جنگ کی کہانی، امریکہ میں رہنے والے ایک ایرانی پروفیسر کی زبانی


2015-11-05


یہ کہانی محمد کی ہے ، میرے بہترین دوستوں میں سے ایک کی، جو ایران عراق جنگ کے دوران مارا گیا، جو اس تصویر میں الٹے ہاتھ کی طرف، اس دبلے شخص کے( میرے) برابر میں کھڑا ہے۔ اس کہانی کا حصہ ہے۔

پچھلے ہفتے، ایران میں، ایران عراق جنگ(1980-1988) کی سالگرہ منائی جا رہی تھی سرکاری میڈیا میں ہر طرف شور تھا اور ہر کوئی اس واقعے کی کوریج دے رہا تھا۔

ایران کی تاریخ اس جنگ سے جڑی ہے مگر وہ خیالات جو گذشتہ کئی سالوں سے ، سرحدوں کے پار سے، جغرافیائی، سیاسی و تعلیمی نام پر، اس جنگ کے ساتھ جوڑے گئے وہ ان فوجیوں اور ان کے خاندان والوں کے، اس جنگ کی حقیقت سے جڑے احساسات کو، نگل گئے۔۔۔

گرچہ آج ہم ان ہیروز کو عظیم مانتے ہیں مگر مختلف خیالات نے ایک خاص انداز سے اسطرح ان پر روشنی ڈالی ہے کہ اس تیز روشنی کی چمک نے ہماری آنکھوں کو، رنج، دل دہلانے والے واقعات، مصائب،اور بہادری اور ایثار کی حقیقی داستانوں کو دیکھنے سے عاجز کر دیا۔

ایرانی فوجیوں کی کہانی، در اصل، جنگ کی تاریخ کے ابتدائی اجزاء میں سے ہے وہ ابتدائی اجزاء جو اس جنگ کی اصل حقیقت ہیں مگر یہ جنگ ان کے نقطہ نظر سے بیان ہی نہیں ہوئی۔۔۔

میں ان میں سے ایک تھا،ان فوجیوں میں سے ایک، میرے بہت سے دوست زندہ نہ رہ سکے کہ اپنی کہانی سناتے۔۔۔ چاہتا ہوں اس چھوٹی سی داستان سے ان کی یاد، ان کے ایثار و قربانی اور ان کے گھر وخاندان والوں کو خراج عقیدت پیش کروں۔

یہ ایک داستان ہے ایک شخص کی ذاتی داستان، اس کے تصورات کی داستان، میرے اس دوست کے بارے میں کہ جس نے اس خونی جنگ میں جان دی۔۔۔

ہائی اسکول میں قدم رکھا تو محمد سے جان پہچان ہوئی، ہم دونوں ایک ہی فٹبال ٹیم کا حصہ تھے وہیں پر اسے دیکھا تھا، بہت ماہر، کراٹے کی بلیک

بیلٹ ہونے کے ساتھ ساتھ، فٹ بال کا بھی اعلی کھلاڑی تھا، ایک مظبوط جوان اور جسمانی طور پر فٹبال کیلئے موزوں جسم کا مالک وہ منفرد تھا اور ایک صحت مند فٹ کھلاڑی ہونے کے ساتھ ساتھ شریف انسان بھی تھا اسکی مسکراہٹ پیاری تھی اور مزاحیہ و شرارتی طبیعت کی وجہ سے کبھی کبھی عجیب سی شرارتیں کیا کرتا تھا، ہمارا زیادہ تر وقت ساتھ ہی گذرتا، میں اس کے گھر والوں کو بھی جانتا تھا، اس کی والدہ بہن، خالہ اور چھوٹا بھائی۔۔۔ ہمارا زیادہ تر آنا جانا ہوٹلوں پر ہی ہوتا تھا ساتھ کھانا کھا کر مزہ آتا، ہمیشہ اسکی ترجیح اور پسند صاف ستھری میز یا ریسٹورنٹ ہوتا۔۔۔

