یہ اصفہان ہے ۔۔۔


2015-11-07


تاریخ شفاہی، بذات خود ایک بہت ہی  شیریں لفظ ہونے کے ساتھ ساتھ، نہایت اہمیت کی حامل بھی ہے۔ ایران کی تاریخ میں، تین ایسے اہم واقعات موجود ہیں کہ جن کو ہمارے سوا  کسی نے نہیں سنا اور نہ ہی دیکھا لہذا ان واقعات کو بزرگوں سے ہی سنا جاسکتا ہے، ان میں سے ایک آ‌ئینی تحریک، دوسرا تیل کے قومی مصرف کیلۓ بنائی گئی تحریک اور تیسرا 15 خرداد کی تحریک ہے کہ ان میں سے آئینی تحریک  تو سو سال پہلے کی ہے کہ خود اس تحریک کے بارے میں بتانا تو دور کی بات حتی کوئی ایسا بھی نہیں مل سکتا جو اس کے بعد کے واقعات کوجانتا ہو۔۔۔ عصر حاضر میں اگر کوئی تاریخ شفاہی کا محقق، بہت کوشش اور محنت کرے بھی تو صرف رضا شاہ کے زمانے کے عینی شاہدین ہی ڈھونڈ پاۓ گا۔۔۔ لیکن  تیل کے قومی مصرف کے لۓ اور علماء کا اس تحریک میں کردار و آیت اللہ کاشانی ، تیس تیر کا خونی واقعہ،اور 28 مرداد کی بغاوت کے بارے میں ابھی بھی کچھ لوگ ہیں جن کے سینے ان یادوں سے بھرے ہوۓ ہیں اور ان کے پاس جاکر یہ معلومات اکٹھا کی جاسکتی ہیں۔ 28 مرداد بغاوت کی تاریخ کی مناسبت سے امریکی انگریزی بغاوت کی وجہ سے ڈاکٹر مصدق کی عوامی حکومت کا تختہ الٹ دیا جاتا ہے، میرا ارادہ ہے  کہ اس بارے میں جو کچھ اپنے اردگرد کے بزرگ لوگوں سے سنا ، اس آرٹیکل میں بیان کروں۔ 

 

