اس معتبر چہرے کی یاد جو عام لوگوں، یونیورسٹیوں اور قائد انقلاب کے درمیان رابطے کاذریعہ تھا

رقیہ کمانی
ترجمہ: سید مبارک حسنین زیدی

2017-02-28


آیت ا... مرتضیٰ مطہری ۲ فروری سن ۱۹۲۰ءکو مشہد سے ۷۵ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک فریمان نامی علاقے میں پیدا ہوئے۔  وہ بارہ سلا کی عمر میں مشہد چلے گئے تاکہ حوزہ علمیہ مشہد میں دینی علوم کی ابتدائی تعلیم حاصل کرسکیں اور پھر سن ۱۹۳۷ء میں وہاں سے حوزہ علمیہ قم چلے گئے تاکہ اپنی تعلیم کو پایہ تکمیل تک پہنچا سکیں۔

انھوں نے قم کے اس زمانے کے اساتذہ کے علاوہ، فقہ و اصول میں آیت ا... العظمیٰ بروجردی، فلسفہ  میں ملا صدرا اور اخلاق و عرفان میں ۱۲ سال تک امام خمینی اور فلسفہ، الٰہیات، بو علی سینا کی کتاب "شفاء" اور دیگر درسوں میں علامہ طباطبائی کے سامنے زانوئے ادب تہہ کئے۔

اس دوران انھوں نے سنجیدگی کے ساتھ دینی مطالعات انجام دینے کے علاوہ ثقافتی، اجتماعی اور سیاسی حوالے سے اسلام کے حقیقی معنی کو متحقق کرنے کی خاطر خاص توجہ کی اور اس زمانے میں آزادی پسند تحریکوں کی حمایت کا اظہار کیا۔ (۱) اسی طرح سے "فدائیان اسلام" نامی تنظیم سے بھی رابطے میں تھے اور نواب صفوی اور ان کے ساتھیوں کی ہمدردانہ رہنمائی بھی کرتے تھے۔

آیت ا... مطہری سن ۱۹۵۲ء میں جب وہ قم میں ایک شناخت پیدا کرچکے تھے، تہران منتقل ہوگئے۔ ابتدا میں وہ مدرسہ "مروی" میں تدریس کیا کرتے تھے۔ اس کے بعد علوم عقلی اور نقلی کی تدریس کے لئے ہونے والے امتحانات میں شریک ہوئے اور اس طرح سے انھوں نے ۱۱ نومبر سن ۱۹۵۴ء میں الٰہیات کے کالج میں تدریس شروع کردی۔ اور وہ حوزے اور یونیورسٹی کو ملانے والی شخصیت قرار پائے اور وہ یونیورسٹی میں تدریس   کے ضمن میں اسلامی آئیڈیالوجی  بھی بیان کیا کرتے تھے۔

وہ تدریس کے ساتھ ساتھ تألیف میں بھی مشغول رہتے تھے۔ ان کے کئی مقالے "مکتب تشیع" نامی مجلّے میں شائع ہوئے۔ "آج کی عورت " نامے مجلے میں "اسلام میں خواتین کے حقوق" کے عنوان سے کئی مقالے اور ان کی اپنی تحریریں جیسے کہ "اصول فلسفہ اور روش ریالزم" زیور طبع سے آراستہ ہوئیں۔ سن ۱۹۵۶ء میں یونیسکو کی طرف سے ان کی  کتاب "داستان راستان" کو انعام دیا گیا اور ان کی بقیہ کتابوں میں سے ایک "اسلام اور ایران کی ایک دوسرے کیلئے خدمات" بھی ہے۔

