مروارید آپریشن کی داستان

خلیج فارس میں پیکان کشتی کے بقیہ افراد کی بقاء کیلئے کوشش کا واقعہ

مریم اسدی جعفری
ترجمہ: سید مبارک حسنین زیدی

2016-12-29


۲۸ نومبر ۱۹۸۰ء کا دن "مروارید آپریشن" سے وابستہ ہوگیا ہے اور البکر قلعہ کو منہدم اور صدام کی بحری افواج کو نابود کرنے والی جنگ میں "پیکان میزائل کشتی" کی شجاعانہ یادگار ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران  کی بحری افواج کی یہ میزائل کشتی  جو مسلط کردہ جنگ کے آغاز میں  ایران نیوی کا ایک ماہر ترین یونٹ تھا، مروارید آپریشن کے بعد ہونے والے حملے میں تباہ ہوجاتی ہے اور میزائل کشتی کے کمانڈر کیپٹن محمد ہمتی اور اُن کے تمام  دوست ہمیشہ کیلئے جاویدان ہوجاتے ہیں۔ لیکن آپریشن کے کچھ فوجی اور رینجرز خلیج فارس کی لہروں میں کئی گھنٹوں تک، تگ و دو  کرتے ہیں اور بالآخر وہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے ایران واپس آجاتے ہیں۔ مروارید آپریشن میں اسپیشل ٹیم کے کمانڈر، ریٹائرڈ کیپٹن سعید کیوان شکوہی،  میزائل کشتی تباہ ہوجانے کے بعد، چار گھنٹے سے زیادہ خلیج فارس کے پانی میں حیران و پریشان رہتے ہیں کہ اس حادثہ کے بارے میں آپ ان کی یادوں کا مطالعہ کریں گے۔ کیپٹن کیوان شکوہی کہتے ہیں: "خلیج فارس کی حدود میں دشمن کو  آگے بڑھنے سے روکنے کیلئے دشمن کی بحری افواج کو تباہ کرنا  اور سمندر میں مواصلاتی نظام  کٹ جانے کی  روک تھام کرنا اہمیت کا حامل تھا۔ ہم نے پیشن گوئی کی تھی کہ  جب ایرانی دوبارہ – شہید صفری آپریشن کے بعد – آئل اسٹیشن پر حملہ کریں،  تو صدام اپنی خونخوار نگاہوں سے دیکھتے ہوئے بحرای افواج کے افسروں کو گھٹیا القابات سے نوازے گا اور اُس کی افواج بھی خوف اور نتائج کے ڈر سے کچھ سوچے سمجھے بغیر ، جو بھی اُن کے پاس ہوگا سمندر میں بھیج دیں گی۔ اور جب صدام کے انسپکٹرز ام القصر جائیں گے تو ساحلی دیواروں پر کوئی بھی غوطہ ور  نہ ہو!"

 

شہید صفری آپریشن کی تکمیل

شہید صفری آپریشن کے ایک دو دن بعد - ۷ نومبر ۱۹۸۰ء –  مروارید آپریشن کی پلاننگ شروع ہوئی تاکہ البکر قلعہ کو مکمل تباہ کردیا جائے۔  مروارید نقشے کی تفصیلات اور اس آپریشن میں مختلف فوجیوں کی شرکت کے بارے میں اسٹاف کی ضروری ہمآہنگی  انجام پائی۔ بحری افواج کو سمندری جنگ میں فضائی افواج کے آلات  استعمال کرنے کا  بہت اچھا تجربہ تھا  اور سمندر پر پرواز کرنے والے پائلٹ بھی اس موضوع کے بارے میں واقعاًٍ بہت تربیت یافتہ تھے۔  لیکن سمندر کا افق زمین کی طرح نہیں ہوتا۔  یعنی  وہ اندازا کہ پائلٹ کو جس کے مطابق اور موافق ہونا چاہیے، بالکل مختلف  ہوتا ہے۔  زمین پر پائلٹ کے نشانے پہاڑی علاقے، صحرا  اور دریا  ہوتے ہیں، لیکن سمندر کا افق، وہ سمندری فضا میں گم ہوتا ہے۔ لہذا پائلٹ کا آنا ، یا خود ان کے بقول اُن کے پاؤں کا گیلاہونا، ان سب کی پریکٹس ہونی چاہیے۔

میں مروارید آپریشن میں اسپیشل آپریشن کی ٹیم کا  کمانڈر تھا۔ رحمان الفتی اور S.B.S کے تین رینجرز، ناصر سرنوشت اور شہید محمود کوشا، آپریشن کے اجراء کیلئے رضاکارانہ طور پر شامل ہوئے۔ طے پایا کہ آپریشن مخفی صورت میں انجام پائے  اور مڈبھیڑ کی صورت میں فضائی افواج کی سہولت سے استفادہ کیا جائے۔ ۲۷ نومبر ۱۹۸۰ء کی صبح جبکہ پیکان میزائل کشتی، پلان سے جدا نہ ہونے والے عنصر کے عنوان سے وہا ں موجود تھی، ہم ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے البکر قلعہ کے نزدیک ہوئے؛اس بات سے غافل کہ دشمن وہاں موجود ہے۔ میں جزیروں کو ملانے والے پل پر کھڑا تھا، میں نے دیکھا کہ کچھ دیر بعد رحمان یا ایک عراقی غوطہ ورواپس پلٹا اور کہا: پلیٹ فارم پر عراقی ہیں۔ وہ غوطہ ور، اُس پلیٹ فارم کا انچارج تھا جو البکر پلیٹ فارم کےنیچے،  ایرانی فوجیوں کی ڈائنامٹ فٹنگ کے خوف سے پانی میں چھپ گیا تھا۔

