فوجی کمانڈرز کی مستند روایت کے مطابق

حاج احمد متوسلیان کی سربراہی کی یادگار باتیں

جعفر گلشن روغنی
ترجمہ: سید مبارک حسنین زیدی

2017-03-08


"فرماندہان" ایک ایسے مجموعے اور ڈاکیومنٹری فلموں کا سلسلہ ہے جس کے ہدایت کار علی حمید اور یاسر انتظامی ہیں، اس میں عراق کی ایران پر مسلط کردہ آٹھ سالہ جنگ میں بریگیڈ اور بٹالین کی سطح کے  سربراہوں کا تعارف، اُن کے حالات، اور اُن کی کارکردگی کو بیان کیا جاتا ہے۔ یہ پروگرام ایرانی ٹی وی  کے ڈاکیومنٹری چینل سے ۲۰۱۶ء کے آخر تک منتشر ہوا ہے اور ایسے سربراہوں سے مخصوص ہے جو جام شہادت نوش کرچکے ہیں اور اب ان کی کوئی خبر نہیں لیکن اُن سربراہوں کی سوانح حیات، رویوں، کردار، گفتگو اوراُن کے حالات، حوصلے اور جنگی طریقہ کار بہت سے دوستوں، قریبی افراد، جاننے والوں، رشتہ داروں ، گھر والوں اور جنگی ساتھیوں کی آنکھوں میں ہمیشہ کیلئے باقی رہ گئے ہیں۔

اس پروگرام میں کوشش کی جاتی ہے کہ ہر قسط میں اس طرح کے کسی ایک نمایاں سربراہ کی سوانح حیات کو پیش کیا جائے اور اُن کی زندگی کی ابتداء سے شہادت کے زمانے تک  فوجی اور غیر فوجی ، گھریلو دستاویزات، حکومتی، ریڈیو ، ٹی وی اور انفرادی اور اجتماع میں موجود مستند تصاویر، حتی وائرلیس کے ذریعے کی گئی اُن کی باتیں اور جو گفتگو موجود ہے،  عینی شاہدین اور ٹھوس اور حقیقی شواہد کے ذریعے اُن کی زندگی کے طریقہ کو بیان کریں۔ اس طرح پرگروام کے تصویری محتوا سے بخوبی آگاہ ہوا جاسکتا ہے اور اُس کے مخاطب پر اثر ہونے کا معیار معلوم ہوسکتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں کہا جائے کہ پھر مخاطب کو ایسے افراد کی معلومات کیلئے متن پڑھنے کی ضرورت نہیں رہتی، بلکہ ایک ساتھ تصویریں دیکھنے اور آوازیں سننے سے اُسے ایک خاص اور زندہ شناخت حاصل ہوجاتی ہے۔

قابل ذکر بات ہے کہ بے شک اس طرح کے آثار میں ان افراد کی سوانح حیات کے بیان کی اصل وجہ  تحریری منابع سے مقایسہ کرنا ہے، ایسی مستند تصاویر کو دکھایا جاتا ہے جو اُن کی زندگی کے زمانے اور اُن کے جنگی محاذ سے تہیہ کی گئی ہیں اور یہ تصویریں ہر طرح کی تحریر سے بڑھ کر ہیں اور مخاطبین کو ایسی تحریر فراہم کرتی ہے کہ مخاطبین اس سے جو معلومات اور اطلاعات حاصل کرتے ہیں، وہ قابل وصف نہیں ہیں۔

 

انقلاب کی کامیابی تک

اس ڈاکیومنٹری پرواگرام کی پہلی قسط کا تعلق حاج احمد متوسلیان سے ہے جس میں  تقریباً ۳۰ منٹ تک اُن کے حالات کو بیان کیا جاتا ہے۔ ہدایت کار اور اُن کے گروپ نے اُن کی باقیماندہ مستند تصویروں سے استفادہ کرنے کے علاوہ ،  اُن کی بہتر شناسائی کیلئے چند شخصیات کے واقعات سے بھی استفادہ کیا ہے، لہذا ہدایت کار زبانی تاریخ کے احاطہ میں قدم رکھتا ہے۔ سپاہ پاسدران کے حالیہ سربراہ محسن رضایی،  جنگی ساتھی شہید حاج حسین ہمدانی، بڑے بھائی محمد متوسلیان اور جنگی ساتھی جعفر جھروتی زادہ جو ۲۷ ویں محمد رسول اللہ (ص) بریگیڈ کے ہمراہ لبنان بھیجے گئے، ان افراد نے اپنے واقعات میں جناب متوسلیان کے بارے میں بتایا۔ مزید یہ کہ ہدایت کار نے منابعوں سے استفادہ کرتے ہوئے، تصویروں کے ساتھ محمد حسین محمودیان کی نرم اور محبت آمیز آواز میں حاج احمد متوسلیان کے حالات کو بیان کیا ہے تاکہ متوسلیان کے حالات بیان کرنے کے ضمن میں اُن کا دھیان اِن کی طرف رہے۔

فلم کا آغاز حاج احمد کے ہاتھ میں وائرلیس والی تصویر اور اُن کی وائرلیس والی آواز (جگہ اور وقت کا ذکر کیئے بغیر) کے ساتھ شروع ہوتی ہے: "سلام علیکم، حاجی صاحب سلام علیکم۔ آپ خیریت سے ہیں۔ وہ افراد اُس بلندی پر خدا کی مدد سے بہترین طریقے سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ دشمن کی تقریباً دو بکتر بند بٹالینز کو نابود کردیا ہے اور ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ دیا ہوا ہے۔ البتہ اُن میں سے دو۔ [ناصر] کاظمی اور حسین [ہمدانی] آگے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔"

