دفاع مقدس کے دوران امدادی کارکن اور فوجی ٹریننگ کی استاد مریم جدلی سے بات چیت۔ آخری حصہ

مغربی محاذ سے جزیرہ خارک تک

فائزہ ساسانی خواہ
ترجمہ: سید مبارک حسنین زیدی

2017-07-08


اس گفتگو کے پہلے حصے میں ہم مریم جدلی کی جوانی کے ابتدائی سالوں سے آگاہ ہوئے جو انقلاب اسلامی کی کامیابی اور صدامی فوج کی ایران پر مسلط کردہ جنگ شروع ہونے کے ساتھ گزرے ۔ انھوں نے بتایا کہ سرپل ذھاب، ابوذر چھاؤنی کے ہسپتال اور ہلال احمر کی ٹرین میں  جو ایک چلتا پھرتا ہسپتال تھی، جنگ کے کیا کیا  مناظر اُن کی یادوں کا حصہ بنے ۔ اب آپ ایران کی زبانی تاریخ کی ویب سائٹ کے خبر نگارکی مریم جدلی سے گفتگو کے دوسرے حصے کو ملاحظہ کریں۔

 

آپ کا محاذ پر آنا جانا قریبی لوگوں کیلئے معمولی سی بات  تھی؟

میں نے اپنے والدین کے اعتماد کو حاصل کرلیا تھا۔ ہمارے مظاہروں میں شرکت کرنے کی وجہ سے وہ سمجھ گئے تھے کہ ہمارے اندر انقلاب کا جوش و خروش ہے اور ہم کچھ اور نہیں سوچتے،  لیکن بعض رشتہ دار ایسا نہیں سوچتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ میرا ایک رشتہ  دار جب مجھ سے میرے گھر کے نزدیک ملا تو غصے سے کہنے لگ: "محاذ پہ کیوں جاتی ہو؟ محاذ لڑکیو ں کی جگہ نہیں ہے!" میں نے جواب میں کہا: "کیوں نہیں، وہاں بھی ضرورت کا احساس ہوتا ہے، اگر ایسا نہیں ہوتا تو ہمیں دوبارہ اطلاع نہیں دیتے تھے کہ ٹرین جنوب کی طرف روانہ ہونا چاہتی ہے۔"

 

تہران لوٹنے کے بعد، آپ نے ماہ شہر میں نظر آنے والے جنگی آوارگان کیلئے کو ئی کام انجام نہیں دیا؟

اُن کیلئے کچھ نہیں کرسکے،  لیکن بہت سے ایسے خاندان جو جنگ کی وجہ سے آوارہ ہوگئے تھے  اُنہیں سید خندان پل کے ساتھ والی عمارتوں میں جگہ دی ہوئی تھی، ہم اُن کی دیکھ بھال کرتے تھے اور اُن کیلئے غذا اور کپڑے لے جاتے تھے۔ کپڑوں کو جمع کرتے، غیر قابل استفادہ اشیاء کو الگ کرتے اور باقی سامان پیک کرلیتے اور میں یہ سامان اپنی ایک دوست فرزانہ شریف کے ساتھ وہاں لے جاتی، فرزانہ کے گھر والے بہت ہی مذہبی اور مدد کرنے والے تھے اور وہ لوگ یخچال قلھلک روڈ پہ رہتے تھے۔ اُن میں سے بعض لوگ اُن کے لئے لے جانے والے سامان پر ناراضگی کا اظہار کرتے تھے اور وہ چاہتے تھے کہ جس طرح دوسروں کو دیا ہے ہمیں بھی اُسی طرح کا سامان دیا جائے۔

قنات نامی دیہات میں شہید فیاض بخش کی بڑی بہن کے گھر بھی جنگی آوارگان کیلئے کچھ کام انجام دیئے جاتے۔ اُنھوں نے اپنے گھر کی نچلے حصے کو اس کام سے مختص کیا ہوا تھا۔ کپڑے، جوتے اور دوسری ضرورت کی اشیاء جمع ہوتیں۔ وہاں کپڑوں کو دھوکر پیک کیا جاتا ، لیکن اُنہیں تقسیم کرنے کی ذمہ داری ہم پر نہیں تھی۔

 

آپ کب تک ہلال احمر والوں کے ساتھ کام کرتی رہیں؟

پہلی اور دوسری دفعہ کے علاوہ کہ جس میں، میں ہلال احمر کے ذریعے گٹی تھی، پھر بعد والے سفر  میں نے تعمیراتی جہاد والوں کی طرف سے کئے۔ البتہ اس عرصے میں میرے پروگرام میں تبدیلی آئی۔ سن ۱۹۸۰ء میں میڈیکل ریلیف کا دفتر تہران کی پاستور چورنگی پر وزیر اعظم ہاؤس کے پیچھے تھا، وہ رات کی شفٹ کیلئے مورد اطمینان امدادی کارکنوں کی تلاش میں تھے۔ میڈیکل ریلیف سنٹر کی عمارت اصل میں دوسرے پہلوی بادشاہ کا محل تھا۔ ایسے محروم علاقوں کے مریض، جن کے پاس علاج کی سہولیت نہیں تھی اُنہیں وہاں لے جایا جاتا۔ اُن لوگوں کو صبح علاج کیلئے ہسپتال لے جایا جاتا ، پھر میڈیکل ریلیف سنٹر میں پہنچادیا جاتا ۔ میں اور تہمینہ بھی وہاں پر کام کرنے لگے تھے۔ ایک رات میں جاتی اور ایک رات تہمینہ۔ میڈیکل سے متعلق جو بھی مشکل ہوتی ہم ہسپتال میں موجود ڈاکٹروں کو بتا دیتے۔ وہاں پر زیادہ بیمار ایڈمٹ نہیں تھے، لیکن اُنہیں ہم سے اُنسیت ہوگئی تھی ۔ زیادہ تر لوگوں کو کسی بات کرنے والے یا مدد کرنے والے کی ضرورت تھی۔ کچھ عرصے بعد مردوں کے وارڈ میں بھی زخمی آنے لگے کہ جہاں ہم نہیں جاتے تھے۔

 