اس کمانڈر کا اسیر ہوجانا، مروارید آپریشن کیلئے ایک مثبت پہلو تھا۔ چونکہ اس وقت تک ہمارے پاس عراقی بحریہ کا کوئی بھی اسیر  نہیں تھا۔ ہم جب بھی گشت لگانے جاتے تو  ۴۲۱ ٹاسک فورس کے کمانڈر کیپٹن مصطفی مدنی نژاد اپنی انگلیوں سے ایک عدد کا نشان بناتا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ہمیں معلومات حاصل کرنے کیلئے ایک قیدی درکار ہے اور اب ہمارے پاس ایک قیدی تھا۔ ہم نے پہلے ہی مرحلے میں اس سے معلومات لے لیں۔ پتہ چلا کہ ۲۰ افراد ہیں، جن کے پاس بھاری اسلحہ اور مواصلاتی نظام ہے اور وہ عراقی قیدی بھی مسلسل کہے جا رہا تھا: ابھی عراقی جہاز  تم پر حملہ کرنے والے ہیں۔ ہم نے عراقی اسیر کو پائلٹ معتمدی کے ساتھ ہیڈ کوارٹر بھیج دیا۔ اچانک ہم پر فائرنگ ہوئی۔ ہم نے بھی جوابی فائرنگ شروع کردی۔ ایسے میں ایک عراقی کے ماتھے پر ایک گولی لگ گئی جس سے باقی ۹ افراد وحشت زدہ ہوگئے۔ چونکہ وہ نہیں جانتے تھے کہ ہم کتنے لوگ ہیں اور اُنکا کمانڈر بھی نہیں تھا۔ پھر ہم نے دیکھا کہ وہ سفید پرچم ہلا رہے ہیں اور پل پر لائن بناکر، پریشانی کی حالت میں ہماری طرف بڑھ رہے ہیں۔ ہمارے رینجرز کے پاس آر پی جی تھی اور آر پی جی کے چند فائروں نے، اُن سے مقابلے کی ہمت سلب کرلی تھی اور وہ سرنڈر ہوگئے۔ اب ہمارے پاس ۹ اسیر ہیں اور ہماری پاس اطلاعات بھی پوری ہیں اور ہمیں پتہ ہے کہ قلعے کے نیچے ۱۰  دیگر عراقیوں نے پوزیشنیں سنبھالی ہوئی ہیں۔ آہستہ آہستہ دن ڈھل رہا تھا۔ اُن ۹ افراد کو وہیں ایک جگہ پناہ دی گئی اور اُن سے اطلاعات حاصل کرلیں۔ عراقیوں سے تفتیش کے دوران ہم نے دیکھا کہ وہ بہت ہی آسانی سے اپنے افسر کے بارے میں بتا دیتے ہیں!

 

مروارید آپریشن میں مکمل فضائی اور بحری جنگ

ہم نے ۴۲۱ ٹاسک فورس سے رابطہ کیا اور اُنہیں اپنی سلامتی اور البکر ٹرمینل کی مناسب وضعیت سے آگاہ کیا۔ پیکان میزائل کشتی بھی مرکزی نقطہ پر تھی اور ہماری آواز سن رہی تھی۔ ہم نے آپس میں کورڈ ورڈ طے کئے ہوئے تھے؛ اس معنی میں کہ پیکان میزائل کشتی البکر ٹرمینل کی طرف حرکت کرے۔ پیکان،  ۲۷ نومبر، ۱۹۸۰ء کی رات ساڑھے آٹھ بجے قلعہ البکر پر آکر ٹھہری وہاں جنگی صورتحال کی وضاحت دی گئی۔ جیسا کہ شہید ہمتی مجھ سے رتبہ میں بڑے تھے، اس کے بعد سے مجموعی آپریشن کے بعض حصوں میں، اسپیشل آپریشن کی ٹیم  شہید ہمتی کی سرپرستی میں چلی گئی۔  ہم نے اپنی ضرورتوں کے بارے میں اُنہیں بتایا۔ مثلاً ہمارے پاس کھانا کم تھا۔لیکن  ہم اپنے ساتھ کچھ  انڈے، روٹی اور پانی لے آئے تھے جو  قیدیوں میں بھی تقسیم  کرتے۔ شاید زیادہ تر قیدیوں کو دیتے تھے۔ شہید ہمتی کے تعاون سے جن وسائل کی ضرورت تھی اُسے مہیا کیا اور قیدیوں کو پیکان میزائل کشتی پر منتقل کردیا۔ قیدیوں کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے، اُنہیں قلعہ سے پیکان کے عرشے پر منتقل کرنے کیلئے  میں نے اپنا ایک پیر کشتی پر اور دوسرا پیر قلعہ پر رکھا ہوا تھا۔ میں ان کے بازو پکڑتا اور ایک ایک کرکے گزارتا۔ جب میں ے ستار نامی ایک قیدی کو پکڑا، میرے دونوں ہاتھ آپس میں نہیں ملے! ایک لحظہ کیلئے میں نے سوچا: اگر وہ اپنے آپ کو ہلادے تو مجھے سمندر میں گرادے! وہ جونیئر ملاح اور غوطہ خور تھا جس نے پیکان میزائل کشتی غرق ہونے کے بعد، تقریباً ۴۸ گھنٹے تک ناصر سرنوشت کے ساتھ پانی میں جدوجہد کی۔

میں نے رات ساڑھے تین بجے جنگ کی رپورٹ لکھی۔ البتہ یہ کاغذ  سمندری پانی سے محروم نہیں رہے! لیکن میں انہیں اپنے ساتھ لے آیا۔ پھر ہماری درخواست پر شہید ہمتی، ابراہیم محمدی کی مدد سے پیکان میزائل کشتی کا  سھند انداز پلیٹ فارم پر منتقل ہوگیا۔ سھند، فضا میں ایک کریٹ میزائل پھینکنے والی پلیٹ ہے  کہ جسے کندھے پر اٹھاتے ہیں اور دشمن کے جہاز کی طرف پھینکتے ہیں۔ پیکان میزائل کشتی بھی البکر کے فولادی بھاری قلعے کی وجہ سے ریڈار اور میزائل سے امان میں تھی۔ میں نے اپنے بیگ سے ایرانی پرچم نکالا۔ میں نے کہا: کوئی ہے جو اس پرچم کو  ٹاور پر لگائے۔ ناصر نے پرچم لیا اور البکر قلعہ کی ۳۸۰ سیڑھیاں چڑھ کر  ٹاور پر گیا اور پرچم کو لہرادیا۔ ایسے میں ہمارے اور دشمن کے جہاز نمودار ہوئے اور فضائی جنگ شروع ہوگئی۔