مجھے اور محمد کو ایرانی فوج میں خدمات سر انجام دینے کیلئے، فوجی سروسز بھیجا گیا(یہ دو سال کی ایک جبری خدمت تھی) لیکن دونوں کی ڈیوٹیاں الگ الگ یونٹس اور محاذوں پر تھیں ہر ایک یا ڈیڑھ ماہ کے بعد آٹھ سے دس دنوں کی چھٹی ہوتی جس میں گھر جاتے ، شاور صاف ستھرا بیڈ، گردوغبار سے دوری اور سب سے بڑھ کر گولیوں، میزائلوں اور دستی بموں کی آوازوں سے دور یہ لمحات، بہت قیمتی ہوا کرتے تھے مگر جمعرات کا دن اس لحاظ سے دکھ والا ہوتا تھا کہ اس دن جنگ میں شہید ہونے والوں کے جنازے عمومی تدفین کے لئے لائے جاتے تھے۔

چھٹی کے دنوں میں ہی محمد کے گھر جایا کرتا تھا کہ دیکھوں آیا ہوا ہے کہ نہیں؟ اور ہمیشہ ایسا ہوتا کہ اس سے پہلے کہ گھر کی بیل بحاؤں، ہاتھ روک لیتا تھا اور ایک منحوس سی حس بیدار ہوتی کہ جیسے ایک دن کوئی مجھ سے یہ کہے گا کہ محمد مارا گیا ہے۔۔۔۔ جانتے ہیں ایسا ہمیشہ ہوتا تھا۔۔۔  اور ہر دفعہ جب چھٹیوں کے بعد واپس محاذ جاتا تو وہاں پر ساتھیوں سے میرا پہلا سوال یہی ہوتا کہ میرے جانے کے بعد کون کون شہید ہوا؟۔۔۔ اور جیسے ہی اس کے گھر کی بیل بجاتا، عموما اس کی والدہ ہی آکر دروازہ کھولا کرتیں تھیں اور اسکی خیر خیریت بتایا کرتی تھیں۔

اسی طرح کئی ماہ گذرگئے میں ابھی تک جسمانی اور روحالی لحاظ سے صحیح سالم تھا اور ان تمام زخموں سے آگاہ تھا جو اس سروس کے دوران اپنے ماں باپ کو دیئے تھے کہ ہر دفعہ جب بھی محاذ پر جانے کیلئے ان کو خدا حافظ کہتا ایک عجیب غم ان کی آنکھوں میں دیکھتا۔

پھر ایک دن ایسا آیا۔۔۔ یا اگر شروع سے سناؤں تو زیادہ بہتر ہوگا۔۔ وہ خوفناک دن آیا کہ جب میں نے گھر کی بیل کو بجایا، کچھ لمحے انتظار کرکے دوبارہ بیل کو بجایا،،،، اس کی ماں نے دروازہ کھولا اور مجھے دیکھتے ہی زارو زار رونے لگی ان کے رخساروں پر آنسو بہہ رہے تھے کہ انہوں نے مجھ سے پوچھا: مہدی میرا محمد کہاں ہے؟ کیا وہ تمہارا جگری دوست نہیں تھا؟ اس کو کیوں اپنے ساتھ گھر نہیں لائے؟ اس وقت انسان جتنا بھی مظبوط ہو ٹوٹ جاتا ہے اور کوئی فوج ایسی نہیں جو آپ کو ان واقعات سے نمٹنے کیلئے تیار کر سکے کچھ کام نہیں آتا اور یہ واقعات آپ کو توڑ دیتے ہیں اوور آپ کی روح پر گہرے گھاؤ چھوڑ جاتے ہیں۔

میں خود کو سنبھال نہ سکا اور نہ ہی کوئی لفظ میرے منہ سے ادا ہو سکا وہاں سے واپس آنا تھا بغیر خدا حافظی کئے اٹھ کر چلا آیا سب الفاظ ساتھ چھوڑ گئے تھے۔۔۔ اپنی سروس کو پورا کیا اور واپس آگیا، بہت سے ساتھیوں کے بر عکس، میرا جسم و روح سالم تھے، ایران کو چھوڑا اور امریکہ آگیا۔

مخاذ پر ڈیوٹی کے دوران کیونکہ وقت مل جاتا تھا تو اس دوران میں نے انگریزی پڑہی اور خود کو امریکہ کی یونیورسٹی میں ایڈمیشن کیلئے تیار کرتا رہا راستہ کافی دشوار اور مہلک تھا مگر پھر بھی وہاں پہنچا گذشتہ سالوں میں کئی دفعہ ایران آیا مگر خود کو تیار نہ کر سکا کہ محمد کے گھر جاتا اور اس کے گھر والوں سے ملتا میرے خیال میں اتنی طاقت جمع نہیں کر پایا تھا کہ اس کی ماں کا سامنا کر سکتا۔۔۔۔