زیادہ تر بیماروں کو کس علاقے سے لایا گیا تھا؟

پورے ملک کے محروم علاقوں سے لاتے تھے۔جہاں کہیں بھی امام خمینی (رہ) ریلیف کمیٹی کو احساس ہوتا کہ وہ اُن کے علاج کا خرچہ نہیں اُٹھا سکتی، وہ اُنہیں تہران بھیج دیتی۔ میں کبھی کبھار کچھ بچوں کو اپنے گھر لے آتی اور میری والدہ اُن کا بہت خیال رکھتی تھیں۔ ایک لڑکی جو گاؤں سے آئی ہوئی تھی اُس کے پاس مانتو (عبایا)  نہیں تھا۔ میں تجریش پل کے نیچےبنی مارکیٹ سے اُسے مانتو خریدوانے لے گئی۔

ہم بیماروں کی دیکھ بھال میں بہت دقت سے کام لیتے۔ وہاں دو وارڈ تھے خواتین کا اور مردوں کا۔ بیماروں کے گھر والے جو دیہاتی لوگ تھے اُنھوں نے جہاد کے نام پر اعتماد کرکے اپنی بیٹیوں کو بھیج دیا تھا، اس اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچی چاہئیے تھی، اسی وجہ سے ہم لوگ بہت دقت سے کام کرتے۔ حتی میں نے ایک میٹنگ میں بہت ہی تیز لہجے میں کہا فلاں ڈرائیور کو حق نہیں ہے کہ وہ اپنی گاڑی میں بیٹھے مریض سے کہے میں تمہیں فلاں پارک لے جاتا ہوں تاکہ تمہارے دل کو آرام آجائے۔

جناب پور نجاتی اور طیب نما جو جہاد کے مرکزی دفتر  میں کام کرتے تھے اور مجھے پہچاننے لگے تھے، اُنھوں تجویز پیش کی کہ میں علاج اور صحت کمیٹی میں سکھانے کی ذمہ داری قبول کرلوں۔ میں وہاں محروم علاقوں کے طبی مسائل کے بارے میں تحقیق کرتی اور گاؤں سے  متعلق کتابچے لکھتی تاکہ کوئی  وہاں جائے تو ان سے استفادہ کرلے۔

 

پس اس طرح آپ دوبارہ محاذ پر نہیں گئیں؟

کیوں نہیں۔اکتوبر  ۱۹۸۲ء میں، تہمینہ اور میں مغربی محاذ پر گئے۔لیکن ہم لوگ وہاں زیادہ عرصے تک نہیں رہے۔ ایک دن آواز دے کر کہا: "ہمیں محترمہ جدلی سے کام ہے۔" جب میں گئی تو مجھ سے کہا: "آپ حتماً تہران واپس آجائیں!" میں نے کہا: "کیوں؟ ہم ابھی تو آئے ہیں؟!" کہنے لگے : "بس واپس آجائیں، آپ لوگوں سے کام ہے!" میں پریشان ہوگئی تھی۔ میرا ذہن میرے بھائی کی طرف گیا۔ میں نے کہا ضرور امیر شہید ہوگیا ہے اور وہ لوگ مجھے بتانا نہیں چاہ رہے۔ "انھوں نے کہا: "آپ لوگ گورنر کے گھر جائیں۔" ہم لوگ گورنر کی بیوی سے پہلے مل چکے تھے۔اُنہیں پتہ نہیں تھا کہ ہمیں   کسی چیز کی اطلاع نہیں ، انھوں نے بغیر کسی مقدمے کے پوچھا:"آپ میں سے کس کا بھائی شہیدا ہوا ہے؟" میں اور تہمینہ دونوں رونے لگے اور کہنے لگے: "حتماً میرا بھائی شہید ہوا ہے!" بالاخر ہمیں پتہ چلا کہ تہمینہ کا بھائی احمد شہید ہوا ہے۔ زخمیوں سے بھرے شینوک ہیلی کاپٹر میں بیٹھ کر ہم لوگ تہران پہنچے۔ تہران میں مجھے یقین ہوگیا کہ تہمینہ کا بھائی شہید ہوا ہے۔ تہمینہ کا گھر قلہک کی نوبہار گلی میں تھااور وہاں جانے کیلئے تھوڑا اوپر کی طرف چلنا پڑتا تھا۔ تہمینہ میں چلنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔ جب ہم گھر میں داخل ہوئے، بہت رش تھا اور تہمینہ بہت رو رہی تھی، لیکن اُس کی والدہ بہت ہی پرسکون تھیں۔ انھوں نے پرسکون انداز میں تہمینہ سے کہا: "تم یہ کیا  کر رہی ہو؟ کیوں رو رہی ہو؟ خدا نے ہم سے وعدہ کیا ہے!" جبکہ وہ پڑھی لکھی اور اہل مطالعہ بھی نہیں تھیں۔

 

میرے ذہن میں ایک سوال ابھرا ہے؛ جب ہم بہت سی خواتین کے واقعات پڑھتے ہیں یا سنتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں وہ کسی نہ کسی طرح جنگ میں ملوث تھیں، یعنی اُن کے شہر یا اُن کی رہائش سے قریب ترین علاقہ  دشمن کے حملے کا ہدف قرار پایا ہے اور وہ لوگ مدد کرنے کی غرض سے وہاں رہ جاتی ہیں۔ آپ جنگی علاقوں میں جانے کیلئے کیوں اتنا  بضد تھیں، وہ بھی شروع سے ہی جب  جنگ کی صدائیں بلند ہونا شروع ہوئیں؟

یہ مسئلہ ایک دم سے اور جنگی شور و غوغا سننے سے انسان کے اندر ایجاد نہیں ہوتا۔اس کا تعلق انقلاب کی شروعات سے ہے۔ ہمیں خطرے کا احساس ہوا کہیں ایسا نہ ہو کہ اتنی زحمتوں سے حاصل کئے جانے والے انقلاب  کو یہ جنگ بہا کر لے جائے۔ ہم اسلامی انقلاب اور اُس کی کامیابیوں کی حفاطت کرنا چاہتے تھے۔ ہم نے انقلاب کے شروع میں شاہ کے حامی فوجیوں کو دیکھا ہوا تھا وہ کس طرح لوگوں پر اسلحہ تان لیتے تھے۔ کئی دفعہ ایسا ہوا، ہم تہران یونیورسٹی کے سامنے مظاہرے کیلئے آئے ہوئے تھے۔ فوج لوگوں پر حملہ کرتی اور ہم لوگ گلی کوچوں کی طرف بھاگتے۔ جگہ بدل گئی تھی، لیکن ایک طرح سے ہمیں مشترکہ تجربہ تھا۔ وہاں لوگوں پر اسلحہ تانا جاتا تھا اور یہاں دشمن لوگوں پر بم، شیل گرا رہا تھا۔ صرف میں ہی نہیں، بہت سے لوگ انقلاب کی خاطر جنگ میں درگیر ہوئے۔

