وہ پر جو مجھے خدا نے عطا کئے

سیدہ زہرا سجادی کی زندگی اور جدوجہد کی داستان

احمد رضا امیری سامانی
ترجمہ: سید مبارک حسنین زیدی

2017-04-03


محترمہ  سیدہ زہرا سجادی،  ایسی مجاہد اور انقلابی خواتین میں سے کہ جن سے ہماری ملاقات انجمن خواتینِ انقلاب اسلامی کے دفتر میں ہوئی۔ یہ آج کل انجمن خواتینِ انقلاب اسلامی کے دفتر کی انچارج ہیں  جو سن ۲۰۱۲ ء میں قائم ہوا اور اس نے اندراج، انجمن کے انفراسٹرکچر  کے قیام اور  قانونی مراحل طے کرنے کے بعد،  سن ۲۰۱۴ ء کے موسم خزاں میں اپنی اجتماعی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ اس انجمن نے تہران میں ایک این جی او  کے عنوان سے کام آغاز کیا  اور پورے ملک  میں دینی مدارس اور یونیورسٹی  کی تعلیم یافتہ خواتین کے تعاون سے، قومی اور بین الاقوامی سطح  کے امکانات کو اپنا ہدف قرار دیا ہے۔

لیکن وہ چیز جس نے ہمیں ان کا انٹرویو لینے پر مجبور کیا، محترمہ سجادی کی مجاہدانہ زندگی کے وہ واقعات ہیں جو انقلاب اسلامی کی کامیابی کے سالوں میں اور اُس کے بعد پیش آئے؛ ایسے واقعات جو ہمارے سامنے ایک خاتون کے زاویے سے بیان ہوئے۔  ان واقعات میں قابل غور بات یہ ہے کہ پہلے تو مختلف زاویوں سے ہمارے لئے اصفہان کے لوگوں کی جدوجہد کو روشن ہوتی ہے اور دوسری بات یہ کہ ان کے واقعات ، ایک انقلابی اور دیندار میاں بیوی کی زندگی کے  نشیب و فراز کی شرح احوال ہے جنہوں نے اپنے مقاصد تک پہنچنے کیلئے انقلاب کے مختلف مراحل کو گزارا ہے۔

 

آپ کے بارے میں ذہن میں ابھرنے والا سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ  سن  ۱۹۷۸ء اور انقلاب کی کامیابی کے وقت، آپ کتنے سال کی تھیں؟ اور  آپ نے اُس  عمر میں کس طرح جدوجہد کی فضا میں قدم رکھا؟

سن ۱۹۷۸ء  اور انقلاب کی کامیابی کے وقت میں ۲۲ سال کی تھی۔ یعنی میں سن  ۱۹۵۶ء میں پیدا ہوئی۔ یہ بات بھی بتادوں کہ سن ۱۹۷۷ء کے شروع میں میری شادی ہوئی، میں سن ۱۹۷۹ء میں ماں بنی۔ یعنی میرے پہلے فرزند کی ولادت انقلاب کے ساتھ ہوئی۔ لیکن میرا نئی زندگی میں داخل ہونے کا سبب میری انقلابی سرگرمیوں کا عروج پر ہونا تھا  کہ جس کیلئے میں اپنے شوہر کی شکرگزار ہوں۔

 

یعنی آپ کے شوہر بھی مجاہد اور انقلابی افراد میں سے تھے؟

بالکل۔ جس شوہر کو میں نے انتخاب کیا اور ایک تعبیر کے مطابق دراصل خدا نے مجھے نصیب کیا، وہ ایک مکمل انقلابی انسان تھے اور شیراز یونیورسٹی میں پڑھتے تھے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ میں نے پہلی دفعہ جو اُن کا حلیہ دیکھا، وہ ایسا تھا جس سے وہ بالکل انقلابی نہیں لگ رہے تھے۔

 

میں نے آپ کے شوہر کا نام نہیں پوچھا ...

شہید حسین نیلی احمد آبادی۔

 

آپ کی شادی ان سے کس طرح ہوئی؟

جب وہ میرے لئے رشتہ لیکر آئے اور بات کی ، تو اپنے آئیڈیل اور سوچ کے لحاظ سے مجھے ان کا ظاہری حلیہ اچھا نہیں لگا۔ یعنی میں چاہ رہی تھی کہ کوئی مذہبی حلیہ والا ہو، چونکہ میرا گھرانہ مکمل مذہبی اور دیندار گھرانہ تھا۔ لیکن جب ہم نے آپس میں بات کی تو  میں نے دیکھا کہ وہ تمام باتیں جو میرے لئے اہم ہیں، ان میں بھی ہیں؛مضبوط عقائد اور تحقق پانے والے انقلابی تفکرات۔ ان کا خود کو ظاہری طور پر اس حلیے میں رکھنا میرے لئے سوالیہ نشان تھا؟

