آیت اللہ یحیی انصاری شیرازی

حمید قزوینی

2015-08-29


علماء اور مراجع کرام کا انٹرویو اور انکے زندگی کے حالات و واقعات کے بارے میں لکھنا، معاشروں کے دیگر طبقوں کی نسبت کچھ خاص شرائط کا حامل ہے۔ بہت سے علمائے دین اپنی زندگی کے واقعات کی قلمبندی اور انٹرویو سے مختلف دلائل کی بنیاد پر اجتناب کرتے ہیں، ان میں سب سے اہم سبب اپنے نام کی شھرت و ان مطالب کا بیان نا کرنا ہے کہ جن میں غیبت کا احتمال پایا جاتا ہو اور اسی طرح علمی و دینی مصروفیات انکو ان کاموں کی فرصت بھی نہیں فراہم کرتیں، اگر اس بات پر راضی ہو بھی جائیں تو زیادہ جزئیات میں نہیں جاتے۔ اسی بنا پر تاریخ نگاری معاصر میں انٹرویو وغیرہ کے لئے کم ہی افراد اس گروہ اور مراجع تقلید کا رخ کرتے ہیں۔

مجھ کو ایک خاص دلیل کی بنا پر چند سالوں سے یہ توفیق حاصل ہے کہ ان افراد کے ساتھ کام کروں اور اس کام میں ایک اہم حصہ مراجعین اور علماء کے انٹرویوز سے مختص ہے، اس توفیق کی بنا پر متعدد بار علماء کے حضور حاضر اور، تبعا بہت سے تجربات اس میدان میں حاصل ہوئے کہ امید رکھتا ہوں مختلف مواقع کی مناسبت سے انکو بیان کرسکوں گا۔ یہاں ان میں سے ایک محفل کی جانب مختصر اشارہ کرونگا۔

سال ۲۰۱۰ کے ایک دن فرصت ملی کہ چند افراد کے ساتھ مرحوم آیت اللہ حاج شیخ یحیی انصاری شیرازی کی خدمت میں مشرف ہوا اور ان سے انکی جوانی کے چند واقعات بیان کی کرنے کی گزارش کی۔

جانتا تھا کہ بزرگی کی بنا پر ضعف و بیماری کے اثر انداز ہونے کی وجہ سے ہمیں اپنے سارے سوالوں کے جوابات کا انتظار نہیں کرنا چا ہئے اور  نا ہی ہماری حاضری پر گرم جوشی کے اظھار کا۔ بس وہی چند لمحے ہمارے لئے غنیمت تھے۔

پروگرام کے مطابق ہماری منزل قم کے قدیمی محلات میں موجود ایک پتلی سے گلی کے آخر میں واقع ان کا چھوٹا سا گھر تھا۔  گھر میں داخل ہوئے، ایک زیر زمین میں موجود سادہ سے کمرے میں چلے گئے۔ بزرگوار روحانی لباس پہنے دروازے پر کھڑے ہو کر ہمارا انتظار کر رہے تھے۔

آخری چند دہائیوں میں فلسفہ اور عرفان کے ممتاز ترین استاد، کہ جو "شیخ اشراق" اور "قدوۃ المتالہین" سے شہرت رکھتے تھے اور مجاہد فقہا میں سے تھے، اس حال میں کہ انکا کھڑا رہنا انکے لئے مشکل لگ رہا تھا بہت تواضع کے ساتھ ایک ایک کو خوش آمدید کہا پھر کمرے کے کنارے موجود تخت کے کنارے پر تشریف فرما ہوگئے۔ ہم نے بہت کہا کہ ٹیک لگا کر بیٹھ جائیں، مگر نہیں مانے۔

یہ استاد کی سادہ زیستی اور فروتنی تھی جو بزرگی اور ضعیفی کے باوجود ہماری میزبانی کو قبول کیا، اور اس سادگی نے ہمیں اپنی پرخلوص محبت کے حصار میں لے لیا۔

