۱۷ شہریور کے عینی شاہدوں کی گفتگو

۱۷ شہریور کی یادداشتیں


2015-11-05


مہدی توکلی کے توسط سے بیان ہوئیں جوکہ عینی شاہدین میں سے ایک ہیں۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم،الحمدللہ رب العالمین آپ تمام عزیزان گرامی اور 17 شہریور کی ارواح طیبہ کی خدمت میں سلام پیش کرتا ہوں میری کوشش ہے کہ 17شہریور کا واقعہ،جوکہ دراصل 16شہریور سے پیوستہ ہے،کو خلاصتاَ بیان کروں، 16شہریور کا دن تھا لوگ صبح 7بجے سے رات 7بجے تک،میدان آزادی میں جمع ہوچکے تھے آخر میں قرارداد پیش کی گئی جسکے بعد ہر شخص خوش نظر آرہا تھا کہ یہ موقع بھی آیا،پولیس تقریباَ لوگوں کے ساتھ شامل تھی اور پولیس کی گاڑیوں کی صف میں ہی مسلح افواج بھی موجود تھی لوگ (جی3)رائفلوں پر پھول نچھاور کررہے تھے اورپمفلٹ بانٹ رہے تھے بہر حال افواج اور عوام اب ایک ہوگئے تھے سب یہی محسوس کررہے تھے کہ اگر یہ ریلی شاہ کے محل کی جانب مڑجائے تو اسکا مطلب کہ شاہ کا تختہ الٹ گیا اور قصہ تمام ہوگیا،بالآخر ریلی ختم ہوئی اور میں انہی گاڑیوں میں سے ایک پر سوار ہوکر روانہ ہوا، نعرے لگ رہے تھے کہ کل صبح 8بجے ژالہ چوک باب تازہ میں شہداء چوک پر جمع ہوں گے سب نعرے لگاتے اپنے اپنے گھروں کی طرف لوٹ رہے تھے۔ زیر سوال یہ موضوع تھا کہ کل کی ریلی ہوگی یا نہیں ؟ ہم بھی گھر پہنچے اتفاق سے اس رات مجھے اپنے سسر کے گھر جانا تھا میری بیوی حاملہ تھیں لھذا وہیں قیام کیا صبح جلدی اٹھا ہوٹل سے روٹیاں لیکر پلٹا تو بیوی نے اطلاع دی کہ ریڈیو پر مارشل لاء کے نفاذ کا اعلان کردیا گیا ہے میں سمجھ گیا کہ حالات بدل چکے ہیں۔ لہذا7بجے گھر سے نکلا میں عموماَاپنی اہلیہ کے ساتھ ہی ریلیوں میں شرکت کرتا تھا مگر اس دن میں نے اپنی اہلیہ سے کہا آج کادن بہت کھٹن ہوگا لہذا یہ گاڑی اور یہ اسکے کاغذات آپ رکھیں اور آج آپ کے ساتھ آنے کی ضرورت نہیں، آپ دعا کریں دیکھتے ہیں اللہ کو کیا منظور اور اگر واپس نہ آسکا تو مجھے معاف کریجئے گا۔گھر سے نکلا چوک پر آئے اس زمانے میں ہم کو کا کولا سڑک کے آخر میں رہا کرتے تھے لہذا ایک گاڑی کی اور روانہ ہوا کہ دیکھوں ریلی کہاں سے شروع ہوگی ؟ برق کی فیکٹری کے پیچھے آیا تو دیکھا تقریباَ 50سے 60لوگ جمع ہیں اور نعرے لگارہے ہیں ہم بھی وہاں پہنچ گئے اور آگے بڑھنے لگے،فوج وہاں موجود تھی اور مظاہرین میں زیر بحث یہ موضوع تھا کہ کیا لائحہ عمل اختیار کریں کچھ کہتے تھے خیابان خورشید اور خیابان مجاہدین کی درمیانی والی گلی سے نکلنا چاہیے تاکہ گرفتاریاں نہ ہوسکیں اور کچھ کہتے تھے کہ اگر گلیوں میں گئے تو شدید جھڑپ ہوسکتی ہے یہ ماریں گے اور گرفتار