تاریخ، زبانی انداز میں !

ڈاکٹر سید ابوالفضل رضوی, ڈاکٹریٹ تاریخ ایران
مترجم: سیدہ افشین زہرا

2015-09-15


انقلاب اسلامی کی تاریخ نگاری میں تاریخ شفاہی کی اہمیت:
انقلاب اسلامی سے متعلق روایات اور تاریخ میں نظر آنے والا اختلاف دراصل متعدد تضادات اور مختلف طریقوں سے جمع کی ہوئی،پہچان اور خط وکتابت کی روش میں اختلاف کی وجہ سے ہے۔
تاریخ نگاری کا ہر زاویہ کچھ عیب بھی رکھتا ہے اور کچھ خوبیاں بھی ،انقلاب کے مختلف ابعاد کی پیچیدگیوں،وسعت اور روانی باعث بنی کہ کچھ طریقے اور روشیں زیادہ موثر ہوگئے اور اس تاریخ نگاری کے درمیان تاریخ شفاہی نے بھی ایک خاص مقام پیدا کرلیاجس کا اندازہ بازار میں اشاعت اور نیٹ اورسائبر پیس دیکھ کر بخوبی کیا جاسکتا ہے۔
تاریخی اعداد وشمار اور ریکارڈ کے لئے تایخ شفاہی سے فائدہ اٹھانا،خاص خصوصیات کا حامل ہے کیونکہ یہ عمل تاریخ کو زیادہ ضخیم اور عصر حاضر سے ہم آہنگ بناتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس نے یونیورسٹیوں اور تاریخی اداروں میں ایک مضبوط پوزیشن حاصل کرلی ہے۔اس آریٹکل میں بھی انقلاب اسلامی کے زمانے میں رائج ،روائتی تاریخ نگاری کی نوعیت اور طریقہ کار کومدنظر رکھ کر تاریخ شفاہی کی مثبت خصوصیات پر توجہ دی گئی ہے۔


تاریخ کے معنیٰ میں تاریخ نگاری:

