سال کا آخری بدھ

غلامرضا آذری خاکستر

2015-08-29


سال کا آخری بدھ، پرانی یادوں کے احساس کو تازہ کرتا ہے، جسکا بڑا حصہ ماضی کی میراث ہے۔ وہ وراثت، جو صدیوں سے، ہمارے اجداد اور بزرگوں کے وسیلے سے ، زبان  در زبان اور سینہ با سینہ محفوظ رہی، اور جس نے مختلف اقوام یا گروھوں کے ثقافتی عقیدے کے بعض حصوں کو جنم دیا۔

میں جب بھی ماضی کو یاد کرتا ھوں ھمیشہ سال کے آخری بدھ کو، ایک پاک اور مقدس دن کے طور پر اپنے ذہن میں نقش پاتا ھوں۔ آئین اور ثقافتی عقیدے کو بیان کرنا، کسی بھی قوم یا خاص گروہ کی بصیرت کی علامت ھوتے ہیں، کسی بھی قوم کے مختلف پہلووں کا جائزہ لینے اور ان کو  محفوظ کرنے میں، مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔

وہ کچھ جو میرے ذھن میں سال کے آخری بدھ کے حوالے سے باقی ہے، وہ  سوری بدھ(چھار شنبہ سوری) کی آتش بازی اور پٹاخوں سے بالکل مختلف ہے، کہ آجکل جسکے نتیجے میں ھونے والے خوفناک نتائج سے ھم سب واقف ھیں۔

یہ دن، طھارت سادگی، طلب مغفرت اور قرآن سے لو لگانے کی علامت تھا۔  شمالی علاقہ جات ھزار مسجد میں رھنے والے باشندوں کے ثقافتی ؑعقیدے  میں اس دن کی ایک خاص اھمیت اور حیثیت تھی۔

شاید وہ لوگ اس سے پہلے آتش بازی کے لئے جایا کرتے تھے، کیونکہ  چھوٹے چلے کے ختم ھونے کے ساتھ ہی، چونکہ سردیوں کے دن ختم ہوجایا کرتے تھے اس لئے آگ جلایا کرتے تھے اور اس کے اوپر سے پھلانگ کر جشن اور خوشی  مناتے تھے(کہ معمولا ۲۸ کی رات سے ۳۰بہمن تک آتش بازی کے لئے مخصوص تھا)۔ ان دنوں کی تلخ اور شیریں یادیں، ایک مستند کتاب کی طرح  آج بھی میری آنکھوں کے سامنے ہیں جو کہ میری عمر کے ھر گذرتے لمحے کے ساتھ، پھیکی پڑتی جارھی ھیں اور اس کتاب کے بہت سے الفاظ محو ھوکر،فراموشی کے ھالے میں گم ھو گئے ہیں۔ ان دنوں میں معمولا پرانے لباس پہن کر، توپ اور گولیاں ٹھیک کیا کرتے تھے ۔ اور گولیاں تیل میں ڈوب کر جیسے ہی آگ پکڑتیں آسمان کی طرف اچھال دیا  کرتے تھے کہ ایک لمحے میں ھزاروں آگ کے گولے شمالی ساحل ھزار مسجد کے تاریک آسمان پر نمایاں ھوجاتے تھے۔

ایک دلچسپ اور دیدنی منظر گاوں کی اس تاریک رات میں ابھر جاتا، جو کہ  کبھی دل کو دہلانے والا اور کبھی کبھی،بچکانہ جوش و خروش اور خوشی کے  ھمراہ ہوتا۔ لوگ آگ پر سے کود کر، اور چھوٹے چلے کے ختم ہونے پر جشن منایا کرتے  تھے۔ وہ دن میری ماضی کی خوب صورت اور یادگار یادوں کو تشکیل دیتے  ہیں، کیونکہ، بہمن مہینے کے آخری ۳ دنوں میں ہم عصر کے وقت، اسکول کی چھٹی کے بعد ، دوستوں کی مدد سے، رات کی آتش بازی کی تیاریاں کیا کرتے  تھے

کبھی کبھی آتش بازی، رات دیر تک جاری رہتی اور جوانی کی شیطانیوں میں آ کر پرانے ٹائروں کو گاوں کے اطراف کے پہاڑوں پر جلاتے تھےاور اس  کی بری بو اور دھوئیں میں کھو جاتے تھے ۔