فضائی افواج نے ہوشیاری دکھاتے ہوئے F14 طیاروں کو خورموسی کے علاقے میں تیار رکھا ہوا تھا کہ جیسے ہی دشمن کے جہاز  اوپر آئیں اُنہیں  فونکس میزائل سے مار گرائیں۔ پیکان بھی دوبارہ سطحی یونٹوں سے درگیر ہوگئی۔  اور ہم اپنی آنکھوں کے سامنے ہونے والے اس عجیب حادثہ کا تماشا کرر ہے تھے۔ ہم ایک کامل جنگ اور دشمن کی فوج اور اُن کے موبائل یونٹ تباہ ہونے کے شاہد تھے۔  ہماری سھند انداز نے دو یا تین دفعہ دشمن کی جہاز کی طرف فائر کیا،  لیکن اس بات کی تشخیص دینا کہ ہدف پہ لگایا نہیں، تھوڑا سخت تھا۔ ہمارے جہاز اور پرچم کی بلندی  تقریباًٍ ایک ہی تھی۔ فضائی افواج، معمولاًٍ جہازوں کے درمیان ہونے والی بات چیت اور اپنے ریڈار کو ریکارڈ کرتی تھی۔ میں نے مرکزی نقطہ پر جو آواز سنی، اُس سے پائلٹوں میں جوش پیدا ہوگیا تھا۔  وہ دشمن پر حملہ کرنے پر سبقت لیتے۔ اس مدت میں ہمارا ایک جہاز فضا میں گم ہوگیا اور ایک شعلہ  کی مانند چیز  واپس آتی دکھائی دی۔ میں نے خیال کہ ہمارے جہاز پر حملہ ہوا ہے ، میں نے اپنے قطب نما سے اُسے ڈھونڈا تاکہ اگر پائلٹ  کود پڑا ہو تو اُسے ڈھونڈ کر نجات دوں۔  لیکن یہ شعلہ نما چیز نزدیک اور نزدیک تر آتی گئی۔ فوج میں اگر کسی چیز کا زاویہ ثابت ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ ہدف پر ہیں! اچانک مجھے پتہ چلا کہ یہ ایک میزائل ہے جو ہماری طرف آرہا ہے۔ اُس وقت میرے ہاتھ پاؤں جم گئے اور میرے اپنی جگہ سے ہل نہ سکا۔ میزائل آیا اور جہاں میں کھڑا تھا اُس سے کئی میٹر نیچے پلیٹ فارم کے ایک پلر پر لگا۔ ہم صحرائی ٹیلیفون سے ایک دوسرے کی سلامتی سے آگاہ ہوئے۔ وہاں مجھے ہوش آیا۔ میں لاشعوری طور پر خود کو فلانی کہا کرتا تھا۔ میں نے کہا: "فلانی! تمہارے پاس کچھ کرنے کا وقت تھا، لیکن تمہارے ہوش اُڑ گئے۔ اگر اب میزائل نظر آئے تو کچھ کرلینا۔"

 

میزائل کشتی کا فراموش شدہ حصہ

رحمان الفتی نے کہا: اگر آپ اجازت دیں تو ہم قلعے میں موجود ۱۰ افراد کا صفایا کرنے جائیں۔ لیکن وہ اس بات سے غافل تھے کہ وہ لوگ رات ہی میں اپنی کشتیوں کے ذریعے قلعہ کو ترک کرچکے ہیں۔ پیکان بھی مسلسل مصروف تھی اور اُن سے پوچھنے کی فرصت نہیں ملی کہ انھوں نے قلعہ کے شمالی حصہ کو بھی اڑایا ہے یا نہیں۔ ایسے میں،  دشمن کا ایک میزائل مار یونٹ ہماری رینج میں آگیا۔ میں نے اطلاع دی۔  میں نے ناصر کو پیکان کے ٹھہرنے کی جگہ بٹھایا ہوا تھا۔ میں نے کہا: "ناصر پیکان کو خبر دو؛ فلاں سمت، تقریباً فلاں فاصلہ، چشمی شناخت، میزائل کشتی کا دوسرا حصہ۔"  ریڈار اور الیکٹرونک کے مقابلے میں  سمندری شناخت کا اعلیٰ ترین درجہ چشمی شناخت ہے کہ جس میں کوئی شک اور تردید نہیں ۔ میں نے پہلی دفعہ جمعہ کی صبح ساڑھے آٹھ بجے خبر دی تھی۔ کچھ دیر بعد پھر بتایا۔ تیسری دفعہ بتاتے ہوئے کہا: "ناصر کیا ہوا؟ پیکان کیا کہہ رہی ہے؟" ناصر نے کہا: "پیکان کہہ رہی ہے وہ میرے پاس ہے!" یعنی یہ میرا ہدف ہے تم پریشان نہ ہو۔ الفتی اور چار رینجرز اُن ۱۰ افراد کو نکالنے کیلئے شمالی پلیٹ فارم کی طرف جانا چاہ رہے تھے۔ چار رینجرز شمال کی طرف گئے اور آہستہ آہستہ یہ میزائل مار کشتی بھی میری آنکھوں سے اوجھل ہوگئی اور العمیہ پلیٹ فارم سے لگ گئی۔ پھر میں نے اسے نہیں دیکھا اور پھر میں بھول گیا۔ قلعہ  پر تسلط ہوگیا اور ہم نے دشمن کو باہر نکال دیا  اور وہ ہماری آنکھوں کے سامنے نابود ہو رہا تھا۔ ہم نے بھی اسپیشل آپریشن کی ٹیم کے عنوان سے اپنا کام انجام دیا۔ پلیٹ فارم ہمارے اختیار میں تھا  اور دشمن شرمندہ ، لیکن پھر بھی میں نے تجسس کے طور پر کہا، چلیں دیکھیں یہ ۱۰ افراد کیا کر رہے ہیں۔ ہم سوچ رہے تھے کہ یہ ابھی تک قلعہ پر ہیں جبکہ وہ جا چکے تھے۔ الفتی اور اُس کی ٹیم بھی واپس آگئی اور انھوں نے بتایا کہ ایک عراقی کے دماغ پر گولی لگی ہوئی تھی اور اُن ۱۰ افراد کا پتہ نہیں چلا۔ اس مدت میں جوشن میزائل کشتی  اور ۴۰ ماہر رینجرز کو سمندر میں بھیجا گیا تاکہ وہ پیکان کی جگہ لیں اور ہم قلعہ کو اپنے اختیار میں رکھیں تاکہ اُس سے بعد میں استفادہ کیا جائے۔