تاریخ یعنی لوگوں کی اجتماعی کارروائی اور عمل کو وقت کے تناظر میں بیان کرنا اور علم تاریخ کا مطلب ،عمل کا مطالعہ ،اس کے وقت اور جگہ میں ہے کہ جہاں یہ عمل انجام پایا۔ ان کارروائیوں (عمل)کی شناخت اس وقت میں ان کے نتائج کا تجزیہ کرنا،دراصل تاریخی محققین کا کام ہے اور مورخین اس کام کو ایک خاص نقطہ نظر کے ساتھ ،خاص طریقے سے انجام دیتے ہیں اس بنیاد پر اگر علم،ایک خاص موضوع سے متعلق معلومات ،روش اور خاص مقاصد کا مجموعہ اور نامعلوم ،مجہول سے معلوم کی طرف حرکت کا نام ہے،تاریخی محققین بھی دوسرے علوم کے محققین کی طرح تحقیق کرنے والے موضوع سے دوطرح سے ربط برقرار کرتے ہیں،فلسفے میں علم تاریخ کو ٹھوس بنیادوں پر استوار تاریخی علم سے تعبیر کیا گیا ہے علم تایخ کا ٹھوس ہونا یعنی دو الگ الگ حصوں(افقوں)میں مداخلت سے تعبیر کیاگیا ہے اور دو الگ حصوں یا (افقوں)میں مداخلت سے تعبیر کیا گیا ہے ان دو الگ حصوں یاافقوں کا مطلب حال اور ماضی ہے،اور مورخ ایک شخص کی گفتگو اور بتائی ہوئی باتوں سے اس زمانے میں جس میں اس نے زندگی گزاری اپنی بصیرت سے اس کی حیثیت کو موجودہ زمانے میں ڈھونڈتا ہے اور یہی علم تایخ ہے،اس طرح جس موضوع کا مطالعہ کرتاہے اور وہ بیان کردہ زمانہ جو گذشتہ کو ظاہر کرتاہے(۱)البتہ یہ گذشتہ وحال کے بارے میں یہ بات سامنے آتی ہے. بعض تصور کرتے ہیں ایک دوسرے سے الگ ہیں،جبکہ یہ الگ نہیں ہیں بلکہ درحقیقت بیان کرنے والا زمانہ حال سے وابستہ اور اس کا کامل اظہار ہے۔
ناقدین کی رائے کے برخلاف جو کہ تاریخ اور اس کی ٹھوس ماہیت پر دیتے ہیں،مطالعے کے میدانوں نے اس علم کو ماضی تک محدود کردیا ہے اور اس کو جداگانہ واقعات مان کر ایک دوسرے سے علیحدہ دیکھتے ہیں،اور مورخین ان کے عمیق جائزے کے لئے ان منفرد حوادث کو پہنچاننے کیلئے ان کا مطالعہ کرتے ہیں اورمطالعے کے ہر مرحلے میں گفتگو کی انفرادیت پر نظر رکھتے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ اس گفتگو کے بارے میں گذشتہ ادوار سے اس کے رابطے اوربعد کے ادوار پر اس کے اثرات پر تحقیق کرتے ہیں۔علم تاریخ مورخ کے اس ربط دینے کے علاوہ اس کے زیر نظر موضوعات اور دوسری خصوصیات کا حامل بھی ہوتا ہے جیسے کہ مختلف ذہنوں کی ماہیت ،ارتقاء اورفطرت(جو کہ ہر شخص کی الگ ہوتی ہے)کو بھی مدنظر رکھتاہے یہ علم ہی ہر علم کی طرح معاشرے کی ارتقاء اور نخولات کے ساتھ آگے بڑھتا ہے اسی وجہ سے تاریخ کے علم میں ہر موضوع ظاہر نہیں ہوپاتا جب تک کہ ایک خاص طریقہ کار سے اس تحقیق اور مطالعے کو انجام نہ دیا جائے،تاریخی محققین کی سب سے پہلی خصوصیت یہ ہے کہ اس طریقہ کار میں موضوع کے انتخاب پر توجہ دینا اور مسئلے کو موضوع کے اندر سے پہچاننا اور نکالنا وہ چیز جو ایک محقق کو دوسرے محققین سے الگ کرتی ہے ماضی و حال کا آپس میں ربط قائم کرنا ہے۔ (۲)۔شفاہی تاریخ کی اہمیت بھی اس طرح ہے یعنی کس طرح موضوع کا انتخاب کیا جائے موجودہ زمانے میں رہ کر اپنی بصیرت سے اس گفتگو کو حال کے مطابق ڈھالنا اور معاشرے کی موجودہ صورتحال اور مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے تاریخ کے ایک خاص دور سے ایسے موضوع کو لانا جو ان مسائل سے ربط رکھتے ہوں۔ یہ مرحلہ ایک مشکل مرحلہ ہے کسی بھی محقق کیلئے کہ حال کو مدنظر رکھتے ہوئے ماضی میں جائے اور وہ چیزیں جو حال سے تعلق نہیں رکھتیں ان کو جدا کرے ممکن ہے کہ یہاں سوال پید اہوکہ حال کو بطور مثال لیتے ہوئے ماضی کے مسائل کو کھوجنا،کیا حقیقت سے دوری نہیں؟ تو جواب یہ ہے کہ موجودہ حال کے اثرات اس معاملے میں صرف مسئلے کے تعین کی حد تک ہیں یا صرف موضوع کے انتخاب کے وقت ،نہ کہ ساری تحقیق میں کیونکہ تحقیق مسئلہ کو متعین کرنے کے بعد موجودہ دور کے مسائل سے کیوں اور کیسے کی تحقیق کرکے اس واقعے کی نوعیت،زمانہ او ربیان کرنے والے کو مدنظر رکھ کر تحقیق کرتا ہے اور اس طرح موجودہ زمانہ اثر انداز ہیں ہوتا،البتہ اپنے مدنظر دور میں تاریخی مسئلے کی وجوہات کی شناخت کے بعد اور حقیقت سے آشنا ہوکر جب تجزیہ وتحلیل کرتا ہے تو دوبارہ موجودہ زمانے سے مثالیں لاتا ہے اور دونوں ادوار کو اس میں جوڑدیتا ہے۔
(۳)۔مطالب کو نکالتے وقت بھی نہ صرف یہ کہ لسانی ساخت اور الفاظوں کا خیال رکھتا ہے اس طرح یہ عمل خودبخود ماضی اور حال کے اس میں پیوند کا سبب بن جاتا ہے جو کچھ بیان کیا جاچکا ہے اس کو نکات کے طور پر اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے۔؟


