شہر مشہد کی فوٹو گرافی کی تاریخ کے کچھ پوشیدہ پہلو

غلام رضا آذری خاکستر

2015-08-29


24فروری 2015 بروز منگل ،ٓاستان قدس رضوی کے ماہر فوٹوگرافر اور مرکز دستاویزی معلومات کے ڈائریکٹر، مہدی حسامی نے، ماہرین تاریخ کی ایک بڑی تعداد سے، ایک تربیتی کلا س میں خطاب کیا، انہوں نے پوری دنیا اور ایران میں فوٹوگرافی کی تاریخ پر روشنی ڈا لتے ہوئے کہا: لغت میں لفظ فوٹوگرافی کا مطلب، فن اور ھنر تصویر برداری ہے، جبکہ ایک فوٹوگرافر کے پیشے  اور کام کو بھی فوٹوگرافی کہا جاتا ہے۔

اس ھنر کو،دنیا کی بیشتر زبانوں میں فوٹوگرافری کہا جاتا ہے،، جو کہ دو یونانی کلموں کا مرکب ہے ، ایک فوٹو جسکے معنی روشنی یا نور ہیں اور دوسرا گرافی یعنی  ریکارڈ کرنا یا لکھنا، اسطرح،  فوٹوگرافی کے معنی  روشنی یا نور سے ریکارڈ یا محفوظ کرنے کے ہیں۔ سب سے پہلی تصویر 1822 میں ایک فرانسیسی موجد، جوزف نیسہ فورنیپس نے کھینچی، لیکن عملی طور پر اس ایجاد کا اعلان ،7 جنوری،  1893 کو فرانسیسی سائنسز اکیڈمی کے کنونشن میں کیا گیا، جبکہ اس ایجاد کو لوئی ژاگ مانده داگر، نامی شخص سے بھی منسوب کیا جاتا ھے، 1884، میں جارج اسٹیمن نے فو ٹو گرافی کے رول(فلم رول) کو ایجاد کیا اور سن 1888 میں ایک باکس کیمرہ بنا کر، عام لوگوں کے لے اسکو کارآمد اور سستا بنا دیا اور اپنی اس ایجاد کے توسط سے فوٹوگرافی کی تاریخ میں ایک بڑی اور اھم تبدیلی پیدا کردی۔

حسامی کے مطابق، کیمرے سے فوٹوگرافی کی ایجاد کے تین سال بعد ہی یہ ایجاد ایران میں آگئی تھی، تاھم  انہوں نے کہا کہ دنیا میں اس صنعت کی پیدایش اور ترقی کے ساتھ ساتھ ، کم و بیش تین سالوں میں، یعنی محمد شاہ قاچار کی حکومت کے اواخر میں ، ایران پر اس صنعت کے دروازے کھل گے، 1842(۱۲۵۸ ق) میں ایک روسی جس کا نام پاولوف تھا نے غیر سرکاری طور پر، ایران میں سب سے پہلی تصویر کھینچی، جبکہ سرکاری طور پر سب سے پہلی تصویر ژول ریشار نامی ایک فرانسیسی نے 14 دسمبر  1884 کو، تبریز میں ناصرالدین شاہ کی ولیعھدی کے موقع پر کھینچی۔

بعد اذاںِ، دربار اور خاص طور پر ناصرالدین شاہ قاچار کی اس صنعت و ھنر میں دلچسپی کے باعث اس ھنر سے واقف اور ممتاز لوگوں کی ایک بڑی تعداد ایران آٗئی، جنھوں نے دربار کی تاٰئید پر لوگوں کی تربیت کا آغاز کیا۔ دربار کے اشرافیہ اور بااثر لوگوں میں سے کچھ کو فو ٹوگرافی کی تربیت اور آلات خریدنے کی غرض سے یورپ بھیجا گیا اور اس موقع سے فاٗئدہ اٹھاتے ھوئے  یہ فوٹوگرافر اس قابل ہوگئے  کہ انھوں نے درباریوں کی  نجی زندگی حتی بادشاہ کی بھی قیمتی تصاویر بنا ئیں، آجکل ،جن کا شمار، دورہ قاچار کی سب سے قیمتی دستاویزات  میں ھوتا ھے ،ارنست ھولستر انہی افراد میں سے ایک ھے۔

آغا رضا عکاسباشی اور عبداللہ قا چار کو اولین ماھر فوٹوگرافروں کے طور پر یاد کیا جاتا ھے،  مھدی حسامی نے اس سلسلے میں مزید بتایا کہ: ملک قاسم مرزا سب سے پہلے ایرانی فوٹوگرافر، اور آغا رضا عکاسباشی سب سے پہلے پیشہ ور فوٹوگرافر جبکہ عبداللہ قاچار ساٗئنسی اور تکنیکی  اعتبار سے سب سے پہلے ایرانی فوٹوگرافر ھیں ۔