مختلف قوموں میں مختلف ثقافتی علامتیں پائی جاتی ہیں اسی طرح ایران میں  بھی ہر کوئی کسی نہ کسی طرح نئے سال کی تیاریوں مین مصروف ھوتا ھے۔ سال کے آخری ھفتے، دنوں اور راتوں میں ، اتوار کی رات، پیر کی ،منگل کی رات جو کہ لوگوں کے درمیان ایلیفی راتوں کے نام سے معروف ھیں مختلف جشن اور تقریبات ھوتی ہیں زیادہ ترلوگ، اپنے مردوں کے لئے قرآن خوانی کرتے ھیں اور سال کےآخری منگل کو، بوقت عصر ان کی قبروں پر جا کر حاضری دیتے ھیں اور مرحومین کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ  خوانی اور قرآن پڑھتے ھیں۔

ماضی میں ، سال کاآخری منگل، عمومی حماموں کا سب سے رش والا دن ہوتا  تھا کیونکہ لوگ، قرآن کے نیچے سے نکلنے سے پہلے حمام جاتے تھے، حمام کی یادیں اور گاوں کی محرومیوں کی تلخی نا قابل تردید تھی۔

اذان مغرب کے بعد چند تپائی یا اسٹول رکھ کر ایک گروپ بنایا کرتے تھے جس میں سے ہر ایک پر قرآن کی ایک جلد رکھی ہوتی تھی، یہ اسٹول اس طرح سے رکھے جاتے کہ رو بہ قبلہ ھوں اور سب اھل خانہ ، پڑوسی، ایک  کے بعد ایک، قرآن  کو چوم کر،اس کے نیچے سے گذرا کرتے تھے اور ساتھ ہی دعا کیا کرتے تھے کی یہ سال ان کے لئے بابرکت ثابت ہو، یہ عمل ۳ دفعہ انجام دیا کرتے تھے،اور در حقیقت یہ عمل ، نجاست اور گندگی سے دوری، اور قرآن کے سائے میں رہنے کی نشاندہی کرتا تھا، تاکہ نئے سال میں خداوند عالم ان کو طہارت اور پاکی عطا فرمائے۔

چھپ کر کھڑے کھڑے باتیں سننا، اس رات کی ایک اور رسم تھی، کچھ لوگ نیت کرنے کے بعد ان گھروں کا انتخاب کرتے تھے، جن کے دروازے قبلے کی طرف کھلتے تھے، اور رات کی ابتدا میں بغیر اس کے کہ، گھر والے  متوجہ ھوں، خاموشی سے، ان کی باتیں سنا کرتے تھے،اگر گھر میں ھونے والی باتیں نیک اور اچھے کاموں سے مربوط ھوتیں، تو یہ تصور کیا جاتا کہ سننے والے کی منت پوری ہوجائے گی، اور اگر کچھ اچھی اور دلچسپ باتیں سننے کو نہیں ملتیں تو سننے والا سمجھ جاتا کہ اس کے  اس کام میں کی جسکی نیت کی گئی ھے، صلاح و بہتری نھیں ھے۔

معمولا کچھ شادی کے قابل لڑکیاں یا زیادہ تر لڑکے اس فال کو انجام دیتے تھے۔ اور اسی طرح وہ لوگ، جو کہ اچھی نیت رکھتے تھے اس فال کو انجام دیتے کیونکہ سال کا آخری بدھ، طہارت اور نیکی کی علامت تھا، لہذا یہ پاکی اور طھارت لوگوں کا عقیدہ تھی اور وہ اسی عقیدے کے ساتھ عید کا استقبال کرتے تھے۔

 

نئے سال کی تیاری: نوروز، ایرانیوں کی تاریخ اور ثقافت میں، ایک قومی عید کے طور پر مانا جاتا ہے، یہ جشن جمشید کی یادگار ھے، جو کہ افسانوں کے  زمانے سے لیکر آج تک، ایک تحول اور تبدیلی کا ذریعہ اور طبعیت و قدرت کی طرح دوبارہ جی اٹھنے کی علامت ہے اور تمام اقوام کے نزدیک خاص اھمیت کا حامل ہے۔ اسلام کی ایران میں آمد  کے بعد، اس جشن نے اسلام کا لبادہ اوڑھ لیا اور آئمہ کے اقوال میں تجلی کی۔