کرلیں گے بہتر ہے چوک پر جمع ہوجائیں یہ تجربہ 13اور16شہریور کو ہوچکا تھا کہ جب زیادہ بڑا اجتماع ہوتو دخل اندازی نہیں ہوتی لیکن چھوٹے اجتماعات میں ہمیشہ مارپیٹ اور گرفتاریاں ہوتی تھیں بہرحال نتیجہ یہی نکلا کہ چوک پر جمع ہوں اسی چوک کی سیدھی طرف آغا یحیٰی نوری کا جلسہ بھی تھا ہم اسطرف چلناشروع ہوگئے،اس زمانے میں ہم جوان تھے لہذا سب سے آگے ہاتھوں میں ہاتھ پکڑ کر مضبوط زنجیر بنائے نعرے لگارہے تھے اور لوگوں کو مزید آگے آنے سے روکے ہوئے تھے۔طے یہ ہوا تھا کہ یہاں پر بھیٹیں گے اور نعرے لگائیں گے،باتیں شروع ہوگئی تھیں کہ کوئی ایک شخص آگے آئے دورکعت نماز شہادت پڑہیں اور پولیس کی طرف آگے بڑہیں کچھ لوگوں نے اپنی قمیضوں کے بٹن کھول دئے تھے اور گریبان چاک کرکے نعرے لگارہے تھے کہ ہم انقلاب کے عاشق ہیں یہ سب کچھ جاری تھا کہ ہم نے دیکھا فوجی کمانڈر آگے آیا چند فوجیوں کو بٹھایا اور صف بنوائی اور ان کو کمانڈ کیا کہ کیسے پوزیشن سنبھالنی ہے، سب الرٹ ہوگئے کچھ فوجی کھڑے تھے کچھ آگے بیٹھے تھے،مگر عوام نے زیادہ اہمیت نہ دی کیونکہ پہلی ریلیوں میں ایسا ہوچکا تھا پولیس اور فوجی آنسو گیس اور ہوائی فائرنگ کرکے مظاہرین کو منتشر کرتے تھے،اسی اثناء میں فائرنگ کی آوازیں آنا شروع ہوگئیں لیکن ہم پھر بھی یہی سوچ رہے تھے کہ ہوائی فائرنگ ہے ہم پہلی صف میں تھے کہ میں نے دیکھا کہ اچانک میرے جسم پر ایک بڑا دھبہ نمودار ہواہے اور دیکھتے ہی دیکھتے میری کمر سے نیچے کی طرف خون بہہ رہا ہے،میں سمجھ گیا کہ (جی3)کی گولی سیدھی آکر مجھے لگی ہے،فائرنگ اور تیز ہوگئی میں نے جلدی سے خود کو سینے کے بل زمین پر گرایا اور اپنے جسم کو گھسیٹتا ہوا گلی میں داخل ہوگیا،مردوں کی تین چار صفوں کے بعد خواتین کی صفیں ہوا کرتی تھیں عموماَخواتین کو درمیان میں رکھتے تھے تاکہ اگر گرفتاریاں یا جھڑپ ہوتو ان کو کم نقصان پہنچے،میں نے دیکھا مرد و عورت کی کوئی تفریق نہ تھی ہر خاتون یا مرد جو کھڑا ہوتا زمین پر ایک دھبہ نمودار ہوتا اور وہ یا تو زخمی ہو کر یا شہید ہوکر گرجاتا،میں نے خود کو آہستہ آہستہ سڑک کی الٹی طرف پیدل چلنے والوں کے راستے کی طرف گھسیٹنا شروع کیا ابھی نزدیک ہی تھاکہ چند مرد آگے آئے اور مجھے کاندھوں سے پکڑ کر گلی میں لے آئے پھر مسجد میں لائے جہاں سبھی زخمی مسجد کے دروازے کے پیچھے پڑے تھے مسجدکے سامنے ایک گلی تھی پھر مجھے اٹھایا اور اسکے ایک گھر کا دروازہ کھٹکٹھا کر مجھے گھر کے اندر لے آئے اور فوراَ دروازہ اندرسے بند کردیا ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ دوبارہ دستک ہوئی میں سمجھ گیا کہ فوجی آگئے ہیں