سب سے پہلی عمومی گیلری۱۲۸۵ ق، میں اقبال السلطنہ کے زیر نظر، عباس علی بیگ نے قائم کی، انھوں نے اس مقصد کے لئے جباخانہ مبارکہ گلی میں ایک کمرہ بنایا اور فوٹوگرافی شروع کردی، جسمیں ھر تصویر کی قیمت اس کے سائز کے اعتبار سے رکھی گئی، ایک سے لیکر درجن تک،  بڑی تصاویر کی قیمت، فی تصویر چار ھزار دینار تھی اور اسکے بعد جو اس سے زیادہ کا طلبگار ھوتا اس کے لئے تین ھزار دینار فی تصویر مقرر تھا ،جبکہ ایک سے لیکر درجن تک، چھوٹی تصاویر کی قیمت، فی تصویر دو ھزار دینار تھی اور جو اس سے زیادہ کا طلبگار ہوتا تو نوبت تیس  تک بھی آجاتی۔

آستان قدس سے منسلک ماھر عکاس (مھدی حسامی) ، شھر مشھد میں فوٹوگرافی کے حوالے سے اس بات  کے معتقد ھیں کہ دور حاضر میں، ایران کی سیاسی تاریخ میں، فوٹوگرافی کی اھمیت کو دیکھتے ھوئے، شھر مشھد میں فوٹوگرافی کی تاریخ بہت مبہم اور پوشیدہ ھے، کیونکہ ۱۲۷۶ق میں، اس شھر میں کھینچی گئی پہلی تصویر کا درمیانی فاصلہ، اسی شھر میں ۱۳۱۹ق میں کھینچی گئی پہلی سرکاری تصویر جو کہ مرزا فرج اللہ نے کھینچی ، 43 سال بنتا ھے ، اور اگر اس کا موازنہ ایران میں سرکاری طور پر کھینچی گئی سب سے پہلی تصویرسے  کیا جائے تو یہ فاصلہ تقریبا61 سال بنتا ھے، لہذا اس درمیانی فاصلے کے علت و عوامل کو تلاش کرنے اور جاننے کیلئے ایک علمی تحقیق کی ضرورت ھے۔

خوش قسمتی سے شھر مشھد کی تصاویراور فوٹوگرافی  سے پہلے، اس شھر کی پینٹنگز بنائی گئیں اس حوالے سے کرنل سی ام گرگور کی طرف اشارہ کیا جاسکتا ھے جس نے ۱۸۷۵میں شھر مشھد کی پینٹنگ کو بنایا۔

مھدی حسامی، شھر مشھد میں، فوٹوگرافی کی ترقی میں رکاوٹ کی اھم وجہ، عدم تحفظ اور نا امنیت کو مانتے ھیں، اور کہتے ھیں کہ ترکمانیوں کا خوف شھر خراسان میں اس قدر تھا کہ آرمینوس وامبری لکھتے ھیں کہ: میں نے اس حد تک جرات کی کہ مزنیان سے شاھرود تک بغیر کسی قافلے  کے سفر طے کرلیا حالانکہ ایرانی خود اس طرح کی جرات کم ہی کیا کرتے تھے، کہ اس فاصلے کو توپخانے کی مدد کے بغیر طے کریں کیونکہ ترکمانستان کے حملوں سے شدید خوفزدہ رھتے تھے۔ اسی طرح ویکتور برار تقریبا  1862 میں خراسان کو ایران کے ریگستانی قبائل کے لوگوں اور ترکمانیوں کے حملوں کی جگہ مانتے تھے کیونکہ حکومت اور قانون صرف بڑے شھروں کی فصیلوں تک ہی محدود تھا اور درمیانی راستوں میں کوئی امن و امان نہ تھا۔

سرکاری طور پر ، سب سے پہلے فوٹوگرافی، دربار کی طرف سے جنگی خبروں کا احاطہ کرنے کے لئے کی گئی جس کے نتیجے میں ان  فوٹوگرافروں کو ترکمانیوں کی طرف سے  18ماہ کی قید جھیلنا پڑی، اور بلا کویل ۱۲۷۷ق میں لشکر ایران کے پیچھے مرو گیا.

