۱۷ شہریور ۱۳۵۷ کے عینی شاہدوں سے گفتگو، اکبر براتی

جب گولی چلانےکا پہلا حکم صادر ہوا۔۔۔۔

مترجم: سید محمد جون عابدی

2015-09-30


اس سے پہلےکہ میں اپنی یادداشت بیان کروں ،آپ کی خدمت میں عرض کرتا چلوں کہ ۱۷شہریور کے واقعہ میں امریکہ کا ہاتھ ہونا مکمل طور پر واضح اور روشن ہے۔اس وقت تک ایران میں  ۴۵ ہزار امریکی  مشیر موجود تھے  جو ایرانی فوج  کو اپنے اشاروں پر چلارہے تھے۔

اس وقت امریکی کمانڈر ہماری فوج کے کرنل کو حکم دےسکتا تھا۔ ہم اصلا حکومت تبدیل کرنےکی فکر میں  تھے ہی نہیں۔ بلکہ ملک میں اجنبیوں اور غیروں کی مداخلت سے تنگ آچکے چکے تھے۔

۱۷ شہریور کے مطاہرےسے قبل بھی کئی مظاہرے ہوچکے تھے۔لیکن ان  مظاہروں میں بہت محدود لوگ ہی شرکت کرتے تھے۔۱۳ شہریور ۱۳۵۷ کو عید فطرکی نمازکے بعد مظاہروں کی شکل ہی بدل گئی تھی اور ان مظاہروں میں شرکت کرنے والوں کی تعدا لاکھوں تک پہونچ گئی۔اور۱۷شہریورتک یہ مظاہرے جاری رھے۔۱۷ شہریور کے قتل عام میں امریکی فوجی مشیروں کا ہاتھ تھا ۔اورکہا جاسکتا ہےکہ اس روز عوام کو  شاہ اور اس کے مالکوں  یعنی امریکہ نے قتل کیا تھا۔

یہ روز(۱۷شہریور)یوم اللہ ہے اورخدا نے خود قرآن میں  فرمایا ہے کہ ایام اللہ کو فراموش نہ کرنا اسے یادکرو اور اس سے عبرت حاصل کرو۔اس دن میں میدان ژالہ میں تھا اور میں آپکوبتاؤں کہ اس دن حتیٰ ایک پتھر بھی عوام کی طرف  نہیں  پھینکا گیا تھا ؛لیکن وہ ہیلی کاپٹر جو اوپرسے ہمیں کنٹرول کررہاتھا وہاں سے گولی چلانےکا حکم صادر ہوا اور فوج نے گولی چلانا شروع کردیا۔

 

 

میدان کی مختلف سمتوں از جملہ شمال ،جنوب اور مشرق کی طرف سے میں نے خود براہ راست گولی چلنے کا مشاہدہ کیاتھا۔چونکہ میں بچ گیا تھا لھٰذا اپنے آپ کو وہاں سے دور کیا اور پاور ہاؤس کی طرف چلا گیا اور پٹرول پمپ کے پیچھے سے ہوتے ہوئے میدان کے جنوبی حصہ میں پہونچ گیا۔اور اس کے بعد ایک گروہ کے ساتھ نارمک کےتیراہے پرپہونچا۔دیکھا کہ وہاں بھی زمین اور آسمان دونوں طرف سے عوام  پر گولی باری کا سلسلہ جاری ہے۔

<

 ۱۶ شہریور کو آیۃ اللہ بہشتی کی قیادت میں نماز ظہرکا فریضہ انجام پانےکے بعد یہ اعلان کیا گیا کہ ’’کل صبح،۸ بجے ،میدان ژالہ‘‘وہیں سے لوگ اس ماجرےسے باخبر ہوگئےاور سب کے سب وقت پر میدان ژالہ پہونچ گئے۔صبح ۷ بجے کی خبر میں فوجی حکومت کی طرف سے ریڈیوسےاعلا ن ہوا اوراس کے علاوہ فوجیوں نے گلیوں میں گھوم گھوم کر مائیک سے بھی اعلان کیا کہ اپنے گھروں سےنہ نکلیں۔لیکن  عوام دنیا کے پیچھے نہیں بھاگ رہی تھی۔