 

مگر اُن کا ظاہری حلیہ کیسا تھا؟ اور انھوں نے آپ کو کیا جواب دیا؟

جب میں نے اُن سے پوچھا، تو کہا: جب ہماری بات پکی ہوجائے گی تو پھر میں واضح کردوں گا۔ بعد میں مجھے پتہ چلا کہ اُس زمانے میں ساواک فعال انقلابی طالب علموں کے پیچھے تھی۔ چونکہ ان کا رنگ گورا  اور بال بھی سنہرے تھے، ساواک انہیں مغربی حلیے کا آدمی سمجھتی تھی۔ ان کے دوستوں اور ساتھیوں نے بھی ان سے کہا ہوا تھا کہ اب وہ تمہارے لئے اتنے حساس نہیں ہیں  - وہ بھی اُس زمانے کی شیراز یونیورسٹی کہ جس کے زیادہ ٹیچرز امریکی اور مغربی تھے – تم اسی حلیے کے ساتھ آؤ جاؤ تاکہ کیسٹوں اور پملفٹ کو آزادی سے اِدھر اُدھر لے جاسکیں۔ ایک دو مرتبہ ساواک کو ان پر شک ہوا اور حتی انہیں ابتدائی پوچھ گچھ کیلئے لے بھی گئے اور ایک دو دن قید میں بھی رکھا،  لیکن وہ اصول و قواعد کا اتنا خیال رکھتے کہ ساواک کے ہاتھ کوئی معلومات نہ لگنے پائے۔ ساواک کے بھی ہاتھ جب کچھ نہیں لگتا تو وہ بھی مجبوراًٍ اُنہیں رہا کردیتی۔ خلاصہ یہ کہ جب مجھے پتہ چلا کہ میرا اُن کا راستہ ایک ہی ہے اور انھوں نے اپنے ظاہری حلیے کو بھی اس دلیل پر ایسا بنایا ہوا ہے، میں نے اُن سے شادی کرلی۔ ہماری زندگی کی شروعات انقلاب کے مسائل سے بھری ہوئی تھی اور ہم نے باہمی رابطے سے کام کو آگے بڑھایا یہاں تک کہ انقلاب آگیا۔

 

آپ یہاں پر مجھے تھوڑا سا ٹھہرنے کی اجازت دیں اور میں ایک دو گام پیچھے کی طرف جاتا ہوں۔ آپ نے اس انقلابی خصلت کو کہاں سے حاصل کیا؟ کیا آپ کے گھر والے بھی آپ کی طرح کے تھے؟

جی ہاں، میرے والد صاحب بہت انقلابی تھے، عدالت میں وکیل تھےاور جب انھوں نے اپنے مرجع تقلید سے پوچھا کہ کیا وہ ایسے حالات میں اپنے کام کو جاری رکھ سکتے ہیں یا نہیں؟ انہیں جواب ملا کہ آپ کے کام میں شرعی اشکال پایا جاتا ہے؛ انھوں نے اپنا پیشہ ترک کردیا اور اس وجہ سے وہ بہت زیادہ تحت نظر تھے۔ اور حتی اُن کا وظیفہ بھی ختم ہوگیا تھا۔

 

اگر میں غلطی نہیں کر رہا تو اُن کا نام سید عباس سجادی تھا، صحیح ہے؟

جی۔

 

کیا آپ کو معلوم ہے کہ اُن کے مرجع تقلید کون تھے؟

میرے خیال سے آیت اللہ بروجردی تھے۔ مجھ اس وقت صحیح سے یاد نہیں۔

 

برائے مہربانی ہمیں اپنے والد کے گھر کے ماحول کے بارے میں بتائیے۔

جی؛  ہم ایسے گھرانے میں تھے کہ جہاں انقلاب، حضرت امام خمینی (رہ) اور مختلف مراحل میں اُن کی مجاہدت کی باتیں ہمیشہ ہوتی رہتی تھی۔

 

پھر تو احتمال پایا جاتا ہے کہ شہید نیلی سے شادی کرنے سے پہلے آپ نے انقلابی سرگرمیاں انجام دی ہوں؟

جی ہاں، میں زیادہ بڑی نہیں تھی، لیکن میں ایسے اسکول میں پڑھتی تھی جو مجتہدہ محترمہ حاجیہ خانم امین کے نام سے مشہور تھا۔ اصفہان کا واحد نجی مذہبی اسکول تھا، امین اسکول تھا۔ وہ اسکول بھی بہت زیادہ انقلابی تھا، یعنی اس اسکول میں تمام انقلابی مذہبی بچے ایک ساتھ جمع تھے۔ یہ اسکول پڑھائی کے لحاظ سے بھی اعلیٰ سطح کا تھا اور انقلابی اور مذہبی ہونے میں بھی۔