تاکہ ہمیں گرفتار کرلیں وہ لوگ آہستہ آہستہ کرکے مجھے پچھلے صحن میں لے گئے پھردروازہ کھولا تو دیکھا،ایک اور زخمی تھا وہاں ایک خاتون موجود تھیں جو سب زخمیوں کو ٹیٹنس کے انجکشن لگارہی تھیں اس نے ہمیں بھی انجکشن لگایا اور میرے پاؤں کومضبوطی سے باندھ دیا اچانک ہیلی کاپٹر کی آواز آئی جو چوک پر گولہ باری اور فائرنگ کررہا تھا مجھے چھپا کر پائن کے گھنے درختوں کے نیچے لٹا دیا تاکہ مجھے کوئی نقصان نہ پہنچے میرے خیال میں ان تمام کاموں میں گھنٹہ لگ گیا تھا کہ دستک ہوئی اور کہا زخمیوں کو باہر لائیں اسپتال لیکر جارہے ہیں۔
میرا پاؤں ٹوٹ چکا تھا اور خون مسلسل بہہ رہا تھا میرے ایک جاننے والے نے مجھے گولی لگتے دیکھا تھا وہ مجھے ڈھونڈ رہا تھا وہ آگے بڑھا اور جب زخمیوں میں مجھے پایا تو ڈرائیور سے بولا اس گاڑی کو تین شعبان اسپتال لے کر جانا ہے ڈرائیور کے ہاتھ بھی کانپ رہے تھے اسکی حالت دیکھ کر میرے دوست نے گاڑی خود چلانا شروع کی اور تین شعبان اسپتال پہنچا جہاں وہ خود کام کرتا تھا میں اسپتال میں داخل ہوا تو دیکھا زخمیوں کا رش لگاہوا ہے بہت سوں کی حالت مجھ سے بہت بری تھی مجھے بینچ پر بٹھا دیا میں نے ڈاکٹر سے کہا میں ٹھیک ہوں پہلے ان کو دیکھو جنکی حالت مجھ سے خراب ہے۔اسی دوران میرے ڈاکٹر دوست نے گھر فون کرکے اطلاع دے دی میرے والد جواس دن کے بارے میں جانتے تھے کہ حالات صحیح نہیں چاہتے تھے کہ میں اس ریلی میں نہ جاؤں لہذا بہت ناراض ہوئے،مجھے لعن طعن بھی کی مگر میں نے سرجھکا لیا اور کچھ نہ بولا بہر حال وہ میرے والد تھے،ابھی سب وہیں جمع تھے کہ کہا گیامجھے مولوی اسپتال لے جائیں کہ وہ اسوقت کا بہترین ہاسپٹل ہے مجھے گاڑی میں ڈالا میرے والد اور دوست مجھے لے کر روانہ ہوئے راستے میں ہرجگہ پولیس نے ناکہ بندی کی ہوئی تھی ایک چوراہے پر گاڑی کو روک لیا ایک افسر آگے بڑھا اور کہا یہ کیا ہے؟ میراجسم پورا خون سے لت پت تھا اور میں پیچھے گاڑی میں لیٹا ہوا تھا،میرے والد نے کہا میں خود پولیس فورس سے ریٹائر ہوا ہوں سال 52میں ریٹائرمنٹ لی ہے یہ میرا بیٹا ہے یہاں سے گزر رہاتھا کہ گولی لگ گئی کہنے لگا کہاں سے آکر لگی گولی؟۔۔
بہرحال کچھ گفتگو کے بعد ہمیں چھوڑ دیا ہم اسپتال پہنچے مگر وہاں بھی آپریشن تھیٹر اور روم نہ مل سکا لہذا مجھے ایک میز پر لٹا کر انجکشن لگایا اور پاؤں کو چیرا لگایا تواندر تین گولیاں تھیں جنکو باہر نکالا میری کلائی اور الٹی پنڈلی پر بھی گولیاں لگ کر گذریں تھیں ان کو بھی بینڈج کیا،مغرب تک فائرنگ کی آوازیں آتی رہیں،وہ مغرب مجھے بھلائے نہیں بھولتی ان لوگوں کیلئے دل تڑپ رہا تھا جو اسوقت باہر تھے۔

