شہید محمد علی رجائی کے دو واقعات

وزیر کے ساتھ مذاق!

محمد حسینی قدمی
ترجمہ: سید مبارک حسنین زیدی

2016-11-01


جس زمانے میں زاہدی صاحب تہران کے تربیتی امور کی ذمے داری کو سنبھالے ہوئے تھے، البرز کے سیکنڈری اسکول میں ایک بڑا سیمینار منعقد ہوا اور اس کے ساتھ ہی تربیتی امور کے ارکان کی کوششوں سے ایک عظیم الشان نمائش بھی منعقد ہوئی جس میں صوبہ تہران میں تربیتی امور سے متعلق ہونے والے کاموں اور چیزوں کی نمائش لگائی گئی۔

اس نمائش کی افتتاحیہ تقریب کی ذمے داری جناب خوش صحبتان کے حوالے تھی۔ اس تقریب میں (وزیر اعظم) جناب رجائی اور (نائب وزیر) جناب باہنر تشریف لائے تھے اور نمائش میں موجود ہر ایک اسٹال پر گئے تھے، جن میں سے ایک اسٹال منطقہ نمبر (۲۰) (شہر رے) کے تعلیم و تربیت کے امور کا تھا۔ اس اسٹال پر اس علاقے کے ہونہار طالبعلموں کے دلچسپ اور دیکھنے سے تعلق رکھنے والے کاموں کو پیش کیا گیا تھا جو کہ لائق ستائش تھے۔ الیکڑانک اور اسلحے سے متعلق چیزیں دیدنی تھیں۔

ٹیکنیکل اسکول کے ایک بچے نے بچوں کے کھیلنے والی پستول کہ جسے کمر پہ باندھا جاسکتا تھا، بنائی تھی، جس میں j-3 کی گولی ڈلتی تھی۔ جب رجائی صاحب اس بچے کے پاس پہنچے کہ جس نے یہ پستول بنائی تھی  تھی تو کچھ دیر ٹھہرے اور اس ہنرمند بچے نے اس پستول کے مختلف حصوں کے بارے میں بتانا شروع کیا اور ساری وضاحت دینے کے بعد آخر میں کچھ کہے بغیر ا س اسلحے کو اوپر کی طرف اٹھایا اور گھوڑے کو کھینچا اور کہا: "اور ۔۔۔ اس طرح سے گولی چلتی ہے" اور مشق کیلئے پہلے سے موجود کارتوس پھٹ گیا اور ایک خوفناک آواز سے پوری نمائشگاہ لرز اٹھی۔ ہم سب لوگ وزیر محترم کی سلامتی کیلئے فکرمند تھے۔ ان کے محافظ اور اطراف میں موجود لوگ اس واقعے کی وجہ سے حواس باختہ ہوچکے تھے۔ رجائی صاحب ہمیشہ کی طرح سے محکم طریقے سے کھڑے، مسکرا رہے تھے اور کہنے لگے: "جیتے رہو، بچوں!" اس کے بعد اس بچے سے ہاتھ ملا کر، الوداع کرکے دوسرے اسٹال کی طرف بڑھ گئے۔ میں نے اس بچے سے کہا:  "یہ کیا کیا تھا تم نے!؟ ہمیں بتایا کیوں نہیں کہ اس اسلحے میں کارتوس تھا!؟ اس نے بہت ہی آرام سے کہا: "میں اپنے وزیر محترم کے ساتھ مذاق کرنا چاہتا تھا۔"

جناب باہنر اور جناب رجائی دونوں ہی تشریف لائے تھے۔ رجائی صاحب کے بعد، جناب باہنر ہمارے اسٹال پر تشریف لائے۔ میں نے اس کھلونا اسلحے کو اس طالب علم کے ہاتھ سے لے لیا تاکہ وہی کام دوبارہ انجام نہ پائے اور میں نے اس سے کہا: " تم وعدہ کرو کہ بغیر  کارتوس کے اور فائر کیئے بغیر اپنے ہنر کو جناب باہنر کو  دکھاؤ گے۔"

