"مہناز فتاحی" کتاب "پناہگاہ بی پناہ" اور اُس کی تحریری کیفیت کے بارے میں کہتی ہیں

میں خود ہی اسناد تلاش کرنے پر مجبور تھی

فائزہ ساسانی خواہ
ترجمہ: سید مبارک حسنین زیدی

2017-03-14


"عروس ھای جنگ" اور "فرنگیس" نامی کتابوں کی مؤلفہ کی حال ہی میں "پناہگاہ بی پناہ" نامی  کتاب شایع ہوئی ہے۔ اس کتاب میں  کرمانشاہ کی ایک پناہگاہ پر صدامی افواج کے میزائل حملہ کو بیان کیا گیا ہے کہ جس میں ہمارے ۳۰۰ ہم وطن شہید اور زخمی ہوئے۔ "پناہگاہ بی پناہ" نامی اس کتاب کی بروز پیر، ۲۰ فروری ۲۰۱۷ کو کرمانشاہ میں اُسی پناہگاہ والی جگہ پر تقریب رونمائی ہوئی۔ کتاب کی رونمائی کی تقریب کے پروگرام کی فرصت سے ایران کی زبانی تاریخ کی ویب سائیٹ کے نمائندے نے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کتاب کے مؤلفہ مہناز فتاحی  سے ان کے اور اُن کی تحریری طریقہ کار کے بارے میں گفتگو کی۔

 

پہلے تو اس کتاب کی تقریب رونمائی کے بارے میں بتائیں اور بتائیں کہ تقریب کہاں اور کن حالات میں منعقد ہوئی؟

تقریب اُسی پناہ گاہ والی جگہ پر ۲۰ فروری کی شام ۴ سے ۶ بجے کے درمیان منعقد ہوئی۔ اصل میں یہ عمارت دفاع مقدس کی تاریخ کا ایک حصہ ہے۔ اُسی پناہگاہ کی تعمیر نو ہوئی ہے اور اُس کی بالائی منزل کا ایک حصہ، جہاں اس وقت دفاع مقدس کے تمام آثار جمع کئے جاتے ہیں۔ رونمائی کی تقریب اُسی بمباری شدہ پناہگاہ میں منعقد ہوئی اور خدا کا شکر ہے پروگرام بہت اچھا رہا اور لوگوں نے اُسے بہت پسند کیا۔  کتاب کے راویان آئے ہوئے تھے۔ اُس کی دلچسپ بات یہ تھی کہ  فائر بریگیڈ کا عملہ موجود تھا۔ چونکہ کتاب کے راویوں میں فائر بریگیڈ کا عملہ بھی ہے۔ عہدیداروں نے بھی بہت حوصلہ افزائی کی۔ بہت زیادہ متاثر کرنے والی تقریب تھی، کسی ایک راوی کی آواز نشر ہوئی، میری بھی باتیں تھیں جو میرے خیال سے موثر تھیں۔

پناہگاہ کے بارے میں ایک کلپ دکھایا گیا۔ پناہگاہ سے متعلق بچوں کا ایک گیت  نشر ہوا؛ ایسے بچے جنہوں نے اُس پناہگاہ کے بچوں کی طرح عید  کیلئے نئے لباس خریدے تھے اور پناہگاہ میں جمع ہوگئے تھے اور گیت گا رہے تھے۔ گیت – نمائش اور علامتی کام تقریباً جنگ اور زندگی کے بارے میں تھا۔ کتاب کی رونمائی ہوئی اور راویوں نے اپنی یادگار  تصویریں بنائیں۔

آرٹ گیلری کے اراکین اس تقریب کے مہمان تھے کہ جن میں سے مرتضی سرہنگی اور محمد قاسمی پور نے تقریر کی۔

جناب قاسمی پور نے کتاب کے بارے میں وضاحت کی۔ کتاب کے مختلف حصوں، راویوں اور کام کی سختی کے بارے میں بات کی۔ جناب سرہنگی نے بھی دلچسپی لینے والے افراد کی ٹریننگ اور کام نہ کئے جانے والے موضوعات پر کام کرنے کے بارے میں بات کی اور کہا کہ اچھے کام کو سرمایہ  گزاری اور مؤلفین کی حمایت کی ضرورت ہے۔ اسی طرح جناب سرہنگی نے کہا کہ روس جیسے ممالک میں جنگ کی ادبیات کو بہت اہمیت دی گئی ہے اور وہ اس کی اہمیت کے قائل ہیں۔ بوسنیا ہرزگوینیا میں ایسا ادارہ قائم کیا گیا ہے کہ جس ادارے کا کام جنگ سے مربوط واقعات  کو بیان کرنا اور اُن کی حفاظت کرنا ہے۔