اس زمانے میں آیت ا... مطہری کی سرگرمی ان کی محققانہ تقریروں کے ذریعے سے، شعور بڑھانے کیلئے بڑھتی گئی اور وہ سن ۱۹۵۹ء میں "ڈاکٹرز کی اسلامی تنظیم" بننے سے لیکر سن ۱۹۷۱ء تک اس کے اہم مقرّروں میں سے تھے۔ انھوں نے سن ۱۹۶۲ء میں امام خمینی (رہ) کی قیادت میں اٹھنے والی علماء کی تحریک کے ساتھ ہی اپنے قائد کے نکتہ ہای نظر کو تقویت دینا شروع کردی۔ امام خمینی (رہ) کے حکم پر آیت ا... مطہری نے شہید آیت ا... ڈاکٹر سید محمد حسین بہشتی اور کچھ دیگر علماء کےساتھ مل کر فقہاء کی ایک مشترکہ شوریٰ تشکیل دی اور فقہاء کے اس گروہ نے "انسان اور انجام" کے عنوان سے ایک کتابچہ، اس شوریٰ کی مختلف کمیٹیوں کی تدریس کیلئے مرتب کیا، جس نے اس گروہ کی آئیڈیالوجی کو ترتیب دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس شوریٰ کی سرگرمیاں سن ۱۹۶۲ء اور سن ۱۹۶۳ء میں احتجاجی جلوسوں کو ترتیب دینے اور سیاسی سرگرمیوں اور امام خمینی (رہ) کے پیغامات کو پھیلانے میں  پوری طرح سے قابل مشاہدہ تھیں۔

۵ جون سن ۱۹۶۳ء کے قیام میں آیت ا... مطہری اور آیت ا... مکارم شیرازی اور حجت الاسلام محمد تقی فلسفی جو تہران کے علماء اور خطباء میں سے تھے، عاشور کے دن تقریر کرنے کے بہانے گرفتار کرکے قید کرلئے گئے۔ (۲)

آیت ا... ہاشمی رفسنجانی اس بارے میں کہتے ہیں: "جب سن ۱۹۶۱ء میں یہ تحریک شروع ہوئی، آیت ا... مطہری اسی وقت معروف ہوئے تھے یعنی جن دو وجوہات کی بناء پر انہیں قم سے نکال دیا گیا تھا، ایک غریبی کی کیفیت اور دوسری خاموشی جو انہیں وہاں دکھائی دیتی تھی، وہ دونوں ہی ختم ہوچکی تھیں اور انھوں نے قم سے اپنا رابطہ بہت بڑھا دیا تھا اور وہ عام لوگوں جیسے کہ تہران کے بازار کے لوگوں اور یونیورسٹی کے طالب علموں کے امام خمینی (رہ) کے ساتھ رابطہ قائم کرنے کا ایک اہم ذریعہ بن چکے تھے۔ وہ شہید بہشتی اور اپنے دیگر دوستوں کے ساتھ ملکر لوگوں کی رہنمائی کا کام کرتے تھے، ان تک امام خمینی (رہ) کی باتیں پہنچاتے تھے اور ان کی فکر انگیز باتیں منتقل کیا کرتے تھے۔ اور اس کام کیلئے ان کے اور لوگوں کے درمیان واسطہ بازار کی انجمنیں تھیں اور ان کےعلاوہ تحریک کے سرگرم افراد اور دینی طالبعلم جو کہ تحریک کی اصلی طاقت تھے، ان میں سے اچھے خاصے لوگ امام خمینی (رہ) سے رابطے میں تھے اور ان میں سے بقیہ چند افراد، ان اشخاص کے ذریعے تیار کیئے جاتے تھے۔ یہاں پر بھی جناب مطہری ایک نہایت ہی معتبر شخصیت کے عنوان سے نظر آتے ہیں، جس کے تین رُخ ہیں؛ بالکل تین پھل کے تیر کی طرح جو کہ تین سمتوں یعنی بازار، یونیورسٹی اور حوزے کی راہ سے دشمن کے قلب میں پیوست ہوگئے۔  وہ امام خمینی (رہ) سے اس طاقت کو حاصل کرکے عوام کے ان تینوں محوروں تک منتقل کرتے تھے۔ دشمن نے انہیں روز اوّل سے ہی پہچان لیا تھا اور وہ ۵ جون کے واقعے میں گرفتار ہونے والی اہم شخصیات میں سے تھے۔ میں اس موقع پہ فوجی ٹریننگ پہ تھا اور ان دو مہینوں کے شورو غل سے بھرپور واقعات میں نہیں تھا، جس کے نتیجے میں ۵ جون کا قیام وقوع پذیر ہوا۔ وہ مسجد "ہدایت" میں تقریر کیا کرتے تھے۔ ان دنوں ان کی تقریروں کا موضوع حدیث "من رأی سلطانا جائراً  ..." (جس نے سلطان جائر کی حکومت دیکھی ...) تھی اور حکومت کے خلاف براہ  راست تقریر کر رہے تھے ..." (۳)