متاسفانہ تودہ پارٹی کی سیاست بازی اور دخالت یہاں بھی دیکھنے میں آئی۔  تودہ  پارٹی نے بنی صدر کو بوشہر دعوت دی تاکہ اُس وقت کی  بحری افواج کے سربراہ کیپٹن معدوم بہرام افضلی جو تودہ  پارٹی کی من پسند شخصیت تھی، اسے کابینہ میں داخل کریں  اور بحری افواج کی کامیابیوں کے پیش نظر اُسے وزیر دفاع بنانے کی تجویز دیں۔ انھوں نے سارا کام کر رکھا تھا کہ وہیں پر بحری افواج کے سربراہ کیلئے وزیر دفاع کا حکم صادر کروالیں۔ افضلی سمندری انجینئر تھا، نہ ایک سمندری کمانڈر۔ ہم نے جنگ کا سبق پڑھا ہوا تھا۔ انجینئر حضرات زیادہ تروسائل کی حفاظت کیلئے  مکینیکل اور الیکٹرونیک پڑھتے ہیں اور اُنہیں جنگی آپریشن کے بارے میں کم پتہ ہوتا ہے۔

جب پیکان واپس جائے گی اور اُس کی جگہ جوشن لے گی، وہی سیاست باز لوگ پیکان کا تاریخی استقبال کریں گے۔ بنی صدر کہ جس کی سربراہی میں ابھی تک ایک افتخار نصیب ہوا تھا کہ جس میں اُس کا کوئی کردار نہیں تھا! اب آکے یہاں سے اپنا فائدہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔

ایسے حالات میں ہم قلعہ پر منتظر ہیں کہ پیکان کی جگہ جوشن آئے اور ہمارے لئے ۴۰ رینجرز لائے تاکہ ہم قلعہ پر مکمل قبضہ کرکے اُسے اپنے اختیار میں لے لیں اور العمیہ پر قبضہ کریں۔ یہ ہماری ذہنیت ہے۔ ساڑھے گیارہ بجے کے قریب الفتی اور اُس کی ٹیم واپس آتی ہے اور خبر دیتی ہے کہ پلیٹ فارم کے شمال میں کتنے جنگی وسائل ہیں۔ کچھ ساز و سامان اپنے ساتھ لاتے ہیں اور کچھ اور لانے کیلئے دوبارہ جاتے ہیں۔ خاص طور سے سھند میزائل کافی مقدار میں تھے۔ اس کام میں مصروف تھے کہ ناصر نے کہا: "پیکان نے کہا ہے کہ البکر کو خالی کردیں۔" میں نے کہا: "کیوں خالی کردیں؟ ہم یہ کام نہیں کریں گے۔" یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب کوئی اعلیٰ افسر حکم دے تو اُس پر عمل کرنا چاہیے۔ ہماری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کس نے یہ حکم دیا ہے؟  جر و بحث ہوئی – البتہ احترام کے ساتھ –  اور آخر میں، میں نے آپریشن ٹیم سے کہا: آؤ چلیں،  لیکن وہ نہیں آرہے تھے۔ طے پایا کہ پوچھیں  کہ جانے کیلئے پیکان کہہ رہی ہے یا ٹاسک فورس؟ انھوں نےکہا: ٹاسک فورس کا حکم ہے۔ ہم تعجب اور حیرت میں پڑ گئے کہ اتنی زحمت اور دباؤ کے بعد البکر کو حاصل کیا اب ہم کیوں جائیں؟ میرے ذہن میں ایک بات آئی کہ کوئی برا حادثہ ہونے والا ہے۔  میں نے رینجرز سے کہا کہ آؤ چلیں۔ اگر کوئی حادثہ پیش آیا تو ہماری دیوار سے چھوٹی کوئی دیوار انہیں نہیں ملے گی۔

 