ہمارے ملک کو اتنی زیادہ اہلیت اور موضوعات کے ساتھ دفاع مقدس کے معاملے میں ان سے زیادہ کارکردگی دکھانی چاہیے۔ ہمارے پاس چار، پانچ ایسے صوبے ہیں جہاں کام زیادہ ہوتا ہےجن میں سے ایک کرمانشاہ ہے۔ دفاع مقدس کی ادبیات میں فوجی مسائل کے ساتھ ساتھ انسانی منابعوں پر بھی کام ہونا چاہیے۔ جیسے ایران میں عراقی قیدیوں کے واقعات اور اُن کے ساتھ ہمارے مسئولین کا رویہ کہ میں خود قریب سے اُن سے ملا ہوں۔ وہ اپنے گھر والوں سے ملاقات کرتے اور ان کی بیویاں چند دنوں تک اُن کے ساتھ رہ سکتی تھیں۔ انہیں بہترین کھانے دیئے جاتے۔ یہ لمحات اور واقعات لوگوں تک منتقل ہونے چاہیے۔ اسی طرح جناب سرہنگی نے اشارہ کیا کہ مسئولین کو چاہیے کہ وہ دفاع مقدس سے تعلق رکھنے والے مصنفین کی مالی حوالے سے مدد کریں تاکہ وہ دوسرے مسائل سے ہٹ کر اپنی توجہات اس طرف مرکوز رکھیں۔ کرمانشاہ کے مصنفین کو بھی مسئولین کی حمایت اور توجہ حاصل ہونی چاہیے۔

پناہگاہ کے شہداء کی تصویری نمائش کہ جس میں زیادہ تر بچے تھے، کا اہتمام کیا گیا تھا۔ تقریب کے اختتام پر مہمانوں نے پناہگاہ کو اندر سے دیکھا۔ راویوں کی موجودگی میں پناہگاہ کے دورے میں دل دہلا دینے والے مناظر تھے۔ کوئی کہہ رہا تھا میری جگہ یہاں تھی، کوئی کہہ رہا تھا یہ واقعہ پیش آیا اصل میں اُن سالوں کے واقعات اُن کی نظروں کے سامنے آگئے تھے۔

جب میں ڈائس پر گئی تو میں صرف تقریر کرنا نہیں چاہتی تھی ۔ میں ہال میں موجود بعض افراد سے مخاطب ہوئی اور اس طرح سے ہوئی جیسے ان سے باتیں کر رہی ہوں اُن کے  گزرے واقعات کو بھی بیان کیا۔ جیسے میں نے کہا جناب ملک نگار عزیز آپ یہاں تشریف فرما ہیں بالآخر آپ کی زوجہ کی تصویر ایک کتاب میں چھپی اور آپ بھی یہی چاہتے تھے ، اب آپ خوش ہیں! ایک راوی کا انتقال ہوچکا  تھا، ہم نے اُس کی آواز کو نشر کیا جس میں میری اور اُس کی آواز تھی، ہال میں موجود لوگ بہت زیادہ متاثر ہوئے، چونکہ اس خاتون کے سات شہداء تھے۔ اُس کے چار نواسے، دو بیٹیاں اور داماد شہید ہوئے تھے۔ میں نے کہا محترمہ قربانی آپ چاہتی تھی کہ آپ کی آواز یہاں سے نشر ہو۔

 

جنگ کے کسی حادثے کا انتخاب اور اُسے بیان کرنا، ایک طرح سے زبانی تاریخ میں ورود ہے۔ کیا آپ پہلے سے جانتی تھیں کہ زبانی تاریخ میں کام کریں گی یا آپ کا مقصد صرف کرمانشاہ میں ہونے والے دفاع مقدس کے واقعات کو بیان کرنا تھا؛ وہ کونسا موضوع تھا جس نے آپ نے ذہن کو درگیر کیا تھا؟