 

آپ کی ذاتی زندگی آسودہ خاطر تھی، آپ نے جنگی علاقوں کے سخت حالات کو کیسے برداشت کیا؟

میری والدہ کا تعلق اچھے (Donator)گھرانے سے تھا اور ہمیشہ اُن کے دستر خوان پر گھر والوں کے علاوہ دوسرے افراد بھی موجود ہوتے۔ میں نے دوسروں کی مدد کرنا اپنی والدہ سے سیکھا تھا جو بہت ہی سوشل تھیں۔ اس کے باوجود کہ وہ اپنے گھر کی ایک ہی بیٹی تھیں، لیکن انھوں نے دوسروں کی مدد کرنا سیکھا ہوا تھا۔ میری والدہ جھونپڑیوں اور ٹین کے ڈبوں سے بنے علاقوں کی طرف جاتیں اور وہاں پر ضرورت مند لوگوں کی مدد کرتیں۔ وہ اپنے ساتھ مجھے بھی لے جاتیں۔ زرگندہ روڈ پر ایک گھرانہ رہتا تھا جن کے والد فوت کرچکے تھے اور وہ ایک ایسے گھر میں رہتے تھے جس کیلئے پچاس ساٹھ سیڑھیاں چڑھ کر اوپر جانا پڑتا۔ بچوں کی ماں ایک جوان عورت تھی، جس کے ۹ بچے تھے۔ وہ دوبارہ شادی کرنا چاہتی تھی۔ جب تک اس گھرانے کا آخری فرزند بڑا نہیں ہوگیا میری والدہ اُن لوگوں کیلئے کھانے پینے کی چیزیں لیکر جاتی رہیں۔ میں نے ایسی ماؤں کو دیکھا ہے جو اپنے بچوں سے کہتیں وہ بچہ ہماری سطح کا نہیں ہے، اُس سے میل جول نہیں رکھو، کسی ایسے سے دوستی رکھو جو ہماری سطح کے لوگ ہوں؛ البتہ یہ بات شاید کسی حد تک صحیح بھی ہو، لیکن ہماری والدہ نے ہمیں اس طرح پروان نہیں چڑھایا تھا۔ حتی میں خود جنگ کے زمانے میں ایسے گھروں میں چکر لگاتی جن کے والد فوت ہوچکے تھے اور وہ اسلام شہر میں زندگی بسر کرتے تھے، میں اُن کے بچوں کو قرآن پڑھانا سکھاتی۔ چونکہ میں نے یہ کام کیئے ہوئے تھے، اس لئے مجھے  محاذ پر کام کرنے کی مشکلات زیادہ نہیں لگتی تھیں۔ اس کے علاوہ اُس زمانے میں دو طرح کی سوچ تھی۔ ایک تو یہ کہ میں اپنی اور اپنے مستقبل کی فکر میں رہوں اور دوسری یہ کہ اپنی اور اپنے ساتھ زندگی گزارنے والوں کی فکر میں رہوں۔ شاید کوئی بڑا کام بھی انجام نہ پائے، لیکن یہ انتخاب بہت ہی پرسکون اور خوبصورت ہے۔ میں اپنی زندگی کے بہترین دنوں میں اپنے ماں باپ سے دور رہی اور میں نے اُنہیں پریشان کیا اور میں جو لذتیں اٹھا سکتی تھیں میں نے اُنہیں پیروں تلے روند دیا۔ کچھ لوگ کہتے ہیں آپ اس طرح لذت محسوس کرتی ہیں! نہیں! وہ مزہ کہ جب آپ سوئیں تو  گولے اور شیل کی آوازیں آئیں اور  اس مزے میں کہ  آپ اپنے گھر رہ کر پرندوں کی چہچہاہٹ سنیں، ان دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ درحقیقت آپ کو ہر زمانے میں انتخاب کرنے کا حق حاصل ہے  اور آپ کو دو چیزوں کے مابین زندگی بسر کرنی ہے۔  دولت، شہرت، درآمد وغیرہ  کے ظاہری معیار کو بدلنا چاہئیے۔

 

آپ کا کب تک محاذ پر آنا جانا لگا رہا؟

میں سن ۱۹۸۳ء اپنی شادی کے سال تک جنگی علاقے میں آتی جاتی رہی۔

 

یعنی اُس کے بعد آپ کے شوہر نے منع کردیا؟

نہیں۔ میرے شوہر میرے ہم خیال اور ہم سفر تھے۔ میرے شوہر  میڈیکل ریلیف سنٹر میں کام کرتے تھے اور انھوں نے اپنی بہن کے ذریعہ میرا رشتہ بھیجا  تھا۔ البتہ ان سالوں میں کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ میرے لئے مختلف لوگوں کا رشتہ آیا، لیکن میں نے اس طرف سوچا ہی نہیں تھا۔ جیسے ہمیں بہت ہی برا لگتا۔ ہم زخمیوں کی خدمت کرنے آئیں ہیں  اور مردوں کو اپنے بھائی کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

رشتے کیلئے رسم و رواج کے مطابق آنا جانا ہوا۔ میں نے اپنے شوہر سے آخری نشست میں واضح الفاظ میں کہہ دیا کہ جب سے انقلاب آیا ہے میں اُس وقت سے انقلاب کے ساتھ ہوں اور میں چاہتی ہوں کہ میں نے جو سیکھا ہے اُس سے جنگ کے زمانے میں استفادہ کروں۔ مجھے ایسا لگا جیسے وہ بہت خوشحال ہوگئے، انھوں نے کہا: میں بھی چاہتا ہوں کہ لوگوں خدمت کروں ، آپ کو کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔" اُن کی واحد شرط یہ تھی کہ بس فرنٹ لائن پہ نہ جاؤں۔ ابھی اُنہیں میری طرف سے مثبت جواب نہیں ملا تھا کہ انھوں نے اپنی گفتگو کے دوران کہا: "اگر ہم شادی کریں تو ہمارا عقد امام خمینی (رہ) پڑھیں گے۔" میں نے پوچھا: "وہ کیسے؟" انھوں نے کہا: "جس طرح بھی ممکن ہوا ہم اُن کے پاس جائیں گے تاکہ وہ ہمارے نکاح کے صیغے پڑھیں۔" میں نے پھر کسی اور چیز کے بارے میں سوچا ہی نہیں، سوائے اس کے کہ میں چاہتی ہوں کہ امام خمینی  کو دیکھوں اور ہمارا نکاح امام خمینی پڑھیں۔