لوگوں کی طرف سے پڑنے والے دباؤ اور مختلف شہروں کے طراز اوّل کے علماء کے تہران پہنچنے کی وجہ سے قید ہونے والے علماء کو ۴۳ دن بعد ہی آزاد کردیا گیا۔  آیت ا... مطہری اپنی ڈائری میں سن ۱۹۶۳ میں ۱۷ جولائی کے دن میں لکھتے ہیں: "آج کے دن شام ۶ بجے، پولیس کی عارضی  جیل سے آزاد ہوگئے  ..."(۴)

آیت ا... مطہری نے امام خمینی (رہ) کے ترکی جلا وطن ہونے کے بعد، اس کے باوجود کہ اس وقت کے حالات سے پوری طرح آگاہ اور باخبر تھے اور اس موضوع پر یقین رکھتے تھے کہ "ہر اجتماعی تحریک کیلئے ایک فکری اور ثقافتی تحریک کی پشت پناہی ضروری ہے" (۵) ایک علمی ثقافتی انجمن بنانے کا ارادہ کیا اور اپنے بقیہ دوستوں کے ساتھ ملکر سن ۱۹۶۷ء میں اس مقصد کے تحت "ارشاد" امام بارگاہ کی بنیاد رکھی۔

سن ۱۹۷۰ء میں علامہ طباطبائی، آیت ا... مجتہدی زنجانی کے دستخط پر مبنی ان کے ایک خط، جو کہ فلسطین کے لوگوں کے لئے مالی امداد جمع کرنے کے بارے میں تھا، اس کا اعلان کرنے کی وجہ سے "ارشاد" امام بارگاہ سے انہیں گرفتار کرلیا گیا اور کچھ مدت کیلئے انہیں جیل جانا پڑا۔ اسی سال "ارشاد" امام بارگاہ میں کافی مدت تک سرگرم رہنے کے بعد، انتظامی امور کی انجمن کے ساتھ اختلاف رائے وجود میں آنے کی وجہ سے، اس انجمن سے مستعفی ہوگئے اور انھوں نے "ارشاد" امام بارگاہ کو ہمیشہ کیلئے چھوڑ دیا۔

دوسری طرف سے آیت ا... مطہری کا وجود یونیورسٹی میں  اسلامی آئیڈیالوجی کے بیان ہونے کے بارے میں، لیکچروں، تقریروں اور علمی کانفرنسوں میں اس قدر سیاسی اثر رکھتا تھا کہ ساواک نے انہیں کالج، یونیورسٹی میں تدریس کے بارے  میں عدم صلاحیت کے الزام میں، تدریس سے محروم کردیا اور اس طرح سے فروری ۱۹۷۱ء میں وہ تحقیقی کاموں میں مصروف ہوگئے۔ بعد میں یونیورسٹی، کالج میں آیت ا... مطہری کے وجود کو خطرہ قرار دیتے ہوئے، انہیں ریٹائر کرد یا گیا۔

آیت ا... مطہری کا ایک اور لائحہ عمل "الجواد (ع)" مسجد کے تبلیغی پروگرام کی رہنمائی کرنا تھا جو سن ۱۹۷۰ سے سن ۱۹۷۲ء تک تھا؛ اس کے ساتھ وہ مسجد "جاویہ" اور مسجد "ارک" میں بھی تقریریں کیا کرتے تھے؛ یہاں تک کہ سن ۱۹۷۵ء میں ساواک نے ان کے منبروں پر بھی پابندی لگادی اور یہ پابندی اسلامی انقلاب کی کامیابی تک جاری رہی۔

آیت ا... مطہری، امام خمینی (رہ) کے کہنے پہ سن ۱۹۷۲ء سے اسلامی انقلاب کی کامیابی تک قم میں تدریس کرتے رہے اور اس کے ساتھ ہی ان دنوں میں انھوں نے کچھ علماء کے تعاون سے "تہران کے مبارز علماء کی انجمن" کی بنیاد بھی رکھی۔