اس کے بعد فلم کا راوی، کچھ دوسری تصاویر  دکھاتے ہوئے اُن کا اس طرح تعارف کرواتا ہے: "حاج احمد، ایک ۳۰ سالہ جوان تھے۔ ابھری ہوئی ہڈیوں اور چوڑے جبڑے کے ساتھ۔ گھنٹی داڑھی اور ایسی ناک کہ صاف ظاہر تھا کہ وہ باکسنگ کے مکوں سے ٹوٹ کر دوبارہ جڑی گئی ہے۔  باعظمت۔ بہت زیادہ اصول پسند۔ تھوڑا سا ضدی البتہ اس کے ساتھ بہت ہی جذباتی۔ یہ احمد تھا۔ احمد متوسلیان۔ سن ۱۹۵۳ء میں پیدا ہوا تھا۔ ٹینیکل کالج سے الیکٹریکل شعبہ میں ڈپلومہ ہولڈر تھا۔"

سب سے پہلے اُن کے بھائی محمد متوسلیان کے واقعات کو سنا گیا، جو اُن کے تعلیمی زمانے کو اس طرح یاد کرتے ہیں:"وہ مجھ سے ڈھائی سال چھوٹا تھا۔ وہ اُسی اسکول میں پڑھتا تھا میں جس  کے بارے میں  بتا چکا ہوں؛ (مصطفوی)،  تعلیمات اسلامی کے [جامعہ مدارس کا حصہ] تھا کہ بعد میں اسی اسکول کے پرنسپل نے شاہراہ ایران پر علوی اسکول کی بنیاد رکھی۔ ہم وہاں تھے۔ ہم سب بھائیوں نے وہیں پر تعلیم حاصل کی۔"

قدیمی تہران کی مستند تصاویر کی نمائش کے ساتھ راوی نے اُن کے حالات بیان کرنے کو اس طرح جاری رکھا:"وہی زمانہ تھا جب وہ شاہی حکومت کا مقابلہ کرنے والی صفوں سے جاملا۔ ڈپلومہ کرنے کے بعد  اُسے فوجی خدمات کیلئے شیراز کی بکتر بند بریگیڈ میں بھیج دیا گیا۔ لیکن اُس نے فوجی خدمات کے دوران بھی مخالفت کو جاری رکھا۔ ٹیکنیکل ڈپلومہ ہولڈر تھا، اسی لئے  جیسے ہی فوجی خدمات ختم ہوئیں وہ خرم آباد کی ایک انڈسٹریل کمپنی  میں کام کرنے چلا گیا۔ لیکن کمپنی میں اس کا اصل کام انقلابیوں کی مدد کرنا تھا۔ ۷۰ کی دہائی کے ابتدائی سالوں میں احمد کی مخفیانہ کاروائیاں تہران اور لرستان میں تھیں۔ یہاں تک کہ بالآخر ستمبر ۱۹۷۸ء آگیا اور ساواک کو ماجرے کا علم ہوجاتا ہے اور وہ احمد کو خرم آباد میں گرفتار کرلیتی ہے۔"

بھائی: "ہم ایک عرصے تک ٹیلیفون کے ذریعے ان سے بے خبر رہے، جب ہم نے جستجو کی اور مرحوم والد کے ساتھ خرم آباد گئے۔ تو پوچھ گچھ کے بعد پتہ چلا کہ انہیں ساواک نے گرفتار کرلیا ہے اور وہ جیل میں ہیں۔"

راوی: "احمد نے ۳ مہینے تک ساواک کی صعوبتیں برداشت کی کہ بالآخرانقلاب کی کامیابی کے وقت وہ ایک حادثہ کے نتیجے میں جیل سے آزاد ہوجاتا ہے۔"

بھائی: "انقلاب کا جوش و خروش بڑھ چکا تھا اور بہت سے جیلوں کے دروازے کھل گئے۔ لوگ آزاد ہوئے۔ جن میں سے حاج احمد خرم آباد کے (فلک الافلاک) جیل میں قید تھا،  اس جیل کے دروازے کو بھی عوامی طاقت نے کھول دیااور یہ وہاں سے بھی آزاد ہوئے اور پھر تہران واپس آگئے۔"

کردستان میں

راوی:"انقلاب کی کامیابی کے بعد وہ کمیتہ میں چلے گئے اور تہران میں سپاہ بنانے والے اہم رکن بن گئے۔  لیکن ان کی کارکردگی شروع ہوئے زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ انقلاب مخالف کوملہ اور ڈیموکریٹک پارٹیوں نے کردستان میں اپنی مجرمانہ حرکات شروع کردیں۔"

اب یہاں پر ہدایت کار حاج احمد کی گفتگو اور اُن کی قیمتی اور مستند تصاویر کو کیمرے کے سامنے رکھ کر، مسئلہ کردستان اور وہاں پر موجود انقلاب مخالف پارٹیوں کے بارے میں اُن کی رائے کو خود اُن کی زبانی اس طرح بیان کرتا ہے: "کردستان کا مسئلہ خود  کسی خاص عنوان سے مربوط نہیں  تھا اور جو بھی تھا وہ بین الاقوامی سطح پر اسلام کے خلاف مقابلہ تھا۔ اور سنندج کے بعد مریوان میں جو حکومت پر قبضہ کرنے والوں جیسے رزگاریوں [۱] کی چھاؤنی رہی اور مریوان کے بعد سقز، بانہ، سردشت اور ان سب پر قبضہ ہوجاتا ہے۔ اور انقلاب مخالف آخری مرکز یعنی مہاباد کی نوبت آجاتی ہے۔ فوج اور سپاہ مکمل کامیابی کے ساتھ مہاباد میں داخل ہوتے ہیں اور فوج اور سپاہ کے مہاباد میں داخل ہونے کے بالکل دو دن بعد ہماری فساد کے کیڑے اور سامراجیت کے غلام عراق [صدام کے دور میں] سے باقاعدہ جنگ شروع ہو جاتی ہے۔ اس سلسلے میں کردستان کے مسائل کا سامراجیت سے مربوط ہونا سب کیلئے واضح ہوجاتا ہے کہ جب علاقے میں اُن کی آخری چھاؤنی نابود ہوتی ہے، تو وہ اس دفعہ مستقیم جنگ کی صورت میں اپنا مکروہ چہرہ ظاہر کرتے ہیں۔"