پیکان میزائل کشتی سے خدا حافظی

جمعہ ۲۸ نومبر  کو دوپہر ساڑھے بارہ بجے ، قلعہ کو ترک کرکے پیکان پر چڑھنے والا  میں آخری آدمی تھا۔ میرے خیال میں یہ اضطراب بوشہر میں ہونے والے حادثہ کی وجہ سے تھا۔ اب آپ دشمن کی اُس میزائل مار کشتی کا تصور کریں جس سے ہم غافل ہوگئے  تھےاور اُس کو بھلا دیا تھا۔ ساڑھے بارہ بجے پیکان میزائل کشتی نے قلعہ کو ترک کیا۔ پونے ایک بج رہے تھے؛ یعنی ہم پندرہ منٹ کا راستہ طے کرچکے تھے اور اب سمندر میں ہماری رفتار حد اکثر تک  پہنچ چکی تھی اور ہم بوشہر پورٹ کی طرف جا رہے تھے کہ وہی کشتی جسے ہم نے بھلا دیا تھا، سامنے آگئی۔ اُس نے صبر کیا تاکہ ہم تھوڑا دور ہوجائیں اور ایک ساتھ دو میزائل مارے۔ اُس وقت میزائل کشتی کے کمانڈر اور گولہ مارنے والے شہید حسین حفیظی نے ایسی چال چلی کہ دو میزائل منحرف ہوگئے۔ میں جو پیکان پر آیا، حقیقت میں اُداس تھا۔ کیونکہ خوامخواہ میں ایسے فیصلے کئے گئے تھے جن کا کوئی بھی ٹیکنیکی مبنی نہیں تھااور اب میں پیکان والوں سے رابطہ کرنا نہیں چاہتا تھا۔ سھند انداز ابراہیم محمدی جو میرا ساتھی تھا، اُس نے آکر کہا اگر آپ آرام کرنا چاہتے ہیں، تو آئیں میری جگہ سو جائیں۔ ایک دفعہ تو میں نے سوچا کہ جاکر سوجاؤں، رات سویا بھی نہیں تھا اور کھانا بھی صحیح سے نہیں کھایا تھا، میں تھکا ہوا اور اُداس تھا۔ لیکن میں کمانڈر کے پل پر گیا۔ اوپر گیا۔ شہید ہمتی کمانڈر   پل کے بیج میں کھڑا ہوا تھا۔ میں نے صرف اُس کی آنکھوں میں دیکھا۔ یقیناً میری آنکھوں میں سوال اور ایک بہت بڑا کیوں تھا۔ اُس نے مجھ سے کہا: "سر (sir) دیر ہوگئی۔" آفیسرز ایک دوسرے کو انگلش زبان میں sir سر  کہہ کر پکارتے ۔ اس نے دو مرتبہ تکرار کیا۔ میں نے بھی نہیں پوچھا کہ کس  چیز میں دیر ہوئی؟ میں پھر کمانڈر پل پر آگیا۔ میں عرشہ پر موجود کمانڈر کی کرسی پر بیٹھ گیا۔ اس وقت، شہید ہمتی کمانڈر پل میں تھا۔ شہید حفیظی بھی میرے سامنے بیٹھا ہوا تھا اور ہم آپریشن کے بارے میں بات کر رہے تھے۔ اچانک بائیں طرف والے واچ مین نے کہا: میزائل! میزائل! میں بائیں طرف پلٹا اور حفیظی دائیں طرف۔ دو میزائل وحشتناک انداز میں ہماری طرف آرہے تھے تاکہ ہمیں ٹکڑے ٹکڑے کردیں۔ میں نے خود سے کہا ہوا تھا کہ فلانی! اگر اب میزائل دیکھنا تو کچھ کرلینا۔ اس دفعہ  البکر قلعہ کے برعکس، میں چھپنے کیلئے بھاگ رہا تھا۔ حفیظی، کمانڈر پل میں کودا  اور بولا: "پورا ہینڈل بائیں طرف۔" کشتی میزائلوں کی طرف گھومی۔ کشتی کا یوں میزائل کی طرف گھومنا ایک طرح سے پینترا بدلنا تھا اور ان دو میزائل کے سامنے، بجائے اس کے کہ ہمیں بیج میں سے دو کردے اور کشتی میں کوئی بھی زندہ نہ بچے، جگہ خالی چھوڑ دی گئی۔ پہلا میزائل کشتی سے دور جاکر گرا۔ لیکن دوسرا میزائل  کشتی کے نچلے حصہ پر لگا۔ وہ جگہ کہ اگر میں سونے چلا جاتا تو ابھی تک سو رہا ہوتا! جو لوگ وہاں تھے، جب وہ اس طرف آتے ہیں، واقعاً بہت ہی سنگین مناظر دیکھتے ہیں۔ اپنے ساتھیوں کے ٹکڑے دیکھ کر تحمل کرنا بہت سخت تھا۔

اب ہمیں پتہ تھا کہ تیسرا میزائل بھی آئے گا۔ دوسرے اور تیسرے میزائل لگنے کے درمیانی وقت تک، میں نے پھر ہمتی اور حفیظی کو نہیں دیکھا۔ چونکہ حفیظی یہ حکم دینے کے بعد، پورا پینڈل بائیں طرف، وہیں سے کشتی کے آپریشن روم میں گیا  اور ٹاسک فورس کو ہماری وضعیت سے آگاہ کیا۔ میں نے پھر پیکان میزائل کشتی کے کسی افسر کو نہیں دیکھا، صرف ایک رینجرز  اور پیکان میزائل کشتی کے کچھ کارکن میرے  اطراف میں کھڑے تھے کہ میں جن کے بارے میں زیادہ نہیں جانتا تھا۔ جو چیز مجھے یاد ہے وہ یہ کہ کچھ سرگرمی ہوئی ہے۔ ہمارے ہاتھ ایم جی تھری اسٹین گن پر تھے؛ گرچہ اُس سے میزائل  نہیں گرا سکتے تھے،  لیکن کم سے کم کچھ تو ہو،  اس لئے اُسے ردّ و بدل کر رہے تھے۔ جب کارکنوں نے دیکھا کہ کچھ حرکت ہو رہی ہے، ایک نے کہا: میں جاکر لائف جیکٹ لاتا ہوں۔ سب نے لائف جیکٹ پہن لیں۔ میں نے صرف سرنوشت اور الفتی کو ایک لحظہ کیلئے دیکھا کہ پہلے اور دوسرے میزائل لگنے کے بعد، کشتی کی دائیں طرف سے کشتی کے آخری حصے  کی طرف جا رہے تھے۔ اسپیشل آپریشن کا  ایک رینجر ایم جی تھری گن کو لیکر لیٹ گیا اور میں بھی پل پر کودا تاکہ گولیوں کی پٹی کو سنبھالوں۔ میں نے جیسے سیدھا کرنے کیلئے ایم جی تھری گولیوں کی پٹی کے نیچے ہاتھ رکھا، اب تیسرا میزائل بہت قریب آگیا تھا  اور وہ آکر بالکل کمانڈر پل  پر لگتا۔ ہمارے پاس خود کو نجات دینے کیلئے ۲۰ سے ۳۰ سیکنڈ کا وقت تھا۔ میں چلایا: "کشتی ترک کردو ...کشتی ترک کردو...!" میں  نے ساتھ والوں کو پانی میں کودنے کی ترغیب دلائی۔ میں نے رینجر کو اٹھایا اور اُسے پانی میں دھکا دیا۔ میں نے میزائل پر آخری نگاہ ڈالی اور میزائل ٹکرانے سے پہلے پانی میں کود پڑا۔ میں نے خود کو ڈھیلا چھوڑ دیا تاکہ میزائل لگنے تک سمندر کی تہہ میں چلا جاؤں اور دھماکے کی لہر مجھ تک نہ پہنچے۔ میزائل نے کشتی کے بالائی ٹکڑے کو کاٹ دیا اور اُس کا کچھ حصہ مجھ پر گرا، میں نے دیکھا کہ میں سمندر کی تہہ میں جا رہا ہوں۔ پھر میں اپنے آپ سے مخاطب ہوا: "فلانی گئے ..." بہت ہی عجیب احساس تھا۔ مجھے کسی پریشانی کا احساس نہیں تھا۔ اچانک کشتی کے ٹکڑے مجھ سے جدا ہوگئے۔ ہمیں روشنی کی سمت تیرنے کی تعلیم دی گئی تھی۔ میں روشنی دیکھ کر اوپر کی طرف آیا۔ جب میں نے پانی سے اپنا سر باہر نکالا، پھر میرے لئے کوئی رمق باقی نہ بچی۔ زندوں کی دنیا میں جانے کیلئے میرے پاس بہت کم وقت تھا۔ چونکہ میرے چاروں طرف لاشیں تھی ایسے میں کسی نے فلانی سے کہا: حادثات کو محفوظ کرو۔ میں نے اپنی گھڑی پر نظر ڈالی  تو سوا ایک ہو رہے تھے۔