میرا دل چاہتا تھا کہ میں اس داستان کو بیان کروں۔ یہ داستان ، ایک شخص کی داستان نہیں تھی، ایک جگہ کی داستان تھی۔ شروع سے میری نگاہ اس پر تھی کہ ایک یا دو راویوں کے ساتھ انجام دیا جائے جو کسی واقعہ یا داستان زندگی کی طرح بن جائے۔  لیکن شروع میں ہی جب میں نے مختلف دفتروں، اداروں یا حتی مختلف افراد سے رابطہ کیا کہ اُن میں سے کسی ایک راوی کا انتخاب کروں، تو میں متوجہ ہوئی کہ مجھے زبانی تاریخ میں جانا پڑے گا،  یعنی میں مجبور تھی کہ تحقیق کے ساتھ افراد کا انتخاب کروں اور اس بات پرتوجہ کرتے ہوئے کہ پناہگاہ کے بارے میں کوئی مکمل مأخذ موجود نہیں ہے  تو میرا اس وادی میں داخل ہونا ناگزیر ہوگیا۔ لہذا یہ کتاب زبانی تاریخ کے لحاظ سے بھی اور واقعات کے لحاظ سے بھی وجود میں آئی ہے۔ یعنی اس کا ایک  حصہ اسی اصلی روایت کو بیان کر رہا ہے اور کچھ حصہ واقعات کو بیان کر رہا ہے۔ اصل میں شروع سے میں یہ نہیں چاہتی تھی لیکن شروع سے ہی جب میں راویوں سے بات کرنا چاہتی تھی  تو میں نے جانتے پوچھتے اس طریقہ کو اپنایا۔

 

کام کا طریقہ اور روش کتنا واقعات پر مبنی اور کتنا زبانی تاریخ پر مبنی تھا؟

میں نے انہیں الگ کر دیا ہے، یعنی ایک حصے میں زبانی تاریخ کی صورت میں کام کیا ہے اور میں نے کتاب میں موجود اسناد اور دستاویزات کو ملحو ظ رکھتے ہوئے اسے الگ کیا ہے۔ میں نے کام پر تقریباً ایک کلی اور تحقیقی نگاہ  رکھی اور واقعات کو الگ ایک حصے میں لائی ہوں۔ کلیات کے حصے میں زبانی تاریخ ہے۔ البتہ یہ بات بتاتی چلوں کہ میں واقعات کے حصے کو زبانی تاریخ سے الگ نہیں سمجھتی۔ وہ داستان کی روایت ہے اور میرے پاس جو اسناد ہیں اُس کا بڑا حصہ ایسے افراد ہیں جن سے میں نے بات کی ہے؛ علاقے کے باعتماد لوگ، ریڈ کراس، فائر بریگیڈ و ... یہ لوگ خود ایک سند ہیں۔ ایسے لوگ جو خود اُس حادثے میں شریک تھے اور انھوں نے اپنے واقعات کو بیان کیا ہے جو واقعیت پر مبنی ہیں اور تحقیق کا ایک حصہ بھی یہی افراد ہیں۔

 

انٹرویو کے بارے میں موضوع کو کیسے تلاش کیا؟

میں نے اُسے بہت مشکل سے پیدا کیا۔ کسی بھی دفتر اور ادارے کے پاس ان  افراد کا صحیح ریکارڈ نہیں ،  نہ اُن کے صحیح نام ملیں گے، حتی وہ ادارے جو ان کام کے سرپرست تھے کسی کے پاس صحیح مأخذ نہیں۔ شاید آپ یقین نہ کریں،  لیکن میں نے گھر گھر اور ایک ادارے سے دوسرے ادارے جاکر جستجو کی اور ایسے لوگوں تک پہنچی اور واقعاً کرمانشاہ کےلوگوں نے میری مدد کی۔ میں نے جن لوگوں سے رجوع کیا انھوں نے خود بڑھ کر مجھے دوسرے افراد سے ملوایا۔

 

آپ نے جو انٹرویوز لئے تھے وہ  بامقصد تھے  یا انھوں نے موضوعات کی اُنہی یاد شدہ واقعات کی بنیاد پر روایت کی ؟