جیسے ہی پہلی بار گولی چلانےکا حکم صادر ہوا تومیں نےدیکھا کہ ایک سرباز نے اپنی بندوق کی نوک اپنے گردن پررکھدی اورجیسے ہی حکم ہوا اس نے گولی چلا دی اوراس کا بھیجا اس کی  ٹوپی سمیت آسمان کی طرف اڑ گیا ۔یہ افراد اسی قوم کے بچہ تھے۔اور بہت چاہتے تھے کہ کسی ایک کوانتخاب کریں ۔اور اسی دوران  بہت سےسرباز اپنے مافوق کے حکم کی آگے ان کی اطاعت  کرنے پر مجبور تھے۔اور بہت سے فوجی صرف ہوائی فائیرنگ کرررہےتھے۔

میں نےدیکھاکہ عمامےاورٹوپیاں زمین پرپڑی ہوئی ہیں۔مرد ،عورت،بچے اور علما  زخمی حالت میں پڑے ہوئے ہیں اور بعض تو اپنے آپ کو گھسیٹ کر لیجارہےہیں اور اپنی جان دے رہے ہیں۔شاہی حکومت نے اہنی پوری طااقت جھونک دی لیکن اس کے باوجود عوام کے سامنےٹک نہ سکی۔ہمارا محلہ  جو میدان شہدا اور میدان امام حسین علیہ السلام کے درمیان واقع تھا ،وہاں  کے لوگ بہت تاخییر سے انقلابی تحریک سے جڑے۔لیکن ۱۷ شہریور کے بعد سے لوگ راتوں کوزخمیوں کی مدد کے لئے آمادہ تھے۔اس دوران  دوسرے شہروں کے سربازبھاگ کر گھرآتے اورکہتے ہماری مدد کرو۔

گولی چلنےکے پہلےمرحلہ کے بعد صفیں بکھرگئیں اورتمام لوگ ادھر ادھر ہوگئے ہم نے کہا لوٹ چلیں اور بیٹھ جائیں تاکہ حالات بہتر ہوجائیں اور اسی خاطر خواتیں مردوں  کی صفوں کے درمیان آگئیں لھٰذا نہیں  بتایا جاسکتا کہ خواتین کی  تعداد کتنی تھی۔

میں پہلےمیدان کے شمالی سمت میں تھا۔اور ساڑھے سات بجےصبح میدان  پہونچابعض سیاسی سرگرم افراداور جیل تازہ سےآزاد ہونے والے جوان اورپرانے فعال لوگ خورشید روڈ پر جمع ہوچکے تھے۔اور آپس میں باتیں کررہے تھے کہ عوام کو  قانع کریں کہ اس جگہ کو ترک کردیں۔کیونکہ ان کا خیال تھا کہ انقلاب کو بہت آرام سے انجام دیا جائے۔کیوں کہ دوسرے ۱۵ خرداد ۱۳۴۲کے رونما ہونے کا خطرہ تھا۔اوراس طرح انقلاب کئی سال پیچھ جاسکتاتھا۔اور اس سے غافل تھے کہ ایک گولی چلنےکہ حکم کےصادر ہوتے ہی عوام خاک وخون میں  غٖلطاں ہوجائیں گے۔

فوج ۲۰ ۔۲۰افراد کا گروہ  بناکر  میدان کے تین گوشوں پر مستقر ہوگئی تھی اور پوری فوجی تیاریوں کے ساتھ تھی ایک فوج لیجانے والی گاڑی ،ایک ٹینک میدان کے وسط میں  کھڑا تھا اور اس کا نشانہ شمال اورجنوب کی  طرٖف رکھاگیا تھا۔