 

زندہ رہنے کیلئے جدوجہد

اُس کے بعد اب سمندر میں زندہ باقی رہنے کی بات ہے۔ میں تقریباً ساڑھے چار گھنٹے تک پانی میں رہا۔ میں فوجیوں کو جمع کرنے کیلئے تیرتا رہا۔ میرے خیال سے ۱۳ افراد زندہ بچے تھے۔ دو لوگ ایک طرف چلے گئے تھے جنہیں  میں نہیں جانتا تھا۔ میرے خیال میں عراقی قیدی تھے۔ انھوں نے ایک کشتی نجات اٹھالی تھی کہ جسے ہوا لے جارہی تھے۔ میں اور ناصر اُن کے پیچھے گئے تاکہ پکڑ کر واپس لے آئیں۔ چونکہ وہ کشتی صحیح و سالم تھی۔ ایک دوسری کشتی پر ٹکڑا لگ گیا تھا۔ ہم اُس تک نہیں گئے اور مجبوراً واپس آکر فوجیوں کو جمع کرنے لگے۔ بحری قوانین کے مطابق پانی میں موجود اعلیٰ افسر  یاکوئی عہدہ دار شخص، اُس وقت کا افسر ہوتاہے۔  پس دوبارہ یہ ذمہ داری مجھ پر عائد ہوئی اور میں بھی مصروف ہوگیا۔ ایک طرف ناصر اور عراقی قیدی ستار، جو جونیئر ملاح تھا، پانی میں ہاتھ پاؤں مارنے والے لوگوں کو ہمت دلا رہے تھے اور وہ پیکان کے ایک زخمی کو نجات دیتے ہیں۔ ستار اور ناصر نے اس کشتی نجات کی رسی کو پکڑا ہوا تھا  اور تیرتے ہوئے بتا رہے تھے کہ جیسے ساحل کی طرف  راہنمائی کر رہے ہوں۔ البتہ یہ کام غیر ممکن تھا، لیکن فوجیوں کو ہمت دلانے کیلئے بہت موثر تھا۔ لوگ ایسے حالات میں حواس باختہ ہوتے ہیں۔ اُنہیں تسلی دی گئی، زخمیوں کی دیکھ بھال ہوئی۔ ناصر اور ستار کی یہ حرکات، جو ناصر کی خلاقیت سے انجام پائی اور "یاحسین (ع)" اور "یاعلی (ع)" کہنا، یہ سب کچھ فوجیوں کے وحشت ناک ماحول سے باہر  نکلنے کا باعث بنا۔

ایک کشتی میں رہنے والے افراد، کشتی کو اپنے گھر کی طرح سمجھتے ہیں اور وہ اُن کیلئے صرف ایک جنگی یونٹ نہیں ہوتی۔ چونکہ وہ اُس میں رہتے ہیں، سوتے ہیں، وہاں اُن کے دوست ہوتے ہیں اور ایک دوسرے سے ایک طرح کی وابستگی اور یکجہتی ہوتی ہے۔  جو لوگ شہید ہوگئے تھے، انھوں نے کئی سال تک پیکان میں ایک ساتھ زندگی بسر کی تھی۔ پس وہ لوگ ہماری نسبت نفسیاتی لحاظ سے زیادہ مشکل میں تھے۔ میں بھی  اُس وقت صرف اُن لوگوں کی حفاظت  اور ان کی نجات کی فکر میں تھا۔ میں انہی سوچوں میں غرق تھا کہ ہمیں مارنے والی کشتی دکھائی دی اور اب وہ ہم سے نزدیک ہورہی ہے؛ ایسے حالات میں کہ جب آپ کو معلوم نہ ہو کہ آپ پر گولیاں برسائی جائیں گی یا آپ کے ساتھ کیا کیا جائیگا؟ کیونکہ ہم نے اُن کے بہت سوں کا مارا تھا۔ ہمیں بعد میں پتہ چلا کہ جن تین کشتیوں کو ہم نے مارا تھا اُس کے باقیماندہ کارکن بھی اس کشتی پر ہیں۔ یعنی اگر کشتی کوئی کام نہ کرنا چاہیے تو ممکن ہے یہ بچے ہوئے افراد کچھ کر بیٹھیں۔  بہت ساری باتیں ہمارے ذہن میں آئیں؛ شاید ہمیں قیدی بنالیں، ہم پر تشدد کریں و ...۔ میزائل مار کشتی لحظہ بہ لحظہ ہمارے قریب آرہی تھی اور ابھی تک ہمارے فوجیوں کی کوئی خبر نہ تھی۔ میں پریشان تھا کہ اگر میں اسیر ہوگیا اور میرے پاس جو معلومات ہیں، ممکن ہے کہ میں دو، تین دن تک برداشت کرسکوں۔ میں اپنا فوجی کوٹ اُتارنے کی فکر میں تھا۔ اُس کے نیچے والی قمیض، کشتی کے باورچی کی طرح کی ہے۔ ایک لمحے ایسا لگا کہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ شاید مجھے ستار (دشمن کا قیدی) کو پانی میں ڈبونا چاہیے۔ یہ بھی آسان نہیں تھا۔  چونکہ وہ طاقتور اور تیراک بھی تھا اور وہ پانی میں مجھ سے زیادہ پرسکون تھا۔ پھر میں دوسروں سے التماس کروں کہ میرے بارے میں نہ بتائیں  اور کہیں کہ یہ کشتی کا باورچی ہے۔ میں پیچھے ہٹا اور پانی میں لیٹ گیا۔ میں اپنے بٹن کھول  رہا تھا تاکہ کوٹ کو پانی میں پھینک دوں۔ میرے پاس کچھ میگزین اور یونٹوں میں ردّ و بدل ہونے پیغامات کے کاغذ تھے۔ انہیں اور اپنے شناختی کارڈ کو میں نے اپنی پیچھے والی جیب میں رکھ لیا تاکہ آخری وقت میں انہیں پھینک دوں۔ میں کوٹ اتارنے کیلئے لیٹا تھا کہ مجھے اپنے سر پر F4 طیارے نظر آئے۔ میں فوراً پلٹا اور اپنے بٹن لگائے۔ F4 نے گھوم کر ایک میزائل مارا جو نہیں لگا ، دوسرا میزائل بالکل کشتی کی بیج میں لگا اور وہ ہماری آنکھوں کے سامنے تباہ ہوگئی۔ اُس طیارے کا پائلٹ شہید عباس دوران تھا۔ اور حق ہے کہ اُس آپریشن میں فضائی افواج کے شریک پائلٹوں کے بارے میں کچھ کہا جائے۔

