سیمین اور جلال کی یادیں ، ان کے گھر" اختتام دنیا" پر۔۔


2015-11-07


سیمین اور جلال کی یادیں، ان کے گھر" اختتام دنیا" پر۔۔

ہم دانشور سیمین کی پہلی برسی کے موقع پر، ان کی بہن کے پاس تشریف لاۓ، تاکہ وہ ایران کی اس محترم خاتون کے بچپن، جوانی اور بڑہاپے کی یادوں کو ہمارے گوش گزار کریں۔ ایرانی طلباء کی ادبی نیوز ایجنسی(ایسنا) کی رپوٹنگ،دانشور سیمین اور جلال آل احمد کے گھر سے، ویکٹوریہ دانشور سے گفتگو کے دوران کی گئی۔۔۔ مرکزی رہبری گلی کے موڑ سے گذر کر ذرا سا آگے آئیں تو دونوں اطراف میں اینٹوں سے بنا ہوا گھر نمایاں ہوجاۓ گآ کہ جس کا  لکڑی کا دروازہ ، سبز رنگ کا ہے، اور آج  بھی ڈور بیل پر لکھا ہوا ہے ڈاکٹر سیمین دانشور، دروازہ ویکٹوریہ دانشور، جوکہ سیمین  کی چھوٹی بہن ہیں، نے کھولا،  پچھلے سال کی 18 اسفند،یعنی سیمین کے انتقال کے بعد اپنے شوہر پرویز فرجام کے ساتھ اب اسی گھر میں رہتی ہیں، ویکٹوریہ نازک نقوش کی مالکہ ہیں اور تھورا بہت اپنی بہن سے بھی شباہت رکھتی ہیں، شیرازیوں والا لب و لہجہ بہت اچھا محسوس ہورہا تھا اس کے ساتھ ساتھ شوخ مزاج بھی ہیں لہذا ہمارے سارے سوالوں کے جواب بہت خوش اخلاقی سے دیتیں رہیں۔ ان کی اور ان کے شوہر کی یہ خواہش ہے کہ وہ سیمین اور جلال آل احمد سے جڑی ہر یاد کو بیان کریں اور ان کے گذرے دنوں کو زندہ رکھیں یہی وجہ ہے کہ گھر میں کہیں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے اور ہر چیز ویسی ہی موجود ہے سواۓ درودیوار اور چھتوں کے پینٹ کے ۔۔۔۔

 گھر میں ایک عجیب سا سکون اوراتنی خاموشی تھی کہ موزیک کے فرش پر آخری سالوں میں سیمین کے اٹھاۓ گۓ قدموں کی آہٹ سنی جا سکتی تھی ، اس گھر میں ایک ایسی کشش ہے کہ جب آپ ان مخمل کے پرانے صوفوں پر بیٹھ کر ٹیک لگاتے ہیں ، تو دل چاہتا ہے بس یہیں رہ جائیں اور یہیں کے ہوکر رہ جائیں اور سردیوں کی شاموں سے سکون سے لطف اٹھائیں ہم نے ویکٹوریہ سے خواہش کی کہ سیمین کے ماضی اور بچپن کو بیان کریں جو کہ شیراز میں گذرا، تو انہوں نے کہا کہ میرے پاس بہت سی یادیں ہیں میں خود اب 86سال کی ہوں اور خود ایک تاریخ ہوں پھر انہوں نے بچپن سے شروع کیا اور بولیں ہمارا بچپن بہت شاندار گذرا ہمارے والدین روشن خیالات کے مالک تھے گھر کے صحن میں ایک حوض تھا میں اور میری بہن سیمین اس میں تیراکی کرتے اور کھیلتے اور روٹیاں توڑ توڑ کر  مچھلیوں کو کھلایا کرتے تھے میں اپنی بہن سیمین سے پانچ سال چھوٹی تھی مگر ہم دونوں ایک دوسرے کے بہت قریب تھے وہ جہاں جاتیں مجھے ساتھ لے کر جاتیں یہاں  تک کہ جب وہ آل احمد صاحب کے ساتھ دماوند گئیں تو میں بھی انکے ساتھ گئ ہم چھ بہن بھائی تھے جو سب انتقال کر گئے ان میں سے اب صرف میں زندہ ہوں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ بچپن میں جب بھی کوئی مہمان آتا، سیمین ان کے سامنے اشعار اور نظمیں پڑہتیں اور میں وائلن بجایا کرتی میں پردے کے پیچھے چھپ جاتی اور اپنے والد سے کہا کرتی کہ با با آپ مجھے بھی بلائیں تاکہ ساز بجا سکوں ، جمعے کہ ہم سب  کھانا لے کر" با با کوہی" جایا کرتے تھے۔ ویکٹوریہ دانشور نے سیمین کی شاعری سے شغف کے بارے میں مزید بتایا: کہ میری بہن  سیمین کا حافظہ بہت اچھا تھا حافظ کا  جو شعر ایک بار پڑہتیں ان کو یاد ہوجاتا،انہوں نے سعدی کے بھی اشعار حفظ کئے ہوۓ تھے اسکول کے زمانے میں بھی اسکول کا اخبار بھی انہی کی ذمہ داری ہوتا اور جب بھی وہ مقالہ پڑہتیں خوب داد وصول کرتیں اور لوگ ان کی ذہانت کی تعریف کرتے، ان کی پہلی کتاب : خاموش آتش" تھی جبکہ دوسری کتاب " جنت نظیر شہر تھی جسکی جلد کے پیچھے نقاشی میں نے کی تھی اور سوشوون بھی سترہ زبانوں میں ترجمہ ہوئی۔