گولیاں تین  طرف سے چلائی گئی تھیں اورگولی باری کے بعد عوام نے زخمیوں کو میدان سےاٹھایا تھا۔ میں  اپنے ایک زخمنی دوست کو پٹرول پمپ کے جنوب کی طرف واقع ایک گھر میں لے گیا اور جب اس کو وہاں  پہونچاکر واپس آرہا تھا تو دیکھا کہ فوج کا ٹرک کچھ سربازوں کو لیکر آیا ہےجوشہدا اور زخمیوں کو جمع کررہے تھے۔اگرچہ  عوام کی کوشش یہ تھی کہ کسی کوبھی فوجیوں کے ہاتھ نہ لگنے دیں ۔اوراسی وجہ سے ہم نے زخمیوں کو خود وہاں سے ہٹایا تھا اور اسی بنا پرہم شہدا کی معین  تعداد نہیں  بیان کرسکتے ہیں ۔

 یہ کہا جاتا ہےکہ روحانیت مبارز(انقلابی علما کمیٹی)نے کہا  تھا کہ اس مظاہرےکےلئیے ہم نےکوئی پروگرام نہیں بنایا تھا تومین اس سلسلہ میں کہنا چاہتا ہوں کہ روحانیت مبارز شہیدآیت‌الله بهشتی، شہیدآیت‌الله مطهری، شہیدآیت‌الله مفتح و مرحوم آیت‌الله مهدوی جیسے  افراد سے ملکر بنی تھی اور میرا ان کےیہاں آنا جانا تھا۔اگر کوئی کہتا ہے کہ کوئی پروگرام ہی نہیں تھا  تویقینا آج اس کا نظریہ بدل گیا ہے ۔وہ سیاسی گروہ جو خورشید روڈ ہر کھڑا تھا جب گولی چلنےکے بعدادھر سے آنے والے  دوستوں سے انکے بارے پوچھا کہ کوئی وہاں پرتھا تواس نےکہا نہیں ۔سب وہاں سے چلے گئےتھے۔

انلوگوں کے پاس رسمی اعلان نہیں پہونچاتھا جبکہ ۱۶ شریور کو خیابان انقلاب اور شمیران کے چوراہے پر آقای بہشتی کے مکبر نےنمازکےبعد مائیک سے مظاہرے کا اعلان کیا تھا۔بعض لوگوں نےکہا یہ افواہ ہے لیکن مائیک نے یہ تصدیق کردی کہ کل صبح آٹھ بجے میدان ژالہ۔

اس دن میں میدان کےجنوبی حصہ میں گیا اور وہاں  پر مامور فوجی سے کہاکہ شاید اس مجمع میں تمہارے گھر کا بھی کوئی ہو تو تم گولی نہ چلانا اس نے کہا :’’اگر میرے گھر بھی شخص اعلیٰ حضرت کا مخالف ہوگا  تو میں اسے بھی نہین چھوڑوں گا۔‘‘اور اسی کے بعد گولی باری کا دوسرا مرحلہ شروع ہوگیا ۔

گولی باری کے پہلے مرحلے کے بعد میں نےدیکھاکہ کچھ لوگ  پٹرول پمپ گئے اور بوتلوں میں پٹرول بھر کر اسے بم کی جگہ استعال کرنا چاہتے ہیں۔ ہم زخمیوں کو میدان سے اٹھا کر میدان کے اطراف کے گھروں میں لیجارہے تھے تاکہ ان کی دیکھ ریکھ ہوسکے۔البتہ گھروں مین لیجانے کا  یہ طریقہ  شہید ڈاکٹر فیاض بخش نےشروع کیا تھا۔انہوں نےاورانکےگروہ نےکچھ گھرآمادہ کئےتھےکہ اہم دنوں میں ہم  زخمیوں کو وہاں لیجاکر ان کی دیکھ ریکھ کرتے تھے ۔کبھی کبھی تو زخمی ٹھیک  ہونےتک ان گھروں میں  رہتےتھے۔

