ساواکی جمہوریت

آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی
ترجمہ: سید محمد مبشر

2017-07-24


۷ جنوری سن ۱۹۷۸ء کی رات قم  کے ٹیلی فون بجنے لگے: جناب! آپ نے اطلاعات اخبار میں چھپنے والا "رَشیدی مطلق" کا آرٹیکل پڑھا؟ (بعد میں پتہ چلا کہ آرٹیکل کا اصلی لکھنے والا، "رشید مطلق" سے کوئی تعلق نہیں رکھتا تھا)، اس نے بے ادبی اور توہین کی آخری حدوں کو چھولیا ہے ...کیا  کل حوزہ علمیہ میں درس کی تعطیل کی جائے گی؟  ... اور اگل دن صبح پہلے حوزہ علمیہ قم اور پھر قم کے بازار میں تعطیل ہوگئی۔ دینی علوم کے طالب علموں اور فضلا نے مراجع تقلید کے گھروں کے باہر منظم احتجاجی جلسے کئے اور پورے شہر کا نقشہ بدل گیا۔ اس طرح سے قم میں انقلاب کی پہلی چنگاری اٹھی؛ ایک ایسی چنگاری کہ کسی کو یقین نہیں تھا کہ وہ پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی اور حتی ملک سے باہر بھی اس کی آگ دکھائی دے گی۔

مذکورہ آرٹیکل میں زعیم اور عظیم رہنما حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام خمینی کی توہین اور بے ادبی ہونا یقیناً کسی بھی صورت قابل برداشت نہیں تھا لیکن اہم بات یہ ہے کہ اس چنگاری کے پیچھے بارود کی ایک کان  تھی، جسے اس چنگاری نے ایک دفعہ میں جلا کر رکھ دیا تھا۔ عوام کے پیکر پر ایک زخم تھا جو ایک دراز مدت تک ہونے والے ظلم، وحشت، نا انصافی، لوگوں کی ضروریات کی طرف بے توجہی، جھوٹ اور دیگر بربریتوں کا نتیجہ تھا جو ایک وار کا انتظار کر رہا تھا اور جب وار ہوا تو اس پیکر کی ایک ایک جگہ سے فریاد و فغاں بلند ہوئی اور جو کچھ اندر جمع تھا، سب باہر آگیا۔

۸ جنوری سن ۱۹۷۸ ء  کو قم میں احتجاجی مظاہرے ہوئے، تمام مراجع نے وعدہ کیا کہ اس توہین کے خلاف اقدام کریں گے۔ اگلے دن (۹ جنوری سن ۱۹۷۸ء) کو احتجاج میں اضافہ ہوا اور عوام کی تعداد بڑھ گئی۔ اس دن کیلئے یہ طے ہوا کہ حوزہ علمیہ کے اساتذہ کے گھر جائیں اور ایسا ہی ہوا۔ اِسی وجہ سے میرے پاس مدرسہ امیر المومنین (ع) آئے۔ مدرسہ کے اندر، باہر  اور روڈ پر عوام کا جمع غفیر تھا۔ میں نے اپنی مختصر تقریر میں سب سے پہلے لوگوں سے ان کے اتحاد اور اس آرٹیکل کے مصنف اور اس کے ہم فکر افراد کے منہ پر اس زور دار طمانچے کیلئے شکریہ ادا کیا اور کہا: آپ لوگوں نے اپنے اس احتجاج سے یہ بتا دیا ہے کہ اس طرح کی توہین کا ردّ عمل شدید ہوگا اور اس کا جواب ضرور دیا جائیگا اور وہ لوگ اس کام کو جتنا آسان سمجھ رہے تھے، ویسا نہیں ہوگا۔ میں نے مزید کہا: اگر ایک قوم کے بزرگ کی اس طرح سے توہین کی جائے تو دوسروں کیلئے کیا احترام باقی رہ جائیگا۔ "اگر مرنا ہوگا تو سب ساتھ مریں گے اور اگر زندہ رہنا ہے تو سب ساتھ زندہ رہیں گے۔"

یہ جملہ بعد میں کئی لوگوں کا نعرہ بنا، میرے قم سے چابہار شہر بدر ہونے کی وجہ بھی یہی جملہ بنا اور قم کی سیکورٹی کے رئیس نے اسے سیکورٹی کے ادارے کے خلاف قیام کا عنوان قرار دیا۔

