شاہ کی علی امینی کے ساتھ تاریخی بات چیت کی دوسری آڈیو ریکارڈنگ

مترجم: سیدہ افشین زہرا

2015-09-06


شاہ کی منصوبہ بندی (چالوں ) کی تفصیلات کا برملا ہونا۔  امینی، انقلاب اسلامی کی تحریک کو شکست سے دوچار کرنے کیلۓ ایران میں۔ اس تاریخی گفتگو میں قارئین، علی امینی کی شاہ کے ساتھ ٹیلی فونی مشاورت کی تفصیلات سن سکتے ہیں۔

اس بات چیت کی اہمیت، جو کہ علی امینی کے گھر سے 14 آبان 1357کو ملی ہے، انقلاب اسلامی ایران کے تناظر میں، عوام کی نقل و حرکت کو کنٹرول کرنے کے بارے میں، شاہ اور امینی کے خیالات کے انکشاف پر مبنی ہے۔ اس گفتگو میں، شاہ کی یہ کوشش ہے کہ، ا‍‍‌‎‌زھاری کی فوجی حکومت کو با اختیار بنا کر، اسے ایران میں جمھوری نظام قا‎‎ئم کرنے کیلۓ متعارف کرواۓ، اس گفتگو کا متن کافی حد تک اس مقصد کو واضح کرتا ہے۔

 

شاہ کا امینی سے دوسری گفتگو کا متن مندرجہ ذیل ہے۔

ٹیلی فونی گفتگو کی تاریخ: اتوار 14 آبان 1357

مکان : نیاوران محل سے تہران، علی امینی کے گھر۔

 

امینی: ہیلو، تعظیم پیش کرتا ہوں۔

شاہ: گڈ مارننگ (روز بخیر)۔

امینی: آ پ پر قربان جا‎‌ؤں آپکا سایہ ہمارے سروں پر سلامت رہے

شاہ: چاہتا تھا کہ آپکو اطلاع دوں کہ، ہم بالاخر کل کے ان واقعات کے بعد اور وہ اعلان جو ان حضرات نے ملک سے باہر کیا او ایک مخلوط حکومت سے مایوسی، کہ شاید خواہ مخواہ ہم نے خود ہی ان سے امیدیں وابستہ کرلیں تھیں اور حکومت کے استعفے کے بعد مجبور ہوگۓ ہیں کہ نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لۓ، یہ اقدامات کریں اور عبوری حکومت تشکیل دیں۔

امینی: جی بالکل، البتہ مجھے فرصت نہیں ملی کہ عالی جناب کے بیانات کو سن سکوں، دو بجے ظھر کے بعد سنوں گا۔

شاہ: میں نے سنے ہیں برے نہیں ہیں۔

امینی: نہیں۔ اچھے تھے(دوسروں سے سنا ہے) کہ بہت اچھے تھے

شاہ: سنا ہے؟

امینی: جی، اس ضمن میں تاجر انجینئر سے بات کی تو جناب عالی، یہ معلوم ہوا کہ آغا سنجابی کے اعلان کا کچھ حصہ، درست نہیں تھا، یعنی دو افراد سے ملاقات نہیں کی ہے اور یہ ایک لحاظ سے اسکا صرف تشہیری (پروپیگنڈا ) پہلو ہے۔

شاہ: اوہ۔۔ ویسے تو اسکا کو‎ئی فائدہ بھی نہیں ہے؟

امینی: جی بالکل، اسکا کوئی فائدہ تو نہیں مگر بہرحال، اس طرح بھی نہیں ہے کہ انہوں نے بتایا ہو کہ ہاں جی راضی ہو گۓ ہیں۔

شاہ: پھر وہ تین آرٹیکل کیا ہیں؟

امینی: نہیں، انکا زیادہ تر حصہ ناکارہ ہے،جیسا کہ میں نے پہلے بھی عرض کیا، کل رات کے انٹرویو میں سنجابی بھی بی بی سی ریڈیو (فارسی) پر بہت چیخ چلا رہا تھا۔

شاہ: اس سنجابی نے یہ بھی کہا کہ وہ حکومت کے ساتھ کوئی تعاون نہیں کرےگا،

امینی: جی مگر یہ سب کچھ اتنا متضاد تھا کہ سننے والوں پر برا تاثر چھوڑ گیا ہو۔

شاہ: اوہ۔ آخر پھر ان سب کا کیا فائدہ؟

امینی: ہاں بالکل، فالتو، صرف تشہیر

شاہ: مگر ہر صورت میں، اسی طرح کی ایک عبوری حکومت صرف اس لۓ کہ ہم نظم و ضبط برقرار نہ کرسکے آئیگی، کیا ایسی کوئی حکومت آئی تھی کہ حکم دے کہ جو بھی ہلے اسکو پکڑ لو، مارو؟ اور کیا اسکے بغیر کوئی چارہ ہے؟ یہ جان لو کہ ایسا ہی ہوگا۔