راوی:  سن ۱۹۸۰ء میں بہار سے لیکر گرمیوں تک کا فاصلہ جنگی توازن بدلنے اور انقلاب مخالفین اور عراقی افواج پر احمد اور اُس کے فوجیوں کے بیدردانہ حملوں کا دور تھا۔ ایسا دور جس میں احمد اور سپاہ مریوان کے پاسداروں کو کچھ عظیم فتوحات حاصل ہوئیں۔ اُس زمانے میں پاوہ اور مریوان کی سپاہ کو ایسے لوگوں نے تشکیل دیا تھا جو نزدیک اور دور کے شہروں سے رضاکارانہ طور پر کردستان کے بے رحمانہ اورسخت ترین شرائط میں جنگ کرنے آئے تھے  اور محمد بروجردی کے زیر نظر لڑ رہے تھے جو پورے علاقے کا سربراہ تھا۔ پاوہ کی سپاہ کا سربراہ ابراہیم ہمت تھا اور مریوان کی سپاہ کا سربراہ احمد متوسلیان۔ اور محمود شہبازی کی سربراہی میں ہمدان کے دلاوروں کا  بھی ایک گروپ تھا جو رضاکارانہ طور پر مختلف شہروں سے آئے ہوئے سپاہیوں کے ساتھ احمد کے زیر نظر تھا۔"

تقریباً ۸ منٹ کی فلم گزر جانے کے بعد، سپاہ پاسدران کے حالیہ سربراہ محسن رضائی اور حاج احمد کے جنگی ساتھی شہید حاج حسین ہمدانی کی موجودگی میں، اُن  کے واقعات میں اس کی بات ہوئی۔ پہلے رضائی نے گفتگو کا آغاز کیا: "جب ہم کردستان کے حصوں میں احمد متوسلیان کی موجودگی کو [غور کرتے ہیں] دیکھتے ہیں تو احمد نے کردستان کے تقریباً  دو تہائی حصوں میں جاکر کاروائی کی اور انقلاب مخالفین سے جنگ لڑی۔"

پھر شہید حاج حسین ہمدانی کہتے ہیں: "جو لوگ مریوان اور اُس کے اطراف کے علاقے آزاد کرانے میں گروپس یا ۵۰ لوگوں اور ۱۰۰ لوگوں کے گروہ کے سربراہ تھے، وہ کون لوگ تھے؟ مثلاً کریمی تھا، جو بعد میں ۲۷ ویں حضرت رسول (ص) ڈویژن کا سربراہ بن جاتا ہے، رضا چراغی تھا، قجہ ای تھا، حاجی پور تھا، قہرمانی تھا۔ یعنی یہ لوگ ۲۷ ویں بڑے ڈویژن کے سربراہان تھے جو فتح المبین، بیت المقدس، جنوب لبنان آپریشنز اور رمضان آپریشن اور اس کے بعد والے آپریشنوں میں ۲۷ ویں ڈویژن کے کلیدی اور اصلی عناصر کا حصہ تھے۔ ان کی تربیت کہاں ہوئی، مریوان میں۔"

 

۲۷ ویں بریگیڈ کی تشکیل کی کیفیت

کیمرے کے سامنے حاج احمد کی گفتگو کا دوسرا حصہ  (سن ۱۹۸۱ء ) جب وہ اپنے فوجیوں کے ساتھ بیٹھے ہیں اور اُن کا فوجی بیگ اُن کی پیٹھ پر  ہے، اس طرح ہے:" ابھی آپ لوگ خود شاہد ہیں کہ ہم اوپر سے نیچے  کی طرف دیکھ رہے ہیں  اور عراق کے شہر، چھاؤنیاں، چوکیاں ہماری نظروں کے سامنے ہیں اور ہم مکمل طور پر اُن کی رفت و آمد کو کنٹرول کرسکتے ہیں  اور اُن کا دقیق اندازہ لگا سکتے ہیں، اس طرح سے کہ دَلین چھاؤنی یعنی خُرمال چھاؤنی میں کچھ نہیں بچا ہے۔"

آگے چل کر ۲۷ ویں محمد رسول اللہ (ص) بریگیڈ کی تشکیل کی کیفیت اور حاج احمد کے کردار کو بیان کیا جاتا ہے۔

راوی: "یہی وقت تھا جب آہستہ آہستہ احمد اور ہمت کی مستقل بریگیڈ تشکیل دینے کی صدائیں بلند ہوئیں۔ لیکن ۲۷ ویں بریگیڈ کی تشکیل کا معاملہ  سن ۱۹۸۱ء کی سردیوں کے بعد طریق القدس آپریشن کی طرف پلٹتا ہے۔"

حاج حسین ہمدانی: "طے پایا کچھ نئے یونٹس تشکیل پائیں۔  جن صوبوں کی بریگیڈ نہیں تھے جیسے تہران ایک بریگیڈ تشکیل دے۔ اس وقت تک تہران کا کوئی فوجی یونٹ نہیں تھا، پاسداروں کی بٹالین کے سوا کوئی فوجی ادارہ نہیں تھا۔ "

