ایک "روشن" کی تاریک موت ۔۔۔

آمنہ شیر افگن
مترجم: سیدہ افشین زہرا

2015-09-07


گھر کا صحن کشادہ ہے اور شھر کے بلند و بالا اور چمکتے اپارٹمنٹس کے درمیان یہ گھر، پرانا ہونے کے باوجود، اہمیت کا حامل اور باعث افتخار ہے۔ اس گھر کی بناوٹ کچھ اس انداز کی ہے کہ اس کے اندر داخل ہوتے ہی سکون ملتا ہے. ایک شخص نیم فارسی لہجے میں آپ کو خوش آمدید کہتا ہے. یہ " لشک" ہے، روشن وزیری کا شوہر، روشن وزیری کا عشق، اس کو پولینڈ سے ایران کھینچ لایا، یہاں تک کہ اس نے اپنی شہریت کو بھی پولینڈ سے تبدیل کروا کر ایران کر لیا، غرضیکہ نہ دوسری جنگ عظیم اور نہ ہی چارلی چیک پوسٹ ان دونوں کو ایک دوسرے سے جدا کرسکے یہاں تک کہ ایک کی سانسوں کی ڈوری ٹوٹ گئی، مگر اس بار ایران میں نہیں بلکہ امریکا کے ایک اسپتال میں۔۔۔۔

ابھی 9 بھی نہیں بجے تھے کہ ڈاک کے درمیان ایک خط عبدالحسین اذرنگ  کا ملتا ہے خط کا متن، روشن وزیری کے انتقال کی خبر پہنچاتا ہے۔"مریم وژ نیاک" نے لکھا ہے کہ ہماری ماں ہماری امیدوں کے برخلاف، اب ہمارے درمیان نہیں رہی، اور اس کے باپ کی حالت بھی کچھ ٹھیک نہیں، لشک کو اب اکیلے ایران آناہے، سالوں روشن کے ساتھ رہنے کے بعد۔۔۔

عورتوں کی تاریخ شفاہی، سال 89

سال 89، یہ انٹرویوز، ایک میگزین ایران دخت میں، عورتوں کی تاریخ شفاہی کے عنوان سے ہیں۔ روشن وزیری، چہرے پر مسکراہٹ سجائے اور شفیق مادرانہ نگاہوں کے ساتھ، سے میزبانی کر رہی ہیں۔ چائے اور ماضی کی یادیں۔۔۔۔ کچھ گھنٹے کی گفتگو اور یادوں کے جائزے کے بعد، روشن وزیری چائے کا کپ میرے سامنے رکھتی ہیں، لشک فون پر بات کر رہا ہے، وہ زیر لب کہتی ہیں: جب ہم نے شادی کی اور ایران آئے تو لشک نے دو سال کےبعد ہی اپنی شہریت بھی تبدیل کرلی اور مکمل طور پر ایرانی بن گیا۔ بچوں کے امریکا جانے کے بعد بھی لشک ہی تھا جس نے مجھے ایران میں رکھا اور خود بھی میرے ساتھ ایران میں رکا۔ روشن دراصل" بی بی خانم استرآبادی" کی پوتی ہیں، جو کہ ایران کی ایک مجاہدہ خاتون و ایران میں لڑکیوں کے پہلے مدرسے کی بنیاد رکھنے والی تھیں۔ بھانجا" بڑے علوی" ہیں اور بھتیجا کلنل علی نقی وزیری مو سیقی کے لسکول کے بانی ہیں۔ جبکہ یہ خود ایک متین خاتون ہیں، سیاست سے دور مگر استبدادیت کی مذمت اور جمہوریت کی تعریف میں بہت کچھ  ترجمہ کر چکی ہیں۔ زندگی کا کوئی کام ان کو کتاب پڑہنے سے زیادہ سکون نہیں پہنچاتا، حتی مریم اور البرز کی دوری کے غم کو بھی اسی  شوق نے ہلکا کیا، کتابوں کے انبار کے درمیان جو کہ پولینڈ زبان سے فارسی میں ترجمہ کئے گئے تھے، جبکہ لاطینی امریکہ کا تیز بخار، بڑے مسائل پر چھوثا سبق، اور تین کاپیاں کو لافسکی کی ایسی کتب ہیں جو کہ ایران کے پڑہنے والوں میں بہت مقبول ہوئیں، مگر اپنے تمام ترجموں میں" روسلان" ان کی سب سے زیادہ پسندیدہ کتاب ہے۔

 