صبح ہوئی تو معلوم چلاساواک رات میں آئے تھے اور کافی زخمیوں کو اسپتال سے اٹھا کر لے گئے ،لہذاکہا گیا جس کا دل چاہے یہاں سے چلاجائے میرے پاؤں کی حالت بہت خراب تھی مگر پھر بھی جب ڈاکٹر آیا تو میں نے اس سے کہا مجھے چھٹی دے دیں اس نے کہا تمھارے پاؤں میں زہر پھیل جائے گا تم اس پاؤں کیساتھ کیسے گھر جاؤگے؟، میں نے کہا میرا دوست ڈاکٹر ہے دیکھ بھال کرلیگا کہنے لگا لکھ کر دو کہ اپنی ذمے داری پر یہاں سے جارہے ہو، میں نے لکھا اور دستخط کردیئے میں گھر آگیا مگر ایک دو دن ہی گزرے تھے کہ دیکھا میرا پاؤں سوجھ گیا ہے اور درد بھی بڑھ رہا ہے ڈاکٹر کو فون کیا مجھے تین شعبان اسپتال لائے ایکس رے ہوا تو معلوم ہوا تین جگہ سے ہڈی ٹوٹ چکی ہے دوبارہ پلاستر کیا،میری اہلیہ اور دوست نے بہت زحمتیں اٹھائیں اب چاہتا ہوں کہ ان دونوں کے ساتھ ساتھ ان ڈاکٹروں اور نرسوں کا بھی شکریہ ادا کروں جنہوں نے اس زمانے میں اپنی خدمات کو انجام دیا،بالآخر گھر آگیا منتظر تھا اب کیا ہوگا کہ امام خمینیؒ کا اعلان جاری ہوا جسمیں امام نے فرمایا تھا "اے کاش میں بھی آپ لوگوں کے ساتھ ہوتا اور اپنے عزیزوں کی طرح مارا جاتا یہی وجہ ہے کہ کہتے ہیں کہ یہ راستہ امیر المومنین ؑ اور شہیدوں کے سردار کا راستہ ہے۔" ہم سب کو اس اعلان سے بہت تقویت ملی کیونکہ اس سے پہلے نہیں معلوم تھا کہ ان سب زحمتوں کا کوئی نتیجہ بھی ملیگا کہ نہیں یا ہم صحیح ہیں کہ نہیں؟ مگر جب امام خمینیؒ کا اعلان اور فرمان سنا تو سب مسرور ہوگئے کہ امام نے تائید کردی ہے اور وہ ہم سے خوش ہیں یہی وہ مظاہرہ ہے جو بعد کے مظاہروں کیلئے سنگ میل ثابت ہوا۔