ماضی میں نوروز، قوم کرمان میں، نوروز کی تاریخ سے ایک ماہ قبل شروع ہوجاتا تھا، خراسان کے کردی نژاد ، اس پر شکوہ تقریب کے، انعقاد کے لئے  خود کو، خاص آداب کے ساتھ تیار کرتے تھے۔ ان آداب میں سے کچھ جو کی معمول تھے مندرجہ ذیل ھیں،


۱۷ مال: نوروز سے سترہ دن پہلے، گھر کا ہر فرد اپنے لئے ایک پتھر کا  انتخاب کرتا تھا، اور اس پتھر کو زمین میں ایک جگہ رکھ دیا جاتا تھا، جیسے ہی نیا سال شروع ہوتا تو ہر کوئی اپنے پتھر کو دیکھنے جاتا، اگر پتھر کے نیچے گھاس اور سبزہ اگا ھوتا تو یہ خیر و برکت کی علامت سمجھا جاتا، اور  اگر سبزہ نہیں اگا ہوتا تو یہ اس بات کی نشانی تھی کہ نیا سال خشک سالی اور مشکلات لائے گا۔


سبزہ یا گھاس اگانا؛ معمولا نوروز سے دو ہفتے قبل، ھر گھرانہ اس عمل کو انجام دیتا تھا، اس طرح کی کچھ گندم یا جو کو ایک برتن میں ڈال کر،رکھ دیا  جاتا تھا اور پھر اس برتن کو مرطوب رکھا جاتا، یہاں تک کی کچھ دنوں میں  یہ دانےپھوٹ کر اور پودے میں تبدیل ھوکر عید کے دسترخوان کی زینت بننے کے لئے تیار ھوجاتے تھے۔  اس سبزے کا ایک اور استعمال، نوروز میں ، سمنو کی پکائی ھے۔ ،سمنو دوسری دیگر س والی سبزیوں کے ساتھ، شمالی کردیوں کے نوروز  کے دسترخوان کی زینت بنتی ھے۔

 

گھر کو خالی کرنا؛ یہ رسم معمولا نوروز سے ایک ہفتہ قبل شروع کی جاتی ھے،کردی یہ عقیدہ رکھتے ھیں کی نئے سال کے آغاز سے پہلے، گھر کے تمام قالین اور دیگر سامان کو پاک کیا جائے اس کام کے لئےعورتیں  پڑوسیوں کی مدد سے، گھر کا سارا سامان باھر نکالتی ھیں تاکہ سورج کی روشنی ان پر پڑے اور بوسیدگی ان سے دور ھو

دانو کی پکائی؛ معمولا نوروز سے دو ھفتے پہلے کردی نژاد لوگ، ایک رات  دانو پکانے کا اھتمام کرتے ھیں۔ اس ڈش کے اجزاء میں گندم، چنے، دالیں اور مصالحہ جات شامل ھیں، دانو کے بننے کے بعد ایک نیلے رنگ کے مھرہ کو اس دیگچی میں ڈا ل دیا جاتا  تھا، اور اس کے بعد، خاتون خانہ ایک بڑے چمچ کے ساتھ، گھر کے ھر فرد  کا نام لیکر اس ڈش کو نکالتی تھیں ، نام لینے کا سلسلہ گھر کے چھوٹے فرد سے شروع کیا جاتا، مھرہ جسکے نام پہ نکلتا وہ سال اس شخص سے منسوب ہوجاتا، اگر مورد نظر شخص اچھی اخلاقی صفات کا حامل ھوتا تونیا سال مبارک تصورکیا جاتاہے۔

