ایران میں دہشت گردانہ حملے زبانی تاریخ کے آئینہ میں


2015-11-24


اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد سیاسی،سماجی،ثقافتی اور بیرونی اوراندرونی مشکلات کے لحاظ سےاسلامی جمہوری ایران جن مسائل سے دوچار ہوا تھا ان میں سے ایک اہم مسئلہ دہشت گردانہ حملے تھے۔دہشتگردانہ حملوں میں ۱۷ہزار سے زائد افراد کا شہید اور زخمی ہوجانا اوراس کےبعد بھی اس سلسلہ کا جاری رہنا ایک ایسا عمل ہے جس نے اس بات پر وادارکیا کہ اس کے مختلف اہم پہلوؤں کو بیان کیاجائے۔

دہشت گردانہ حملوں کی وجہ سے ملک میں سماج کے مختلف گروہوں منجملہ شہدا کے گھرانوں،عوامی اورحکومتی  گروہوں میں ہلچل مچ جاتی ہےاوروہ ہرج ومرج میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔اورمختلف میدانوں میں اس سے پیدا ہونے والے نقصانات کاصحیح اندازہ اسی صورت میں لگایا جاسکتا ہےجب اس کے سلسلہ میں مستند دستاویزات اورصحیح معلومات حاصل کرلی جائیں۔گذشتہ  تیس سالوں میں ہونے والےدہشت گردانہ حملوں کے سلسلہ میں دہشتگرد تنظیموں اورچہروں کا راز فاش ہونا ،اس سلسلہ میں ملک کے تحقیقی اداروں کی قابل غور کوششیں ہیں۔

دنیابھرمیں دہشتگردانہ حملوں کے سلسلہ میں تحقیقات اس بات کی نشاندہی کرتےہیں کہ اس سلسلہ میں دساتاویزات آمادہ کرنے اورخاص مخاطبین اوراہل علم کے لئے اطلاعات اورمعلومات فراہم کرنے کے سلسلہ میں مختلف ممالک میں زبانی تاریخ پر خاص توجہ دیجاتی ہے۔مثال کے طورپر یوکرین میں دہشتگردانہ حملوں کے مختلف پہلوؤں کی تحقیق کے سلسلہ میں زبانی تاریخ پرخاص توجہ دی گئ ہے۔دہشتگردانہ حملوں کی سرزمین نامی ایک وب سائیٹ میں عصرحاضر میں ہونے والے حملوں اوراس میں جاں بحق ہوجانے والےافراد کے مختلف پہلوؤں کا تجزیہ کیا گیا ہے اوراس سلسلہ میں انٹرویو لئےگئے ہیں۔کیوبا میں عرصہ دراز سےسماج کے بہت ہی حساس حصوں پرپابندیوں کے بارے میں بھی زبانی تاریخ کا سہارا لیاگیا ہے اوراس تحقیق میں کہاگیا ہے کہ دراصل  یہ پابندیاں کیوباکےانسانی سماج پرایک بین الاقوامی دہشتگردانہ حملہ ہے۔

 اس کے علاوہ ۹۰ کی دہائی سے مختلف مراکزاورمیوزم بھی دہشتگردی کی زبانی تاریخ کے میدان میں فعالیت انجام دینے لگے ہیں۔میوزم کا،احساسات،افکاراوراس مسئلہ کی قضاوت کے سلسلہ میں بہت مناسب کردارادا کرسکتے ہے اور زبانی تاریخ،موسیقی کے ساتھ ملکرمعاشرےکے سامنے اس کی صحیح تصویرپیش کرسکتےہیں۔

  دہشتگردانہ حملوں کی یادیں زبانی تاریخ کی بہت تلخ یادوں میں شمارہوتی ہیں۔جس میں خوف،اضطراب،سختیاں اورمایوسیاں بھی شامل ہوتی ہیں۔اوران باتوں کی زبانی تاریخ کے ذریعہ محفوظ کرکے تاریخی تحقیقات کے وسائل فراہم کئے جاسکتے ہیں۔لوگوں کی یادوں اوران کے درمیان کے زخم اوردرد کے ارتباط کےذریعہ ان کے دل کی بات کوبیان کیاجاسکتاہے نیزجو وہ جاننا چاہتے ہیں اسےاور مناسب وسائل کی کمی کی وجہ سےانکے بیان نشدہ تلخ تجربات کو منظر عام پر لایا جاسکتاہے۔بین الاقوامی سطح پر دنیا والوں کے درمیان بڑھتے آپسی تعلقات اور دنیا بھر کے عام وخاص مخاطبین کے ایک زبان ہونے کی اہمیت کے پیش نظر زبانی تاریخ کے صحیح استعمال کے ذریعہ ہم اس راہ میں ایک بڑی تبدیلی لاسکتے ہیں۔زبانی تاریخ کو مزید مؤثر اورمعتبر بنانے کے لئے اس کے  طریقوں،جمع کی ہوئی اطلاعات کے ذخیروں کا مناسب استعمال،انٹرویو کے وقت کا خیال اوراس کے اہداف پرتوجہ دینا بہت ضروری امر ہے۔اوراسی طرح زبانی تاریخ کےاستعمال کے وقت بین الاقوامی معیارات کی رعایت اور ثقافتی لحاظ سے امکانات کی فراہمی اور بیرونی مخاطابین تک صحییح اطلاعات پہونچانا بھی ایک لازمی امرہے۔ اس کےعلاوہ دہشتگردانہ حملوں کی زبانی تاریخ کے دستاویزات کوجمع کرنےاورصحیح معلومات حاصل کرنے کے لئےایک منظم پروگرام تیار کرنےکی ضرورت ہے۔اوریہ امرزبانی تاریخ کے مختلف پہلوؤں میں مؤثرثابت ہوسکتاہے۔