بامقصد تھے۔  میں چاہتی تھی اُن کی نگاہ اُس پناہگاہ کی ساخت  کی کیفیت کی طرف پلٹے، وہاں پر زندگی، بمباری والا دن اور اُن افراد کے داخل ہونے کی کیفیت جو پناہگاہ کے اندر تھے اور بمباری کے بعد داستان کو بیان کرنا۔ اتنے سال بیت جانے کے بعد اُن کے پاس اس واقعہ سے متعلق پراکندہ باتیں تھیں، میں نے انہیں مرتب کیا۔ اس طرح سے کہ اُنہیں پتہ چل گیا تھا کہ ایک جگہ اس روایت کو ختم کر دینا چاہیے۔

 

معلومات اکٹھی کرنے کے بارے میں وضاحت کریں۔ افراد کو جائے وقوعہ پر لے گئیں یا انہیں تصویر یا اُن سب کی ایک ساتھ گفتگو سے اُنہیں انٹرویو کی ترغیب دلائی؟

میں نے مختلف طریقوں سے کام کیا۔ ایسا نہیں تھا کہ میں نے سب کیلئے ایک طریقہ کار اپنایا ہو۔ مثلاً جناب ملک نگار دوکاندار تھے، لیکن وہ کسی بھی صورت میں تعاون کرنے پر راضی نہیں تھے، میں جاکر اُن کی پھلوں کی دکان پر بیٹھ جاتی اور اُس حادثہ کے بارے میں بات کرنے لگتی۔ یعنی میں بہت سے لوگوں کیلئے وہاں جانے پر مجبور ہوئی جس جگہ وہ لوگ موجود تھے۔

ایک ایسی گلی تھی جس کے چند افراد شہید ہوئے  تھے،  پہلے جس گھر کو میں نے شناخت کیا، گھر والوں نے میری مدد کی، اُسی گھر کی خاتون جاکر دوسری خاتون کو بلا لائی اور ہم نے وہاں اُن سے بات چیت کرلی۔ بعض دفعہ ہم نے کچھ لوگوں سے طے کیا کہ وہ لوگ آرٹ گیلری یا دفتر کی عمارت میں آجائیں۔ بعض لوگوں کے حالات ایسے نہیں تھے کہ ہم اُن کے گھر جاتے، آپ جانتے ہیں کہ یہ محروم اور محتاج گھرانے ہیں، اس لئے بعض لوگوں کو دفتر میں لایا گیا اور ہم نے ان سے سند چاہی جو ان کے پاس نہیں تھی۔

میں خود ہی اسناد تلاش کرنے پر مجبور تھی۔ مثلاً مجھے بمباری سے پہلے پناہگاہ کی تصویر درکار تھی یا بمباری کے دوران کی تصویر، میں نے کرمانشاہ  کے ریڈیو ، ٹی وی کے ادارے کی محفوظ شدہ دستاویزات کو تین دن تک جاکر دیکھا۔ بعض لوگوں سے طے کرنے کیلئے مجھے اُن کے دفاتر جانا پڑا، جیسے فائر بریگیڈ، فوج کے ۵۲۰ ہسپتال اور ہلال احمر کے راوی تھے؛ میں اُسی دفتری ماحول میں اُن کے پاس گئی۔ البتہ بعض جگہوں پر تحفظ اور امنیت کا سوال بھی تھا کہ ہم تقریباً تیس سال بعد  کیوں اس واقعہ کے پیچھے لگے ہوئے ہیں اور ان سوالوں کو اٹھا رہے ہیں، کیوں پناہگاہ کے اردگرد چکر لگا رہے ہیں؟!

مشکلات اور روکاوٹیں،  انتہائی زیادہ تھیں، جیسے گھرانوں کا تعاون کرنے سے انکار کردینا، میں نے شہداء کے گھرانوں سے بہت رجوع کیا لیکن وہ تعاون کیلئے راضی نہیں تھے۔ لیکن ہر صورت میں تحقیق کا طریقہ کار یہ تھا کہ آرٹ گیلری کی طرف سے کوئی نامہ یا ہمارا دفاتر سے رابطہ تھا یا افراد سے اور گھر گھر تحقیق کی صورت میں۔ وہاں کے ایک دو علاقائی لوگوں نے بھی مدد کی، حتی ان میں سے ایک کی دکان تو انٹرویو کا مرکز بن گئی کہ بعض لوگوں کا انٹرویو ان صاحب کی دوکان پر لیا جائے۔ چونکہ وہ کام کی شرائط اور اہمیت کو سمجھ رہا تھا، ہمارے ساتھ تعاون کر رہا تھا۔