 

سیمین اور جلال کا نکاح ملاقات کے نویں روز

سیمین کی بہن، ان کی اور جلال آل احمد کی شناسایی کے بارے میں بیان کرتی ہیں : عید پر ہم اصفہان گۓ اور تہران واپسی پر جس بس میں سوار ہوۓ اس میں ایک شخص نے سیمین کو اپنی برابر والی سیٹ پر جگہ کی پیشکش کی لہذا دونوں نے ایک دوسرے کے برابر میں بیٹھ کر وہ سفر طے کیا دوسرے روز میں نے دیکھا کہ بہن سیمین باہر جانے کے لۓ تیار ہو رہین ہیں مجھے بھی بازار جانا تھا لہذا ساتھ ہو لی جب دروازہ کھولا تو دیکھا گھر کے باہر آل احمد صاحب کھڑے ہیں مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہ ایک دن پہلے ہی طے کیا جاچکا تھا لہذا ان کی ملاقات کے نویں روز ہی ان کا نکاح طے پایا اور بعد میں سب کو ایک تقریب کرکے مدعو کیا گیا جس میں ذیادہ تعداد رائٹرز کی تھی اور صادق ہدایت بھی شریک ہوۓ بعد میں دونوں نے ایک کراۓ کا گھر لے کر نئی زندگی کا آغاز کیا۔

 

 ویکٹوریہ دانشور

رائٹر جنہوں نے کبھی کوکنگ نہیں کی

ویکٹوریہ دانشور نے سیمین کی ذندگی کے بارے میں بتایا: کوئی بھی انسان سارے کام  ایک ساتھ نہیں کرسکتا اسی طرح وہ بھی کبھی کوکنگ نہیں کرتیں تھیں شادی کے کچھ عرصے بعد جب آل احمد صاحب نے ان سے پوچھا کیا پکایا ہے؟ تو بولیں انڈے کا اسکریمبل اور پھر اس کے دوسرے دن آل احمد نے پوچھا آج کھانے میں کیا ہے تو کہنے لگیں ابلے ہوۓ انڈے اس کے بعد طے ہوا کہ یا تو کھانا باہر سے آۓ گا یا باہر جاکر ہی کھا لیا کریں گے ورنہ ہویشہ انڈے ہی کھاتے رایں گے لیکن کچھ دنوں بعد دونوں رات 9 بجے ہمارے گھر آۓ اور بولے : ہمارے سب پیسے باہر سے کھانا منگوا منگوا کر ختم  ہو گۓ ہیں، مجھے چھ ماہ ہی ہوۓ تھے جاب کرتے ہوۓ لہذا کچھ رقم ان کو ادھار دے دی اس کے بعد انہوں نے ایک کک کا انتظام کیا جو ان کے لۓ کھانا پکایا کرتا تھا

 

بے اولادی کا غم

 انہوں نے مزید بتایا کہ سیمین اور جلال ایک دوسرے کو بہت پسند کرتے تھے اور ایک دوسرے کیساتھ بہت خوش تھے ان کا واحد غم اولاد کا نہ ہونا تھا میرے دو بچوں کے نام بھی سیمین نے ہی رکھے تھے مانی اور مرجان اور جب تیسری مرتبہ ہم نے ان سے کہا ہمارے تیسرے بچے کا نام رکھیں تو وہ خاموش ہوگئیں اور تیسرے بچے کا نام ہم نے خود ہی ستارہ رکھا۔ہمارے سوال کرنے پر انہوں نے بتایا کہ سیمین بچے نہ ہونے کی وجہ سے ذیادہ غمگین رہتی تھیں۔