1.تاریخی محقق مسئلے کو چنتے وقت،زمانہ گفتگو اور زمانہ حال دونوں سے متاثر ہوتاہے اور موجودہ درپیش مسائل کی ماضی میں تحقیق کرتاہے۔


2. وہ مسئلہ اور اس کی تاریخی وجوہات متعین کرنے کے بعد اپنے مدنظر زمانے میں مطالعہ کرتاہے اور کوشش کرتاہے کہ موجودہ زمانے سے متاثر ہوئے بغیر اس کو وسیع نہ کرے۔


3. مسئلہ کو شناخت کرنے کے بعد تجزیہ و تحلیل کے وقت اپنی بصیر ت جوکہ موجودہ زمانے سے کسب کی ہو اس سے پہلے دوسرے علوم اور نظریات سے فائدہ اٹھا کر ماضی وحال کو ملاتا ہے۔


4.مسئلے کو لکھتے وقت مندرجہ بالا نکات کے بعد یہ نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں کہ مسئلے کا تعین اور نکات کی رعایت،سوال کے نکالنے،بتانے اور جمع کرنے،متفقہ رائے کو بیان کرنے اورسب کے ساتھ انصاف کرنے کے بعد ایک تاریخی تحقیق جلد ہی اپنی علمی حیثیت کے مطابق معاشرے کے تغیر و تبدیلیوں کے ساتھ انسانی عمل اورعقل کے مطابق اسے ڈھالتاہے تاکہ تاریخ بھی ایک شناسا علم کے طور پر اور معاشرتی زندگیوں کے مکمل تجزیے کے بعد مناسب شرئط کے ساتھ سامنے آسکے۔ مورخین کی طرف سے ان کے علم کا نچوڑ اور حاصل کو تحریر کرنے کے بعد ہی تاریخ نگاری وجود میں آتی ہے۔ اس لحاظ سے ہر وہ چیز جو کوئی فیصلہ ساز یا علم تاریخ کے وجود میں آنے کا سبب ہو مورخ سے متعلق ہوتا ریخ نگاری میں اہمیت کا حامل ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر قوم کی تاریخ کے غو ل میں اس کے تاریخ نگاروں کی حیثیت،شناخت اور علم و بصیرت بہت اہمیت کا حامل ہے تاریخ نگاری لکھنے کے مفہوم اور تصور کے طور پر جانی جاتی ہے جوکہ بنیادی طور پر لکھا ہوا نہیں ہوتا،کسی بھی معاشرے کی ترقی اور ارتقاء میں اپنا کردار رکھنے کے باوجود ایک مورخ کے فہم کے زیر دست ہوتی ہے جوکہ مورخ کی گہری نظر اور علمی حیثیت کی مرہون منت ہے۔ معاشرے کی ساخت کے ایک تصور کے مطابق وہ امر جو بیان شدہ بحث سے موافقت رکھتا ہے جسے فلسفہ مشاء کہتے ہیں اس علم کی تاریخ،گذشتہ سے تعلق رکھتی ہے کہ انسان کے اعمال اوراس کی حرکات سے متعلق ہیں(۴)