 

محترمہ امین اسکول اصفہان میں کہاں تھا؟

مسجد سید کے پیچھے تھا؛ شاہراہ چہار باغ اور شاہراہ عبد الرزاق کے چوراہے سے پہلے۔

 

آپ کے گھر سے کافی فاصلے پر تھا؟

جی ، ہم پل خواجو کے نزدیک رہتے تھے اور وہاں سے جاتے تھے، سرویس تھی، ہم سروس سے آتے جاتے تھے۔

موجودہ معلومات کے مطابق، یہ اسکول بہت زیادہ  دباؤ اور کنٹرول میں تھا۔

بہت زیادہ، اور کچھ عرصے بعد ساواک نے اسے بند کردیا۔ اسکول میں میرا آخری سال تھا کہ ساواک کے حکم پر اسکول بند ہوگیا اور ہمیں باہر نکال دیا۔ اس طرح کہ ہم گورنمنٹ اسکول جانے پر مجبور ہوگئے۔ ہمارے لئے مشکل بھی بہت تھا، چونکہ اُس اسکول میں ہمیں آزادی تھی، ایسا اسکول تھا جہاں کوئی اسکارف نہیں پہنتا تھا، چونکہ کوئی مرد آتا جاتا ہی نہیں تھا اور اُس اسکول میں سب آزاد تھے۔ لیکن اسی اسکول میں ہماری تفسیر قرآن کی نشستیں ہوتیں۔ اُس زمانے میں تفسیر قرآن کی  نشستیں منعقد کرنا ممنوع تھا۔ اب میں کبھی کبھار کہتی ہوں کہ دیکھو ہم کتنا خدا کا شکر ادا کریں، یعنی تفسیر قرآن کی ایک سادہ سی نشست بھی مسئلہ تھی۔ اس کے علاوہ اُس موقع پر کوئی خاص تفسیر بھی دسترس میں نہیں تھی۔ ہمارے پاس جناب طالقانی کی ایک تفسیر تھی، ہمارے پاس ڈاکٹر شریعتی کے والد کی ایک تفسیر نوین تھی۔  دباؤ اتنا زیادہ تھا کہ جب نشست ختم ہوتی تو تاکید کی جاتی کہ ایک ایک کرکے اسکول سے نکلیں۔ چونکہ اگر پانچ چھ لوگوں کو ایک ساتھ باہر نکلتے ہوئے دیکھ لیتے تو مشکوک ہوجاتے، آجاتے اور گرفتار کرلیتے۔ لیکن اسکول بند ہوجانے کی وجہ سے ایک دم وہ عقیدتی ماحول ختم ہوگیا اور ہم گورنمنٹ اسکول میں چلے گئے جہاں کا پرنسپل ایک مرد تھا اور مختلف طرح کے دباؤ ڈالے جاتے خاص طور سے ہم لوگوں پر زیادہ سختی ہوتی۔

 

لیکن آپ نے اُسی سال شادی کا ڈپلومہ کرلیا  اور آپ کی انقلابی سرگرمیاں اور زیادہ ہوگئیں۔

جی ہاں، بالکل۔  یعنی مجھے ایک پر اور مل گیا کہ ہم دونوں ایک ساتھ پرواز کریں اور میں اپنا کام انجام دینے کیلئے اکیلی نہ رہوں۔ بہرحال لڑکیاں کی خاص طور سے مذہبی گھرانوں میں اُن کی آمد و رفت پر پابندی ہوتی ہے، لیکن شادی کے بعد، بہرحال یہ پابندیاں  کم ہوجاتی ہے۔

 

آپ کو  یاد ہے کہ مظاہرے اصفہان میں کہاں سے شروع ہوتے تھے؟ کون سے محلے میں زیادہ مظاہرے ہوتے تھے؟ آپ کس طرح شرکت کرتی تھیں؟

جی ہاں، بہت زیادہ۔ یعنی جیسے ہی ہمیں پتہ چلتا کہ فلاں جگہ پر لوگ جمع ہیں، ہم لوگ سب سے پہلے جاکر اُس میں شرکت کرتے۔ زیادہ تر جلسے مسجد سید اور عبد الرزاق اور چہار باغ سڑکوں کے کنارے موجود اسٹیڈیم میں منعقد ہوتے ۔  مسجد سید اور عبد الرزاق شاہراہ کے درمیان ایک اسٹیڈیم تھا جس میں بارہ ہزار افراد آسکتے تھے (اُس اسٹیڈیم کا حالیہ نام جان پہلوان تختی اسٹیڈیم ہے؛ زیادہ تر جلسے اس اسٹیڈیم میں ہوتے، لیکن اصلی مرکز مسجد سید تھی۔)