امام خمینی (رہ) سے وقت لیا گیا اور ہم اُن کی خدمت میں پہنچے۔ طے تھا کہ ہم صرف اپنے والدین کے ساتھ جائیں گے، لیکن امام خمینی (رہ) کے گھر والوں سے بات چیت کے بعد ہم لوگ ۹ افراد ہوگئے اور بہن بھائی بھی آگئے۔ اُن کے گھر کے سامنے چیکنگ ہو رہی تھی۔ میری دوستوں نے مجھے بہت سے  قرآن تھما دیئے تھے کہ ان پر آقا (امام خمینی) سے دستخط کروا لانا۔ وہاں تک پہنچنے تک میں بہت ہی بے چین اورمضطرب تھی۔ جب ہم وہاں پہنچے تو امام خمینی میرے وکیل بنے اور ایک آقا (دوسرے عالم دین) میرے شوہر کے وکیل بنے۔ پھر ہمیں آگے جانے کی اجازت دی گئی۔ قرآن میرے ہاتھ میں تھے کہ میں اُنہیں دستخط کرنے کیلئے دوں۔ لیکن اُس وقت فقط میرا دل چاہ رہا تھا کہ اُن کے چہرہ پر نگاہ ڈالوں۔ جب میں آگے بڑھی تو مجھ میں اُن کو دیکھنے کی ہمت نہ ہوئی، لیکن میں نے اُن سے کہا کہ مجھے نصیحت کریں۔ انھوں نے فرمایا: "میں اُمید کرتا ہوں زندگی میں کامیاب اور کامران رہو اور درگذر کرو۔" امام خمینی (رہ) کے اس جملے میں میرے لئے بہت مٹھاس تھی اور اس نے بہت دفعہ میری مدد کی۔

گھر میں بھی بہت سادہ سی تقریب تھی۔ ہم نے آئینہ اور شمع دان خریدا اور شاہراہ سمیہ پر موجود جواہرات کی ایک دکان سے میں نے بہت ہی سادہ سا سونا خریدا۔ میں نے جو ہار لیا تھا وہ بہت ہی ہلکا تھا۔ اتنا سادہ تھا کہ میری بہن نے اشارہ کیا یہ کیا اٹھا لائی ہو؟ سونے کا سیٹ خریدنے پر جتنا بھی زور لگایا میں نے کہا: میں سیٹ کا کیا کروں گی؟ میں محاذ پر جانا چاہتی ہوں!اسے کہاں سنبھالتی پھروں گی؟" میری نند بولی: "اے بھائی اب تم بھی محاذ پر جاؤ۔" میں نے ایک معمولی سے انگوٹھی کے ساتھ ایک ہار خریدا۔ بعد میں میرے شوہر نے کہا:"میں سوچ رہا تھا کہ آپ بھاری سونا خریدیں گی۔ حالانکہ ہم نے اُس سیٹ کے پیسوں سے نکاح اور شادی کی تقریب منعقد کی۔" میرا لباس میری ماں نے سیا تھا جو بہت ہی سجیلا تھا۔ میں نے اُس کیلئے آف وائٹ کلر پسند کیا۔ میرے شوہر کے قریبی رشتہ داروں میں سے دو تین لوگ جو اُن کے ہم عمر تھے شہید ہوچکے تھے اور قرار تھا  اُن کی مائیں ہماری شادی کی تقریب میں شرکت کریں۔

سب ہی رشتہ دار لڑکیاں خاص شرائط اور اپنے گھر کی شان و شوکت کے مطابق شادیاں کرتیں،  سجے ہوئے شادی ہالوں میں شادیاں کرتیں اور اُن کے اپنے گھر تھے۔ اس کے باوجود کہ وہ مذہبی اور دیندار گھرانے سے ہوتیں، لیکن گھر کی شان اور عرف کے مطابق تقریب کا انعقاد کرتی تھیں۔

بہرحال نکاح کے ایک دن بعد میرے شوہر پھولوں کا ایک گلدستہ لیکر میرے گھر آئے۔ انھوں نے کہا: "میں کل محاذ پر جانا چاہتا ہوں" اور چلے گئے۔ ہر کوئی سوال کر رہا تھا، تم نے کیوں جانے کی اجازت دی؟ اگر شہید ہوگئے تو پھر؟ میری بہت سی دوستیں اور رشتہ دار تھیں جن کے شوہر جانا چاہتے تھے، لیکن یا تو اُن کی ماؤں یا ساسوں نے جانے کی اجازت نہیں دی اور سب مجھ پر تنقید کر رہے تھے تم نے اپنے شوہر کو کیوں اجازت دی؟ میں نے کہا ہم اس بارے میں پہلے بات چیت کر چکے ہیں، ہمارے درمیان طے پایا ہے کہ جب وہ جانا چاہیں گے، کوئی بھی رکاوٹ نہیں ہوگی اور اگر میں نے بھی جانا چاہا تو تواُن کی طرف سے بھی کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔

 

کیا انھوں نے اپنے وعدے کی وفا کی اور آپ دوبارہ محاذ پر گئیں؟

جی ہاں۔ اُس زمانے میں جب میں اُن کے نکاح (رخصتی سے پہلے) میں تھی، میں ایک دفعہ پھر مغربی محاذ پر گئیں۔ بہت ہی سخت اور پریشان کرنے والا سفر تھا۔ اس دفعہ ہم  ایلام کے امام خمینی (رہ) ہسپتال میں ٹھہرے۔ لوگوں نے حملوں نے کی شدت کی وجہ سے شہر کو خالی کردیا تھا اور پہاڑوں میں پناہ لی ہوئی تھی۔ ہسپتال زخمیوں سے بھرا ہوا تھا۔ کئی مرتبہ ہسپتال کے اطراف میں گولے برسائےگئے۔ میرے لئے عام لوگوں کا زخمی ہونا اور شہید ہونا فوجیوں  کی بہ نسبت زیادہ سخت تھا۔