محسن رضائی: "مریوان چھاؤنی میں جب میں نے جناب احمد متوسلیان سے کہا کہ آکر ایک بریگیڈ بناؤ تو وہ بہت خوش ہوا۔ اُس کی آنکھوں میں ایک بجلی چمکی اور اس کے خیال میں یہ بہت ہی بڑا اور عظیم کام تھا جو اُس کے سپرد کیا گیا تھا اور اس کام کو بڑے فخر سے دیکھتا اور کہتا: "کیا مجھے ایک بریگیڈ بنانی چاہیے؟ میں نے کہا: ہاں تمہیں ایک بریگیڈ بنانی چاہیے۔ پھر مجھ سے ایک درخواست کی۔ انھوں نے کہا  اگر آپ اجازت دیں تو میں اور ہمت سفر حج پر جائیں اور خانہ کعبہ کی زیارت سے مشرف ہوں۔ ہمارا دل خانہ کعبہ کی زیارت کیلئے تڑپ رہا ہے، چونکہ ممکن ہے ہم اُس آپریشن میں شہید ہوجائیں، لہذا آپ ہمیں اجازت دیں ہم حج کے سفر پر جاتے ہیں اور پھر آکر بریگیڈ بناتے ہیں، ہم نے قبول کرلیا اور یہ دو بھائی حج کیلئے ایک ساتھ روانہ ہوئے۔"

راوی پردے پر تین خاص لوگوں کے حج پر جانے کی تصویر دکھاتا ہے کہ: "اکتوبر سن ۸۲ء میں احمد ، ابراہیم ہمت اور محمود شہبازی کے ساتھ حج کیلئے روانہ ہو تے ہیں۔"

اس کے بعد ڈاکومنٹری فلم میں فوجی حالات اور ۲۷ ویں محمد رسول اللہ (ص) بریگیڈ کی تأسیس اور اُس کی کمانڈ  کے بارے میں متوسلیان کے کردار کو دکھایا جاتا ہے۔

رضائی: "جب وہ لوگ  واپس آئے تو ہمیں  اُن کے ساتھ جناب شہبازی نام کا ایک اور بھائی مل گیا ، وہ بھی ان دو سے کم نہیں تھا۔ یعنی حقیقت میں لشکر کے تین سربراہ ایک ساتھ اکٹھے ہوگئے تھے جو  ایک بریگیڈ بنانا چاہ رہے تھے، وہ بھی فتح المبین آپریشن کے آغاز پر۔ چونکہ ہمیں فتح المبین آپریشن کیلئے اپنی تین بریگیڈ کو ہر صورت میں ۷ کے عدد تک پہنچانا تھا اور ہمارے پاس ۴ بریگیڈ کم تھے کہ جن میں سے ایک بریگیڈ بنانے کی ذمہ داری ہم نے احمد، ہمت اور شہبازی کو سونپ دی۔"

راوی: "احمد راضی ہوگیا، لیکن ایک چھوٹا سا مسئلہ تھا۔ احمد اور اس کے فوجیوں نے کردستان میں اس طریقے سے  کام کیا تھا کہ علاقے کے مقامی لوگ انہیں اپنے بچوں کی طرح چاہتے تھے۔ نہ کردستان چھوڑنا آسان تھا نہ کردستان میں تعینات پاسداروں میں سے چند مشخص پاسداروں کا انتخاب۔ تمام پاسدار اپنے سربراہ احمد کے ساتھ جنوب جانا چاہتے تھے۔ احمد کیلئے بہت مشکل مرحلہ تھا۔ لیکن اُس نے کسی طرح خود کو اور دوسروں کو راضی کرلیا کہ سربراہوں اور قابل اعتماد خاص فوجیوں میں سے ۱۲۰ لوگ اُس کے ساتھ جنوب جائیں۔  بریگیڈ کا نام بھی ان ہی دنوں میں طے پایا؛ ۲۷ ویں محمد رسول اللہ (ص) بریگیڈ۔ جنوب میں احمد اور اس کے فوجیوں کا  اگلا کام آپریشن کی جاسوسی کرنا تھا۔ آئندہ آپریشن کی جاسوسی جسے مارچ کے مہینے میں ہونا تھا۔ احمد اور اُس کے ساتھی مہینوں تک کردستان کے سرد کوہستانی ماحول میں لڑتے رہے تھے اور اسی لئے انہیں خوزستان کے گرم اور جلتے صحرا کی عادت نہیں  تھی۔ لیکن جنوب میں سپاہ کی انٹیلی جنس کے سربراہ حسن باقری کی رہنمائی میں، آہستہ آہستہ اس طرح کی جاسوسی اور لڑائی کی انہیں عادت ہوگئی اور اب وہ ایسے گروپ میں تبدیل ہوگئے  تھے کہ جو ہر حالات میں بہترین جنگ کرسکتا تھا، چاہے کوہستانی اور سرد علاقہ ہو یا چاہے صحرائی اور گرم علاقہ ہو۔"

ہمدانی: "مختصر وقت، یعنی جنوری کے مہینے سے شروع ہوا، یعنی بریگیڈ کی تشکیل جنوری سن ۱۹۸۲ء میں شروع ہوتی ہے۔ احمد کو جگہ بھی تلاش کرنی تھی، وسائل اور امکانات بھی مہیا کرنے تھے، سپاہیوں کو بھی جمع کرنا تھا۔ یہ کام بہت مشکل ہے، مگر کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ آپ دو تین مہینے کے عرصے میں ایک فوجی یونٹ اور ایک بریگیڈ کو اول سے بنانا شروع کریں، تشکیل دیں اور آپ کہیں کہ دو تین مہینے بعد آپ کو آپریشن انجام دینا چاہیے۔ میری نظر میں تو اصلاً ایک غیر ممکن بات ہے۔ آج تو غیر ممکن ہے۔"

 