 

آپ کو ریلے خبر اپنے شوہر کے ذریعے ملتی ؟

خبر تو فون پر ملتی تھی،  دوست احباب ایک دوسرے کو خبر دیتے۔ یعنی جیسے ہی پروگرام شروع ہوتا ہمیں فوراً پتہ چل جاتا اور ہم فوراً حاضر بھی ہوجاتے۔ یعنی اگر کسی دن میرے شوہر نہیں ہوتے، میں خود چلی جاتی، کوئی پابندی نہیں تھی کہ جاؤں یا نہ جاؤں یا کسی خاص وقت جاؤں۔ مجھے یاد ہے کہ کسی ایک ریلی میں، جس میں، میں خود شریک ہوئی تھی ہم پر فائرنگ ہوئی اور کچھ لوگ شہید بھی ہوئے۔ اُس دن ہم مسجد سے وفائی اسکوائر – جو مسجد کے سیدھے ہاتھ کی طرف تھا – کی طرف بڑھ رہے تھے۔ علماء حضرات آگے تھے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ علماء کے پیچھے خواتین تھیں اور اُن کے پیچھے مرد حضرات تھے۔ بہت سے لوگ سڑک کے کنارے کھڑے ہوئے تعجب کے ساتھ ہمیں دیکھ رہے تھے اور لوگوں میں شامل نہیں ہو رہے تھے۔ لیکن ہم طاقت کے ساتھ آگے بڑھتے رہے اور نعرے لگاتے رہے کہ ہمیں تماشائی نہیں چاہیے ہم سے ملحق ہوجاؤ، اور وہ آئے۔ بہت سے لوگ انہی نعروں کی وجہ سے صفوں میں شامل ہوگئے۔ اُسی وقت ریلی میں چلتے ہوئے فائرنگ ہوگئی اور ۷ – ۶ لوگ شہید ہوگئے۔

 

آپ کو ان ۷ لوگوں کی تاریخ شہادت یا  وقت  یاد ہے؟

سن ۱۹۷۷ء کا آغاز تھا۔

 

آپ نے اس وقت انقلابی ماحول کو کیسا پایا؟ کیا اُس دباؤ کی وجہ سے آپ لوگ تھکاوٹ اور نا اُمیدی کا احساس  نہیں کرتے؟

کبھی تو ہم بہت نا اُمید ہوجاتے۔یعنی ہم سوچتے کہ ہمارے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے، دوسری طرف سے دشمن تمام وسائل کے ساتھ آیا ہے۔ وسائل، اسلحہ اور رعب  ایجاد کرکے جو ہم نے کبھی دیکھا ہی نہیں تھا۔  آپ سوچیں کہ ہم ایک دفعہ دیکھتے کہ مسلح فوجی ہمارے سامنے لائن سے کھڑے ہیں۔ خاص طور سے جب ٹینکوں کے سا تھ آتے، اور کیا وحشت ایجاد کرتے۔ خاص طور سے جب بارش ہورہی ہوتی اور موسم بھی سرد ہوتا تھا۔ وہ لباس جو آج بھی فوجی پہنتے ہیں، لمبے ہوتے تھے اور نیچے اُن کے پیروں تک ہوتے اور وہ خاص قسم کا عینک لگاتے ۔ کبھی ہم سے کہا جاتا کہ یہ لوگ اسرائیلی ہیں! ان لوگوں کو اسرائیل سے لایا گیا ہے۔ واقعاً ایسا ممکن تھا کہ اس طرح بھی ہو۔ یعنی اس قدر تشدد کرتے تھے کہ اگر ایرانی ہوتے کبھی بھی وہ اتنا تشدد نہیں کرتے۔ وہ لوگ جو ایرانی تھے، ایرانی فوجی اتنی  اذیت نہیں دیتے تھے۔ مجھے خود یاد ہے ان میں سے کسی ایک ریلی میں کہ اتفاق سے رات کا وقت بھی تھا، ہمارے پاس شیشی والے بم اور اس طرح کی چیزیں تھی اور ہم فوجیوں کی طرف جا رہے تھے کہ اچانک انھوں نے فائرنگ کردی اور میں نے بھاگتے وقت اپنے سامنے ایک مسلح فوجی کو پایا۔ لیکن اُس نے الجھنے کے بجائے مجھ سے کہا: "بھاگو، پیچھے والی گلی سے جاؤ۔ میں تم لوگوں کا کیا کرو کہ فرار نہیں کر تے۔" یعنی ایرانی میں اتنی مہربانی تھی، لیکن باقی دوسرے تو اتنا تشدد کرتے جو ایرانی سے بعید تھا۔