تہمینہ اس دفعہ بھی خبرنگار اور میڈیکل اسسٹنٹ کے طور پر آئی تھی۔ وہ رپورٹ تیار کرتی۔ اسی وجہ سے ہم نے ہسپتال کے سردخانے کا بھی چکر لگایا۔ میں نے سرد خانے میں ایک ایسی عورت کو دیکھا  جس کے ایک پیر میں پلاسٹک کا جوتا اور ایک پیر کٹا ہوا تھا۔ اب بھی مجھے جب وہ منظر یاد آتا ہے تو میری حالت خراب ہوجاتی ہے۔ البتہ سردخانہ نہیں تھا، شہداء کو رکھنے کیلئے ایک حصے کو مخصوص کیا ہوا تھا تاکہ بعد میں اُنہیں وہاں سے لے جائیں۔ بہت زیادہ کام تھا اور ہم بہت تھک گئے تھے۔

ایک رات اتنے زیادہ دھماکے ہوئے کہ ہم زخمیوں کو ہسپتال کے ٹھنڈے اور مٹی سے اٹے تہہ خانے میں لے گئے۔ ہم اسٹریچر بلند کرتے، زخمیوں کی ڈرپ کو ہاتھوں میں پکڑ کر اُنہیں تہہ خانے میں منتقل کرتے تاکہ وہاں زیادہ امان میں رہیں۔ اُس رات میں نے اور تہمینہ نے تہہ خانے کے چھوٹے سے کمرے کی کھڑکی سے جہاں سے صحن میں راستہ نکلتا تھا، رات کی تاریکی میں مسلسل اینٹی ایئر کرافٹ کی لائٹوں کا نظارہ کیا۔

 

زخمی ہونے والے سب فوجی تھے؟

نہیں۔ عراق نے ایک دن پہلے کئی جگہوں پر بمباری کی تھی، وہاں پہ علاقائی لوگ بھی آئے ہوئے تھے۔ ہم لوگ کرمانشاہ گئے اور وہاں سے ہمیں ایک ڈرائیور کے ذریعے جو میرے خیال سے ۸۰ سال کا ہوگا، فوراً ابوذر چھاؤنی لے گئے۔ ڈرائیور نے راستے میں گاڑی کو روکا اور چند سپاہیوں کی مدد سے گاڑی کو چھپادیا۔ طے پایا کہ یہ صاحب ہمیں فرنٹ لائن تک لے جائیں تاکہ تہمینہ رپورٹ تیار کرلے۔ ڈرائیور راستہ بھول گیا اور  ہم چنگولہ کے راستے پر نکل آئے۔ عراقی جوابی کاروائی میں مصروف تھے۔ ہم ایرانی توپوں کے درمیان پھنس گئے تھے اور توپیں مسلسل چل رہی تھیں۔ ہم بہت پریشان تھے کہیں ایسا نہ ہوں ہمیں قیدی بنالیں۔ قرار نہیں تھا کہ ہم رات کے اندھیرے تک وہاں رہیں۔ طے تھا کہ ہم رپورٹ تیار کرکے واپس آجائیں۔ میں بہت پریشان تھی اور کہہ رہی تھی: "میرے فرنٹ لائن تک جانے پر میرے شوہر راضی نہیں تھے!اگر ہمیں قیدی بنالیا گیا تو پھر؟" میں ہمیشہ کہتی تھی کہ میرا جسم پاؤڈر بن جائے لیکں میں عراقیوں کے ہتھے نہ چڑھوں۔

ڈرائیور ہمیں سپاہ کے ہیڈ کوارٹر لے گیا۔ ہم نماز پڑھنے اور رات کا کھانا کھانے کے بعد ایمبولنس میں واپس آگئے۔ ہم نے ڈرائیور سے کہا: "جناب آپ دروازہ لاک کرکے چلے جائیں۔" بہت ٹھنڈ ہو رہی تھی۔ ہم نے ایک دوسرے کے ہاتھ پکڑے ہوئے تھے۔ توپوں کی آواز  اور زمین کے جھٹکے لینے کی وجہ سے ایمبولنس جھولے کی طرح ہل رہی تھی۔ صبح ہونے تک میں اور تہمینہ ایک دوسرے کو وصیتیں کرتے رہے۔ ہم نے طے کرلیا تھا کہ اگر صبح تک زندہ بچ گئے تو ڈرائیو سے کہیں گے کہ ہمیں آگے نہ لے جائے اور ہم واپس آجائیں، لیکن صبح ڈرائیور اتنا آگے چلا گیا کہ  ہم نے دیکھا کہ دو سپاہیوں نے دو عراقیوں کو قیدی بنایا ہوا ہے۔ ڈرائیور نے ایک سے پوچھا: "ان دو آدمیوں کو کہاں سے پکڑا ہے؟" انھوں نے کہا: "یہ نہر کے کنارے اپنے ہاتھ منہ دھونے آئے ہوئے تھے۔" ہمارے خوف میں اور اضافہ ہوگیا۔تہمینہ بہت جلدی جلدی انہیں یاد داشت کر رہی تھی تاکہ جب واپس پلٹیں تو ان باتوں کو بتائیں۔ البتہ مجھے اور تہمینہ کو جنگ کے شروع سے ہی واقعات لکھنے کی عادت تھی۔ مجھے یاد پڑتا ہے ایک سفر میں جب ہم ہلال احمر کی ٹرین میں ماہ شہر گئے، ٹرین پر حملہ ہوا۔ ہم ٹرین سے باہر آگئے۔ جب ہم نے واپس آکر دیکھا، انھوں نے ہر چیز کی تلاشتی لی تھی۔ ہماری یادداشت کی ڈائریاں نہیں تھیں۔ ہم بہت پریشان ہوئے۔ ہم نے انقلابی کمیٹی کے دو کارکنوں سے جو ٹرین کے محافظ تھے اُن سے اعتراض کیا۔ انھوں نے کہا: "ہاں وہ ہم نے اٹھالی تھی۔ انہیں پتہ چل گیا تھا کہ ٹرین پر حملہ ہوا ہے۔" اُن حساس حالات میں اُن کی بات صحیح تھی، تمام جزئیات کے ساتھ واقعات کو لکھنا کہ ابھی کہاں ہیں اور کہاں جا رہے ہیں ... صحیح کام نہیں تھا۔ ٹرین میں ایک لڑکی اور دو لڑکے تھے جنہوں نے مجاہدین خلق کا لباس پہنا ہوا تھا۔ اُن کے اندازے کے مطابق یہ ان لوگوں کا کام تھااب مجھے یاد نہیں یہ معاملہ کہاں تک چلا۔

