۵ جون کے قیام میں آیت اللہ آیت اللّٰھی کی جدوجہد کا جائزہ

کلثوم کریم پور
ترجمہ: سید مبارک حسنین زیدی

2017-03-16


آیت اللہ حاج سید عبد العلی آیت اللھی ۲۶جمادی الاول سن ۱۳۳۹ قمری بمطابق ۵ فروری ۱۹۲۱ء کو جہرم نامی شہر میں پیدا ہوئے، انھوں نے اپنی ابتدائی تعلیم شیراز میں پایہ تکمیل تک پہنچائی اور ۲۵ سال کی عمر میں اجتہاد کے مقام پر فائز ہوئے۔ (۱)

۱۹ مئی ۱۹۵۵ء  میں آیت اللہ سید علی اصغر موسوی لاری کی وفات کے بعد لارستان ایسے عالم سے محروم ہوگیا جو لوگوں کی پناہگاہ اور امید ہو۔لہذا لار کے لوگوں کے مستقل رابطے کی وجہ سے آیت اللہ العظمیٰ بروجردی نے ایک خط کے ذریعے آیت اللہ سید عبد العلی آیت اللھی کو لار بھیجنے کی موافقت کا اعلان کیا۔ انہیں نجف گئے ہوئے زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا کہ لار کے لوگوں کے مستقل رابطے کی وجہ سے ۱۹ مئی  ۱۹۵۵ء  کو لارستان واپس آگئے۔ (۲)

آیت اللہ آیت اللھی کی جدوجہد کا آغاز اُن کے شیراز اور قم کے تعلیمی دور سے شروع ہوا۔  وہ سن ۱۳۶۶ قمری ہجری بمطابق  ۱۹۴۸ء  میں قم گئے ہوئے تھے، اُن کا امام خمینی (رہ) اور اسی طرح تہران میں آیت اللہ ابو القاسم کاشانی سے رابطہ تھا۔ اُسی سال، وہ  آیت اللہ کاشانی کے گھر میں ہونے والی علمی نشستوں میں شرکت کیا کرتے۔ وہ اس بارے میں کہتے ہیں: "میں  اُسی سال ۱۹۴۸ء میں،  مشہد مقدس کی زیارت سے شرفیاب ہوا ... پھر مشہد مقدس سے تہران کی طرف روانہ ہوا۔ رمضان کا مہینہ تھا اور مرحوم آیت اللہ حاج سید ابو القاسم کاشانی کے گھر پر سحری تک دینی اور حکومت سے مقابلے کی  نشست برقرار رہتی اور بندہ حقیر بھی ہر رات شرکت کرتا کہ عید الفطر والے دن عالی جناب کے ساتھ شاہراہ خراسان پر عید کی نماز ہوئی اور مسلح فوجیوں کے سامنے جو ٹینکوں اور گاڑیوں کے ساتھ کھڑے ہوئے تھے یہ باعظمت نماز منعقد ہوئی۔" (۳)

اپریل  سن ۱۹۵۲ء میں، جب اُس وقت ایران کے وزیر اعظم ، احمد قوام السلطنہ نے ایک اعلان کے ذریعے دین کی سیاست سے جدائی کا گیت گایا، آیت اللہ آیت اللھی نے آیت اللہ کاشانی کو ایک خط لکھا اور احمد قوام کے تفکر کو ایک مشکل میں ڈال دیا۔

آیت اللہ سید عبد العلی آیت اللھی اور امام خمینی (رہ) مختلف مسائل کے بارے میں ایک دوسرے سے رابطے میں تھے۔ ایسی تحریریں موجود ہیں جو اُن دونوں کے مستقبل رابطے کو بیان کرتی ہیں  اور امام خمینی (رہ)نے اُن پر خاص اعتماد کرنے کی وجہ سے اُن سے چاہا کہ ہر اتوار کی رات،لارستان کے علماء کی ایک نشست منعقد کریں۔  اسی طرح کچھ دوسری تحریریں ان کے باہمی  مخلصانہ رابطے اور ایک دوسرے کو ہدیے بھیجنے کو بیان کرتی ہیں اس طرح سے کہ امام خمینی (رہ) نے اُن کی مدد اور نظریات  سے تحریک کو آگے بڑھانے  میں استفادہ کیا ہے۔