بہرحال وہ جلسہ ختم ہوا لیکن سہ پہر کو جب دینی طالبعلم اور جوان، اساتذہ کے گھروں سے پر امن طریقے سے واپس جا رہے تھے حتی کوئی نعرے بازی بھی نہیں کر رہے تھے (کیونکہ اس زمانے میں نہ صرف شیشے توڑنا رائج نہیں ہوا تھا بلکہ نعرے لگنے کا رجحان بھی شروع نہیں ہوا تھا)، پولیس اہل کاروں نے ان پر حملہ کر دیا۔ اس حادثے میں پہلی مرتبہ کچھ بے گناہ لوگوں کا خون بہایا گیا۔

قم کے سیکورٹی اہل کاروں  نے اس بے مثال تشدد اور قتل و غارتگری کا داغ اپنے دامن سے مٹانے کیلئے ہمیشہ کی طرح جھوٹے کیس بنانے شروع کئے۔ ایک سیکورٹی آفیسر اور بقیہ اداروں کے چار رئیسوں کی زیر نگرانی قائم "سوشل سیکورٹی کمیشن" کے فیصلے کے مطابق مجھ سمیت حوزہ علمیہ قم کے دیگر چھ افراد اور چند محترم تاجروں کو اس حادثہ کا اصلی ذمہ دار بتایا گیا اور ہم سب کیلئے تین سال کی مدت تک شہر بدر (شہر بدری کی سب سے طولانی مدت کی سزا) کرنے کا فیصلہ سنایا گیا۔

قم کے ساواک کے رئیس نے جب اپنے دفتر میں مجھ سے کہا کہ شہر بدر ہوجاؤ تو میں نے کہا: کاش یہ حکم دینے والا یہاں ہوتا تو میں  اس سے کچھ کہتا۔ اس نے فوراً کہا: میں ہوں! فرمائیے ... (مجھے اس "سوشل سیکورٹی کمیشن" کا مطلب سمجھ میں آیا) میں نےکہا: جس حادثے کا ذمے دار آپ لوگ ہمیں ٹھہرا رہے ہیں، سب لوگ  جانتے ہیں کہ وہ آپ لوگوں کا کیا دھرا ہے۔ کیا  آپ لوگ اس آرٹیکل کے مصنف کے طرفدار ہیں؟ اس آگ کو بجھانے کا بہت ہی آسان طریقہ تھا۔ تم لوگوں کو اس آرٹیکل کیلئے معذرت خواہی کرنی چاہئیے تھی اور کہنا چاہئیے تھا کہ اس کے لکھنے والے نے غلط کام کیا ہے؛ ہم اس کی تلافی کریں گے۔ ایک بکے ہوئی لکھاری کے خلاف  عوام کے قانونی احتجاج کی وجہ سے، کیوں عوام پر گولیاں برسائیں؟ اس نے کہا: حقیقت یہ ہے کہ ہمیں بھی نہیں پتہ چلا کہ وہ آرٹیکل کیوں لکھا؟ کس نے لکھا؟ ! ... بہرحال ان سب باتوں کا وقت گزر چکا ہے؛ آپ چلے جائیں .... (اس شہر میں جہاں جانے کی سزا ملی ہے)۔ میں نے کہا: کہاں؟ اس نے جواب دیا: آپ کو بعد میں پتہ چل جائے گا۔

اسی دوران ایک اہل کار دروازے سے داخل ہوا اور کہا: جناب ... (عدلیہ کے کسی عہدیدار کا نام لیا) نے اُن تین لوگوں کو حراست میں لینے کی اجازت نہیں دی۔ (وہ کن تین لوگوں کے بارے میں کہہ رہا تھا، پتہ نہیں چلا)۔

ساواک کے رئیس نے اس بات کا خیال کیئے بغیر کہ میں وہاں ہوں اور دیکھ رہا ہوں، غصے سے کہا: اس نے غلط حکم دیا ہے۔ میں کہہ رہا ہوں کہ انہیں حراست میں لو۔ (اس موقع پر میں نے بقیہ تمام اداروں پر ساواک کی مطلق حکومت اپنی آنکھوں سے دیکھی اور "ساواکی جمہوریت" کو آفرین کہا!)



 
صارفین کی تعداد: 1255


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – تیسری قسط

میں ان لوگوں کے جہل اور لا علمی کو ثابت کرنے کیلئے ایک مضحکہ خیز واقعہ کی طرف اشارہ کرتا ہوں جو میں نے ٹیلی ویژن پر دیکھا۔ صدام نے ایک بند کو معنی کے لحاظ سے برعکس پڑھا۔ اس دفعہ بھی حاضرین نے ایک آواز میں کہا: " جی جناب، ہم متفق ہیں! " البتہ صدام کو ہوش آگیا اور اس نے اپنی غلطی کی اصلاح کرلی۔

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