 

اس بات پر توجہ کرتے ہوئے کہ آپ مغربی محاذ پر تھی اور مغربی محاذ پر انقلاب مخالف لوگ بھی تھے، آپ نے قیدیوں اور زخمیوں میں مخالف پارٹی کے لوگ بھی دیکھے؟

نہیں، ہم نے نہیں دیکھے،  ہم نے صرف اُن کے بارے میں سنا ہوا تھا، لیکن وہ کہتے تھے کہ ہماری افواج میں عراقیوں کا پانچواں دھڑا بھی ہے اور کسی نے اس علاقے کی مخبری کی ہے جس کی وجہ سے وہ ہم سے اتنے قریب ہوگئے ہیں۔

 

آپ کو محاذ کے آخری سفر کا  کوئی واقعہ یاد ہے؟

ہمارے ٹھہرنے کیلئے ایک ہاسٹل کا بندوبست کیا گیا تھا۔ وہ ہاسٹل حقیقت میں شہر ایلام کا چائلڈ کیئر سنٹر تھا جو ہسپتال سے زیادہ دور نہیں تھا۔ چائلد کیئر سنٹر کے اطراف میں گولے لگے تھے اور وہ تھوڑا سا ٹوٹ پھوٹ گیا تھا۔ وہاں پر ایک بڑا سا ہال تھا جہاں ہم لوگ آرام کرتے تھے۔ ابھی وہاں پہنچے مجھے زیادہ دن نہیں ہوئے تھے ایک دن مجھ سے کہا گیا: "خواہر جدلی  نیچے آؤ، دروازے پہ کسی کو تم سے کام ہے!" مجھے تعجب ہوا۔ مجھے نہیں پتہ تھا کون آیا ہے جسے مجھ سے کام ہے۔ جب میں  نیچے آئی تو میں نے دیکھا میرے شوہر ہیں۔ اُن کو دیکھ کر مجھے بہت تعجب ہوا۔ ایک دن پہلے میں نے اپنے شوہر سے جو جنوب میں تھے، ٹیلی فون کرکے بات کی تھی۔ اُنھوں نے مجھ سے یہاں آنے کے بارے میں کچھ نہیں کہا  تھا۔ وہ فکہ سے یہاں پہنچ گئے تھے۔ میں نے اپنے شوہر سے کہا: "آپ یہاں پر کیا کررہے ہیں؟" وہ بولے: "صبح عراق ریڈیو سے اعلان ہوا ہے کہ آج تین بجے دوپہر کو عراق ایلام پر بمباری کریگا، میں اس لئے آیا ہوں کہ اگر شہید ہونا ہے تو ہم دونوں ساتھ شہید ہوں۔" میرے لئے بہت ہی عجیب تھا کہ وہ کس طرح وہاں سے یہاں تک  آگئے۔ انھوں نے مجھ سے کہا: "باہر آؤ، کہیں چل کر کھانا کھاتےہیں۔" میں نے کہا: "شہر میں کوئی ایسی جگہ نہیں ہے جہاں ہم کھانا کھائیں۔" وہ بولے: "ان چند دنوں میں تم کہاں سے کھانا کھاتی تھیں؟" میں نے کہا: "کہیں سے نہیں، ہسپتال میں ہمیں ہمیشہ چاول اور سالن دیا جاتا، ہم وہی کھاتے۔ وہ بولے: "چلو اب آؤ بھی کوئی جگہ تو مل ہی جائے گی۔"

ہم شہر کے اندر داخل ہوئے۔ ایک دوکان کھلی ہوئی تھی جس کے پاس مچھلی کا پلاؤ تھا۔ ہمارے علاوہ کچھ اوربھی فوجی تھے۔ چونکہ بیٹھنے کی جگہ نہیں تھی، ہم نے کھڑے کھڑے کھانا کھایا۔  تمام دوکانیں بند تھیں صرف کھجور کی کچھ دوکانیں کھلی ہوئی تھیں۔  کتابوں کی ایک دوکان بھی کھلی ہوئی تھی جہاں سے میں نے ایک چھوٹا سا قرآن خریدا اور اُس پر اپنے شوہر کیلئے لکھا: اپنے شوہر کیلئے، اس اُمید کے ساتھ وہ اسے پڑھ کر اسے سمجھیں اور اس پر عمل کریں۔ میں نے اپنا نام لکھا اور دستخط کرکے تحفہ دیدیا کہ اگر میں شہید ہوجاؤں تو میری طرف سے اُن کے پاس ایک یادگار موجود ہو۔

 

اس سفر کے بعد پھر آپ محاذ پر نہیں گئیں؟

نہیں۔  شادی کے بعد میں محاذ پہ نہیں گئی، لیکن میں کسی اور طریقے سے کام انجام دے رہی تھی۔ میرے شوہر شیراز میں تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ ہم دونوں شادی کے بعد  وہاں چلے گئے۔ اُس زمانے میں، میں جہاد سازندگی میں کام کرتی تھی، میں نے تہران سے شیراز ٹرانسفر کروالیا لیا۔ میں صحت و دیکھ بھال کمیٹی میں چلی گئی۔ اس کمیٹی کے ٹریننگ سنٹر نے میرے سامنے کمیٹی کا انچارج بننے کی تجویز رکھی، لیکن میں نہیں مانی۔ میں نے کہا اگر میں کمیٹی کی انچارج بن گئی تو پھر مجھے انتظامی امور سنبھالنے پڑیں گے۔