 

ان مظاہروں اور ریلیوں میں آپ کو یا آپ کے شوہر کو کوئی زخم لگا؟

زخم نہیں، چونکہ بہت سے موقعوں پر میرے شوہر ہر طرح سے میرا خیال ر کھتے تھے۔ لیکن میرے شوہر تمام انقلابی سرگرمیوں میں مستقل شرکت کرتے تھے۔ مثلاً جدوجہد کرنے والوں کو خون دینے میں ہمیشہ آگے تھے، لیکن مجھے اس کام کی اجازت نہیں دی۔ یعنی جیسے ہی زخمیوں کو  ہسپتالوں میں لے جایا جاتا، وہاں فوراً پہنچنے والوں لوگوں میں سر فہرست ہوتے۔ شاید آجکل یہ باتیں معمولی لگیں، لیکن اُن دنوں میں کوئی زخمیوں کے پاس جاتا اور حتی وہ سمجھ جاتے کہ خون دے رہا ہے، فوراًٍ گرفتار کرلیتے۔ تمام ہسپتالوں کو ساواک کنٹرول کر رہی تھی۔ حتی ان زخمیوں کے ہونے والے آپریشن پر بھی نظر رکھی ہوئی تھی، بہت سے ڈاکٹر اسی وجہ سے گرفتار ہوئے۔ مجھے یاد ہے عسگریہ ہسپتال ایک ایسا  مرکز تھا جہاں زخمیوں کو لے جایا جاتا۔ ہمارے گھر کے نزدیک اصفہان کی جی روڈ پر تھا اور میرے شوہر زخمیوں کے آنے کی خبر ملتے ہی خود کو ہسپتال پہنچا تے اور خون دیتے۔ ایک مثال یہ تھی۔ دوسری مثال جو مجھے یاد ہے یہ تھی کہ میرے شوہر کا مرحوم  پرورش اور جناب صالح کے ساتھ – جو حالیہ پارلیمنٹ کے رکن ہیں – گہرا اور سنجیدہ رابطہ تھا۔ انھوں نے کچھ اور لوگوں کے ساتھ مل کے طے کیا ہوا تھا کہ جاکر مجاہدوں کی دیکھ بھال کریں اور ان کے لئے  گھریلو اشیاء  لے جائیں۔ مثلاً ایسے گھرانے تھے کہ جن کے شوہر یا تو شہید ہوگئے تھے یا جیل میں تھے یا زخمی ہونے کی وجہ سے گھر میں پڑے ہوئے تھے۔ اب ان کی مالی ضروریات تھیں، غذاکی  ضرورت تھی، دوا کی ضرورت تھی۔ میرے شوہر اور اُن کے دوست مختلف صورتوں میں، آدھی رات کے بعد، ان گھروں میں سامان پہنچانے جاتے۔ وہ مجھے بھی اپنے ساتھ لے جاتے، خاص طور سے ایسی خواتین کے گھر جن کے شوہر شہید ہوچکے تھے اور وہ نہیں چاہتے تھے کہ اُن کے آنے جانے سے کوئی دوسرا مسئلہ کھڑا ہوجائے۔

 

ہمیں انقلاب کی کامیابی کے بعد کے دنوں کے بارے میں بتائیے

ہم نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کے شروع میں بہت ہی سخت شرائط کا سامنا کیا۔ یعنی انقلاب کی کامیابی کے بعد، دشمن نے ہمارے لئے چالیں چلنا شروع کیں، قتل، مختلف طریقے اور کیا کیا۔ ادھر سے حزب جمہوری اسلامی قائم ہوئی۔ جب حزب بنی تو تقریباً سن ۸۰ تھا۔ یہ  اصفہان میں بننے والی پہلی انجمن تھی ، میرے شوہر نے حزب جمہوری کی مرکزی کابینہ میں ووٹ حاصل کرلیا۔ میں نے بھی خواتین کے حصے میں کام کا آغاز کیا اور ہم نے اپنی حزبی اور سیاسی سرگرمی کو ساتھ شروع کیا۔ اب میں ان کے پیشے کے بارے میں بتاؤں؛ انھوں نے الیکٹرونکس میں ماسٹر  کیا تھا اور ذوب آھن میں کام کر رہے تھے۔ انقلاب کے کامیاب ہوتے ہی، انھوں نے ذمہ داری سنبھال لی۔ سن ۸۰ – ۷۹ میں چھار محال و  بختیاری کے گورنر کے سیاسی جانشین بن گئے اور اُس صوبہ کے مرکز میں چلے گئے۔ میں ایک بچے کے ساتھ اصفہان میں تھی، یہ بھی ہفتے میں ایک دفعہ آتے اور چلے جاتے۔