پہلے شخص میرے مرحوم دادا، حاج آغا مرتضی نجفی

میرے دادا مرحوم بیان کرتے ہیں کہ 28 مرداد کی صبح وہ ڈاکٹر کے کلینک  چیک اپ کے لۓ جا رہے تھے کہ راستے میں ایک عجیب منظر دکھائی دیا، کلینک چار باغ والی سڑک پر تھا مگر یہ واقعہ شہر کے درمیان میں پیش آیا پہلی چیز جو ان کو بہت حیران کر گئی وہ یہ تھی کہ ایک شخص شاہ کی  تصویر پھاڑ رہا تھا دوسری طرف ڈاکٹر حسین فاطمی نے یہ اعلان کردیا کہ:  شاہ بھاگ گیا اور ایران سے جا چکا ہے، یہ جمھوری اعلان ہے۔۔۔۔ پورے شہر میں عجیب ہلچل مچ گئی تھی اور اگر کچھ سمجھ آرہا تھا تو بس یہ کا شاہ کا تحتہ الٹ گیا ہے مگر اس زمانے میں مصدق ہمیشہ خود کو حکومت  کا وفادار ہی ظاہر کرتا تھا اور دیگر گروہوں کا بھی ایسا کوئی ارادہ نہ تھا یہ صرف ڈاکٹر فاطمی کا ایک اعلان تھا جس نے اتنی ہل چل مچائی تھی اس کے  علاوہ اگر کوئی دوسرا گروہ جو ایسا کرسکتا تھا وہ تودہ پارٹی تھی اور اس دن شہر میں افراتفری مچانے والے بھی اسی پارٹی کے طرفدار تھے، میرے  دادا کہتے ہیں کہ میں کلینک گیا جہاں کافی وقت لگ گیا جب وہاں سے باہر آیا  تو دیکھا کہ شہر میں خاموشی اور سکون تھا اور ریڈیو سے یہ بیان جاری کیا جارہا تھا" میں میجر جنرل زاہدی ہوں، اور کمیونسٹوں کے کتوں کو وارننگ  دیتا ہوں کہ وہ اپنے گھروں کو واپس  لوٹ جائیں۔۔۔ ایک فوجی جنرل کی طرف سے، یہ ایک ہی وارننگ کافی تھی لہذا اصفہان کے سارے بلوے اور جھگڑے ختم ہوگئے ، میرے دادا کہتے ہیں کہ ان لفظوں   کے سننے کے بعد سب کچھ واضح ہوگیا تھا، اور میں نے خود دیکھا کہ چار باغ والی سڑک کے درمیان میں، ایک شخص کھڑا شاہ کی تصاویر فروخت کررہا تھا اور بیچ بھی کافی مہنگی رہا تھا اور یہ صاف ظاہر تھا کہ صبح جو لوگ شاہ کی تصاویر پھاڑ چکے ہیں اب دوڑیں اور ایک ایک تصویر خرید کر اپنی دکانوں میں لگائیں تاکہ ثابت کر سکیں کہ وہ شاہ اور فوج کے طرفدار ہیں اور اس دن اس شخص نے اپنی عقلمندی سے کافی فائدہ اٹھایا۔ رات تک ہر طرف سکون تھا اور فائرنگ کی آواز بھی نہیں آرہی تھی ہاں  صرف یہ سنا تھا کہ اصفہان کے مشرق میں کچھ لوگ جمع ہیں جن کو پیسوں سے خریدا گیا ہے تاکہ گلیوں میں نعرے بازی کریں البتہ ان کے درمیان شہر کی مشہور عورتیں بھی چلا رہیں تھیں۔  مصدق کلہ کدو، سیاستش رفتہ لا پتو مصدق احمق۔۔۔ اور اب اسکی سیاست دب چکی ہے۔۔۔۔

 

دوسرے شخص، میرے دادا کے ماموں

میں اس زمانے میں جوان تھا اور اپنے جیسے دیگر جوانوں کی طرح میرا دماغ بھی بہت گرم تھا اور میرا جھکاؤ تودہ پارٹی کی طرف تھا اس زمانے میں اصفہان ایک معروف شہر تھا دریا کے دوسری طرف کچھ ٹیکسٹائل فیکٹریاں تھیں مگر آج کی طرح فیکٹریوں میں آٹو مشینیں نہیں تھیں لہذا ارد گرد کے کافی لوگوں کو ملازمتیں دی گئیں تھیں ہر روز کے ہنگاموں میں ان فیکٹریوں کا بہت نقصان ہورہا تھا کیونکہ کاریگروں کی ایک بڑی تعداد 33 پل کے  ذریعے ہی شہر آیا کرتیں تھیں اور یہ پل بذات خود بھی بڑی اہمیت کا حامل تھا تودہ پارٹی نے ذیادہ تر جوان ، ان پڑھ اور کم پڑہے لکھے کاریگروں کو  اپنی طرف مائل کو لیا تھا ، جو کہ بعد میں پشیمان ہوا اور میں خود بھی جوانی  میں ہی سمجھ گیا تھا کہ ان کے پاس کہنے کو کچھ نہیں اور نہ ہی یہ ہمارے دینی عقائد سے مطابقت رکھتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ 28 مرداد کو تودہ پارٹی نے ایک بڑی کال دی تھی جس کے نتیجے میں ہم سب شہر سے باہر جمع ہوۓ اور کافی مجمع جمع ہو گیا تھا کہ اگر چاہتے تو شہر میں ٹھیک ٹھاک ہنگامے کرتے اور مصدق کی حکومت کی حمایت میں مظاہرے کر سکتے تھے ہم سب نعرے لگاتے آگے بڑہے اور ددریا کے قریب پہنچ گئے وہاں تودہ پارٹی کے نمائندوں نے دستور دیا کہ یہیں کھڑے رہیں اور بعد میں ہیں شہر کے اندر بھی نہ جانے دیا جب میں نے اپنے دادا کے ماموں سے پوچھا کہ:کیوں شہر کے اندر جانے کی  اجازت نہ دی گئی تو انہوں نے جواب دیا : کہ انہیں سوویت (روس) سے  اجازت نہ ملی تھی۔۔