امینی: جی جی افسوس ہے کہ بالکل ایسا ہی ہے

شاہ: مثلا جنوب کے تیل کے بارے میں جو بات ہے، ٹھیک ہے اگر یہ بند ہوگیا، تو مھینے کے آخر میں ہم لوگوں کی تنخواہیں کہاں سے دیں گے؟

امینی: چلیں اب میں آپ کے چھ بیانوں کو سنتا ہوں، میرے حساب سے وہ بہت موقع اور مناسبت سے تھے۔

شاہ: جی ہاں میں نے بھی سنا ہے کہ بہترین نتیجہ آیا جنہوں نے سنا ہے بتا رہے تھے

امینی: بالکل موثر ہے

شاہ: ہر لحاظ سے ہم نے(لوگوں سے تقریر کے وقت) ماضی کےبارے میں بھی گفتگو کی، غلطی، فتنہ و فساد و ظلم، ہر چیز۔۔۔۔۔

امینی: بالکل یہ سب بہت اثر رکھتا ہے جناب عالی۔

شاہ: ہم نے کہا تھا کہ اب دھرایا نہیں جائیگا اور یہ حکومت( فوجی ) بھی، صرف عبوری ہے صرف نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لۓ۔

امینی: جی بالکل ان امور کی مسلسل نگرانی کرنی چاہۓ، اور ان حضرات کو ایک ساتھ جمع کرنا چاہۓ

شاہ: کیا؟

امینی: یہ حضرات جو ہیں ان کو ایک ساتھ جمع کرنا چاہۓ، آج صبح آغا طالقانی نے بھی ایک اعلان کیا ہے۔ اور پر سکون رہنے کی تاکید کی ہے وہ بندہ خدا کہتے تھے کہ انھوں نے سوچا ہے مگر سمجھا نہیں ہے

شاہ: اب تم سے چاہتا ہوں کہ جتنا اثر و رسوخ رکھتے ہو، مولویوں اور ان لوگوں کو کہو کہ آقا آپ لوگ خاموش بیٹھیں۔

امینی: جی بالکل یہ بندہ اسی منصوبے پر آپ کی اجازت سے عمل کر رہا ہے۔ اور صبح بھی کہا ہے کہ ایک ایک کو دیکھیں ان کو جمع کریں کہ واقعا یہ دیکھیں کہ ان  کی رضائیت کس کے ساتھ ہے۔