 

شہر کرد اور اصفہان کے درمیان ۱۰۰ کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔

جی ۔ وہ وہاں جاکر اپنے کام میں مصروف ہوجاتے۔ سن ۱۹۸۱ء کے وسط تک وہیں رہے، پھر سن ۱۹۸۱ء کے موسم خزاں یا سردیوں میں اصفہان آگئے اور ۱۹۸۳ء تک ذوب آہن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر  رہے۔ قتل کرنے  کے لحاظ سے ۸۱ سے ۸۳ کا زمانہ بہت سخت اور مشکل تھا۔ بہت سی شخصیات کا قتل ہو رہا تھا۔ اس کو چھوڑیں کہ یہ ذوب آہن میں کتنے دباؤ کا شکار تھے۔ ان کے پاس نئے منصوبے تھے اور پرانے سسٹم کے بچے ہوئے کچھ لوگ تھے جو ان سے مقابلہ کر رہے تھے کہ کام کو آگے بڑھنے نہ دیں۔ حتی یہ وہاں پر کئی مرتبہ زخمی بھی ہوئے اور لوگوں نے ان کی بے حرمتی بھی کی، لیکن انھوں نے اُسی طرح اپنا کام جاری رکھا۔ سن ۱۹۸۳ء میں مقام معظم رہبری، جو اُس وقت ملک کے صدر تھے، نے انہیں وزیر معادن بننے کی دعوت دی۔ جناب میر حسین موسوی نے قبول نہیں کیا اور وہ راضی نہیں تھے کہ یہ وزیر بنیں۔ مقام معظم رہبری کے اصرار کی وجہ سے، البتہ وہ ذوب آہن میں ان کے کام کو دیکھ چکے تھے، مختلف میٹنگوں  اور پارلیمنٹ کی منظوری کے بعد، میرےشوہر معدنیات کے وزارت خانہ میں داخل ہوئے۔

 

یعنی معدنیات کے وزیر بن گئے۔

جی۔ اُس زمانے میں ہمارے دو بچے تھے اور ہم تہران آگئے۔

 

جہاں تک مجھے معلوم ہے، آپ نے کچھ تاخیر کے ساتھ اپنی پڑھائی کو جاری رکھا اور کچھ عرصہ کیلئے پڑھائی روک دی۔ کوئی خاص وجہ تھی؟

جی، یہاں پر ایک نکتہ ہے؛ میں نے جس سال میٹرک کیا اُسی سال  یونیورسٹی میں داخلہ کیلئے امتحان دیااور اصفہان یونیورسٹی کے لیبارٹری سائنسز میں پاس ہوگئی۔ جب میں داخلہ کیلئے گئی، ابھی انقلاب نہیں آیا تھا۔ مجھ سے کہا کہ چادر پہن کر آنا چاہتی ہو؟! میں نے کہا: ہاں۔ انھوں نے کہا: نہیں ہوسکتا۔ یعنی پہلے مجھ سے تصویر مانگی۔ میں چادر والی تصویر لے گئی۔ مذاق اڑایا کہ کیا ایسا ہوسکتا ہے؟ یہاں لیبارٹری میں آنا اور لیبارٹری سائنسز پڑھنا وہ بھی چادر کے ساتھ؟ میں نے کہا: میری تصویر میں کوئی مسئلہ ہے؟ کہا: ہاں۔ میں نے مقنعہ کے ساتھ دوسری تصویر بنوائی، دوبارہ ردّ کردیا۔ کہنے لگے: اسکارف کے ساتھ ہونی چاہیے۔ میں نے بڑے سے اسکارف کے ساتھ ایک تصویر بنوائی تاکہ حجاب پورا رہے، پھر بھی قبول نہیں کیا۔ آخر میں انچارج نے مجھ سے کہا: محترمہ، اوپر جاؤ، نیچے جاؤ، کچھ بھی کرو   تصویر میں تمہارے کان نظر آنے چاہئیں۔ یعنی اس حلیے میں یہاں آکر درس پڑھنا ممکن نہیں۔ میرے بہت سے دوستوں نے چونکہ ہم انقلاب کی راہ میں تھے، مجھ سے کہا جس طرح بھی ہو اپنا نام لکھواؤ  اور بعد میں اپنی فیلڈ تبدیل کرکے فارمیسی میں چلی جانا، ہمیں اس وقت مسلمان اور مومن فارمیسٹ کی ضرورت ہے۔ چونکہ ہمیں زخمیوں کیلئے واقعاً ضرورت تھی، دوا نہیں تھی اور ہمیں دی بھی نہیں جاتی تھی۔ لیکن میں نے جب اس رویے کو دیکھا اور مجھے مسلسل ایک  فیکلٹی سے دوسری فیکلٹی بھیجنے لگے، میں نے اپنی فائل لی اور کہا: میں کبھی بھی اپنے مقصد تک پہنچنے کیلئے اپنے عقائد کو پاؤں تلے روندھنا نہیں چاہتی، میں  اس موضوع کو ہی چھوڑتی ہوں۔ ان دنوں ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ انقلاب اتنی جلدی کامیاب ہوجائے گا۔ میں سوچتی کہ بس ختم، ہمیں کنارے لگادیا۔ کامیاب ہونے کے بعد، جب انقلاب کامیاب ہوگیا، میں چھوٹے بچے میں گھری ہوئی تھی۔ سن ۸۴- ۸۵ تھا جب میں نے یونیورسٹی میں شرکت کی اور پاس ہوگئی۔ میں نے اپنا موضوع بدل لیا ، علوم قرآن و حدیث میں چلی گئی کہ بعد میں بھی ماسٹر تک جاری رکھا، اس وقت میں اپنے ڈاکٹریٹ کے تھیسس لکھ رہی ہوں، وہ بھی اداروں کے رویوں کی مینجمنٹ پر۔