میں یادداشت لکھنے کی عادی ہوں۔ میں بچپن سے اپنی یادداشتیں لکھتی ہوں، میں نے  جنگ کے زمانے کی یادیں  بھی لکھی ہیں، لیکن محال ہے کہ میں نے کوئی کتاب لکھی ہو اور اُس کیلئے تحقیق انجام نہ دی ہوں۔ میں نے ہر کتاب لکھنے کیلئے تحقیق کی ہے۔ مثلاً کتاب فرنگیس کیلئے، جس میں یادوں کا بیان ہے، میں نے تقریباً ۳۰ لوگوں سے بات کی ہے۔ میں نے اُس سرزمین کی تاریخ کو پڑھا، میں اُس شہر کے آداب اور رسومات سے آگاہ ہوئی، سمجھنے اور یاد کرنے کیلئے وہاں کے لوگوں کی لوریوں کو سنا، یعنی ماحول کو پہچاننے کیلئے میں نے تحقیق کی اور پھر لکھا۔ میں اپنے واقعات کیلئے بھی حتماً جنگ کی تاریخ پڑھتی ہوں اور دہراتی ہوں، یعنی میں چاہتی ہوں ہر کام کی پیچھے حتماً علمی سرمایہ ہو اور میں واضح نگاہ کے ساتھ اُس فضا میں قدم رکھوں۔

 

جیسا کہ میں متوجہ ہوئی  آپ کے مورد نظر راوی دو حصوں میں تقسیم ہوتے ہیں، ایک وہ لوگ جو پناہگاہ میں تھے اور دوسرے وہ لوگ جو وہاں مدد کیلئے گئے تھے؛ ایسا ہی ہے ناں؟

جی، بالکل۔ یعنی میں نے ہلال احمر اور فائر بریگیڈ سے اسی لئے رابطہ کیا تھا۔ جب میں نے کام کا آغاز کیا تو میں نہیں چاہتی تھی کہ کسی ایسے شخص کی زبان سے روایت کروں جو پناہگاہ میں موجود تھا۔  شاید کیمرے کی  آنکھ جو ہر چیز سے آگاہ ہوتی ہےمیں چاہتی تھی کہ پناہگاہ کی روایت ہر چیز سے آگاہ اور چاروں طرف سے ہو؛ جو پناہگاہ کے اندر تھا، جو پناہگاہ کے پاس اپنے گھر میں تھا، علاقے میں پھل بیچنے والے اور پہلا وہ آدمی جو وہاں بمباری کی طرف متوجہ ہوا۔ وہ پناہگاہ میں کیسے داخل ہوئے، زخمیوں کو کیسے نجات دی، ۵۲۰ ہسپتال میں کیا ہوا اور کس طرح ۳۰۰ لوگوں کو ایڈمٹ کرلیا؟

 

جو لوگ پناہگاہ کے اندر تھے وہ کتنے گرووہوں  میں تقسیم ہوئے؟   

پناہگاہ سے باہر نکلنے کے تین راستے تھے، ایک دروازہ تو مکمل طور پر تباہ ہوجاتا ہے، ایک راستہ کھلا ہوا تھا اور لوگ وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہوئے اور ایک روشندان تھاکہ جو لوگ اس راستے میں تھے وہ پگھل گئے، چونکہ میزائل وہیں سے اندر آ رہا تھا۔ عورتوں نے حادثے کو کس طرح دیکھا؟ مردوں نے کس طرح دیکھا؟ اُس پناہگاہ میں موجود بچے  اُس واقعے کو کس طرح یاد کرتے ہیں اور اُسے کس طرح کا پایا؟ بمباری سے پہلے پناہگاہ کس طرح کی جگہ تھی؟ کیا واقعی یہ پناہگاہ ان بچوں کے کھیلنے اور تفریح کی جگہ تھی اور اُن کی زندگی پرسکون تھی۔ انھوں نے عید کے لباس خرید لئے تھے، انھوں نے عید کا سبزہ بھی سب کو دکھایا تھا، آپس میں بات چیت کر رہے تھے۔ ایسا لگتا ہے یہ فلم ایک پناہگاہ کی ولادت سے شروع ہوتی ہے اور یہ کہ کس طرح تعمیر ہوئی۔ لوگوں نے بھی اس طرح کی روایت کی ہے اور یہ کہ اس پناہگاہ نے بمباری ہونے والے دن تک کیسے موضوع چھوڑے ہیں اور اُس بمباری کے بعد کیا حادثہ پیش آیا؟

