنوں کا ایک  ایک یادگار واقعہ ہم لکھ رہے تھے لیکن بعد میں وہ سب انھوں نے اپنی تحویل میں لے لیا۔ لیکن انقلاب کے بعد رونما ہونے والے واقعات کے نتیجے میں، جہاں تک میں نے سنا ہے، ہماری وہ  تمام تحریریں مل گئیں بلکہ کچھ تو چھپ بھی گئیں۔

 

جیل میں آپ کی بنیادی مشکل کیا تھی؟

• جیل میں ہمیں حتی پوچھ گچھ اور تفتیش کے دوران بھی کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔ انھوں نے ہم سب کو گرفتار کرکے ایک جگہ اکٹھا بند کر دیا تاکہ اس نازک وقت میں ہم باہر نہ ہوں۔  ہمیں باہر کی خبروں کی فکر رہتی تھی۔ لیکن باہر والے ہم سے بھی زیادہ بے خبر تھے۔ جو لوگ ہم میں سے بعض کا کھانا لاتے تھے یا تو وہ کھانے میں یا سوپ  میں باہر کی خبریں لکھ کر ڈال دیتے اور پھر ہم چمچ سے نکال کر انہیں پڑھ لیتے۔ یا تھانے کے بعض سپاہی چھوٹے شیشے سے وہ خبر ٹھونس کر چلے جاتے اور پھر ہم انہیں اٹھا کر پڑھ لیتے۔ صرف ایک دفعہ انھوں نے میرے بیانات کے بارے میں مجھ سے سخت پوچھ گچھ کی اور کہا تم جو کچھ بھی جانتے ہو وہ  ہمیں لکھ کر دوں۔ میں گھبرا گیا اور میرے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ انھوں نے کہا تمہاری گھبراہٹ بتا رہی ہے کہ تم ہم سے چھپا رہے ہو۔ میں نے کہا: "تم لوگ مجھ پر تہمت لگا رہے ہو، پریشان کر رہے ہو یہ تو ظاہر سی بات ہے کہ انسان گھبراہٹ میں ٹیڑھا میڑھا ہی لکھے گا ناں!"

 

آج اتنا عرصہ گزرنے کے بعد جب آپ اُس دور کے بارے میں سوچتے ہیں تو کیا محسوس کرتے ہیں؟

• بہت اچھا وقت تھا، تربیتی نشستیں ہوتی تھیں۔ ہم ۴۰، ۵۰ دن بعد رہا ہوگئے اور خوبصورت یادیں لیکر وہاں سے نکلے۔ اُن حالات میں انسان سخت جان ہوجاتا تھا اور اپنے ساتھیوں کی شخصیت بھی کھل کر سامنے آتی تھی۔ کچھ دوست بے صبری کا مظاہرہ کرتے تھے اور بعض تو بے حد صابر اور مستحکم ارادے کے مالک تھے۔ ہمارے لئے اچھی جگہ تھی۔ ہمیں فقط جلاوطنی کے مقامات پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ وہاں ہمیں تکلیف نہیں پہنچاتے تھے، لیکن ہمیں وہاں بہت سے خطرات کا سامنا رہتا تھا۔ ایک دلچسپ واقعہ یہ ہے کہ وہ لوگ قیدیوں کا ایک مخصوص لاکٹ لائے اور اُس میری گردن میں ڈال کر تصویر لینا چاہی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ میں حکومت کا مخالف ہوں۔ میں نے کہا: یہ گلے میں نہیں ڈالوں گا۔ ہاں ہاتھ میں پکڑ لوں گا۔

 

آپ کا ساواک کے پاس موجود ریکارڈ کیسے ملا؟

• انقلاب کے بعد جب شیراز شہر میں لوگوں نے ساواک کے دفتر پر قبضہ کیا تو انھوں نے تمام فائلیں سڑکوں پر پھینک دیں۔ کسی ایک کو میری فائل ملی تو اس نے مجھے بھجوادی۔ جناب حسینیان نے بھی ریکارڈ سنٹر سے، میرے اس زمانے کے مدارک اور ریکارڈ والے لفافے مجھے بھجوائے۔

 

انقلاب سے پہلے کے عقوبت خانے اور جیل، آج ان قیدیوں کے مجسموں کے ساتھ "عبرت میوزیم" میں جو سابقہ مشترک کمیٹی کی جگہ پر ہے، عام لوگوں کے دیکھنے کے لئے رکھے ہیں۔ اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہیں؟ کیا یہ کام درست ہے؟

• یہ بہت ہی بہترین کام ہے کیونکہ انقلاب کے بعد کی نسلوں تک اس دور کے مظالم اور دردناک واقعات کی روداد پہنچنی چاہئیے۔ انہیں جابر حکومت کا مقابلہ کرنے والوں اور حتی عام لوگوں پر ہونے والے ظلم و ستم سے آگاہی ہونی چاہیے۔ انہیں اس بات کا علم  ہونا چاہیے کہ یہ انقلاب اتنی آسانی سے رونما نہیں ہوا اور اب ان نئی نسلوں کو اس کی حفاظت کرنا ہوگی۔ 


15khordad42.ir
 
صارفین کی تعداد: 42


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
جنوبی محاذ پر ہونے والے آپریشنز اور سردار عروج کا

مربیوں کی بٹالین نے گتھیوں کو سلجھا دیا

سردار خسرو عروج، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے چیف کے سینئر مشیر، جنہوں نے اپنے آبائی شہر میں جنگ کو شروع ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔
لیفٹیننٹ کرنل کیپٹن سعید کیوان شکوہی "شہید صفری" آپریشن کے بارے میں بتاتے ہیں

وہ یادگار لمحات جب رینجرز نے دشمن کے آئل ٹرمینلز کو تباہ کردیا

میں بیٹھا ہوا تھا کہ کانوں میں ہیلی کاپٹر کی آواز آئی۔ فیوز کھینچنے کا کام شروع ہوا۔ ہم ہیلی کاپٹر تک پہنچے۔ ہیلی کاپٹر اُڑنے کے تھوڑی دیر بعد دھماکہ ہوا اور یہ قلعہ بھی بھڑک اٹھا۔