دو آپریشن

محمد رسول اللہ (ص) بریگیڈ کی فتح المبین آپریشن میں موثر موجودگی اتنی اہم اور قابل غور ہے کہ ہدایت کار نے متوسلیان کے شرح احوال کے بعض حصے کو اُن کے اس آپریشن میں کردار سے مختص کیا ہے اور اس بارے میں لوگوں کے واقعات سے استفادہ کیا ہے۔

راوی: "بالآخر سن ۱۹۸۲ء کے اپریل میں  فتح المبین آپریشن انجام پایا۔ دشت عباس کے علاقے پر حملہ کہ جس کا مقصدسرزمین ایران کے کافی بڑے حصے کو آزاد کرانا تھا۔ ایسی جگہ جہاں عراق نے اوائل جنگ میں ہی قبضہ کرلیا تھا۔ اس آپریشن میں احمد متوسلیان کی سربراہی میں ۲۷ ویں محمد رسول اللہ (ص) بریگیڈ،  آپریشن کے ایک اہم ترین مرکز کی مسئول تھی۔

رضائی: "ہم نے جیسے ہی کوڈ ورڈ ادا کیا، چھاؤنیوں اور بریگیڈز نے عراق پر حملہ کردیا، میں احمد کے محاذ کی طرف سے پریشان تھا۔ چونکہ سب کو ایک خاص وقت پہ دشمن کی صفوں پر حملہ کرنا تھا اور تمام بریگیڈز کو میں کنٹرول کر رہا تھا میں نے دیکھا کہ حسن باقری کہہ رہا ہے کہ احمد نے ابھی دشمن کی صف پر حملہ نہیں کیا۔ میں کہہ رہا تھا: "کیوں؟" اس نے کہا: "میں اس سے پوچھتا ہوں کہ دشمن کی فرنٹ لائن پر حملہ کیوں نہیں کر رہا؟ وہ کہہ رہا ہے کہ: میں ابھی افراد کو عبور کروا رہا ہوں  اور کسی مناسب فرصت کی تلاش میں ہوں۔" میں حسن سے کہہ رہا تھا: "ارے دوسری جگہوں پر حملہ ہوچکا ہے، اگر یہ لوگ ہوشیار ہوگئے تو ممکن ہے افراد کا محاصرہ کرلیں، انہیں غافل گیر کردیں۔" وہ کہہ رہا تھا: "احمد بہت سکون سے بات کر رہا ہے۔ بہت اطمینان اور ٹھنڈے مزاج کے ساتھ بات کر رہا ہے۔" اس کے باوجود کہ میں بہت پریشان تھا، لیکن جیسا کہ مجھے پتہ تھا کہ حسن ایک تجربہ کار آدمی ہے اور جو باتیں وہ نقل کر رہا ہے، وہ صحیح ہیں، اور دوسری طرف سے میں نے احمد کو بھی آزمایا ہوا تھا، اس کے باوجود کہ یہ ایک غیر قدرتی حرکت تھی، بہت خطرناک مرحلہ تھا اور بہت اعلیٰ سطح کا رسک تھا، لیکن احمد اور حسن باقری پر میرے اطمینان نے مجھے پرسکون رکھا ہوا تھا۔ میں آدھے گھنٹے بعد پریشان ہوکر دوبارہ رابطہ کرتا ہوں۔ وہ لوگ مجھے دوبارہ مطمئن کردیتے ہیں۔ ۲، ۳ بجے تک یہی حالت رہی کہ اب میں بہت ہی زیادہ پریشان ہوگیا تھا اور بہت خطرناک کام ہونے والا تھا کہ اچانک حسن نے رابطہ کرکے کہا: "احمد کہہ رہا ہے کہ ہم نے حملہ کردیا اور اس وقت ہم دشمن کے توپ خانے پر ہیں۔" یعنی پتہ چل رہا تھا کہ دشمن کی سرحدوں سے کئی کلومیٹر آگے نکل چکے ہیں اور وہ دسیوں لوگوں کو وہاں سے گزار کر دشمن کے توپ خانہ تک  لے گیا۔ جیسے ہی اس نے یہ بات کہی میں نے خود آدھے گھنٹے بعد مشاہدہ کیا کہ عراق کے توپخانے سے گولے برسنا بند ہوگئے۔ عراق اب دزفول پر حملہ نہیں کرسکتا تھا۔ چونکہ ہماری فوجیں وہاں داخل ہوچکی تھیں اور عراقی افواج کے توپ خانے پر قابض تھیں۔ دشمن کے توپ خانے کے گولے اب ہماری فوج پر نہیں برس رہے تھے۔"

ہدایت کاربیت المقدس آپریشن میں جو خرم شہر کی آزادی پر تمام ہوا، حاج احمد کے حالات اور حوصلوں سے غافل نہیں اور وہ اپنے قلم اور دوسروں کی زبان سے اُسے بیان کرتا ہے۔

راوی: "فتح المبین آپریشن جنوب میں ہونے والا پہلا آپریشن تھا جس میں احمد اور اُس کی افواج نے شرکت کی۔ لیکن اس کے باوجود انھوں نے اس آپریشن میں اتنی اچھی جنگ لڑی کہ  سب جگہ مشہور ہوگئے۔ جو بھی تھا فتح المبین آپریشن انجام دینے اور اُس میں کامیاب ہونے،  آپریشن میں شرکت کرنے والی بریگیڈز، دوسری جنگ کی جاسوسی میں مشغول ہوگئیں۔ ایسا آپریشن جو خرم شہر کی آزادی کیلئے ہونا تھا۔ اس آپریشن کا ایک بہترین حصہ ، آپریشن کی دقیق معلومات تھیں۔ آپریشن کا منصوبہ ، بہت ہی زیادہ حساس منصوبہ تھا کہ جس کی کامیابی کا انحصار آپریشن کی دقیق جاسوسی اور یہ اطمینان حاصل ہونا کہ سپاہی آپریشن والے دن صبح کی اذان سے پہلے اہواز – خرم شہر ہائی  تک پہنچ  جائیں۔"