البتہ میں ایک دفعہ جب ہماری رخصتی نہیں ہوئی تھی، شیراز آئی تھی۔ اپنے شوہر اور جہاد کے دو مسئولین کے ساتھ ہم نے وہاں کے کچھ گاؤں کا چکر لگایا تھا اور وہاں کی مشکلات کے بارے میں تحقیق کی تھی۔ مثلاً ایک غریب گاؤں کے رہنے والوں کو جلد کی بیماری تھی۔ مختلف تحقیقات انجام دینے کے بعد ہمیں پتہ چلا کہ پانی آلودہ ہے۔ لوگ وہی پانی پیتے تھے جس میں کپڑے دھوتے  اور چار پائے بھی وہیں سے پانی پیتے تھے۔ اگر ہم نے یہ نہیں دیکھا ہوتا تو ہمیں مسئلہ کا حل نہیں ملتا۔ اسی وجہ سے میں نے گاؤں کے پانی کے بارے میں ایک کتابچہ لکھا اور اُس کی فوٹو کاپی کروائی گئی۔ میں ایک بات بتاؤں خود شیراز کا صحت و دیکھ بھال سنٹر بھی بہت گندھا تھا۔ ٹائلوں  کا رنگ ہی پتہ نہیں چلتا تھا۔ ہم نے ایک دن سنٹر کی چھٹی کردی۔ میں نے اور میری ایک دوست نے اُس جگہ کو صرف سے دھویا۔ اُس سے اگلے دن سنٹر دیکھنے کے قابل تھا۔ وہاں مختلف دیہاتوں کے نمائندے آتے جاتے تھے۔ جب وہاں کے ذمہ دار افراد اس بات کا خیال نہیں رکھیں گے، تو پھر عام لوگوں سے کیسے صفائی ستھرائی کی توقع کی جائے  اور صفائی کے بارے میں اُن کی بات مانی جائے؟

میں اپنی حاملگی کے زمانے تک جہاد میں کام کرتی رہی اور پھر میں نے چھوڑ دیا۔ میرے شوہر اپنے امتحانات سے فارغ ہوکر محاذ پر چلے جاتے اور میں بھی اپنے گھر والوں کے پاس تہران چلی جاتی۔ شیراز میں ہمارا گھر محاذ اور جنگ کی چھاؤنی بنا ہوا تھا۔ میں نے اپنے گھر میں محلے کی خواتین کیلئے قرآنی کلاسز رکھی ہوئی تھیں۔ کلاس میں اتنا رش ہوتا تھا کہ لوگ سیڑھیوں پر بھی بیٹھے ہوتے تھے۔ وہاں میں قرآن کی تعلیم کے ساتھ محاذ کی یادوں اور حالات کے بارے میں بھی بات کرتی، ہم محاذ کیلئے ضرورت کی اشیاء جیسے دوائیاں، کپڑے جمع کرتے اور ہمارے درمیان بہت اچھا انس اور ہمدردی قائم ہوگئی تھی۔

 

آپ لوگ کتنے عرصے تک شیراز میں رہے؟

ہم تین سال تک شیراز میں رہے اور اُس کے بعد تہران واپس آگئے۔ ہمیں تہران میں رہتے ہوئے زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا کہ میرے شوہر خارک چلے گئے اور اُنہیں کچھ عرصے تک وہاں رہنا تھا۔ خارک، جنگی علاقہ تھا۔ میں نے کچھ عرصے بعد اپنے شوہر سے کہا: "میں بھی آؤں گی۔" میرے شوہر نے کہا: "وہ جنگی علاقہ ہے!" میں نے کہا: "مجھے پتہ ہے، لیکن کیا جزیرے کے علاقائی لوگ وہاں نہیں ہیں؟" وہ بولے: " زیادہ تر لوگ جا چکے ہیں۔" تاہم میرے شوہر بہت خوش ہوئے اور انھوں ہمارے جانے کا پروگرام سیٹ کیا۔ میرے ذہن میں یہ تھا کہ میں جزیرے کے لوگوں کو فرسٹ ایڈ کی تعلیم اور  فوجی ٹریننگ سکھاؤں گی۔

انقلاب سے پہلے جزیرے کے دو حصے ہوگئے تھے۔ ایک حصے میں امریکائی اور دوسرے حصے میں وہاں کے علاقائی لوگ رہتے تھے۔ تار کے ذریعے ان دو حصوں کو تقسیم کیا ہوا تھا۔ جس حصے میں امریکی تھے، وہاں کے گھر لکڑی کے بنے ہوئے تھے۔ جس حصے میں ہم  تھے وہ آئل کمپنی کے کارکنوں کیلئے تھا۔ ہمارے اطراف کے زیادہ تر گھر خالی پڑے ہوئے تھے۔ میرے شوہر  نے اُن گھروں میں سے ایک گھر اپنے لئے لے لیا تھا اور ہم وہاں رہ رہے تھے۔ دیکھنے میں گھر بہت اچھا تھا، لیکن ہم نے زمین پر کمبل بچھایا ہوا تھا۔

ہر گھر کے ساتھ، تھوڑے سے فاصلہ پر، سائرن کے پول لگے ہوئے تھے اور مائیکوں سے بہت تیز آواز آتی تھی۔

واش روم بلڈنگ سے باہر تھا۔ میں پہلے دن صحن میں وضو کرنے گئی۔ میرے شوہر میرے ساتھ آئے۔ کچھ منٹ  بعد سائرن کی آواز آنے لگی۔ میرا بیٹا خوف کی حالت میں نیند سے اٹھا۔ بہت ہی خراب دن تھا۔ عراق نے ایک آئل ٹینکر اور دو آئل اسٹیشنوں پر حملہ کیا تھا۔ میں نے سوچا جزیرے پہ روزانہ ایسے ہی حالات ہوتے ہیں۔ بعد میں ہمیں تاکید کی کہ اگر اگلی دفعہ ایسے حالات پیش آئیں تو جزیرے میں کچھ مورچے ہیں، آپ خود کو حتماً وہاں پہنچائیں کیونکہ وہاں امن و امان ہے۔