 

بند گلی میں جلال کے ہاتھوں سے بنایا ہوا گھر

 ویکٹوریہ دانشور، سیمین کی اعلی تعلیم اور بند گلی میں گھر بنانے کے بارے میں بیان کرتی ہیں: سیمین نے شادی کے دو سال بعد، اسٹینفورڈ یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کرنے کے لۓ داخلہ لے لیا وہ ایران میں بھی کام کرتیں تھیں جس دوران وہ ایران میں نہ تھیں جلال ان کی تنخواہ جمع کرتے رہے اور خور اپنے ہاتھوں سے ان کے لۓ گھر بنایا جس دوران سیمین نہیں تھیں وہ ہمارے گھر آتے تو گرلڈ چکن کی فرمائش کرتے، اس گلی کا نام بھی انہوں نےخود ہی بند زمین رکھا یعنی "دنیا کا اختتام" وہ ایک محب وطن تھے اسی وجہ سے انہوں نے در یتیم خلیج لکھی، سیمین بھی فیروز ینفر کے لائق شاگردوں میں سے تھیں فیروز ینفرانہیں سانولی لڑکی کہا کرتے تھے۔

 

جلال کی انگوٹھی مرتے دم تک سیممین نے نہیں اتاری

سیمین کی بہن جلال کے انتقال کے بارے میں بتاتی ہیں، جلال 44 سال کے تھے جب انہیں برین ہیمبرج ہوا اور وہ اننتقال کر گۓ لیکن ان کے بعد سیمین نے شادی کے بارے میں نہیں سوچا اور جب تک ذندہ رہیں جلال کی پہنائی ہوئی انگوٹھی کو انگلی سے نہ اتارا۔

 

سیمین کی تیمارداری

سیمین کی بہن ان کی تیمارداری کے حوالے سے ان کے گھر جانے کے بارے میں ایسے بتاتی ہیں: سیمین کی موت سے چار سال پہلے میں اور میرے شوہر، ان کی تیمارداری کرتے تھے ، چار سال تک ہم روز ان کے گھر جاتے ان کے لۓ خریداری کرتے اور کام کاج نمٹاتے وہ مجھ سے کہا کرتیں کہ میرے بعد اس گھر کی حفاظت کرنا اور اس کو فنکاروں کے لۓ وقف کردینا اسی طرح اپنے وصیت نامے میں لکھا کہ میرے مرنے پر خیرات کرنا اور سوگ نہ منانا۔

 

موت کا دن

ویکٹوریہ بتاتی ہیں کہ جس دن سیمین کا انتقال ہوا میں کن کے پاس تھی انہوں نے مجھ  سے کہا میں آج بستر سے نہیں اٹھ پارہی ہوں اور میری حالت ٹھیک نہیں ہے میں تھوڑی دیر ان کے پاس رہی پھر اپنے گھر واپس آگئی مگر دل بہت پریشان تھا اس لۓ ان کی ہمسائی کو فون کیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ ٹھیک ہیں اور اب سیمین کی حالت بہتر ہے ظہر کے بعد جب ان کی ہمسائی نے محسوس کیا کہ ان کی حالت بگڑ رہی ہے تو ان کو آب زم زم ّدیا اور فورا ہمیں فون کیا مگر جب تک میں پہنچی وہ اس دنیا سے کوچ کر چکیں تھیں، کئی روزتک ہزاروں فون ان کی تعزیت کےلۓ آتے رہے قطب شمال کے نزدیک سے بھی ان کے لۓ فون آیا ، دعائی صاحب نے انکی نماز جنازہ پڑہائی اور بہشت زہرہ میں فنکاروں سے مخصوص حصے میں ان کو سپرد خاک کیا گیا میری خواہش ہے کہ میں ان کی وصیت پر عمل کرسکوں

گفتگو آزادہ شمس، سارہ دستاران۔



 
صارفین کی تعداد: 1641


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – گیارہویں قسط

جنگ شروع ہونے کے دو ہفتے بعد، صدام کی حکومت کو یقین ہوگیا کہ فوج اس سے زیادہ کچھ کرنے کی قدرت نہیں رکھتی؛ اور یہ کہ وقت کی گردش اُن کے فائدے میں نہیں ہے

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