 

ظاہراً آپ کے پاس کتاب کے موضوع کے بارے میں کوئی مأخذ اور حوالہ نہیں تھا، آپ نے پہلا قدم کیسے اٹھایا؟

میں نے انٹرنیٹ میں تلاش کیا۔ میں نے دفاع مقدس کی اقدار اور آثار کی حفاظت کرنے والے دفتر میں رجوع کیا جو پناہگاہ والی جگہ پر واقع ہے۔ یعنی وہ جگہ جہاں پہلے پناہگاہ تھی اور اب تعمیر ہوچکی ہےاور اُس کے بالائی طبقے میں کرمانشاہ کے دفاع مقدس کی اقدار اور آثار کی حفاظت کرنے والوں کا دفتر ہے۔ حتی میرا وہاں رجوع کرنا بھی فائدہ مند نہیں رہا اور اُن کے پاس بمباری سے پہلے کی ایک بھی تصویر نہیں تھی۔ شہداء کی دقیق اسامی نہیں تھی۔ اسی طرح کہ اب بھی ریڈیو، ٹی وی یا دوسری جگہوں سے جہاں اس موضوع پر کام ہو رہا ہے، مجھ سے رابطہ کیا جاتا ہے اور وہ مجھ سے اس موضوع سے مرتبط افراد کا رابطہ نمبر مانگتے ہیں! اور میری کتاب پر توجہ کرتے ہوئے جو ابھی صحیح سے تقسیم نہیں ہوئی ہے فلم کا ایک سلسلہ بنا رہے ہیں۔

 

آپ نے جو معلومات اکٹھی کی تھیں اُنہیں کس طرح علیحدہ کیا؟ کیا تمام معلومات قابل استفادہ تھیں؟

جی۔ہمارا کتاب میں ۳۵ راویوں سے سامنا ہوتا ہے، لیکن میں نے تقریباً ۱۰۰ لوگوں سے انٹرویو لیا تھا کہ یا تو اُن کی آواز ریکارڈ کی تھی یا ہم نے کسی دوسری شرائط میں اُن سے بات چیت کی تھی۔ میں حتی گاڑی میں بیٹھتے وقت بھی لوگوں سے بات کررہی ہوتی اور لوگوں سے گفتگو کے دوران وہ مجھ سے کہتے ہم فلاں محلے میں فلاں شخص کو پہچانتے ہیں جس کے ساتھ فلاں حادثہ پیش آیا تھا۔ یعنی ایک طرح سے شہر کے تمام لوگوں راوی تھے۔ میں یہ دیکھنا چاہتی تھی کہ جو میں روایت کر رہی ہوں وہ اُن کی نظر میں صحیح ہے؟ اور میں نے دیکھا کہ جو واقعہ میرے راوی نے بیان کیا وہ لوگوں کی باتوں سے میل کھاتا ہے۔ میں نے بہت سی تصویریں جمع کیں لیکن استفادے کے قابل نہیں تھیں یا تو تکراری تھیں یا قابل استفادہ نہیں تھیں۔

 

اس حادثہ کے بارے میں عورتوں کی روایت زیادہ ہے، کوئی خاص وجہ ہے؟

پناہگاہ میں معمولاً خواتین اور بچے زیادہ تھے، مرد بھی جاتے تھے، لیکن عورتوں اور بچوں کی تعداد، بالخصوص بچے زیادہ تھے، لیکن اُس دن اور شہر میں بمباری کی اُن سخت شرائط میں، چونکہ صبح میں بھی پناہگاہ پر بمباری ہوتی ہے، اسی وجہ سے مردوں کو داخل ہونے روکا گیا، حتی راویوں میں سے ایک جو مرد ہے جب اس نے داخل ہونا چاہا تو اُسے اجازت نہیں دی اور کہتے ہیں کہ آج بہت رش ہے اور اسے داخل ہونے نہیں دیا۔ وہ جھگڑا کرتا ہے اور کہتا ہے: " مجھے کیوں پناہگاہ میں آنے نہیں دے رہے؟" کہتے ہیں: "تمہیں پناہگاہ میں موجود عورتوں سے شرم نہیں آتی؟ تم ایک مرد ہو!" بعد میں وہی مرد پناہگاہ میں داخل نہ ہونے کی وجہ سے زندہ بچ جاتا ہے اور اس کا ایک کان زخمی ہوتا ہے اور وہ اپنی سماعت سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔

 

آپ کے خیال میں اس کتاب کا ہماری زبانی تاریخ میں کیا  مقام و مرتبہ ہے؟اوراس کتاب کی اشاعت کے بعد آپ کس بات کی اُمید رکھتی ہیں؟

یہ کتاب، ایک آدمی کی یادوں پر مشتمل نہیں، اس میں  ایک بڑے واقعہ کی روایت کیلئے ایک شہر کو اکٹھا کیا گیا ہے۔ پناہگاہ میں بمباری کا واقعہ ۱۶ مارچ ۱۹۸۸ء کو پیش آتا ہے، یعنی حلبچہ میں کیمیائی بمباری کے فوراً ایک دن بعد۔ اتفاقاً میرے لئے بھی یہ ایک سوال تھا کہ اس طرح کی کتاب کو جلدی کیوں نہیں لکھا گیا؟

اس کی ایک دلیل یہ ہے کہ حادثہ حلبچہ کے حجم کی وجہ سے، ایک دن بعد کرمانشاہ میں پیش آنے والے حادثے پر کم توجہ دی جاتی ہے۔ شہر کے بہت سے خبرنگار کہہ رہے تھے کہ ہم اُس وقت حادثہ حلبچہ کیلئے اکٹھے ہو رہے تھے اور کرمانشاہ کے لوگوں نے تقریباً تیس سال کے اس عرصے میں مظلومانہ زندگی بسر کی۔ میرے خیال میں اس کتاب کی اہمیت بہت زیادہ ہے اور اس بڑے قومی حادثے کی داستان کو اس سے پہلے بیان کرنا چاہیے تھا۔

بین الاقوامی  قوانین کے تحت غیر فوجی پناہگاہوں پر بمباری نہیں ہونی چاہیے اور اُن پر بمباری جرم سمجھا جاتا ہے۔ جنگ کے زمانے میں اس موضوع کو بالکل نہیں اٹھایا گیا۔ مجھے نہیں معلوم اقوام متحدہ اس حادثے کے بارے میں کتنی آگاہ ہے اور انشاء اللہ آئندہ تحقیقات میں مشخص ہو۔ اس پناہگاہ میں ۳۰۰ لوگ شہید اور زخمی ہوئے ، کوئی چھوٹا حادثہ نہیں ہے۔

یہ جگہ میرے شہر کے لوگوں کے دل میں ہے ، انھوں نے اس کام کو پسند کیا اور اس حادثہ کی وجہ سے متاثر ہیں، وہ خوش ہیں کہ اُن کی کتاب شائع ہو رہی ہے۔ یہ کتاب میری کتاب نہیں ہے، ایک شہر کی کتاب ہے؛ اس پر توجہ کرتے ہوئے کہ حادثہ بڑا تھا اور اس میں ہلا دینے والی روایات موجود ہیں۔ ان میں سے ایک روایت ایک ایسی خاتون کی ہے جس کی دو بیٹیاں، چار نواسے اور داماد اس حادثے میں شہید ہوئے۔ مجھے امید ہے کہ کتاب اپنے مقام کو حاصل کرلے اور میں اسے ا س مقام کے لائق سمجھتی ہوں۔

 

"عروس ھای جنگ" نامی کتاب (آپ کی ایک اور کتاب) میں بھی راوی ایک نہیں ہے اور اس کا موضوع خواتین اور نئی دلہن بننے والی لڑکیاں ہیں۔ طریقہ کار کے اعتبار سے یہ کتاب اُس سے کتنی مشابہت رکھتی ہے اور اُس سے کتنی علیحدہ ہے؟