میں خوش تھی کہ میں نے اسلحہ چلانا سیکھ لیا ہے اور اگر عراقیوں نے جزیرہ پر حملہ کیا تو میں اپنا اور اپنے ملک کا دفاع کرسکتی ہوں۔ ایک دن سائرن کی آواز آنے لگی۔ ہمارے گھر سے مورچے کا فاصلہ زیادہ تھا۔ میں بھی کسی کام میں مصروف تھی۔ ہم نے تھوڑی دیر سے اُس طرف چلنا شروع کیا۔ میں نے دیکھا کہ عراقی مگ طیارے بہت ہی کم بلندی پر پرواز کر رہے ہیں۔ ابھی ہم پناہگاہ  سے دور تھے۔ میں نے  فوراً اپنے بیٹے روح اللہ کو زمین پر لٹایا اور خود کو اُس پر ڈال دیا اگر کوئی خطرہ ہو بھی تو اُسے نقصان نہ پہنچے۔ جب طیارے وہاں سے عبور کر گئے تو  پھر میں پناہگاہ پہنچی۔

 

آپ نے وہاں فرسٹ ایڈ اور فوجی ٹریننگ کی کلاسیں منعقد کیں؟

جی۔ میری ایک ایسی خاتون سے جان پہچان ہوگئی جو پہلے جزیرے  میں قرآن سکھانے کی کلاس منعقد کرتی تھیں۔ انھوں نے خواتین کے داخلے کی ذمہ داری سنبھال لی۔ کلاس کو لوگوں نے بہت زیادہ سراہا۔ نوجوان، جوان، ادھیڑ عمر اور ضعیف لوگ آئے۔ ہم نے پریکٹیکل کیلئے، لوگوں کی تعداد کے مطابق ایک مرد کے توسط سے اصلی اسلحہ منگوایا۔  میں نے اُن لوگوں کو ایم  ۔ ون اور جی تھری اسلحہ چلانے کی ٹریننگ دی۔ جزیرے کے لوگوں سے ہمارا رابطہ بہت ہی اچھا تھا۔

 

جزیرہ خارک کے وسائل زندگی گزارنے کیلئے مناسب تھے؟

ستر فیصد لوگ وہاں سے چلے گئے تھے۔ وسائل جیسے گوشت، سبزی اور پھل نہیں تھے۔ اگر کشتی کے ذریعے پھل آتے،  تو ہوتے وگرنہ نہیں ہوتے یا اگر ہوتے تو بہت مہنگے ہوتے تھے اور ایک ایک عدد کے حساب سے بکتے تھے۔ ہمارا کھانا فوج کی طرف سے آتا تھا جس میں بہت ہی مرچیں ہوتی تھیں۔ بچوں کیلئے تفریح کا سامان جزیرے کے چھوٹے کھلونوں سے کھیلنا تھا۔ ہمیں وہاں تخلیقیت کے ساتھ زندگی گزارنی تھی۔ مثلاً میں نے روح اللہ کی سالگرہ کیلئے ایک کارٹن کو الٹا کرکے رکھا۔ میں نے اُس کے اوپر ایک خوبصورت سا غلاف چڑھایا اور اُس پر ایک مرجان رکھ دیا جو میرے شوہر دریا سے لائے تھے۔ اُس کے اوپر اپنے ہاتھوں سے بنایا ہوا کیک رکھا اور ہم نے دو افراد کا ایک جشن منایا۔ میں نے اور اُس کے والد نے فوجی لباس پہنا اور کچھ تصویریں بھی کھینچیں۔

 

وہ علاقائی افراد جنہوں نے جزیرہ کو ترک نہیں کیا تھا، وہ کیا کرتے تھے؟

وہ   علاقائی افراد جو وہاں رہ گئے تھے،  وہ اپنے شوہروں کے حالات اور وضعیت کی وجہ سے رہ گئے تھے۔ کسی کا شوہر روٹی پکاتا تھا، کسی کی دودھ کی دوکان تھی، لیکن زیادہ  تر وہ لوگ جن کے شوہر دفاتر میں  کام کرتے تھے، وہ جزیرے کو ترک کرچکے تھے۔ جو لوگ رہ گئے تھے، جزیرے سے باہر اُن کا کوئی رشتہ دار نہیں تھا۔ جو لوگ جزیرے سے باہر گئے تھے وہ بوشہر چلے گئے تھے؛ وہ وہاں سے قریب ترین شہر تھا۔ جزیرہ پر رہنے والے افراد جب کسی باہر سے آنے والے کو آتا  دیکھتے تو بہت خوش ہوتے۔ مٹھائی، سبزی اور پھلوں کی دوکان نہیں تھی۔ انھوں نے خود ہی اپنے گھر کے لان میں سبزی اُگائی ہوئی تھی۔ میں نے اُن لوگوں سے شب عید کیلئے کھٹے خمیر سے مٹھائی بنانا سیکھ لیا تھا۔ ہم نے ایک دفعہ نئے سال کا جشن بھی جزیرے پر منایا۔ ہمارے دستر خوان پر شہداء کی تصویریں اور گھر کے لان کا کچھ سبزہ تھا۔

ہم ایک سال وہاں رہے اور پھر تہران واپس آگئے۔ زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا ۵۹۸ قرارداد منظور ہوئی اور جنگ ختم ہوگئی۔

 

میں آپ کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے اپنا وقت ایرانی زبانی تاریخ کی ویب سائٹ کیلئے صرف کیا۔ 


سائیٹ تاریخ شفاہی ایران
 
صارفین کی تعداد: 137


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
جنوبی محاذ پر ہونے والے آپریشنز اور سردار عروج کا

مربیوں کی بٹالین نے گتھیوں کو سلجھا دیا

سردار خسرو عروج، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے چیف کے سینئر مشیر، جنہوں نے اپنے آبائی شہر میں جنگ کو شروع ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔
لیفٹیننٹ کرنل کیپٹن سعید کیوان شکوہی "شہید صفری" آپریشن کے بارے میں بتاتے ہیں

وہ یادگار لمحات جب رینجرز نے دشمن کے آئل ٹرمینلز کو تباہ کردیا

میں بیٹھا ہوا تھا کہ کانوں میں ہیلی کاپٹر کی آواز آئی۔ فیوز کھینچنے کا کام شروع ہوا۔ ہم ہیلی کاپٹر تک پہنچے۔ ہیلی کاپٹر اُڑنے کے تھوڑی دیر بعد دھماکہ ہوا اور یہ قلعہ بھی بھڑک اٹھا۔