نوروز کا دسترخوان؛ یہ دسترخوان کپڑے کا بنا ھوا ھوتا تھا جو کہ کردی  عورتیں خود بنا کرتی تھیں، اور جس پر نفیس نقش و نگاربنے ھوتے تھے۔ نوروز کے دسترخوان پر، قرآن ، پانی، لہسن، گھاس سمنو، سیب، سکے،  سبزی، اور مٹائی رکھے جاتی تھی یہ دسترخوان عموما، ڈراینگ رومز میں  جوان لڑکیوں کی مدد سے سجایا جاتا تھا۔ نئے سال کی تحویل کے وقت، گھر کے تمام افراد اس دسترخوان کے گرد بیٹھ کر  نئے سال کو محبت اور یگانگت سے شروع کرتے تھے۔

نوروز کا دن: اس روز ہر کوئی خوش ھے ،چھوٹے بچے نئے لباس پہنتے ھیں اور بڑے ایک دوسرے سے ملاقات کو جاتے ھیں اور چھوٹوں کے عیدی دیا کرتے ھیں سب ایک دوسرے کو نئے سال کی مبارکباد دیتے ھیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ لوگ ایسے گھروں میں بھی پرسے کو جاتے جن کے گھر کوئی شحص دنیا سے چلا گیا ھو تا کہ ان کے لئے نئے سال میں خوشیوں کی دعا او آٓرزو کر سکیں، اور اسی طرح ان گھروں میں اگر کوئی نئی شادی شدہ دلہن موجود ھو تو ان کے لئےتحائف لیکر جاتے تھے۔ لیکن نوروز کی رات نوجوان بھی بیکار نہ بیٹھتے بلکہ ایک رسی کا انتظام کرتے، اور ایک رومال کو اس کے کونے  پر باندھ کے ، خود پڑوسی کی چھت پر چڑھ جاتے۔ قدیم گھروں میں عموما چھتوں پر ایک سوراخ ہوتا تھا جو چولہے کے دھوئیں  کے اخراج کے لئے بنایا جاتا تھا، وہ  رومال والی رسی کو اس سوراخ کے زریعے گھر میں داخل کرتے، اھل خانہ اس رومال میں عیدی مٹھایئ یا گھر میں جو کچھ ھوتا ،باندھ کر ہلکے جھٹکے سے،  یہ واضح کرتے کہ  رسی کا مالک اپنی عیدی وصول کرلے۔ رہا یہ سوال کہ ، یہ کام کیوں رات میں چھپ کر انجام دیا جاتا؟ شاید اس لئے کہ مانگنے میں شرم نہ آئے اور یہی وجہ ھےکہ رسی کا پھینکنے والا کوئی بات بھی نہ کرتا، صرف رسی کا گھر میں ڈالنا اس بات کی علامت ھوتا کہ عیدی چاھئے۔

عید کا روز:عید کا روز سال کے خوشحال اور شادترین دنوں میں سے ایک ھوتا، گاوں کے سارے بچے مل کر ایک ایک تھیلی لیکر ھمسایوں کے گھروں  میں عیدی لینے جاتے اور بعض اوقات، گاوں کے اطراف میں بھی جاتے۔ عیدی ، ایک عام سے کیک کا ٹکڑا، چاکلیٹ، مٹھائی، یا کبھی ایک سکہ ھوتی۔ عموما قریبی رشتے دار، عیدی کے طور پر پیسے دیتے اور ارد گرد کے ہمسائے اپنی اپنی جیب کے مطابق، علاقے کی سوغات، سے لیکر انڈہ ، یا مٹھائی ، دیا کرتے۔ عیدی صرف صبح کے وقت ہی لی جاتی، اور دوپہر میں یہ بچے جب واپس اپنے گھروں کو لوٹتے تو ان کے پاس، کیک ،مٹھائی، مختلف خشک میوہ جات ھوتے۔ ہر چند یہ یادگار جو اب ، دہرائی نہیں جاتی،  بھلائی جا چکی ھے۔ لیکن پھر بھی، نوروز کا دن، اپنی تمام رعنائیوں کے ساتھ ، دوبارہ جی اٹھنے، خوشیوں اور محبتوں کی یاد دلاتا ھے۔



 
صارفین کی تعداد: 1724


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – سترہویں قسط

فوجی ڈاکٹرز امدادی مرکز سے باری باری بیسویں بریگیڈ کے "پ"بیس جارہے تھے تاکہ طبی امداد میں ان کا بھی کچھ حصہ ہو۔ وه رضاکارانہ طور پر نہیں جا رہے تھے۔

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