(میدان ژالہ کے بورڈ پر خونی پنجوں کے نشان کاماجرا)شب ۲۷ رمضان یعنی ۱۱شہریور سے مربوط ہے ۔اس وقت اور فوجی حکومت سے پہلےساواک اورشہرکامئرشہرکی تمام فعال مسجدوں کو بند کروادیتےتھے۔اوراس محلہ کےروحانی کو اٹھالیجاتےتھے۔مسجد الہادی اور اورمسجد امام حسین علیہ السلام بھی بند کردی گئیں تھیں۔میں نے سوچا ایسی جگہ چلا جائےجہاں سے ساواک والوں کو کوئی مشکل نہ ہواور وہیں سے مظاہرہ کیا جائے۔لھٰذا ہم آبسردار چوراہے پر گئے اور شیخ یحییٰ نوری سے وابستہ ایک حسینیہ میں چلے گئے۔مجمع اتنازیادہ ہوگیا تھا کہ لوگ گلی میں بیٹھےہوئے تھے اور بلدیہ کی طرف سے سڑک بند ہوگئی تھی۔ مقرر نےکہا آپ لوگ اپنے اپنےگھر جائیے اور جو نعرے میں نے بتائے اس کے علاوہ کوئی نعرہ نہ لگائیے۔اس وقت ہم  کہتے تھے :’’کہو‘‘اور لوگ شاہ مردہ باد کہنےلگتے  تھے۔اور اس زمانہ میں یہ ’’کہو‘‘ والا نعرہ بہت رائج ہوگیا تھا۔

اس وقت مجمع اتنا زیادہ ہوگیا تھاکہ فوجی آگئےاوران سےجھڑپیں  شروع ہوگئیں۔ان جھڑپوں میں تین لوگ شہید ہوگئے۔اس قدر آنسو گیس چھوڑی تھی کہ میری بھی حالت خراب ہونےلگی  تھی۔۲۔۳ گھنٹوں تک یہ جھڑہیں چلتی رہیں۔ اور ہم صرف نعروں کے ہتھیار استعمال کررہے تھے میں نےعوام کی مدد سے زخمیوں اور شہیدوں کو مسجد خیر کی گلی میں جمع کیا۔ جب میں نے ایک زخمی کو پیچھے سے کھینچا تو میرے ہاتھ تازہ خون سے بھر گئے تھے۔میں  نے اپنے اس خون سے بھرے پنجے کو میدان ژالہ کے بورڈ پرماردیا تھا۔اب شاید کسی اور نے بھی اپنے خون سے بھرےہاتھ کو بورڈ پر مارا ہو۔*

  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

*۱۷ شہریور ۱۳۹۴ کی صبح ،’’ لالہ شہریور۵۷‘‘ کی آٓرٹ  گیلری کی دوسری نمائیش اور مخصوص نشست ،اکبر براتی ۱۷شہریور ۱۳۵۷کے دیگر عینی شاہدوں میں سے ایک ہیں جن  کی عمر اس وقت ۲۲سال تھی اور وہ پہلووی حکومت کے مخالف اور فعال مذہبی اور سیاسی شخص ہیں ،انہوں  نے اس یادداشت کو دوبارہ بیان کیا ہے ۔

 



 
صارفین کی تعداد: 2351


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – تینتیسویں قسط

لیفٹیننٹ "کنعان" میرے ساتھ کام کرنے کے دوران جنگ کے جاری رہنے کے حوالے سے اپنی ناراضگی کا اظہار کرتا تھا اور عراقی حکومت پر تنقید کرتا تھا، لیکن فوجی آپریشنز میں وہ سنجیدگی اور اخلاص کے ساتھ کام کرتا تھا

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