 

تیسرے شخص حسن حدادی،  فدائیان اسلام کے قریبی لوگوں میں سے ای

تیس تیر کے قیام کے زمانے میں ، میں بائیس سالہ جوان تھا اور مظاہروں کی  قیادت اور رہنمائی کی ذمہ داری میرے اوپر تھی اس دن اصفہان میں لوگوں اور جوانوں کو سیدھے فائر کرکے مارا گیا تھا مگر عوام کی استقامت کی وجہ سے مجبورا احمد قوام کو حکومت سے استعفی دینا پڑا لیکن 28 مرداد کی  بغاوت کے بعد، مذہبیوں کے حوصلے پست ہوچکے تھے لہذا یہ فوجی بغاوت تہران میں بغیر کسی مقاومت کے ہی ختم ہوگئی اور اصفہان آئی مگر مجھے یاد نہیں کہ کوئی مقاومت ہوئی ہو یا کوئی مرا ہو، لیکن تیس تیر کے دن میں نے خود دیکھا  کہ کسطرح جوان گولیاں کھا کھا کر گرتے جارہے تھے۔ جب میں نے آغا حدادی سے پوچھا کہ 28 مرداد کو، مذہبی لوگ اصفہان میں  کیوں اتنا بے حس ہوگئے تھے تو انہوں نے مندرجہ ذیل چند دلائل بیان کئے:

1:مصدق کی طرف سے دی گئی بے جا آزادی کی وجہ سے تودہ پارٹی والے منہ زور ہوگئے تھے اور بہر حال کیونکہ ہماری عوام مسلمان ہے تو کمیونسٹوں کے ساتھ مل کر کیسے رہ سکتی تھی، اور دوسری جانب انہوں نے  خود اس تفرقے کو ایجاد کیا تھا مثلا مین نے سنا کہ تہران میں ایک کتے کے اوپر لکھا تھا، آیتاللہ جس سے مراد آیت اللہ کا شانی تھے اس کام نے مذہبیوں کا  دل خون کردیا۔

2: متدین لوگوں کا گروہ اس بات پر اصرار کرتا تھا کہ فساد اور فحاشی کے  اڈے ختم کئے جائیں جس پر مصدق نے عمل نہ کیا۔

3: حکومت سے گذارش کی گئی کہ تیس تیر کے واقعے کے عاملین کے خلاف کاروائی کی جائے مگر بعد میں مشاہدہ کیا گیا کہ کاروا‌ئی کرنے کے برعکس مصدق نے انکو عہدے بھی دیئے جو ہماری توقعات کے خلاف تھا یہ مسائل سبب بنے کہ ہم ان سے دور ہوگئے۔۔۔

   محمود فیروو بخش



 
صارفین کی تعداد: 1994


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – تیسری قسط

میں ان لوگوں کے جہل اور لا علمی کو ثابت کرنے کیلئے ایک مضحکہ خیز واقعہ کی طرف اشارہ کرتا ہوں جو میں نے ٹیلی ویژن پر دیکھا۔ صدام نے ایک بند کو معنی کے لحاظ سے برعکس پڑھا۔ اس دفعہ بھی حاضرین نے ایک آواز میں کہا: " جی جناب، ہم متفق ہیں! " البتہ صدام کو ہوش آگیا اور اس نے اپنی غلطی کی اصلاح کرلی۔

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