ہم جناب وزیر سے ملنا چاہتے ہیں

شہید رجائی جس زمانے میں وزیر تعلیم و تربیت تھے، اہم اجلاس اور ان میں ہدایات کے معاملے میں سنجیدہ تھے اور مختلف صوبوں اور شہروں کے دورے کیا کرتے تھے تاکہ حکومتی عہدیدار عوام کی مشکلات کو نزدیک سے دیکھیں اور ان سے رابطے میں رہیں۔ اسی لئے مختلف شہروں کے دوروں میں حکومتی عہدیدار بھی ان کے ساتھ ہوا کرتے تھے۔ ایک دن جب شہر دماوند کے دورے پر گئے۔ اجلاس کا مقام "الویری صاحب" صاحب کا گھر تھا۔ جناب وزیر اعظم طے شدہ وقت پر  اجلاس کے مقام پر پہنچ گئے  اور اجلاس کا آغاز قرآنی آیات کی تلاوت کے ساتھ ہوا۔ اجلاس میں جب بحث و گفتگو اپنے اوج پر پہنچی تو کچھ طالبعلم جو کہ وزیر اعظم صاحب کی آمد سے مطلع ہوچکے تھے، آئے اور وزیر اعظم سے ملاقات کی درخواست کرنے لگے۔ میں نے ان سے کہا: وہ ابھی ایک اہم اجلاس میں ہیں اور ملاقات کا امکان نہیں ہے۔ لیکن وہ ملاقات کیلئے بضدّ تھے اور کہہ رہے تھے: "ہم جب تک اپنے وزیر اعظم سے ملاقات نہیں کرلیں گے واپس نہیں جائیں گے۔"

ان طالبعلموں کی بہت ضدّاور منت سماجت کرنے کی وجہ سے میں اندر گیا اور مناسب موقع دیکھ کر ان بچوں کا پیغام رجائی صاحب کے کان میں کہہ دیا۔ انھوں نے کچھ سوچا اور کہا: "ٹھیک ہے (ان سے کہیں) گیاہ بجے نہر کے کنارے واقع باغ کے آخر میں میرا انتظار کریں۔"

میں نے جب بچوں کو یہ پیغام سنایا تو وہ خوشی سے پھولے نہ سمائے اور بلا تأخیر نہر کی جانب دوڑے۔

مجھے اس بات پہ ذرا سا بھی شک نہیں تھا کہ رجائی صاحب اپنی زبان کے پکے ہیں وہ ٹھیک گیارہ بجے اس جگہ پہنچ جائیں گے لیکن میری سمجھ میں یہ نہیں آرہا تھا کہ آخر وہ اس اجلاس کے ختم ہونے سے پہلے کس طرح باہر آئیں گے۔ گیارہ بجنے میں دس منٹ پہلے انھوں نے گھڑی پر ایک نگاہ ڈالی، اس وقت نوروزی صاحب مشغول سخن تھے، خاموسی سے اٹھ کر باہر آگئے اور مقررہ مقام کیلئے چل پڑے۔ وہ طالبعلم اس وقت تک شک میں تھے کہ آیا وزیر اعظم صاحب اپنے اس اجلاس کو چھوڑ کر ان کے پاس آئیں گے یا نہیں۔ انھوں  نے اچانک رجائی صاحب کی آواز سنی کہ "بچوں ! کہاں ہو؟ میں آگیا ہوں۔"

وہاں پہنچتے ہی انھوں نے بچوں سے گرمجوشی سے مصافحہ کیا اور بہت ہی خلوص کے ساتھ ان سے ملے۔ وہ ان بچوں سے محبت کے ساتھ اور ایک مخلص اور بے تکلف استاد کی طرح ملے اور ان کے ساتھ دوستوں کی طرح  خوش گپیوں میں مصروف ہوگئے۔

زیادہ دیر نہیں لگی کہ ہم جب واپس آئے تو وہ اجلاس اسی طرح سے جاری تھا اور رجائی صاحب خاموشی کے ساتھ، تیزی سے اپنی جگہ پر بیٹھ گئے اور کسی کی طرف دیکھے بغیر اپنی فائل کے ورقوں کو پڑھنے لگے اور اجلاس میں جاری بحث کو سننے میں



 
صارفین کی تعداد: 1866


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