 

چھوٹی کشتی نجات

زیادہ وقت نہیں لگا۔ شاید تقریباً دو بجے کے بعد کا وقت تھا کہ ہیلی کاپٹر آگیا۔ قوانین کہتے ہیں عہدے میں بڑا آدمی سب سے آخر میں سوار ہوگا۔ ہم بھی کھڑے ہوکر اوپر جانے والوں کو گننے لگے۔ جب ہیلی کاپٹر پانی سے  لگتا ہے تو پانی کی سوئیاں بناتا ہے۔ جب وہ آنکھ میں لگتی ہیں تو آپ زیادہ دیر تر آنکھیں کھلی نہیں رکھ سکتے۔ ایک لحظہ کیلئے بند کریں اور دو مرتبہ کھولیں۔ جب میں ۹ تک پہنچا تو دیکھا کہ اب ذہن ساتھ نہیں دے رہا۔ پھر مجھے نہیں پتہ چلا کہ ۱۰ ہوئے یا نہیں؟ اب میں اپنے تھکے ذہن سے سوچ رہا تھا کہ مجھے دیکھ لیا ہے اور مجھے چھوڑ کر نہیں جائیں گے۔ ایک دفعہ دیکھا کہ وہ گیا!اور میں اس بات سے غافل تھا کہ اُس طرف بھی میری نظروں سے دور، ناصر سرنوشت اور عراقی قیدی ستار اور پیکان میزائل کشتی کا ایک زخمی، اپنی باری کے انتظار میں ہیں۔ ناصر سوچ رہا تھا کہ مجھے اوپر کھینچ لیا گیا ہے اور میں سوچ رہا تھا کہ اُسے اوپر کھینچ لیا گیا ہے۔

ناصر اچھا تیراک اور با ہمت تھا۔ مجھے ناصر کی کوئی فکر نہیں تھی۔ کوشا بھی زخمی ہوگیا تھا۔ ایک دو دفعہ میں نے اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالی، لیکن میں متوجہ نہیں ہوا کہ ایک ٹکڑا اُس کے حرام مغز میں لگا ہے۔ اُس نے کچھ نہیں کہا اور میں نے بھی کچھ نہیں پوچھا۔ میں نے الفتی سے بھی کچھ نہیں پوچھا۔ میں نے کہا کہ وہ لوگ خود اپنی دیکھ بھال کرلیں گے۔ سب چلے گئے اور ہم چار لوگ رہ گئے۔ میرے پاس بھی کوئی اچھی سی لائف جیکٹ نہیں تھی۔ میں نے کاک (نرم لکڑی) ڈھونڈ کر اپنا پیٹ کے نیچے لگایا ہوا تھا۔ وہ صحیح تھا اور میں پرسکون تھا۔ اب مجھ پر کوئی ذمہ داری بھی نہیں تھی۔ میں تھا اور میں، وہ سنگین ذمہ داری مجھ سے ہٹ گئی تھی۔ میں نے سوچا کہ البکر قلعہ کی طرف واپس چلاجاؤں اور میں نے تیرنا شروع کردیا۔ میں جا رہا تھا کہ پانی میں مجھے نیند آنے لگی۔ تھکا ہوا تھا۔  جب مجھے نیند آتی تو میں عمودی حالت میں آجاتا، جب پانی میرے صورت سے ٹکراتا تو میں بیدار ہو جاتا۔ میں پھر اوپر آتا ، کاک ڈھونڈتا ، پیٹ کے نیچے لگا کر دوبارہ تیرنا شروع کردیتا۔