"پناہگاہ بی پناہ" نامی کتاب تحقیقی صورت میں ہے، خود پر گزرا واقعہ، لیکن اُس میں صرف یادیں ہیں۔ ہم نے آٹھ دلہنوں کا انتخاب کیا تھا، لیکن دلہنیں جنگ کو تین مختلف زاویوں سے دیکھتی ہیں؛ ایک ایسی دلہن جس کا شوہر شہید ہوچکا ہے، ایسی دلہن جس کا شوہر  گمشدہ ہے اور وہ ابھی تک انتظار میں ہے اور ایسی دلہن کہ جس کا شوہر محاذ پر جاکر اسیر ہوا اور اب واپس آچکا ہے۔ لہذا ان کی نگاہیں مختلف ہیں اور ہم نے دلہنوں پر پڑنے والے صدمے جنہیں بھلا دیا گیا ہے، کو بیان کی ہے۔

 

آپ کے پاس کوئی نیا کام ہے؟

میں اپنی یادوں کو لکھ رہی ہوں؛میں ادبی دفتر اور مزاحمتی آرٹس کیلئے کام کرتی ہوں۔ میری پیدائش سے لیکر نوجوانی، یعنی جنگ کے اختتام تک مشتمل ہے۔  اس کتاب میں بچگانہ نگاہ ہے۔ ایسی بچی کے واقعات ہیں جسے واقعات کے درمیان متعارف کروایا گیا اور جو سرحدی علاقے میں زندگی بسر کرتی ہے۔ جنگ کا آغاز ہوتا ہے اور اور اس بچی کیلئے اس راستہ میں جو مشکلات کھڑی ہوتی ہیں، وہ بیان ہوئی ہیں۔ وہ جو کام انجام دیتی ہے شجاعت اور بے خوفی کے ساتھ، ہلال احمر اور بسیج میں جاتی ہے، اسلحہ چلانا سیکھتی ہے اور مختلف حادثات میں درگیر ہوتی ہے ، حقیقت میں جنگ متعارف ہو رہی ہے کہ یہ سب باتیں دراصل میری اپنی شخصیت ہے۔

 

آپ کرمانشاہ میں یاد داشت لکھنے کی کیفیت اور دفاع مقدس کی زبانی تاریخ کے بارے میں کیا تشخیص دیتی ہیں؟

جناب سرہنگی نے بہت مدد کی، لیکن کرمانشاہ کے بارے میں جو کام کا حق تھا وہ ادا نہیں ہوا۔ جنگ ہمارے صوبے سے شروع ہوتی ہے اور مرصاد آپریشن کے ساتھ ہمارے صوبے میں ختم ہوتی ہے۔ بے تحاشا موضوع اور زبانی تاریخ میں کام، یادیں اور داستانی صورت میں زندگی نامے موجود ہیں، لیکن چونکہ ارادہ اور کوشش نہیں ہے اور حساب شدہ سرمایہ گزاری نہیں ہو رہی ہے، کام صحیح سے آگے نہیں بڑھ پا رہا۔ دو، تین سالوں سے کوشش کر رہے ہیں کہ سربراہوں کی کانگریس اور اور دوسری جگہوں پر کوئی کام انجام دیں اور سرمایہ گزاری کریں، لیکن ایک ایسی ریل گاڑی کی طرح ہے جو ابھی چلنے والی ہواور اپنا پہلا قدم اٹھا رہی ہو۔ کچھ کتابیں بھی سامنے آئی ہیں۔ انشاء اللہ دلچسپی رکھنے والے نئے افراد آئیں، سیکھیں اور کام کریں۔ 


سائیٹ تاریخ شفاہی ایران
 
صارفین کی تعداد: 240


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
جنوبی محاذ پر ہونے والے آپریشنز اور سردار عروج کا

مربیوں کی بٹالین نے گتھیوں کو سلجھا دیا

سردار خسرو عروج، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے چیف کے سینئر مشیر، جنہوں نے اپنے آبائی شہر میں جنگ کو شروع ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔
لیفٹیننٹ کرنل کیپٹن سعید کیوان شکوہی "شہید صفری" آپریشن کے بارے میں بتاتے ہیں

وہ یادگار لمحات جب رینجرز نے دشمن کے آئل ٹرمینلز کو تباہ کردیا

میں بیٹھا ہوا تھا کہ کانوں میں ہیلی کاپٹر کی آواز آئی۔ فیوز کھینچنے کا کام شروع ہوا۔ ہم ہیلی کاپٹر تک پہنچے۔ ہیلی کاپٹر اُڑنے کے تھوڑی دیر بعد دھماکہ ہوا اور یہ قلعہ بھی بھڑک اٹھا۔