امام خمینی (رہ) کی گرفتاری اور ۵ جون  ۱۹۶۳ء کے قیام کے بعد، آیت اللہ آیت اللھی، حاج شیخ علی خواہ شیرازی کے ذریعے علمائے شیراز کی دعوت پر امام کی آزادی میں مدد کرنے کیلئے تہران ہجرت کرنے کا ارادہ کرتے ہیں۔ آیت اللہ آیت اللھی کا دوسرے علماء کے ساتھ تہران میں داخل ہوتے ہی مدرسہ مروی میں ایک نشست کا قیام عمل میں آیا اور مختلف مسائل کے بارے میں بحث اور گفتگو ہوئی اور انھوں نے اپنے اعتراض کو ظاہر کیا۔ علماء کے جمع ہونے کا اہم ترین پہلو قیدیوں کی حمایت، لوگوں اور علماء کے قیام کے بارے میں بحث اور تبادلہ نظر اور قیدیوں کو آزاد کرانے کا حل تلاش کرنا تھا۔ اس کے علاوہ ان نشستوں میں متاثرہ گھرانوں سے دلجوئی، زخمیوں کی عیادت اور ۵ جون کے شہداء کیلئے ایصال ثواب کی مجالس کا انعقاد ہجرت کرکے آنے والے علماء کے پروگرام کے حصے میں شامل تھا۔ علماء کی تہران میں رہنے کی مدت دو مہینے تک طول پکڑ گئی۔ اس عرصے میں مختلف طبقات کے لوگ اُن سے ملنے کیلئے آتے۔ بالآخر عمومی افکار کے دباؤ اور علماء کے پے در پے بیانات کی وجہ سے، علماء اور وہ مذہبی افراد جو ۵ جون کے بعد سے تہران، قم اور دوسرے شہروں میں گرفتار ہوئے تھے آزاد ہوگئے۔ امام خمینی (رہ) کی آزادی کے بعد آیت اللہ آیت اللھی بھی دوسرے علماء کے ساتھ شیراز واپس پلٹے اور جدوجہد کو جاری رکھنے کی کیفیت پر بحث و گفتگو کی۔

آیت اللہ آیت اللھی نے لار واپس آنے کے بعد، عمومی قیام کو شروع کرنے کیلئے لارستان میں پہلوی حکومت کے خلافت کھڑے ہوئے۔ (۴) وہ، جو امام خمینی (رہ) کے قیام میں شرکت کو اپنا وظیفہ سمجھتے تھے، انھوں نے فیصلہ کیا کہ قیام کو لارستان کے قبائلی افراد کے ساتھ شروع کریں، لہذا حاج شاہ میرزا  دولخانی (دولخانی قبیلے کے رئیس) کو اپنے پاس بلایا اور انھوں نے ان کو قیام کی جزئیات سے آگاہ کیا اور ان کو حکم دیا کہ اس فیصلے سے علاقے کے تمام قبائل کو آگاہ کردیا جائے۔ ایسے میں اکثر قبائل نے پورے ملک میں علماء کی تحریک اور خاص طور سے امام خمینی (رہ) کی ہمراہی اور حمایت کا اظہار کردیا۔ اپریل ۱۹۶۳ء کی تاریخ میں ساواک کی رپورٹ میں آیا ہے: "عدالت میں یہ بات پھیل چکی ہے کہ ملک کے مختلف علاقوں میں مشہور قبیلوں کے تقریباً ۷۰ سرادروں نے جناب خمینی حمایت کی ہے"۔ (۵) ساواک تمام شہروں میں قیام کے پھیلنے اور نیز امام اور علماء کی تحریک میں مسلح قبائل کے شامل ہوجانے سے خوف کا شکار تھی۔ اور لارستان کے علاقے میں آیت اللہ آیت اللھی کے وجود نے علماء کی تحریک پھیلنے، نیز قبیلوں کا امام خمینی (رہ) میں جذب ہونے میں  اہم کردار ادا کیا۔

شاہ میرزا کریمی جو ان دنوں لار میں رہ رہے تھے، کے ذریعے تمام قبیلوں سے رابطہ برقرار ہوا۔ (۷) آیت اللہ آیت اللھی اس بارے میں کہتے ہیں: "اُن دنوں میں لارستان کے تمام قبیلوں نے اپنی حمایت کا اعلان کردیا تھا اور حتی جناب محمد قائدی (بیخہ جات لامر د میں قائدی قبیلے کے سربراہ)، بھی تیار تھے کہ ۱۰۰ جنگجو افراد کے ساتھ اس قیام میں شرکت کریں اور انھوں نے کئی مرتبہ پیغام بھیجا کہ میں اور میرا قبیلہ حکومت کے خلاف قیام کرنے کیلئے حاضر ہیں۔ اس دوران، لارستان کے قبائل بندہ حقیر سے رابطے کرتے اور اپنی آمادگی کا اظہار کرتے، لیکن چونکہ قبائل کا قیام بھاری بجٹ اور سخت نتائج  لئے ہوا تھااور قیام کے بعد اُنہیں کنٹرول کرنا حقیر کیلئے نہ صرف مشکل بلکہ میرے لئے اُن حالات میں گلا گھٹنے کی حد تک ناممکن تھا، لہذا میں نے ایک امانت دار مولوی، جن کا نام جناب ثقۃ الاسلام سید عبد الرحیم طاہری، جو میرے والد کے چچا زاد بھائی اور جن کی عمر تقریباً ۷۰ سال یا اس سےزیادہ ہوگئی، انہیں امام اور بعض دوسرے مراجع کرام کے پاس بھیج کر اپنی صورت حال سے آگاہ کیا۔" (۸)