میں اپنے ہدف سے ۱۰۰ میٹر کے فاصلے پر پہنچ گیا۔ میں نے پانی پر تیرنے والے ۱۵ نمبر کے آئٹم کو دیکھاجو دریائے اروند کی رہنمائی کیلئے ہوتا ہے۔ یہ آئٹم دریائے اروند میں داخل ہونے کی رہنمائی کرتے ہیں اور کشتی کی رہنمائی کیلئے سمندر کی سطح پر لنگر انداز ہوتے ہیں۔ کشتیاں ان آئٹم کے درمیان کھڑی ہوتی ہیں۔ میں نے پوری کوشش کی لیکن دیکھا کہ نہیں پہنچ سکتا۔ میں نے اپنی حرکت کے زاویہ کو بدلا تاکہ بہاؤ مجھے لے جائے، لیکن نہیں ہوا۔ اپنی تمام توانائی سے استفادہ کرلیا لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ بالکل اس طرح جیسے کسی نے میرے سینے پر ہاتھ رکھا ہو اور مجھے دھکا دیتے ہوئے کہہ رہا ہوں: واپس جاؤ! واپس جاؤ!میں واپس پلٹا۔ دوبارہ خلیج فارس کے وسط میں آگیا۔ کیوں؟ نہیں معلوم! منطقی لحاظ سے تو مجھے اپنی توانائی صرف نہیں کرنی چاہیے تھی، لیکن نہیں پتہ کیا ہوا  کہ میں واپس پلٹا اور مستقل تیرتا رہا۔ جب لہر اوپر آتی ہے تو آپ بھی ا ُس کے ساتھ اوپر آتے ہیں، آپ زیادہ وسیع منظر کو دیکھ سکتے ہیں۔ اسی طرح لہر پر میں نے افق پر نظر ڈالی۔ مجھے سمندر کے افق پر ایک جگہ ایک دھبہ نظر آیا۔ میرا تھکا ہوا دماغ اس دھبہ کو تشخیص دینے کے قابل نہیں تھا۔  لیکن میں نے اسے نجات کی چھوٹی کشتی کا نام دیا۔ نہیں معلوم کہ کشتی کیوں نہیں کہا؟ اور دوسرے ہزار نام کیوں نہیں دیئے؟ میں سورج غروب ہونے کی وجہ سے پریشان تھا کیونکہ سرچ آپریشن اور نجات دینا اندھیرے میں ممکن نہیں۔ لہذا میں اُس کی طرف تیرتا رہا۔ میں اس راستہ پر تقریباً ایک یا ڈیڑھ گھنٹے تک تیرتا رہا۔ جب میں قریب ہوا تو مجھے پتہ چلا کہ یہ میزائل کشتی سے مربوط سمندر میں نجات کی کشتی ہے۔

میں شک میں تھا کہ کیا یہ ہماری ہی ہے؟ یا وہی پیکان کشتی ہے کہ جس کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ اس پر عراقی سوار ہیں  اور اُسے ہم سے دور کردیا ہے؟ بہرحال مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ میں نے سوچا کہ اُس سے نزدیک ہوجاؤں اور ایک مناسب فاصلہ پر رُک جاؤں۔ اگر ہمارا ہیلی کاپٹر آیا تو  اس پر چڑھ جاؤں گا، لیکن اگر دشمن کا ہیلی کاپٹر آیا، یہ کشتی یہی رہے میں اُس پر چڑھ جاؤں گا۔ کشتی میں سے کسی نے مجھے ہاتھ سے اشارہ کیا، لیکن میں نے اسی طرح فاصلہ کا خیال رکھا۔ سورج غروب ہونے میں زیادہ وقت نہیں تھا۔ ہمارا ہیلی کاپٹر آگیا۔ پہلے اور دوسرے آدمی کو اوپر کھینچنے میں تھوڑا وقت لگا۔ میں نے اس مدت میں اپنی رفتار میں اضافہ کیا، انھوں نے نجات دینے والی رسی کو پانی میں ڈالا ۔ میں رسی کو پکڑنا چاہتا تھا لیکن میرے ہاتھ اوپر نہیں اٹھ رہے تھے۔ میں نے تیرتے ہوئے خود کو رسی کے دائرے تک پہنچایا اور خود کو اُس میں پھنسا لیا اور مجھے اوپر کھینچ لیا گیا۔ جب میں اوپر گیا تو وہ دو لوگ، ایک رینجر اور  دوسرا مھناوی حمید زنگنہ تھے۔ہم بوشہر پہنچے۔ رات کو ہمیں ہسپتال میں رکھا گیا۔ اگلے دن صبح،  میں نے ٹاسک فورس سے رابطہ کیا  اور ٹاسک فورس میں واپس آنے کی درخواست کی۔ یہاں آکر دیکھا کہ بہت ہی گھمبیر مسئلہ ہے اور سب سوگ کی حالت میں تھے۔ میرا پہلا سوال یہ تھا کہ ناصر کہاں ہے؟ انھوں نے کہا کہ وہ ہمیں نہیں ملا۔ میں نے فوجیوں سے کہا کہ وہ بالکل صحیح و سالم ہے۔ واپس جاؤ اور اُسے ڈھونڈو۔ ۲۹ نومبر، ہفتہ کی صبح ۱۰ بجے، ناصر کو عراقی اسیر ستا ر کے سا تھ ڈھونڈ لیا گیا۔ متاسفانہ پیکان کا زخمی آدمی رات بارہ بجے شہید ہوچکا تھا۔  خاطر سرنوشت کا واقعہ خود اس کی زبانی سے سننے کے قابل ہے۔ 


سائیٹ تاریخ شفاہی ایران
 
صارفین کی تعداد: 399


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
جنوبی محاذ پر ہونے والے آپریشنز اور سردار عروج کا

مربیوں کی بٹالین نے گتھیوں کو سلجھا دیا

سردار خسرو عروج، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے چیف کے سینئر مشیر، جنہوں نے اپنے آبائی شہر میں جنگ کو شروع ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔
لیفٹیننٹ کرنل کیپٹن سعید کیوان شکوہی "شہید صفری" آپریشن کے بارے میں بتاتے ہیں

وہ یادگار لمحات جب رینجرز نے دشمن کے آئل ٹرمینلز کو تباہ کردیا

میں بیٹھا ہوا تھا کہ کانوں میں ہیلی کاپٹر کی آواز آئی۔ فیوز کھینچنے کا کام شروع ہوا۔ ہم ہیلی کاپٹر تک پہنچے۔ ہیلی کاپٹر اُڑنے کے تھوڑی دیر بعد دھماکہ ہوا اور یہ قلعہ بھی بھڑک اٹھا۔