 

بہت اعلیٰ ہے؛ آپ کے شوہر کس طرح شہید ہوئے؟

ان کے خلاف بہت کام ہوا۔جناب ولایتی جو اُس وقت وزیر خارجہ تھے، ان سے بہت اصرار کر رہے تھے اور انہیں تین ملکوں کا مشورہ دیا کہ ان میں سے کسی ایک کے سفارت خانے کا عہدہ سنبھال لیں؛ ایک چین تھا، یک روس اور ایک  میرے خیال سے جرمنی ۔ لیکن میرے شوہر نہیں مانے۔ وہ کہتے: اسلامی ملک میں سانس لینا بھی بہت قیمتی ہے، میں جمہوری اسلامی میں سانس لینے کو ملک سے باہر جانے کے عوض بیج نہیں سکتا، یہاں سانس لینا بہت قیمتی ہے۔ ادھر سے وزارت دفاع نے بھی تجویز پیش کی ہوئی تھی کہ دفاعی صنعت کے ادارے کا عہدہ سنبھال لیں۔ جناب پرورش سے استخارہ کروایا۔ جناب پرورش بہت ہی اچھا استخارہ دیکھتے تھے۔ انھوں نے استخارہ نکالا۔ بہت اچھا تھا۔ مجھے وہ وقت اچھی طرح یاد ہے۔ جب جناب پرورش نے استخارے کا جواب دیا، مسلسل پوچھ رہے تھے: انجینئر صاحب آپ کیا کام کرنا چاہ رہے تھے جو اس طرح کا استخارہ آیا ہے؟ یہ استخارہ کس چیز کیلئے تھا؟ انھوں نے کہا: کیا ہوا؟ تو جناب پرورش نے کہا: خدا نے آپ کو جنت کا وعدہ دیا ہے! "جناتٍ تجری من تحتھا الانھار" ایسی جنت جس کے نیچے نہریں جاری ہیں۔ بہت اعلیٰ نوید ہے۔ یہ ہنس پڑے اور کہا: مجھے دفاعی صنعت کی تجویز ہوئی ہے، دوسری طرف سے مجھے چند سفارت خانوں کی تجویز ہے، میں نے جناب ڈاکٹر ولایتی سے کہا ہوا کہ پہلے دفاعی صنعت والا معاملہ واضح ہونے دیں، چونکہ میری دلچسپی ملک کے اندر ہے تاکہ میں دفاع مقدس کیلئے کچھ خدمت کرسکوں؛ چونکہ ہم جنگ میں اُلجھے ہوئے تھے۔ اسی دوران جیسا کہ ان کی فیلڈ الیکٹرونکس تھی، انھوں نے دلچسپ منصوبوے پیش کئے  ہوئے تھے، شہید تہرانی مقدم کی طرح جو کتنے مؤثر تھے۔ ان کے پاس بھی الیکٹرونکس مصنوعات،  میزائل سازی، ٹیلی کمیونیکیشن میں ایسے منصوبے تھے جو بہت زیادہ تاثیر گذار تھے جو بالآخر اسلحہ سازی کیلئے بھی تھے اور آپٹکس شیشے جو میزائل میں استعمال ہوتے ہیں۔ اسی  راستے  میں گئے ہوئے تھے کہ خدمت کرتے وقت شہادت پر فائز ہوگئے۔

 