ہمدانی: "آج وائرلیس کی گفتگو میں، حاج احمد سپاہ کے کمانڈر جناب محسن رضائی سے کہہ رہا ہے، دیکھیں نام لے رہا ہے، میرا بھی نام لے رہا ہے۔ کہہ رہا ہے دیکھیں حسین قجہ ای شہید ہوگیا، بابائی شہید ہوگیا، ہمدانی زخمی ہوگیا، وزوایی شہید ہوگیا، سب چلے گئے، اور واقعاً صحیح کہہ رہا ہے۔ اتنے دباؤ کا شکار ہے، لیکن جب اُس سے کہا جاتا ہے کہ امام نے فرمایا ہے خرم شہر کی فتح تک بیت المقدس آپریشن جاری رہے، پھر کچھ نہیں بولتا، امام کا عاشق ہے، مطیع امام ہے، وہ ایسے مذہب کا تربیت یافتہ ہے جہاں اُس نے سیکھا ہے کہ اگر تنہا بھی رہ جاؤ تو پھر بھی اس  کام کو جاری رکھنا ہے۔"

راوی: "ان چند دنوں میں احمد نے بہت سے لوگوں کی جدائی برداشت کی۔ ایسے قریبی دوستوں کی شہادت کا غم جو کردستان کے محاذ پر کئی عرصے تک ایک ساتھ رہے تھے۔"

یہاں پر ایک دفعہ پھر حاج احمد متوسلیان کی آپریشن کے اختتام پر خاک آلود اور جنگ کردہ چہرے والی تصاویر دکھاتے ہوئے، آپریشن بیت المقدس کے بارے میں ان کی گفتگو نشر ہوتی ہے: "اس آپریشن کے بارے میں جو خدا کی مدد سے ختم ہوا، جیسا کہ آپ لوگوں کو خبر ہے، اس طرح سے تھا کہ ہم نے فیصلہ کیا  کہ ایسا کام انجام دیں اور انشاء اللہ جنگ کے مسئلہ کو ختم کریں۔ اس کام کیلئے جو فیصلے کئے گئے وہ یہ تھے کہ بڑے بڑے آپریشن کئے جائیں اور ہم نے تجربہ کیا کہ  ہم بڑے آپریشنز میں ہمیشہ کامیاب ہوئے، چاہے بستان، چاہے آبادان، چاہے فتح المبین اور چاہے یہ آپریشن جس میں ہمیں موثر کامیابی ملی۔ اس بارے میں آپریشن کے جس علاقے کو نظر میں رکھا گیا تھا، وہ بہت ہی وسیع اور بڑا علاقہ ہے اور فتح المبین آپریشن کی نسبت بہت بڑا تھا اور خدا کی مدد سے یہ فیصلہ ہوا ہے کہ کام جاری رہے اور اب انشاء اللہ رکے گا نہیں۔"

راوی: "اس آپریشن کے مشکل ترین لمحات میں احمد اور اس کے فوجی دشمن  کے سامنے ڈٹے رہے۔ اتنا زیادہ ڈٹے رہے  کہ احمد جو بریگیڈ کا سربراہ تھا، بیت المقدس آپریشن کے تیسرے مرحلے کے اختتام  پر وہ خود زخمی ہوجاتا ہے۔"

ہمدانی: "بیت المقدس آپریشن کے بعد، پھر ایک ٹیم کو جاسوسی کیلئے تعینات کرتا ہے کہ جس میں، میں خود بھی شامل تھااور وہاں جو لوگ باقی رہ گئے تھے میں اُن کا مسئول بن گیا تھا۔ میرا بھائی حاج سعید قاسمی (سردار سعید قاسمی) بھی جو انٹیلی جنس کا مسئول بن گیا تھا، وہ شلمچہ میں مستقر ہوا۔ حاج احمد نے حکم دیا کہ جاسوسی کے کام کو شروع کیا جائے کہ ہم چند دنوں کیلئے تہران میں آرام کرکے واپس آئیں اور پہلے سے طے شدہ آپریشن کو جاری رکھیں۔ "

 

لبنان میں

لیکن بے شک اس ڈاکیومنٹری کا اہم ترین حصہ محمد رسول اللہ (ص) بریگیڈ کا متوسلیان کی سربراہی میں لبنان جانا اور پھر آگے چل کر ان کے اغوا ہوجانے سے مربوط ہے کہ ناظرین منتظر ہیں کہ اس ماجرے کے بارے میں ہدایت کار کی روایت کو دیکھیں۔ لہذا وہ ماجرے کو راوی کی زبانی اور رضائی، ہمدانی اور جھروتی زادہ کے واقعات کو اس طرح روایت کرتا ہے۔

راوی: "لیکن ابھی آپریشن کی جاسوسی شروع ہوئے زیادہ دن نہیں ہوئے تھے کہ نئی خبر آتی ہے۔ جنوبی لبنان اور شام پر صہیونی حکومت کی فوج نے حملہ کردیا تھا اور کمانڈرز کہہ رہے تھے کہ انہیں جتنی جلدی ممکن ہو اسرائیل کے خلاف جنگ میں شرکت کیلئے لبنان جانا چاہیے۔"