آیت اللہ آیت اللھی کے نمائندے، سید عبد الرحیم طاہری ان کا پیغام دریافت کرتے ہی اُنہیں مراجع تک پہنچانے کیلئے قم روانہ ہوگئے۔ انھوں نے امام خمینی  (رہ) تک پیغام پہنچا دیا اور قیام کے بارے میں اُن سے اور تمام مراجع کرام سے وظیفے کو مشخص کیا۔ امام خمینی (رہ) نے ظالم کے ظلم اور ستمکاروں کے ستم کے مقابلے میں ایران کے تمام مسلمانوں پر قیام کو واجب قرار دیا۔ (۹) آیت اللہ آیت اللھی اس بارے میں کہتے ہیں: " سید عبد الرحیم طاہری نے قم سے واپس آنے کے بعد کچھ مطالب جو پوچھے گئے سوالات کے جواب میں تھے، مجھ تک مخفیانہ طور پر پہنچائے کہ حضرت امام نے فرمایا تھا کہ ظالم کے ظلم کے مقابلے میں قیام کرنا واجب ہے "ولو بلغ ما بلغ"۔ اس بنا پر فیصلہ کیا گیا کہ ہم لوگوں کو قیام کیلئے اُبھاریں۔" (۱۰) آیت اللہ آیت اللھی نے لارستان کی اجتماعی اور سیاسی موقعیت کی شناخت پر توجہ کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ لارستان کے قبائل کو متحد کرکے، قیام کو نہ صرف شہر بلکہ جنوبی فارس کے تمام قبائلی علاقوں میں تشکیل دیا جائے۔

لیکن ایک غیر متوقع حادثہ نے پروگرام کو خراب کردیا اور مارچ ۱۹۶۴ء  میں لر اور نفر قبیلے کے مسلح افراد  نے زیاد خان نفر کی سربراہی میں کہ جنہوں نے امام خمینی (رہ) کا پیغام سن لیا تھا اور پہلوی حکومت  کے سپاہیوں کے ظلم و ستم سے تنگ آچکے تھے انھوں نے صحرای باغ کے علاقے کی  چوکی پر حملہ کردیا  اور  امنیتی فورسز اور عماددہ چوکی کے سپاہیوں کا راستہ بند کرکے اُن سے مسلحانہ جھڑپیں کی۔ اس  جھڑپ کی خبر کے پھیلتے ہی اور جنوبی فارس کے علاقے میں اُس کے وسیع پیمانے پر ہونے والے  انعکاس پرلیفٹیننٹ جنرل مالک (پورے ملک میں امنیتی فورسز کا سربراہ) نے  میجرجنرل اردوبادی کو یہ ماجرا ختم کرنے کی ذمہ داری سونپی۔ میجر  جنرل اردوبادی نے پہلے تو اپنے اسسٹنٹ -  کرنل اشرفی – کو  فسادات ختم کرنے کیلئے لارستان بھیجا؛ پھر آیت اللہ آیت اللھی پر سیاسی اور نفسیاتی دباؤ  اور دھمکی کے ذریعے اُن پر قیام کرنے والوں سے ہر طرح کے رابطے کو ممنوع قرار دیدیا۔

کرنل اشرفی جو قبائل سے مقابلے کی اہلیت نہیں رکھتا تھا اس نے فیصلہ کیا فریب اور دھوکہ دہی سے کام لیا جائے۔ اس لئے اُس نے اُن کے دینی رجحان سے سوء استفادہ کرتے ہوئے، ہاتھوں میں قرآن اور سر پر عمامہ پہن کر خود کو امام خمینی (رہ) کا نمائندہ کہلوا کراُن کی صفوٖ ف میں  داخل ہوگیا اور اُن کی رہنے کی جگہ سے مکمل آگاہی حاصل کرکےرات کو اُن کے خیموں پر ہوائی بمباری کے ذریعے اُن پر گولے اور میزائل برسائے اور بہت کم لوگوں کے علاوہ جو فرار کرنے میں کامیاب ہوئے ایل کے تمام افراد کو ۷ محرم کی صبح ، جبکہ بعض افراد کو نماز کی ادائیگی کی حالت میں شہید کردیا۔ (۱۱)