اسلامی انقلاب کی تاریخ کا تجزیہ اس بات کی نشاندہی کرتاہے کہ انقلاب کے دوران انقلابی شخصیات اورمختلف فوجی،سیاسی اورثقافتی تنظیموں پرمسلسل دہشتگردانہ حملے ہوتے رہے ہیں۔انقلاب کی پہلی صف کی شخصیات سے لیکر عام لوگوں تک پر حملہ ہوتے رہے جس کی وجہ سے ملک کو ناقابل جبران منٖفی اثرات اورنقصانات کا سامنا کرنا پڑاہے۔ان میں سے شہید بہشتی،شہید رجائی اورشہید باہنر کی شہادت کو بطور نمونہ پیش کیا جاسکتاہے۔اور گذشتہ ایک دہائی سے جوہری توانائی سے متعلق ایرانی سائینسدانوں کے قتل،سرحدوں پر دشمن عناصرکی فعالیتوں اور سب سے اہم ملک پرایک طرفہ پابندیوں کو ،ایرانی عوام کی شخصیت پر ایک قسم کے دہشتگردانہ حملے کا نام دیاجسکتاہےاورزبانی تاریخ میں یہ مسائل قابل غورہیں۔دہشتگردانہ حملوں کے سلسلہ میں دواہم تحقیقاتی مراکز کی تجزیاتی فعالیتیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ان کا زیادہ زورجزئی یا تبلیغاتی امورپر رہاہے۔یہ دوتحقیقاتی مراکز چونکہ حکموتی نہیں ہے لھٰذا مالی ،اقتصادی اورتکنیکی لحاظ سے انکے اختیارات محدود ہیں اورانکے فیصلہ لینےکا دائرہ بھی تنگ ہے اس بنا پروہ تمام پہلؤوں کے تجزئیات کا جواب دینے سے قاصرہیں۔ یہ مراکز اطلاع رسانی،تبلیغات اوردستاویزات کی فراہمی کا کام ’’زنان قربانی ترور درمشہد‘‘مشہد میں دہشتگردانہ حملوں میں جاں بحق ہونے والی خواتین،جیسی کانفرنسوں کے انعقاد،کتاوبوں کی طباعت،سی ڈیوں کی نشرواشاعت،اورتجزیاتی مباحث کے ذریعہ انجام دیتے ہیں۔ زبانی تاریخ کا زیادہ تر استعمال ماضی میں رونما ہونےوالے واقعات کی تحقیقات کے سلسلہ میں ہوتا ہے اوردہشتگردانہ حملوں میں شہید ہوجانے والے افراد کے خاندان سےسیاسی مراکز کی ہماہنگی کے ساتھ انٹرویولئے جاتے ہیں۔اورانٹرویو میں زیادہ زورانہیں کی باتوں کے ذریعہ تاریخ آمادہ کرنے پرہوتا ہے۔

زبانی تاریخ کا ایک اہم کام دہشگردانہ حملوں سے متاثر خاندانوں کے درد والم کو کم کرنا اوراس کا مداوا اورانکی دلجوئی کرنا ہے،جبکہ اس مسئلہ پر ایران میں کم توجہ دی جاتی ہے۔اور بین الاقوامی سطح پراس بات کا استعمال بہت زیادہ ہوتا ہے۔ تاریخی نکتہ نگاہ سےدہشتگردانہ حملوں کی تحقیقات اورتجزیہ اور اس کو سماجی مسئلہ بنانا ایک ایسا عمل ہے جس کے ذریعہ بین الاقوامی معاشرے کی سیاسی  توجہات کو جلب کیا جاسکتاہےاوراسےسماجیات کے مختلف پیرائے میں بیان کیا جاسکتا ہے۔اورنتیجۃ دہشتگردانہ حملوں کے مختلف پہلؤوں کے سلسلہ میں دستاویزات تیار کرکے بیرونی اوراندروںی دونوں ہی قسم کی اطلاعات میں اضافہ کیاجاسکتاہے۔انقلاب کے بعد سے اب تک بہت ایسے دہشتگردانہ حملے اورقتل ہیں جن کو دستاویزات اور اطلاعات کی کمی باعث صحیح طورپربیان نہیں کیا جاسکا ہے۔دہشتگردانہ حملوں اوراس سے پیدا ہونے طولانی یا کم عرصہ تک باقی رہنے والے اثرات کو قومی مسئلہ شمارکیا جانا چاہئےاورزبانی تاریخ کے مختلف مراکزکی سہولیات سے استفادہ کرتے ہوئے انہیں علمی حلقوں میں بیان کرنا چاہئے اوراس میدان میں تحقیقات کےلئے زیادہ سے زیادہ وسائل فراہم کئے جانے چاہئے۔             



 
صارفین کی تعداد: 2417


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ابھی اس کو چھوڑو جو کچھ گھر میں ہے وہ تم پر بہت سجتا ہے
اس کپڑے کی کوالٹی میری لئے کوئی اہمیت نہیں رکھتی تھی مجھے تو بس اس بات کا اشتیاق تھا کہ میں ایک ایسی نئی چادر کی مالک ہوجاوں گی جو بالکل میرے ناپ کی ہے۔

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