5. نیز کسی بھی عمل کے اشتراک،سا لمیت،توازن اور معاشرے کے اجزاء کی تشکیل کو شامل کرتا ہے اس لحاظ سے مورخین کے لئے موثر اجزاء وہی ہیں جو اسے ماضی شناخت کرائیں اوران کو تاریخ سے قریب کریں ،کیونکہ مورخین کی تحلیل و تجزیہ،معاشرے کے حالات اور اصطلاحأحکومت کے بیانات یا برجستہ شخصیات کے بیانات کے تابع ہوتی ہے اس وجہ سے اس امر کی ابتداء میں تاریخ نگاری وسیع تر،علم تاریخ ،فاعلی، صورت میں نظر آتی ہے جبکہ اس صورت میں کئی نقصانات کا بھی احتمال ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ حقیقت سے تعلق ٹوٹ جائے کیونکہ تھوڑا بہت غول تاریخ کے تصورات سے پیدا ہوجانا فطری ہے مگر تاریخ کا معاشرے ساتھ ڈھلنا تاریخ اور معاشرے دونوں کو مضبوط کرتا ہے اور اہمیت کا حامل ہے۔


انقلاب اسلامی کی تاریخ کی نوعیت:
ان تمام مواد کے مطابق جو بیان کیا جاچکا ہے کہا جاسکتا ہے کہ انقلاب اسلامی کی تاریخ ہی دوسرے موضوعات کی تاریخ نگاری کی طرح،ان مفاہیم اور سمجھ کے تابع ہے جو معاشرے،انقلاب اسلامی کے بارے میں رکھتا ہے۔اور دوسری طرف مورخین کے تابع ہے یا اگر ایسا کہیں تو بہتر ہوگا کہ انقلاب اسلامی کے میدان کے محقق اس میں کافی حیثیت رکھتے ہیں دونوں اعتقادات کے مطابق کہ جس میں پہلا تاریخ نگار اور علم تاریخ کے موجودکے باریت میں ہے کہ کسی بھی مورخ کا اس کی زندگی کا ماضی قریب اس کے لئے تحقیق کا بہترین دور ثابت ہوسکتا ہے۔


7.کیونکہ زمانہ حال سے تھوڑا پہلے کا ماضی،دور حاضر سے زیادہ بہتر طریقے سے سمجھاجاسکتا ہے اور اس گذشتہ دور سے تاریخ کو نکالنا زیادہ آسان ہوتاہے یہ فطری بات ہے کہ ہم جس حد تک انقلاب اسلامی کی تاریخ میں مفہوم مفعولی لے کر آئیں گے،تاریخ نگاری فاعلی ہوتی چلی جائے گی اور اس تاریخ کا حال سے گذشتہ کے درمیان کم فاصلہ ہونا بھی انقلاب اسلامی کا ایک اچھا اور عام فہم تاثر چھوڑے گا۔


8. اور اس اعتراض کا جوب بھی مل جائے گا کہ جو یہ کہتے ہیں کہ انقلاب اسلامی ابھی ایک موضوع کے طور پر تاریخ کا حصہ نہیں بن سکتا بلکہ نصف صدی یا اس سے زائد کا عرصہ چاہیے،تو اس طرح کے اعتراضات بھی بے معنی ہوجائیں گے لیکن اس کے لئے بہتر ہے کہ ہمیں جو راستہ اختیار کرنا چاہیے وہ تاریخ مفاہی کا راستہ ہو یہاں ذکر کرنا پڑے گا کہ تاریخ کا علم اور تاریخ نگاری کے درمیان ایک اٹوٹ رشتہ ہے۔ انقلاب کی تاریخ نگاری میں صیح اور کامل فہم،سماجیات،نفسیات ماہر بشریات اور مذہبی رہنماؤں کے نظریات کے ساتھ ہی ممکن ہوسکتی ہے۔


9. مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ وہ لوگ جو تاریخی ماہرین انقلاب اسلامی کے مطالعے اور اس کے نظریات کی خود اتنی محنت نہیں کررہے جتنی باہر کے محققین کے نظریات پر اکتفا کررہے ہیں،جس طرح بیان کیا گیا ہے کہ مورخ کا فہم اور معاشرے کی سمجھ تاریخ میں بہت اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ بہت ساری باتیں جو بیان کی گئی ہیں ہمارے معاشرے کی علمی میراث ہیں اور فطری بات ہے کہ جب تک یہ علمی میراث کا وجود نہ ہوگا انقلاب کا پیغام اور نظریات کا ایک خاص طریقے سے تجزیہ اور تحلیل نہیں کیا جاسکے گا،تاریخی محققین اس موضوع سے کچھ خاص رشتہ قائم نہیں کرسکیں گے لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ماہرین علوم انسانی اس موضوع کی پیچیدگی اور مختلف الجہد کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے جدید دنیا او ر اس کے نظریات کے مطابق اس کو سامنے لائیں اور مذہبی،عوامی ،مقامی اور انقلابی مطالبات بہترین طریقے اور انداز سے پہچان کروائیں۔


10. اور گروہی اور جنگی رویوں سے ہٹ کر،خاص طور پر جب اسے انقلاب سے متعلق اور اعداد وشمارکے طور پر تحقیق کا حصہ بنایا جاتا ہے۔ اہم نکتہ یہ ہے کہ تعریف سے ہٹ کر جب تک کوئی بھی موضوع یا واقعہ معاشرے کی نظر سے تحلیل اور ہم آہنگ نہ ہو اور دوسروں کی تحقیق،توصیف اور تجزیے کا باعث بھی بنتا ہو مگرجب تک اس کے اثرات اور بنیاد کولوگوں سے متصل نہ کیا جائے فائدہ نہیں ،یہ بات قابل ذکر ہے کہ اگر تاریخ نگاری کا گذشتہ اور موجودہ زمانے میں موازنہ کریں اور اسے صحافتی نقطہ نظر سے اور تفہیم کے تناظر میں دیکھیں تو بہت بدل چکی ہے۔اور صحافتی نکتہ نظر کو ہر گز تاریخ نگاری پر حاوی نہیں کرنا چاہیے کہ آج کل ایسا ہی ہورہا ہے۔ اس حوالے سے جہاں تک ممکن ہوسکے طے شدہ اور غیر فعال بنیادوں پر انقلاب کو بیان نہ کیا جائے بلکہ حقیقی واقعات اور زمان کی موجودگی میں انقلاب کے تصورات کو پنپنے کا موقع فراہم کیا جاۓ انقلاب کی تاریخ کو بالکل ویسا ہی کہ جیسے بیان کیا گیا ہے انجام دیا جاۓ تو کوئی مشکل پیش نہیں آۓ گی لیکن اگر مخالف بہاؤں کا راستہ بند کردیا جاۓ تو مشکل پیش آسکتی ہے. انقلاب اسلامی کوئی حادثہ نہیں جو کہ 22 بہمن کو وقوع پذیر ہوا ہو بلکہ ایک تحریک  کا اورعمل کا نام ہے اور 22 بہمن اسکا ایک واقعہ ہے(11)

اگر صرف ایک ہی عمل کو زیر نظر رکھیں تو یہ فطری بات ہے کہ انقلاب کی نشونما رک جاۓگی اور اس حقیقت کو بھولنا نہیں چاہیے کہ انقلاب کو تاریخ میں سمو دینا ہے بلکہ اسکے برعکس انقلاب ایک ایسا واقعہ ہے جو تاریخی حیثیت رکھتا ہے۔ انقلاب کے مثبت اور موثر ہونے کی وجہ اسکا عوامی ہونا ہے اور یہ ایک ایسا اہم مطلب ہے کہ تاریخ نگارانہ مطالعوں میں اس طرف توجہ دینی چاہیے اور موجودہ نظریات سے قطع نظر جو اسکو آگاہانہ یا نا آگاہانہ تصور کرتے ہیں دونوں صورتوں میں اسکا ایک عوامی تحریک ہونا ثابت ہے۔ اگر اجتماعی تاریخ نگاری کے عنوان سے دیکھا جاۓ تو تمام تاریخی موضوعات کی اہمیت ان کا اجتماعی ہونا ہے اور انقلاب اسلامی کے تاریخی مطالعے میں یہ عنصر بہت واضح ہے(12)