پولینڈ میں تحصیل علم اور لشک کے ساتھ نئی زندگی کی شروعات:

روشن وزیری نے روسی زبان اور انگلش اپنے بچپن میں ہی سیکھ لی تھی اور بعد میں بڑے علوی کی تاکید پر میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے پولینڈ چلی گئیں، اور اپنے والد سے درخواست کی کہ انکا پولینڈ کا دو طرفہ ٹکٹ نہ کروائیں تاکہ اگر وہ وہاں جاکر پشیمان بھی ہوں تو واپسی کا فیصلہ نہ کرسکیں،  جب وہ آبان 1331 میں پولینڈ پہنچیں تو پولینڈ کی سردیوں نے ان کا استقبال کیا اورانہیں وطن سے دور زندگی گذارنے کی مشکلات کا اندازہ ہوا یہ وہ وقت تھا کہ کچھ عرصہ پہلے ہی، دوسری جنگ عظیم ختم ہوئی تھں  اور ٹوٹی ہوئی جگہوں و نقصانات کی مرمت اور تعمیر کا کام جاری تھا۔

آپ پولینڈ میں چار سال رہیں اور وہیں پر" لشک وژنیاک" جو کہ انجینئرنگ کا طالب علم تھا، ملاقات ہوئی اور پھر وہیں پولینڈ میں شادی کرلی اس کے بعد اعلی تعلیم حاصل کرنے مغربی برلن میں سکونت اختیار کر لی، اس زمانے میں وہ ہفتے میں ایک بار اپنے ماموں سے ملنے مشرقی برلن جایا کرتی تھیں۔ مغربی برلن سے مشرقی برلن جانے کیلئے "چارلی چیک پوسٹ" سے گذرنا پڑتا تھا اسی دوران جب ایک دفعہ لشک مشرقی برلن جانے لگا تو اسکو چیک پوسٹ پر روک لیا گیا کیونکہ وہ پولینڈ کا تھا لہذا کمیونسٹ کے ملک سے باہر جانے کی اجازت نہ تھی، مختصرا یہ کہ جب دیوار برلن 1961میں بنی تو یہ دونوں برلن میں ہی مقیم تھے۔

 

دو خالی سوٹ کیسوں کے ساتھ، ایران کا سفر

اسکے بعد ایران روانہ ہوئے اور 1341ش فروردین میں، دو سوٹ کیسوں کے ہمراہ تہران پہنچے، لشک شکر کی  فیکٹری میں ملازمت کی خاطر بیرجند روانہ ہوئے اور وہ خود تہران میں ہی رک گئیں جس کے تھوڑے عرصے کے بعد ہی دونوں کو ایک تیل کی فیکٹری میں نوکری مل گئی، جنگ کے زمانے میں روشن وزیری کی ڈیوٹی ہفتے میں دو دن، تہران کی ریفائنری کے کلینک میں ہوتی اور وہ اپنی ریٹائرمنٹ سے پہلے اس پیٹرو کیمیکل کلینک کی صدر تھیں۔

ان تمام مصروفیات کے باوجود بھی اگر کچھ دھائی قبل بھی دیکھا جائے تو وہ سب سے زیادہ ترجموں میں ہی مصروف نظر آتی تھیں، مگر چند ماہ قبل روشن کے علاج کی امید ان کو امریکہ لے گئی، لشک فون سنتے وقت پریشان تھا اور روشن کی حالت کی وجہ سے افسردگی سے بات کر رہا تھا۔ جبکہ اب اسکی بیٹی نے خط میں واضح لکھا تھا کہ اس کے والدہ کی طبیعت ٹھیک نہیں۔ لشک رسومات کی ادائیگی اور کچھ ضروری امور کی انجام دہی کے لئے ایران آرہا ہے وہ ایران جو اس کے لئے روشن کے بغیر تاریک ہے۔۔۔۔

                                                                                                                                      

          اخبار مشرق، شمارہ 2199، بدھ 10 دی ماہ 1393 ص20


حوالہ: سائٹ تاریخ شفاہی ایران


 
صارفین کی تعداد: 1971


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – تینتیسویں قسط

لیفٹیننٹ "کنعان" میرے ساتھ کام کرنے کے دوران جنگ کے جاری رہنے کے حوالے سے اپنی ناراضگی کا اظہار کرتا تھا اور عراقی حکومت پر تنقید کرتا تھا، لیکن فوجی آپریشنز میں وہ سنجیدگی اور اخلاص کے ساتھ کام کرتا تھا

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