حجت الاسلام غلام حسین جمی

آبادان کے عوام کیلئے استقامت و پایداری کی علامت

مترجم: سیدہ افشین زہرا

2015-09-06


تاریخی دستاویزات کے تحقیقی مرکز نے اپنی پچاسویں کتاب، " یاران امام ،ساواک کی نظر میں" کو حجت الاسلام غلام حسین جمی ، کے نام سے شایع کیا ہے۔

یہ کتاب 312 صفحات پر مشتمل ہے اور انقلاب اسلامی کی تحریک میں امام کے، عظیم دوست کی سرگرمیوں کو بیان کرتی ہے، حجت الاسلام غلام حسین جمی، 1304 ہجری میں، اہرم کے ایک مذہبی گھرانے میں، جو کہ تنگستان کا مرکز، اور بو شھر کے اطراف میں واقع ہے، پیدا ہوئے۔ آبادان کا مناسب ماحول باعث بنا کہ وہ سال 1327 میں آبادان ہجرت کر گئے، اور وہیں رہنے لگے۔ آبادان میں وہ آیت اللہ شیخ عبد الرسول قائمی کے پاس، مدرسہ علمیہ میں تعلیم حاصل کرنے لگے اور 30 کی دھائی کے آخر میں مزید علم دین حاصل کرنے نجف اشرف تشریف لے گئے۔ زمانہ طالب علمی اور نجف میں رہائش کے دوران کافی مشکلات سے دوچار ہونے کے بعد، علم دین میں گہری دلچسپی رکھنے کے باوجود وہ مجبورا، 1332 میں دوبارہ اپنے وطن واپس لوٹ آئے۔

حجت الاسلام جمی کے اسلامی قوانین کے اجرا اور حکومت اسلامی کی تشکیل کیلئے ان کی جدوجہد، باعث بنی کہ وہ امام خمینی کی اس تحریک کے آغاز میں ہی اسکا حضہ بن گئے، اور پہلوی نظام کے مخالف نبرد آزما رہے۔ حجت الاسلام جمی کی شروع میں امام خمینی سے کوئ خاص واقفیت نہ تھی، بلکہ وہ اپنے قم کے دوستوں اور امام کے اعلانوں اور تقاریر کو سن کر ان کے گرویدہ ہوگئے تھے، اور امام اور راہ انقلاب کے دوستوں میں شامل ہوگئے ۔

قیام 15 خرداد 1342 آبادان میں حجت الاسلام جمی کا کردار

22 بھمن 1357 سے پہلے، بے شک ایران کی تاریخ کا سب سے بڑا واقعہ 15 خر داد کا خونی قیام ہے، حجت الاسلام جمی نے، قیام خرداد سے متعلق خبروں کو نشر کرکے اور حکومتی فورسز کے ہاتھوں لوگوں کے قتل عام کو آبادان کے لوگوں تک پہنچا دیا۔ انہوں نے مجلسوں اور منبروں کے ذریعے آبادان میں فعالیت دکھائی اور پہلوی حکومت کے کرتوتوں پر سے پردہ اٹھانے کے ساتھ ساتھ، امام خمینی کی تحریک کو بھی متعارف کروایا، امام کی جلاوطنی کے بعد 13آ بان 1343پہلوی اور اسکی فورسز کے خلاف سارے ملک میں مظاہروں میں شدت آنے لگی اور علماء، امام خمینی کی حمایت میں کھڑے ہوگئے، حجت السلام جمی نے بھی 15 آبان کو، آبادان کی مسجد میں جبکہ حکومتی فورسز کی طرف سے سخت پابندی تھی امام خمینی کی جلا وطنی کو بیان کیا۔

50 کی دھائی میں ان کی سرگرمیاں اور تیز ہوگئیں اور وہ آبادان کے سرگرم کارکن کے طور پر پہچانے جانے لگے، علما کو دعوت دینا اور آبادان میں ان کی تقاریر کے انتظامات کروانا، آیت اللہ جمی کے اقدامات میں سے ایک ہے اور وہ مفکرین جو ان جلسوں میں بلائے جاتے تھے ان میں آغا ڈاکٹر محمد مفتح ،استاد مرتضی مطھری و دیگر شامل ہیں۔

50 کی دھائی میں حکومت کی سختی کے باوجود، آیت اللہ جمی کی سرگرمیاں زور و شور سے جاری رہیں کئی بار ساواک کی طرف سے انکے اور انکے اہلخانہ کیلئے، مشکلیں پیدا کی گئیں، یہ دباؤ صرف انکے حوصلے پست کرنے کے لئے ڈالا جا رہا تھا۔ ان کے بیٹے کی سال 1351 میں گرفتاری حکو متی فورسز کی طرف سے دھمکی دینے کیلئے کی گئی تھی۔

آیت اللہ حاج سید مصطفی خمینی کی شھادت

امام خمینی کے بڑے صاحبزادے کی شہادت سے، فسادات کی ایک لہر نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، حجت الاسلام جمی نے دوسرے علما کے ساتھ مل کر امام خمینی کو تعزیت پیش کرنے کے علاوہ شھید کیلئے ایک مجلس کا انعقاد کیا کہ جس پر وہ فورشز کی تنقید کا نشانہ بھی بنے، ان حالات میں کہ جب پہلوی حکومت کے کارندے ان کے پیچھے پڑے ہوئے تھے اور موقع کی تلاش میں تھے وہ انقلاب کے رہبر اور عوام کے ساتھ کھڑ ے ہو گئے اور سب خطرات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔

اس دوران کی گئی کوششوں میں سے حجت الاسلام آیت اللہ جمی کی یہ کوشش ملک کے مختلف شھدا کی یاد میں یادگاری تقاریب منعقد کرنا ہے۔ آبادان کے ریکس سینما میں آتش زدگی کے ہولناک واقعے کے بعد کہ جسمیں تقریبا 400 افراد جل کر ہلاک ہوئے آبادان کے لوگ سالوں قبل، آیت اللہ عبد الرسول قائمی، حجت الاسلام جمی اور دیگر علما کے توسط سے، پہلوی فورسز کے مختلف جرائم سے آشنا ہوچکے تھے جو اب ایک نئے ولولے کے ساتھ پہلوی حکومت کو گرانے کے لئے منظم ہوگئے۔

گرفتاری اور جیل

ساواک کی دستاویزات کے مطابق حجت الاسلام جمی کئی بار گرفتاری اور تشدد کا نشانہ بنے، آیت اللہ جمی کی سرگرمیوں اور تیل کی صنعت کے کارکنوں کی ہڑتال میں ان کے کردار کے باعث، پہلوی حکومت انکے اس اثر رسوخ کی وجہ سے ان سے وحشت زدہ رہی اور انکو نقصان نہ پہنچاسکی۔ انکی تقاریر کو روکا، مگر جب اسکا کوئی فائدہ نظر نہ آیا تو  26 /8/1357کو انکو گرفتار کر لیا، اور تفتیش کے دوران بہت تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

آیت اللہ جمی کی گرفتاری پر لوگوں نے مظاہرے شروع کردئیے اور ہڑتال کرکے اور بازاروں کو بند کرواکے حکومت کو مجبور کیا گیا کہ وہ آیت اللہ کو رہا کریں، لہذا دو ہفتے کے بعد آیت اللہ جمی رہا ہوگئے، اور ایک بڑے مظاہرے کی قیادت کی۔ آپ انقلاب اسلامی کے عمل کو تیز کرنے کیلئے تہران تشریف لائے۔ آپ ان علما میں سے تھے جنہوں نے تہران یونیورسٹی کی مسجد میں دھرنا دیا جس کی تفصیل کچھ اس طرح سے ہے کہ بھمن کے مہینے سال 1357میں، ملک کے برجستہ علما میں سے، 17 افراد کہ جن میں رہبر عظم انقلاب، آیت اللہ فاضل لنکرانی، استاد مرتضی مطھری، آیت اللہ بہشتی و دیگران شامل تھے، امام کو وطن واپس آنے سے روکنے کے خلاف دھرنا دے کر بیٹھے اور 12 بہمن تک طالب علموں کی ایک بڑی تعداد کے ساتھ، یونیورسٹی میں ہی رہے اور وہیں سے مہر آباد ایئر پورٹ امام کے استقبال کیلئے روانہ ہوئے۔

انقلاب اسلامی کی فتح کے بعد، شھر آبادان کو تعمیر و ترقی کیلئے کچھ بنیادی تبدیلیوں سے گذرنا تھا یہ کام علاقے کے علما اور انقلابیوں کے ذمے آیا۔ لہذا حجت الاسلام جمی نے اسی زمانے میں جمہوری اسلامی گروہ کو تشکیل دیا اور خود اس کے سربراہ کے طور پر کام کرنے لگے، آبادان کے انقلاب، کارکنوں کے گروہ اور جماعت کو تشکیل دینے کا سہرا بھی آیت اللہ جمی کے سر جاتا ہے جو کہ انہوں نے انلقلاب اسلامی کےآغاز کے مہینوں میں ہی آبادان میں تشکیل دیا۔

حجت الاسلام جمی کے شاندار سیاسی کیرئیر اور سرگرمیوں کو جاننے کے لئے ضروری ہے کہ مسلط کردہ جنگ کے بارے میں لوگوں کا عقیدہ یہ ہے کہ خرم شھر کی فتح کے بعد آبادان کو محفوظ رکھنے میں آیت اللہ جمی کی مزاحمت قابل ذکر ہے وہ دشمن کے بھاری حملے کے باوجود بھی ، آبادان شھر میں ہی موجود رہے اور دشمن کا مقابلہ کیا۔ آپ کا شدید ترین جنگ کے باوجود، نماز جمعہ کروانا لوگوں کو متاثر کرگیا۔ آیت اللہ جمی 1361میں، خوزستان کے لوگوں کی نمائندگی کے لئے مجلس خبرگان کا حصہ بھی بنے۔ یہ مجاہد عالم آخر کار، چند دھائیوں تک اسلام اور انقلاب کی خدمت کرنے اور سختیوں اور مشکلات کو برداشت کرنے کے بعد، 10 دی ماہ 1387میں 83سال کی عمر میں انتقال کر گئے آپ کا جسد خاکی آپکی وصیت کے مطابق وادی سلام نجف میں سپرد خاک کیا گیا۔

 

ماخذ: روزنامہ جام جم، 4151 بدھ، 10 دی ماہ 1393 ص



 
صارفین کی تعداد: 2138


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – تینتیسویں قسط

لیفٹیننٹ "کنعان" میرے ساتھ کام کرنے کے دوران جنگ کے جاری رہنے کے حوالے سے اپنی ناراضگی کا اظہار کرتا تھا اور عراقی حکومت پر تنقید کرتا تھا، لیکن فوجی آپریشنز میں وہ سنجیدگی اور اخلاص کے ساتھ کام کرتا تھا

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