اگرچہ اس تحقیق اور مطالعے کے میدان میں، بعض شہروں میں انقلاب پر تحقیق ہوئی ہے مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ تفصیلی اور ماہرانہ مطالعہ انجام دیا جاۓ، انقلاب کی راہ میں گزشتہ تیس سالوں میں، بازاروں، مساجد ، محلوں ریسرچ سینٹرز اسکولوں یونیورسٹیوں انجمنوں نے انقلاب کے مختلف محوروں میں اقتصادی، سیاسی، ثقافتی، فنی مذہبی اور فوجی محوروں میں کافی تحقیق کی ہے جو اسکے دوام اور ترقی و مطالعے میں اضافے کا سبب بھی بنا ہے۔

ان تمام عوامل کے باوجود یہ بات ماننی پڑے گی کہ انقلاب کچھ ایسی خاص حصوصیات کا حامل ہے جس کی وجہ سے اسکی کشش اور خوب صورتی میں ہر آن اضافہ ہوتا ہے اور اسکی یہ خصوصیت اس کے بعد کے واقعات جیسے، اقتصادی بائیکاٹ،اور سیاسی دباؤ کے باوجود قائم رہی، اور محققین کے گروہوں کی توجہ کا باعٹ بنی جو آخری تین دہائیون میں اس طرف متوجہ ہوۓ

انقلاب کے اعداد و شمار و تحلیل اس طرح ہوں کہ موجودہ حالات کو بہتر بنانے میں معاون ہوں مگر یہ کام انقلاب کے تاریخی محققین کا مرہون منت ہے کیونکہ در حقیقت، علم تاریخ کا مقصد ہی حال کو ماضی کے ساتھ پیوستہ کرکے آگاہی فراہم کرنا ہے اور موجودہ معاشرے کی مدد کرنا ہے. یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ انقلاب اسلامی ، مختلف زاویوں کی وجہ سے، ہر لحظہ نئی آب و تاب کے ساتھ ابھرتا ہے لہذا اس پر جتنا تمرکو کریں  یہ اتنا ہی اپنے محققین کو نئی راہیں دکھاتا ہے یہی وجہ ہے کہ اسکے مختلف زاویوں کے مطالعے کی چاشنی محققین کو خواہ وہ موافق ہوں یا مخالف، مطالعے پر مجبور کرتی ہے یہی وجہ ہے کہ محققین اس کے مختلف موضوعات ،جیسے سماج شناسی، سیاسی نفسیاتی، اجتماعی ،سیاسی معیشت و بصیرت،یا محض تاریخی ہونے پر اس کا مطالعہ کرتے ہیں۔

آخری نکتہ یہ ہے کہ اگر عقلی طور پر تاریخ انقلاب اور تاریخ نگاری پر تحقیق ہو اور تاریخ نگاری کے تمام ملزومات کو ایک خاص طریقے سے بروے کار لایا جاۓ تو اس کا نتیجہ یہی نکلے گا کہ انقلاب ایک تحریک کا نام ہے۔

ہماری ادبی محفلوں اور اس سے بڑھ کر عالمی محفلوں میں ابھی تک علم تاریخ سے متعلق کسی خاص طریقے کار سے متعلق کوئی ایک متفقہ راۓ موجود نہیں یہ امر موضوع کی پیچیدگی کو بڑہاتا ہے اور تاریخ نکاری کو مختلف انداز سے بیان کرنے کا خواہان ہے بالخصوص اہم واقعات جیسے انقلاب اسلامی۔۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ ایک طایقہ کار "تاریخ شفاہی" ہے کہ یہ کچھ ایسی خصوصیات کی حامل ہے کہ جس کی وجہ سے انقلاب اسلامی کے مختلف زاویوں کا با آسانی مطالعہ اور تحقیق کی جا سکتی ہے

 

انقلاب اسلامی کی تاریخ نگاری میں ،تاریخ شفاہی کی اہمیت:

تاریخ شفاہی دراصل کچھ ایسی کوششوں کا مجموعہ ہے جس میں مختلف تکنیکوں اور مخصوص طریقوں سے افراد یا گروہوں کے تجربوں سے حاصل کردہ تاریخی واقعات یا معلومات کو اکھٹا کیا جاتا ہے وہ افراد جو ان واقعات کے عینی شاہد یا اس واقعے کا حصہ ہوتے ہیں. یہ ایک کیفیتی عمل ہے جو بات خیت کے ذریعے وجود میں آتا ہے یہ کفتگو مفاہمت اور اس کے برعکس، انٹرویو لینے یا سننے والوں کے ذریعے ایک رابطے کی صورت میں عمل میں آتی ہے، تاہم تاریخ شفاہی ان تمام باتوں سے بالاتر انٹر ویو لینے اور دینے والون کے درمیان ایک رابطے کا نام ہے اور ایک عوامی عمل ہے کیونکہ اس میں مختلف افراد بلاک بنا کر ایک عوامی سائٹ پر اپنے تجربات اور آنکھوں دیکھے واقعات بیان کر سکتے ہیں(13)

انسانی عمل کی تحلیل اور شناخت، تاریخی محققین، مختلف دستاویزات اور روایات کے بل بوتے پر کرتے ہیں کہ ان ماخذ کے بغیر علم تاریخ کا حصول نا ممکن ہوجاتا ہے، مورخین ان ماخذ اور ان کی تشریحات کو حاصل کرنے کے لۓ رراہیں تلاش کرتے ہیں تاکہ اپنی تحقیق سے جڑے سوالات کا جو اب دے سکیں اس امر میں جتنی دستاویزات زیادہ ہوں گی تحقیق کرنا اتنا ہی آسان ہو جاۓ گا کہ یہ امر علم تاریخ کے ارتقاء اور اسکی زمانہ حال سے پیوستگی میں مددگار ثابت ہوتا ہے. مگر وہ واقعات جو تاریخ شفاہی سے حاصل ہوتے ہیں ڈبنک اور آڈیو میں ہونے کی وجہ سے محققین کے لۓ ویادہ کاآمد ہوتا ہے کیونکہ یہ موجودہ زمانے میں وقوع پذیر ہوتی ہے یہ عمل محققین کے کام کو آسان کرتا ہے کہ بیان کرنے والا واقعات کو خود ہی موجمدہ زمانے میں ڈ ھال کر بیان کرتا ہے۔ جس طرح کے بیان کیا جا چکا ہے کہ تاریخی محققین موضوع اور مسئلے کے انتخاب کے وقت موجودہ زمانے سے پیوستہ رہتے ہیں اس تناظر میں تاریخ شفاہی کے ماہریں دو طوح سے تاریخی محققین کی مدد کرتے ہیں۔

1: تاریخ شفاہی کے ماہرین کا موضوع، موجودہ معاشرے کی ضروریات سے ہم آہنگ ہوتا ہے اس فن کے حامل صاحبان نظر اپنی موجودہ صورتحال کے مطابق اسکو سمجھتے ہوۓ یہ کوشش کرتے ہیں کہ تاریخ شفاہی کے ذریعے مورخین کی ضروریات کو بھی پورا کریں

اس لحاظ سے تاریخ شفاہی دونوں جگہوں پر ، معاشرے اور تاریخ نگاری دونوں کی ضروریات کو پورا کرتی ہے اور ایک رابطہ قائم کرتی ہے(14)

اور نہ صرف علم تاریخ سے شغف رکھنے والوں بلکہ سماج شناسی، نفسیات، ثقافت شناسی ، ادبیات ، مذہب، معیشت، اور انسان شناسی کو بھی شامل کرتی ہے کیونکہ اس سے حاصل ہونے والا مواد زیادہ وسیع متحرک علمی اور حقیقت سے قریب تر ہوتا ہے(15)