رضائی: "میں نے سوچا کہ کس کا انتخاب کرنا چاہیے۔ بالآخر تمام سربراہوں میں سے ہر ایک دوسرے سے بہتر تھا۔ جناب احمد کاظمی وہ پہلے فلسطین جاچکے تھے، جناب حسین خرازی، لیکن میں نے چند دلائل کی وجہ سے احمد متوسلیان کا انتخاب کیا۔ایک تو یہ کہ احمد جب مریوان میں تھا تو اُسے انقلاب مخالف محاذ کا بھی سامنا تھا اور جنگی محاذ پر بھی تھا۔ بیروت میں بھی ایسا ہی تھا، ایک طرف فالانثر، مجاہدین پر پیچھے سے حملہ کر رہی تھی اور ایک طرف سے اسرائیلی فوج کا حملہ تھا۔ لبنان ، مریوان محاذ اور اس علاقے کے کوہستانی ہونے کی شباہت [میرے مدنظر تھی]۔ دوسرا مسئلہ یہ تھا کہ جس بریگیڈ کو بھیجنا تھا اُسے دمشق جانا تھا اور پھر بیروت بھی جانا تھا۔ یعنی دو ملکوں کے دار الحکومت (Capital)جانا تھا۔ عام طور سے دار الحکومت کے لوگ، ان شہروں  کی اپنی خصوصیات ہوتی ہیں۔اب حضرت رسول (ص) بریگیڈ میں بھی تہران کے لوگ تھے جو  دار الحکومت  کے رہنے والے تھے  کہ اصولی طور پر دار الحکومت میں رہنے والوں کے آداب و رسومات سے اچھی طرح واقف تھے۔ ایک وجہ یہ بھی تھی ۔ تیسری وجہ خود احمد تھا۔ احمد بہت ہی محنتی اور بہادر انسان تھا اور اس مشن کیلئے مناسب تھا۔ ان خصوصیات کی بنا پر بس میں نے فیصلہ کرلیا کہ ہم احمد اور ۲۷ ویں بریگیڈ کو لبنان بھیجیں۔"

ہمدانی: "احمد متوسلیان جب ڈیموکریٹک پارٹی سے لڑ رہا تھا غمگین تھا، وہ کہتا بہرحال یہ لوگ ایرانی ہیں یہ لوگ کیوں دشمن کی آغوش میں چلے گئے۔ وہ لڑتا،  سختی سے بھی لڑتا۔ لیکن حاج احمد راضی نہیں تھا۔ جس زمانے میں حاج احمد فتح المبین اور بیت المقدس آپریشن کیلئے آیا، وہ عراقیوں کے قتل سے راضی نہیں تھا، وہ کہتا یہ لوگ مسلمان ہیں۔ وہ کہتا ہم کیوں ان سے لڑیں۔ ہمیں جاکر اسلام کے اصلی دشمن سےلڑنا چاہیے،  ہمیں اسلام کے قسم خوردہ دشمن سے لڑنا چاہیے۔"

رضائی: "اچھا جب میں نے اُن سے بات کی کہ احمد ہم تمہیں اسرائیلیوں سے لڑنے کیلئے لبنان بھیجنا چاہتے ہیں، وہ ایسے ہوگیا تھا جیسے اسے دنیا دیدی گئی ہو۔ اُس نے کہا یعنی واقعاً  میں اسرائیلیوں سے لڑنے جاؤں۔ یہ میری آروز ہے۔ یہ میری خواہش ہے۔ اس نے اس جملے کو چند دفعہ تکرار کیا۔ بعد میں مجھے پتہ چلا کہ اُسے یقین نہیں آرہا۔ میں نے کہا اچھا ٹھیک ہے۔ احمد تیار ہوجاؤ، میں چاہتا ہوں شام کو آقا کی خدمت میں حاضر ہوں اور اُس وقت وہ ملک کے صدر تھے۔ تم بھی میرے ساتھ آؤ اور خود آقا کی زبان سے سن لو۔ دوسرے ملک کی دفاع  کی سپریم کونسل کے لیڈر، ہم انہیں آقا کے پاس لے گئے۔ میں تھا، احمد اور مقام معظم رہبری۔ وہ باہر آئے اور احمد سے کہا ہاں لبنان جانے کیلئے آپ کا انتخاب کیا گیا ہے۔ انھوں (احمد) نے اپنے ہاتھوں کو آسمان کی طرف بلند کیا اور کہا خدایا تیرا شکر ہے میری آرزو پوری ہوگئی۔"

دمشق کی طرف پرواز کیلئے سپاہیوں کی ہوائی جہاز پر سوار ہوتے ہوئے منفرد اور قیمتی تصاویر دکھاتے ہوئے، راوی تعیناتی طریقہ کار کو اس طرح بیان کرتا ہے: "اُسے ضروری ہدایات دی گئیں اور بالآخر ۱۱ جون ۱۹۶۱ء والے دن محمد رسول اللہ (ص) بریگیڈ کی فورسزشام اور دمشق کی زبدانی چھاؤنی کی طرف روانہ ہوئیں۔"

جعفر جھروتی زادہ (جنگی ساتھی): "جب سپاہی روانہ ہونا چاہ رہے تھے، جب تمام سپاہی وہاں جمع ہوگئے ،  حاج احمد متوسلیان نے وہاں موجود لوگوں سے تقریر کی، اُس نے لوگوں سے کہا جو بھی ہمارے ساتھ وہاں جانا چاہتا ہے اُسے چاہیئے اپنا وصیت نامہ  لکھ کر جائے اور وہ شہادت کیلئے بالکل آمادہ ہو،  ہم جا رہے ہیں اور شاید اب واپس نہ آسکیں اور واپس نہ آئیں۔"

رضائی: "بالآخر حاج احمد چلا گیا اور لبنان میں ٹھہر گیا، درہ بقاع اور شہر بعلبک  میں ٹھہرا۔ فوجیوں کا چناؤ ہوا۔ اسرائیل کے مقابلے میں محاذ کھولا۔  لبنانی فوجیوں کو ٹریننگ دینا شروع کی، لبنانی بہادروں کو ٹریننگ دینا شروع کی کہ بعد میں اُسی ٹریننگ سے  حزب اللہ لبنان بنی اور حقیقت میں حزب اللہ لبنان، ۲۷ ویں حضرت رسول (ص) بریگیڈ کی پیداوار ہے اور اس بریگیڈ کے جو سپاہی وہاں رہ گئے تھے اُنھوں نے لبنانی دلاوروں کی ٹریننگ کو جاری رکھا۔"