 

والسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کتاب:17شہریور 1357کے واقعے پر خصوصی نشست
موسسۂ مطالعہ سیاسی ریسرچ،صفحہ 29سے39تک


محترمہ رخشندہ اولادی کی یادیں
یہ یادیں محترمہ رخشندہ اولادی کے توسط سے بیان ہوئیں جوکہ عینی شاہدین میں سے ایک ہیں۔
بسم رب الشھداء والصدیقین،میں ان عینی شاہدین میں سے ایک ہوں جوکہ 17شہریورسے پہلے کے اور 17شہریور کے احتجاج میں شرکت کرنے والے اور اپنی آنکھوں سے ان مناظر کا مشاہدہ کرنے والے تھے، میرے پانچ بچے تھے اور پانچوں کی ذمے داری ہونے کے باوجود میں کوشش کرتی تھی کہ ان مظاہروں میں شرکت کروں کیونکہ میں اس جابرانہ حکومت سے تنگ اور اسکے ہاتھوں کئی ظلم سہہ چکی تھی میرا بھائی مخفی طور پر زندگی گزار رہاتھا وہ یونیورسٹی کا طالبعلم تھا مگر اس جابر حکومت کی وجہ سے یونیورسٹی کو چھوڑچکا تھا وہ اسے قید میں رکھ چکے تھے اذیتیں دیتے تھے یعنی جو کچھ ان کا دل چاہتا جوانوں کے ساتھ کرتے اور کوئی پوچھنے والا نہ تھا یہاں تک کہ اندھیرے کنوؤں میں ان کو شہید کردیتے اور کسی کو خبر تک نہ ہوتی مگر کبھی ایسا بھی ہوتا کہ کوئی ان کے گھروالوں تک خبر پہنچا دیتا بہر حال یہ 16شہریور کی بات ہے کہ عصر کے وقت ہم قیطریہ آرہے تھے نعرے یہ تھے کل 17شہریور ہے صبح 8بجے ژالہ چوک پر آنا ہے۔  لہذا 17کو اپنے شوہر،بہن اور بھائی کے ہمراہ میں بھی نکلی اور چوک کی طرف روانہ ہوئے چوک کے اطراف میں شاہ کے گارڈز اورسپاہی موجود تھے جوکہ نہ صرف مسلح تھے بلکہ پوزیشن لئے کھڑے تھے جبکہ عوام نے چاروں طرف سے سڑک کو گھیرا ہوا تھا جیسے جیسے 8آٹھ بجے سے زیادہ کا وقت ہوتا جارہا تھا لوگوں کا رش بڑھ جارہا تھا اسوقت کسی کو یہ فکر نہ تھی کہ فوجی نشانہ باندھے کھڑے ہیں،کچھ برادران نے اخبار بانٹے تھے اور کہا تھا ان کو سنبھال کر رکھیں اگر آنسو گیس پھینکی گئی تواس اخبار کو جلادیں تاکہ دم نہ گھٹے ساڑے آٹھ بجے ہیلی کاپٹروں نے بھی گشت کرنا شروع کردیا تھا اور کچھ ہی دیر بعد اوپر سے تین چار فائر کئے گئے جیسے کہہ رہے ہوں اب شروع کرو،سب کچھ منصوبہ بندی سے ہورہا تھا کیونکہ جیسے ہی اوپر سے فائر ہوئے نیچے فوجیوں نے مظاہرین پر فائر کھول دیئے زیادہ تر زخمی ہوگئے مگر جو صحیح بھی تھے  وہ بھی خوف سے زمین سے نہیں اٹھتے تھے میرے ساتھ میرا دوسال کا بچہ بھی تھا میں اسکو زمین پر نہیں لٹا سکتی تھی لہذا اس تلاش میں تھی کہ کوئی کونہ یا چھپنے کی جگہ مل جائے،کہ اچانک سیدھی طرف دیکھا تو زخمیوں کا انبار لگ چکا تھا۔  اور کچھ لوگ ان کی مدد کررہے تھے اور ان کو لے کر جارہے تھے میں اس طرف گئی اور جب سپاہیوں سے نزدیک ہوئی توان سے کہا یہ بھی تو تمہارے بھائی ہیں پھر کیوں ان کو ماررہے ہوں یہ سن کر ان کا کمانڈر آگے بڑھا اور مجھ پر مکوں اور لاتوں کی بارش کردی اور خوب گالیاں اور طعنے دینے لگا وہ مسلسل کہہ رہا تھا اب کہاں ہیں تمہارے حامی جو تم لوگوں کی مدد کو نہیں آرہے ؟وہ مسلسل بول رہا تھا کہ میں وہاں سے نکل آئی جہاں نظر کرتی تھی وہاں زخمی ہی زخمی تھے پانچ چھ زخمیوں کو دیکھا کہ ان کو گھسیٹتے ہوئے ایک گھر میں لے گئے اور پھر حفاظت کی خاطر4 چار بجے تک اسی گھر میں رکھا تاکہ حالات بہتر ہوں تو ان کو اسپتال لے جایا جاسکے،فوجی زخمیوں کو بھی نہیں بخش رہے تھے اور ان کو بھی اٹھا کر ساتھ لے جارہے تھے۔
میری نظر میں 17شہریور،انقلاب اسلامی کیلئے بہت اہم دن تھا اور یقیناًسنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ شاہ سوچ رہا تھا کہ 15خرداد کو سب کچھ ختم ہوگیا وہ عوام کو نہیں جانتا تھا وہ سمجھتاتھا کہ وہ چار لوگوں کو گولیاں مارکر اور ہزاروں کو شہیدکرکے وہ لوگوں کو ڈراکر بٹھا دے گا۔ میرے پانچ بچے تھے جو میرے ہمراہ ہوتے تھے اور میری طرح بہت سے لوگ ایسا ہی کیا کرتے تھے۔
17شہریور دراصل اس انقلاب اور عظیم کام کی ابتداء تھی مگر شاہ سمجھتا تھا کہ یہ اختتام ہے جو کہ اسکی سب سے بڑی غلط فہمی تھی۔

کتاب:17شہریور 1357کے واقعے پر خصوصی نشست،
سوسۂ مطالعہ وسیاسی ریسرچ پہلا ایڈیشن،بہار صفحہ 15,16



 
صارفین کی تعداد: 1522


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – گیارہویں قسط

جنگ شروع ہونے کے دو ہفتے بعد، صدام کی حکومت کو یقین ہوگیا کہ فوج اس سے زیادہ کچھ کرنے کی قدرت نہیں رکھتی؛ اور یہ کہ وقت کی گردش اُن کے فائدے میں نہیں ہے

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