اس حوالے سے تاریح شفاہی کے ماہرین کی مدد سے جنے گۓ موضوع، مورخین کی مدد کرتے ہیں اور وہ موضوع اور مسائل کے انتخاب میں کم مشکل کا شکار ہوتے ہیں اور اگر جاہتے ہیں کہ علم تاریح سے فایدہ اٹھائیں تو اسکا امکان میسر ہوتا ہے۔

2: دوسرا مورد جو کہ پہلے سے ربط وکھتا ہے مکر زیادہ اہمیت کا حامل ہے یہ ہے کہ تاریخ شفاہی کے ماہرین کا طریقہ کار ایک لیبارٹری کی طرح ہے جہاں ہر مسئلے کا فوری جواب مل جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ انقلاب اسلامی کے مطالعے اور تحقیق مین تاریخ شفاہی نے زیادہ اہمیت حاصل کر لی ہے کیونکہ اس کا مخصوص طریقہ کار حقیقت سےذیادہ قریب ہے

تاریخ نیاری کا را‌ئج طریقہ کار آج کے مورخ کو مکمل شناخت مہیا نہیں کرتا اور مورخین مشکلات کا شکار ہوجاتے ہیں اس حوالے سے تاریخ شفاہی کے ماہرین، موجودہ زمانے میں ہونے کی وجہ سے ہر زاویۓ کو پرکھتے ہیں اس طرح مورخین بھی تاریخ شفاہی کی تکنیکوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، واقعے کو عمیق تر اور بہتر انداز میں پیش کر سکتے ہیں

تاریخ شفاہی جہاں علوم انسانی کے مختلف شعبوں میں اپنا نام پیدا کررہی ہے وہیں احتمالات اور الزامات کے بجائے حقیقت کو عیاں کررہی ہے یہی وجہ ہے کہ اب مختلف علوم میں بھی اس سے فائدہ اٹھایا جارہا ہے۔ یہ کہنا درست ہوگا کہ تاریخ شفاہی سے حاصل ہونے والا مواد ہر معاشرے کی تاریخ کا حصہ ہیں اور یہ طریقہ کار عام فہم انداز میں معاشرے کی مشکلات کے حل کے لۓ راہیں ہموار کررہا ہے

تاریخ شفاہی میں تحقیق اور مطالعہ، ثقافتی مسائل، سیاسی، اقتصادی، اجتماعی، اور اخلاقی مسا‌ئل کو اور ان کے حل کو موجودہ زمانے کے لحاظ سے ذیادہ بہتر طور پر سمجھا جاسکتا ہے، جیسا کہ بیان ہوچکا ہے کہ یہ روایات اور مواد حال اور ماضی کے درمیان پیوستگی کا سبب بنیں گیاور تاریخی تحقیق کے طور پر جانی جائیں گی اور ایسا ہونا خود علم تاریخ کے ارتقاء کے مترادف ہے۔ آخری بات یہ کہ انقلاب کی جاودانہ اور ڈھلنے والی ماہیت کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ فطری ہے کہ تاریخ شفاہی سے حاصل ہونے والا مواد حقیقت سے زیادہ قریب تر اور موثر اور انقلاب کے محققین کے لۓ زیادہ مددگار ثابت ہوگا، تاکہ انقلاب کو مشترکہ فہم فاعلی اور مفعولی دونوں مقام پر رکھ کر مطالعہ کیا جاۓ اور وہ انقلاب جو کہ ہر زمانے میں نئی تفسیر اور آب و تاب کے ساتھ ابھرتا ہے اس پر تحقیق کی جاۓ۔

 

 

 

 



 
صارفین کی تعداد: 1974


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – تینتیسویں قسط

لیفٹیننٹ "کنعان" میرے ساتھ کام کرنے کے دوران جنگ کے جاری رہنے کے حوالے سے اپنی ناراضگی کا اظہار کرتا تھا اور عراقی حکومت پر تنقید کرتا تھا، لیکن فوجی آپریشنز میں وہ سنجیدگی اور اخلاص کے ساتھ کام کرتا تھا

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