راوی: "لیکن شام آئے ہوئے اُنہیں ابھی ۲۰ دن گزرے تھے، امام کا پیغام آیا کہ قدس کا راستہ کربلا سے گزرتا ہے۔ انھوں نے کہا ہوا تھا، ایران کے محاذسے غفلت، دشمن کی چال تھی اور جتنا جلدی ہوسکے ، یعنی کسی کے ناک سے خون بہنے سے پہلے، جانے والے سپاہی ایران واپس آجائیں۔"

رضائی: "دوسری طرف سے ہم نے دیکھا کہ شام اور لبنان ، اسرائیل سے جنگ کیلئے اصلاً سنجیدہ نہیں ہیں۔ اب ہم جن فوجیوں کو وہاں لے گئے تھے ہمیں خود ان کی ضرورت تھی، یہ فوجی وہاں بیکار بیٹھے ہوئے تھے۔ لہذا ہم نے فیصلہ کیا کہ لبنانی دلاروں کیلئے ایک تربیتی اور امدادی سنٹر بنایا جائے، لیکن باقی فوجیوں کو بلالیا جائے۔"

راوی: ۵ جولائی ۱۹۸۲ء  والے دن بالکل اُس وقت جب ایران سے جانے والی افواج ایران واپس آنے کیلئے تیار ہو رہی تھیں، اطلاع ملی، فالانژ کے فوجیوں اور اسرائیلی فوج نے بیروت میں ایرانی سفارت خانہ کا محاصرہ کرلیا ہے۔"

رضائی: "ایرانی سفارت خانہ ڈھے جانے کا خطرہ محسوس ہوا، اس سفارتخانے میں ایران کی بہت سی دستاویزات موجود تھیں کہ حاج احمد اور چند لوگوں نے فیصلہ کیا کہ کسی اور کے ہاتھ لگنے سے پہلے خود جاکر وہ دستاویزات لے آئیں۔"

جھروتی زادہ: "حتی شہید ہمت نے آکر حاج احمد سے کہا کہ اجازت دیں تو ہم جاتے ہیں، حاج احمد نے اپنے اُسی دائمی انداز میں کہا نہیں جناب میں خود جاؤں گا۔ اور خود ہی گیا اور حتی ایک اور آیا کہ میں حاج احمد کے ڈرائیور کا عہدہ سنبھال لوں، لیکن حاج احمد نے قبول نہیں کیا اور تقی رستگار کو بلایا۔"

راوی: "اسرائیل افواج کی بیروت تک پیش قدمی کی وجہ سے بیروت کا قدرتی راستہ بند تھا، لہذا وہ لوگ مجبور تھے کہ بیروت کا چکر لگائیں اور لبنان کے شمال سے دار الحکومت کےنزدیک ہوں۔ اُنہیں علم نہیں تھا کہ بیروت کا شمال سمیر جعجع کی رہبری میں فالانژ فورسز کے اختیار میں ہے۔ فالانژوں نے بیروت کے شمال میں ۲۰ کلومیٹر  پر موجود  ساحلی ہائی وی پر  ایک حاجز بربارہ نامی چیک پوسٹ بنائی ہوئی تھی جہاں سے بیروت آنے جانے والوں کو کنٹرول کرتے تھے۔  سفارت کی سفید بنز جیسے ہی وہاں پہنچتی ہے، فالانژ  کے فوجی گاڑی میں بیٹھے افراد کو زبردستی اُتار لیتے ہیں اور پھر ایک فالانژ افسر کی رہنمائی میں نامعلوم جگہ کی طرف چلے جاتے ہیں۔ ابھی تک  ان چار افراد کے بارے میں کوئی قابل اعتماد اطلاع نہیں ملی۔ "

 

 

[۱] ایک ایسا گروہی جو اسلامی انقلاب کے بعد کچھ لیڈروں اور مقامی رہنماؤں کی رہبری میں بنا۔ انھوں نے علاقے میں اپنے نفوذ سے استفادہ کرتے ہوئے ایک رزگاری نامی سپاہ تشکیل دی۔ اس جماعت کو ایک طرح سے عراق کی مدد حاصل تھی اوریہ نظام جمہوری اسلامی کے خلاف مسلحانہ کاروائیوں بھی کرتا۔ (فرہنگ اعلام شہداء سے ماخوذ، ج۷ (صوبہ کردستان)، تہران، نشر شاہد، ۲۰۱۳ء، ص ۲۷)


سائیٹ تاریخ شفاہی ایران
 
صارفین کی تعداد: 229


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
جنوبی محاذ پر ہونے والے آپریشنز اور سردار عروج کا

مربیوں کی بٹالین نے گتھیوں کو سلجھا دیا

سردار خسرو عروج، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے چیف کے سینئر مشیر، جنہوں نے اپنے آبائی شہر میں جنگ کو شروع ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔
لیفٹیننٹ کرنل کیپٹن سعید کیوان شکوہی "شہید صفری" آپریشن کے بارے میں بتاتے ہیں

وہ یادگار لمحات جب رینجرز نے دشمن کے آئل ٹرمینلز کو تباہ کردیا

میں بیٹھا ہوا تھا کہ کانوں میں ہیلی کاپٹر کی آواز آئی۔ فیوز کھینچنے کا کام شروع ہوا۔ ہم ہیلی کاپٹر تک پہنچے۔ ہیلی کاپٹر اُڑنے کے تھوڑی دیر بعد دھماکہ ہوا اور یہ قلعہ بھی بھڑک اٹھا۔