یعنی دفاعی صنعت میں کام کرتے ہوئے شہید ہوئے؟

جی، دفاعی صنعت میں خدمت انجام دے رہے تھے۔

 

کوئی خاص آزمائش تھی؟

بہت لمبا قصہ ہے۔اُس زمانے میں یوگوسلاویہ سے ایران کے ساتھ آپٹکس شیشوں کی قرار داد طے کرنے آئے ہوئے تھے تاکہ ان شیشوں کو یوگوسلاویہ سے خریدا جائے۔ شہید نیلی (میرے شوہر) نے کہا:اگر ہمارے پاس ہوئے، کسی صورت میں ان سے قرارداد طے نہیں کریں گے، میں اپنا پیسہ ملک سے باہر جانے پر راضی نہیں ہوں۔ اب قرار داد طے کرنے کیلئے ایک وفد ایران آیا ہوا تھا تاکہ قرار طے کرکے بجٹ لیں۔ ادھر سے انہیں پتہ چلا کہ ہمارے ملک میں رشت میں ایک کارخانہ ہے جو یہی آپٹکس شیشے بناتا ہے۔ اُس وقت دفاعی صنعت میں جناب ترکان ہوتے تھے، ان سے کہا ہوا تھا: جناب ترکان آپ انہیں (یوگوسلاویہ کے تاجروں کا وفد)  روک کر رکھیں ، میں ایک دن کیلئے جاتا ہوں اور اپنے آپٹکس شیشوں کی کیفیت چیک کرکے واپس آتا ہوں؛ اگر اچھے ہوئے تو ان سے قرارداد نہیں باندھیں گے، چونکہ ہمارے اپنے پاس ہیں۔ اگر اچھے نہیں ہوئے تو پھر قرار داد کرلیں گے۔ ایک دن کیلئے گئے۔ ان کے ساتھ ایک وفد بھی تھا۔ اُن کے ساتھ دو تین گاڑیاں گئی تھیں۔ انھوں نے شیشوں کو دیکھ لیا تھا اور کہا کہ بہت ہی اعلیٰ ہیں اور ہمیں بیرونی ممالک سے قرار داد کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ان لوگوں نے وہیں پر اس کارخانے سے قرار داد طے کی اور واپس پلٹے۔ لیکن واپسی کے راستے میں خطرناک ایکسیڈنٹ کا سامنا ہوا۔ پتہ بھی نہیں چلا کہ یہ حادثہ کروایا گیا تھا یا نہیں۔ بہرحال یہ اپنا وظیفہ انجام دیتے ہوئے شہید ہوگئے۔

 

یہ حادثہ کس سن میں پیش آیا؟

سن ۱۹۸۹ء؛ حضرت امام خمینی (رہ) کی رحلت کے ۲۵ دن بعد۔ سن ۱۹۸۹ء میں ہمیں دو بھاری صدموں کو جھیلنا پڑا، پہلا حضرت امام خمینی (رہ) کی رحلت اور اُس کے ۲۵ دن بعد ایکسیڈنٹ کا واقعہ اور میرے شوہر کی شہادت۔ آخر میں یہ بات بھی بتادوں کہ میرے شوہر اس پہلے گروہ کا حصہ تھا جنہوں نے آکر مقام معظم رہبری سے بیعت کی۔ انھوں نے کہا: ہم وزارت دفاع کا پہلا گروہ بننا چاہتے ہیں دفاعی صنعت کو اکٹھا کر کے آئے اور مقام معظم رہبری کی رہبر انقلاب اسلامی کے عنوان سے بیعت کی۔ البتہ قسمت نے اُن کیلئے دوسرے راستے کا انتخاب کیا ہوا تھا۔

 


22bahman.ir
 
صارفین کی تعداد: 326


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
جنوبی محاذ پر ہونے والے آپریشنز اور سردار عروج کا

مربیوں کی بٹالین نے گتھیوں کو سلجھا دیا

سردار خسرو عروج، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے چیف کے سینئر مشیر، جنہوں نے اپنے آبائی شہر میں جنگ کو شروع ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔
لیفٹیننٹ کرنل کیپٹن سعید کیوان شکوہی "شہید صفری" آپریشن کے بارے میں بتاتے ہیں

وہ یادگار لمحات جب رینجرز نے دشمن کے آئل ٹرمینلز کو تباہ کردیا

میں بیٹھا ہوا تھا کہ کانوں میں ہیلی کاپٹر کی آواز آئی۔ فیوز کھینچنے کا کام شروع ہوا۔ ہم ہیلی کاپٹر تک پہنچے۔ ہیلی کاپٹر اُڑنے کے تھوڑی دیر بعد دھماکہ ہوا اور یہ قلعہ بھی بھڑک اٹھا۔