سن ۱۹۷۶ء میں نجف کے سفر میں انھوں نے امام خمینی (رہ) سے ملاقات کی اور ان سے تحریک کے اور حوزہ علمیہ کے امور کے بارے میں مشورہ کیا۔ آیت ا... مصطفی خمینی کے دنیا سے چلے جانے کے بعد اور اسلامی تحریک میں ایک نئے دور کے آغاز کے ساتھ ان کا تمام وقت تحریک کی خدمت کیلئے وقف ہوگیا اور اس کے تمام مراحل میں انھوں نے اہم کردار ادا کیا۔ امام خمینی (رہ) کے پیرس میں قیام کے دنوں میں بھی انھوں نے پیرس کا سفر اختیار کیا جس میں انقلاب کے بارے میں اہم مسائل پر امام خمینی (رہ) سے گفتگو کی اور امام خمینی (رہ) نے انہیں انقلاب کی شوریٰ کی تشکیل کا ذمہ دار بنا دیا۔

امام خمینی (رح) کی جلا وطنی ختم ہونے کے بعد، آیت ا... مطہری نے امام خمینی (رہ) کی استقبالیہ کمیٹی کی ذمے داری سنبھالی اور اسلامی انقلاب کی کامیابی تک اور اس کے بعد بھی مسلسل اسلامی انقلاب کے قائد (امام خمینی ) کے ہمدرد اور مورد اعتماد مشاور کے عنوان سے ساتھ رہ کر اپنا کردار ادا کرتے رہے۔ ان کے اکثر دوستوں کے مطابق، "شہید مطہری تقریروں، فلسفی اور اجتماعی مقالوں (تحریروں) اور مناظروں کے ذریعے اسلامی تحریک کی آئیڈیالوجی کی تقویت کی ذمے داری لئے ہوئے تھے۔ اور فکری حملوں اور شبہات کے جوابات  دینے میں مصروف رہتے تھے۔ "

حوالہ جات:

۱۔ ا ستاد شہید اسناد کے مطابق، تدوین علی کردی، تہران، اسلامی انقلاب کے شواہد کا مرکز، سن ۲۰۰۵ء، ص ۲۱

۲۔ احمدی، محمد رضا، آیت ا... طاہری خرم آبادی کی یادیں، تہران، اسلامی انقلاب کے شواہد کا مرکز، سن ۱۹۹۹ء، ج۱، ص ۲۳۲

۳۔ بیدار مصلح: انٹرویو وغیرہ کا مجموعہ؛ شہید مطہری کی زندگی اور شخصیت کے بارے میں، ترتیب: محمد حسین واقفی، تہران، صدرا، سن ۲۰۱۳ء، ج۲، ص ۷۰۔ ۷۱

۴۔ مطہری، مرتضی، لمعانی از شیخ شہیدان، تہران، صدرا، سن ۱۳۷۰، ص ۱۹

۵۔ مطہری، مرتضی، آخری صدی میں اسلامی تحریکیں، تہران، صدرا، ۱۹۹۲ء، ص ۷۴


15khordad42.ir
 
صارفین کی تعداد: 241


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
جنوبی محاذ پر ہونے والے آپریشنز اور سردار عروج کا

مربیوں کی بٹالین نے گتھیوں کو سلجھا دیا

سردار خسرو عروج، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے چیف کے سینئر مشیر، جنہوں نے اپنے آبائی شہر میں جنگ کو شروع ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔
لیفٹیننٹ کرنل کیپٹن سعید کیوان شکوہی "شہید صفری" آپریشن کے بارے میں بتاتے ہیں

وہ یادگار لمحات جب رینجرز نے دشمن کے آئل ٹرمینلز کو تباہ کردیا

میں بیٹھا ہوا تھا کہ کانوں میں ہیلی کاپٹر کی آواز آئی۔ فیوز کھینچنے کا کام شروع ہوا۔ ہم ہیلی کاپٹر تک پہنچے۔ ہیلی کاپٹر اُڑنے کے تھوڑی دیر بعد دھماکہ ہوا اور یہ قلعہ بھی بھڑک اٹھا۔