اپنے کام کے بارے میں کچھ وضاحتوں کے بعد جو کہ ہم انجام دیتے آئے تھے گذارش کی کے ہمیں اپنے کچھ واقعات سے آگاہ کریں۔ آیت اللہ نے نھایت خلوص کے ساتھ کچھ مطالب ارشاد فرمائے اور جہاں سوال پیش آیا بہت غور سے سن کر حد ممکن جواب دیا۔ دوران گفتگو حوزہ علمیہ کے بزرگان کو نہایت ادب و احترام کے ساتھ یاد کیا کرتے تھے۔ سنا تھا کہ وہ ان ۱۲ افراد میں سے تھے کہ جنہوں نے پہلی بار امام خمینی کی مرجعیت کا مسئلہ چھیڑا تھا اور اپنے استاد کی نسبت بہت ہی ارادت کے قائل تھے۔ بعض واقعات میں آیا ہے کہ جب ساواک نے انکو قم میں منبر پر جانے سے منع کیا تو بلند علمی مقام کے باوجود محرم یا رمضان المبارک کے ایام میں دور دراز کے مختلف گاوں دیہاتوں میں جاکر تبلیغ دین کرتے اور امام خمینی و دینی اور آزادی خواہ تحریک کا دفاع کرتے اور جب لوگ کچھ رقم جمع کرکے انکی خدمت میں پیش کرتے تو اسکو واپس لوٹادیتے اور اسی گاوں کے اجتماعی امور میں صرف کرتے۔

آیت اللہ انصاری شیرازی امام خمینی کے نام کی ترویج اور انکا دفاع اپنا شرعی اور انسانی وظیفہ سمجھتے تھے اور اس مقام پر کسی طرح کی کوشش سے دریغ نہ کرتے۔

اسی محفل میں جب امام خمینی کا نام آتاتو انکو یاد کرکے اشک بار ہوجاتے تھے اور انکے لئےگفتگو کرنا مشکل ہوجاتا تھا۔ وہ واقعات کو بیان کرتے وقت کئی مرتبہ اشک بار ہوئے اور یہ وہ لمحے تھے کہ جب انہوں نے امام موسی صدر کی امتیازی خصوصیات ہم سے بیان کیں۔ استاد محترم کے اشک انکے بزرگان اور گذشتگان سے عشق اور خالصانہ وابستگی کا ثبوت تھے اور ہم جو کہ مزید واقعات سننے کے خواہاں تھے استاد کی بیماری اور ضعیفی کے سبب، بہت جلد ہی اس محفل کے کو ختم کرنے پر مجبور ہوگئے تاکہ استاد مزید مشقت کا شکار نا ہوں۔

خداحافظی کے وقت استاد پھر بہت زیادہ زحمت و مشقت کے ساتھ اپنی جگہ سے کھڑے ہوئے اور ان کا تواضع و مہربانی ہمارے لئے انکے واقعات سے زیادہ میٹھے اور یادگار تھیں۔

اب آیت اللہ حاج شیخ یحیی انصاری شیرازی اس دار فانی سے رخصت ہوچکے ہیں۔ چاہتا ہوں کہ خلوص و ادب کے ساتھ انکو یاد کروں اور انکی تکریم و تجلیل کروں۔ وہ باقی افراد کی طرح ہماری درخواست کو رد کرنے کے کئی بہانے رکھتے تھے لیکن انہوں نے نا صرف یہ کہ ہماری درخواست کو رد نہیں کیا بلکہ ہماری امید سے زیادہ ہمارے ساتھ تعاون کرکے واقعات کے لکھنے اور اس فن کو بڑی حد تک توجہ کا مرکز قرار دیا۔ خداوند انہیں اپنی وسیع رحمت میں جگہ عنایت کرے۔



 
صارفین کی تعداد: 1572


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – سترہویں قسط

فوجی ڈاکٹرز امدادی مرکز سے باری باری بیسویں بریگیڈ کے "پ"بیس جارہے تھے تاکہ طبی امداد میں ان کا بھی کچھ حصہ ہو۔ وه رضاکارانہ طور پر نہیں جا رہے تھے۔

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