مئی کے مہینے میں کافی ڈھونڈا کہ محمد کے گھر والوں یا رشتے داروں میں سے کوئی فیس بک پر مل جائے؟ اس کے ایک جاننے والے کو دھوڈ پایا جس نے ہمارا رابطہ محمد کے چھوٹے بھا‌ئی سے کروایا جو آجکل قابل وکیل ہے اس کو ایمیل کی اور بتایا کہ مئی کے آخر میں ایران آرہا ہوں ، وہ ایران میں میرے قیام کے دوران گاڑی لے کر میرے والدین کے گھر پہنچا اور پھر ہم دونوں ساتھ کھانے پر گئے میرے لئے بہت مشکل تھا یہ سب کچھ۔۔۔ جو کہ نہ صرف ماضی کی یاد دلا رہا تھا بلکہ اس بوجھ کا احساس دلا رہا تھا جو آج بھی میں اپنے کاندھوں پر محسووس کرتا ہوں۔۔۔ ماضی میں میں کچھ نہ کر سکا مجھے اس سے کوئی سروکار نہ تھا بلکہ آج میں دیکھ رہا تھا کہ وقت نے ان زندگیوں کے ساتھ کہ جنہیں میں بہت نزدیک سے جانتا تھا۔۔ کیا کر دیا ہے؟ میں محمد کو اس کے بھائی کی ہنسی مسکاہٹ اور آنکھوں میں دیکھ رہا تھا ایک لمحے کیلئے خوش ہوگیا مگر دوسرے ہی لمحے غمگین۔۔۔۔ ہر طرح سے کوشش کرتا رہا کہ میرے انسو نہ نکلیں اس کی والدہ سے پوچھا وہ تو چلا گیااور اسکے والد بھی دنیا چھوڑ گئے اسی طرح اسکی خالہ اور بہن بھی بالکل اس طرح کہ جیسے سبھی کو مرنے کی جلدی تھی۔۔۔۔

لیکن وہ چیز جو میں جانتا تھا کہ محمد کی موت، اس کی ماں کی برداشت سے باہر ہے

دوستوں سے سنا کہ اسکے مرنے کے بعد اسکی ماں نے اس کی یاد میں شاعری کی۔۔۔۔۔۔۔۔

شاید ایسا ہی کوئی دن آئے گا کہ جس دن مجھ میں اتنی جرات پیدا ہوجائے گی کہ اسکی ماں سے  ان اشعار کے بارے میں پوچھ سکوں ۔۔۔۔       ایک ماں کے اشعار اپنے پیارے بیٹے کیلۓ جو جنگ میں مارا گیا ۔۔۔۔۔۔۔اور جس کی داستان خلا صتا ختم کر دی گئی

 میں اس نظم کو سننے کے لۓ تیار ہو جاؤں گا باوجود اس کے کہ وہ میری روح کو دوبارہ زخمی کردے،،، ہو سکتا ہے کہ دوبارہ اس موت کے سوگ میں بیٹھیں یا اس بہترین زندگی کی دعوت میں، جو بہت خوب صورت گذاری گئی، مجھے معلوم ہے کہ میرا بہترین دوست دوسرے مورد پر راضی ہے اور اسی کو چاہتا ہے۔ تو میں اس کی زندگی کا جشن منا رہا ہوں۔



 
صارفین کی تعداد: 1435


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – تیسری قسط

میں ان لوگوں کے جہل اور لا علمی کو ثابت کرنے کیلئے ایک مضحکہ خیز واقعہ کی طرف اشارہ کرتا ہوں جو میں نے ٹیلی ویژن پر دیکھا۔ صدام نے ایک بند کو معنی کے لحاظ سے برعکس پڑھا۔ اس دفعہ بھی حاضرین نے ایک آواز میں کہا: " جی جناب، ہم متفق ہیں! " البتہ صدام کو ہوش آگیا اور اس نے اپنی غلطی کی اصلاح کرلی۔

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