امام خمینی (رہ) کی جیل سے رہائی  کی مناسبت سے جشن کا انعقاد:

آیت اللہ آیت اللھی نے  پہلوی حکومت کے ذریعے قبائل کے قتل عام والے حادثے کے بعد،  سخت حالات کا سامنا کیا اور ساواک مسلسل اُن کے تعاقب میں رہی اور ان کے تمام اقدامات کو کنٹرول کیا جا رہا تھا۔ انھوں نے اپریل ۱۹۶۴ء میں امام خمینی (رہ) کی آزادی کے موقع پر لار کے لوگوں کو جشن  منانے کی دعوت دی اور اُن کا ارادہ تھا کہ وہ جشن کی تقریب کو اسی مناسبت سے منعقد کریں، لیکن پہلوی حکومت کے اراکین نے اُن کے اس کام میں رکاوٹیں کھڑی کردیں۔ (۱۲)

 

 

حوالہ جات:

وثوقی، محمد باقر، آیت اللہ سید عبد العلی آیت اللھی کی زندگی اور جدوجہد، تہران، انقلاب اسلامی کی اسناد کا مرکز، ۲۰۰۷، ص ۲۶ – ۲۵۔

۲۔ سابقہ حوالہ، ص ۶۲ – ۵۵۔

۳۔ لارستان کا ہفت روزہ میلاد، ۱۵ واں سال، فروری ۲۰۱۰ کا دوسرا ہفتہ، ش ۵۹۸، ۶ فروری ۲۰۱۰۔

۴۔ وثوقی،  سابقہ حوالہ، ص ۶۸۔

۵۔ ساواک کے مطابق اسناد کے آئینے میں امام خمینی (رہ) کی جدوجہد، ج۱، تہران؛ مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی (رہ)، پہلا ایڈیشن،  ۲۰۰۸، ص ۲۷۲۔

۶۔ ساواک کی اسناد کے مطابق ۵ جون کا قیام، ج۵، تہران، وزارت اطلاعات میں تاریخی اسناد کی تحقیق کا مرکز،  ۲۰۰۴، ص ۲۵۸ - ۲۵۹۔

۷۔ انقلاب اسلامی کے مرکز اسناد میں محفوظ شدہ دستاویزات، محمد کریمی سے انٹرویو، ۱۶ ویں نشست، ش ب ۱۴۲۹۷۔

۸۔ انقلاب اسلامی کے مرکز اسناد میں محفوظ شدہ دستاویزات، آیت اللہ سید عبد العلی آیت اللھی سے انٹریو، آٹھویں نشست، ش ب ۱۳۲۹۸۔

۹۔ آیت اللہ سید محمد حسین نسابہ سے انٹرویو، مورخہ ۲۸/ ۱۱/ ۲۰۱۲۔

۱۰۔ انقلاب اسلامی کے مرکز اسناد میں محفوظ شدہ دستاویزات،آیت اللہ آیت اللھی سے انٹرویو، پہلی نشست،  ۱۴۲۹۴۔

۱۱۔ وثوقی، سابقہ حوالہ، ص ۹۷۔

۱۲۔ پولیس کی اسناد کے مطابق امام خمینی (رہ) کی جدوجہد، ج۱، (نومبر  ۱۹۶۲ء – جولائی ۱۹۶۴ء) تہران: موسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی (رہ)، ۲۰۰۴، ص ۳۴۳۔


15khordad42.ir
 
صارفین کی تعداد: 319


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
جنوبی محاذ پر ہونے والے آپریشنز اور سردار عروج کا

مربیوں کی بٹالین نے گتھیوں کو سلجھا دیا

سردار خسرو عروج، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے چیف کے سینئر مشیر، جنہوں نے اپنے آبائی شہر میں جنگ کو شروع ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔
لیفٹیننٹ کرنل کیپٹن سعید کیوان شکوہی "شہید صفری" آپریشن کے بارے میں بتاتے ہیں

وہ یادگار لمحات جب رینجرز نے دشمن کے آئل ٹرمینلز کو تباہ کردیا

میں بیٹھا ہوا تھا کہ کانوں میں ہیلی کاپٹر کی آواز آئی۔ فیوز کھینچنے کا کام شروع ہوا۔ ہم ہیلی کاپٹر تک پہنچے۔ ہیلی کاپٹر اُڑنے کے تھوڑی دیر بعد دھماکہ ہوا اور یہ قلعہ بھی بھڑک اٹھا۔