شاہ : ہاں مگر وہ بعد کیلئے ہے۔


امینی: جی ، بالکل اب تو کسی بھی طرح  سے ان کو مطمئن کریں ۔
شاہ: اب یہ لوگ،اس مملکت میں نظم و ضبط اور سکون کے مکمل اجراء تک بس خاموش ہی رہیں تو اچھا ہے تاکہ مکمل طور پر حکومت، قانون اس مملکت میں برقرار ہو اور بعد میں جب دہشتگردی کے افکار شروع ہوں تو یہ جڑ سے ہی ختم ہو جائیں، یعنی آپ کیسے جمہوریت قائم کرسکتے ہیں اگر یہ ایک طرفہ ہو کہ ایسا تو ہو ہی نہیں سکتا ۔
امینی: میں نے ان سے کہا بھی ،یہ کام ناگزیر تھا، میں نے پیش بینی بھی کی مگر بد قسمتی سے آپ نے یہ کام نہیں کیا۔
شاہ: مگر اس طرح سے نہیں ہوا کہ فوجی حکومت تلاش کریں اور وہ بھی یہی فوجی حکومت ہو ۔ اس وجہ سے کہ یہ ایک عبوری حکومت ہے صرف کام کی ابتداء اور آغاز میں اور بعد میں تو اس کا کوئی نام بھی نہ ہوگا اور بعد میں تو یہ بس فتنہ و فساد سے لڑیں گے اور بس۔۔۔
امینی: جی جناب عالی، اس کام کوضرور کریں کہ یہ بہت تاثیر رکھتا ہے۔
شاہ: یعنی یہ کہنا چاہتے ہوکہ وہ اس کام کو کریں گے اور وہ نظم و ضبط کی برقراری کیلئے اسکے علاوہ کوئی منصوبہ نہیں رکھتے، کل ( آئندہ) اگر میٹنگ میں جائے اور حاضرین کو اکٹھا نہ کرسکے تو اسکا مطلب ہے کہ وہ لوگ چاہتے ہیں کہ وہ اکٹھا کریں۔ مگر شاید ایسا بھی ہوکہ ہم یہ ارادہ کرلیں کہ انہیں جمع ہی نہ کریں اس منصوبے کے بارے میں جو اسمبلی دیتی ہے، یہ لوگ کہتے ہیں وہ منصوبہ انکے پاس نہیں ہے سوائے اسکے کہ نظم وضبط برقرار ہو، فتنہ و فساد سے لڑنے کیلئے اور کیونکہ ہمارے پاس وقت نہیں ہے تو یہ سب منصوبہ بندی لمبی مدت یا طویل مدت رکھنے والی حکومت ہی کرے گی۔
امینی: نہیں اقتصادی منصوبہ بندی تو ابھی کرہی نہیں سکتے، مگر ان کے ساتھ اور ان کے قریب رہ کر ہی بعد کیلئے منصوبہ بندی کی جاسکتی ہے۔
شاہ: جی آپ جتناکرسکتے ہیں یہ کریں کہ عوام کو دعوت کریں اور ان کو تلقین کریں کہ وہ پرسکون رہیں اور سب اچھا ہوگا یہ سوچیں۔
امینی: جی میں اس ضمن میں کوشش کررہا ہوں اور آج سے اور زیادہ کوششیں کروں گا۔
شاہ: بس پر سکون رہنا اور سب اچھا سوچنا اورکہنا کہ اس راستے پر چل کر کہیں پر نہیں پہنچ پاؤ گے یہ کس طرف جارہے ہو؟
امینی: بالکل یہ مؤثر ہے اور اس پر عمل بھی ضرور ہونا چاہیے۔
شاہ: چاہتے ہوکہ مرزاکو چک خان کو دشت شہر میں کھڑا کروں اور کیا چاہتے ہوکہ مملکت ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے یا کُردی یہ بات کریں۔ اچھا ہے کہ وہ آپ لوگوں کوکسی مقام پر نہیں پہنچاسکتے ہیں اور اب ایساکریں کہ اس دفعہ خاموش رہیں اور پرسکون رہیں، دیکھیں اب کیا ہوتا ہے کہ بعد میں مجبور ہو کر بالآخر اسی سیاست یعنی اصلی اور حقیقی لیبراسیم یعنی جمہوریت کو آگے بڑھاؤں۔ بالکل انہی دلائل پر جن دلائل پر آپ لوگ آگے بڑھا رہے ہیں۔
امینی: جی جی یہی کیا میں نے، مانیں اور مطمئن رہیں، ایسا ہی ہوگامگر کچھ مدت مہلت دیں۔
شاہ: ایک یہ کہ وہ صرف ایک آزاد ماحول ہونا چاہیے سب کیلئے نہ صرف کوئی یک طرفہ ۔ اگر یک طرفہ ہوگی تواسکا مطلب ہے دہشت گردانہ سوچوں کا جنم لینا اور دہشت گردانہ افکار اور سوچ کہ قبلا اسطرف تھی توبری تھی اب اگر اس طرف ہو تواچھاہے پھر اب آپ سے مجھے یہی توقع ہے کہ اس سلسلے میں جوکچھ کرسکتے ہیں کریں۔
امینی: صبح سے اب تک میری کوشش اسی جہت میں تھی یہ بات چیت بہت موقع پر انجام پائی ہے اور بہترین ہے۔
شاہ: پھر 2بجے بھی سنئے گا۔
امینی: جی جی ، ضرور آپ کا سایہ ہمارے سروں پر سلامت رہے

 

 

شاہ کی علی امینی کے ساتھ تاریخی بات چیت کی ریکارڈنگ فارسی میں ہے، اس ریکارڈنگ کو سننے کے لئے نیچے موجود لنک پر کلک کریں۔



 
صارفین کی تعداد: 1895


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – تینتیسویں قسط

لیفٹیننٹ "کنعان" میرے ساتھ کام کرنے کے دوران جنگ کے جاری رہنے کے حوالے سے اپنی ناراضگی کا اظہار کرتا تھا اور عراقی حکومت پر تنقید کرتا تھا، لیکن فوجی آپریشنز میں وہ سنجیدگی اور اخلاص کے ساتھ کام کرتا تھا

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