اسوقت ایران میں فوٹوگرافی کےاخراجات بہت زیادہ تھے، بالخصوص مشھد اور خراسان کا دارالحکومت سے زیادہ فاصلہ ہونے کی وجہ سے فوٹوگرافی کے شیشے، اور تصاویر کو دھلوانے کے آلات کی نقل و حمل، دشوار اور بہت مہنگا پڑتا تھا۔

مثال کے طور پر، ایرج افشار، کی فوٹوگرافی کی تاریخ کو دیکھتے ھوئے،جو کہ فوٹوگرافی کے ٹیکنیشن کے طور پر جانے جاتے تھے، اس نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں کہ خراسان میں فوٹوگرافی کا بہت سالوں پہلے بھی رواج تھا، ۱۳۲۹ق میں مشھد میں فوٹوگرافی کا ٹیکس  20تومان سالانہ تھا، اور کتاب فروشی کا 5 تومان جبکہ پتھروں پر پرنٹنگ 10 تومان سالانہ اور لیڈ پرنٹنگ  60تومان سالانہ تھی۔

مھدی حسامی نے آستان قدس میں فوٹوگرافی کے آغاز کو قاچاریوں کے دور سے مربوط کرتے ہوئے کہا کہ:آستان قدس رضوی نے بھی دیگر مراکز اور اداروں کے ساتھ ساتھ، فوٹوگرافی کےھنر و صنعت کو دو مقاصد کیلئے استعمال کیا جن میں سےایک واقعات، دوروں اور رسومات کو ریکارڈ کرنے کے لئے، اوردوسرا آستان قدس رضوی کے اماکن و مقامات اور فن تعمیر میں ھونے والے تغییر و  تبدیلی کو ریکارڈ کرنے کے لئے، حتی کہ فوٹوگرافروں کو آستان قدس کی فواٹوگرافی کے لئے ملازمتیں دی گئیں اور اس مد میں حرم کے فوٹوگرافروں کے لئے وظیفے کی ادائیگی سے متعلق  دستاویزات بھی موجود ھیں مگر بظاھر ان فوٹوگرافروں کی کھینچی گئی تصاویر موجود نہیں، ان

، فوٹوگرافروں میں ایک حوالہ سید آغا عکاس باشی کا دیا جاسکتا ہے۔

مھدی حسامی، ماہر فوٹوگرافر اور دستاویزی معلومات کے ڈائریکٹر، نے اپنے خطاب کے آخر میں زیارتی فوٹوگرافی پر روشنی ڈالتے ھوئے کہا: سب سے پہلے جنھوں نے حرم کے اطراف میں زائرین کی تصاویر کھینچیں وہ ، وہ فوٹوگرافر تھے جنکے پاس اپنے اسٹوڈیوز نہیں تھے اور وہ حرم کے اطراف میں ہی گھومتے ہوئے  تصویریں کھینچتے تھے، زیادہ تر فوٹو گرافر صارفین کو، حرم کے اطراف میں بنے ھوئے گھروں کی چھتوں پر لے جاتے   تھے، جہاں سے خوبصورت منظر نظرآ ئے، اور اس طرح سے تصویریں کحینچتے تھے کہ ان تصاویر کے پس منظر میں،حرم نمایاں ھوتا، مگر بھاری بھرکم کیمرے و آلات، نامناسب لینز، صارفین اور فوٹوگرافر کو زیادہ مطمئن نہیں کرپاتے،  اسی ضرورت کے پیش نظر، مونتاژ (بیک گراونڈ) تصویروں کو پذیرائی ملی، جن میں مختلف موضوعات، عبارات، مقدس عمارات بطور پس منظر استعمال کی جانے لگیں ،زیادہ تر حرم، اس کے گنبد،و مینار،صحن،ضریح، ہرن کی ضمانت والی روایت کی تصاویر، ان تصاویر کے پس منظر کے طور پر استعمال کی گئیں، ، اور اس طرح کئی سالوں تک فوٹوگرافر اسی ڈگر پر کام کرتے رھے اور صارفین کی  خواھش کے مطابق حقیقی ترین حرم کے مناظر کو استعمال کرتے رھے اور کوشش کرتے رھے کہ ایسی تصاویر بنائیں جو حقیقت سے قریب تر ہوں، کہ جن کو دیکھ کر حقیقت کا گماں ھو۔


حوالہ: سائٹ تاریخ شفاہی ایران
 
صارفین کی تعداد: 1087


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
جنوبی محاذ پر ہونے والے آپریشنز اور سردار عروج کا

مربیوں کی بٹالین نے گتھیوں کو سلجھا دیا

سردار خسرو عروج، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے چیف کے سینئر مشیر، جنہوں نے اپنے آبائی شہر میں جنگ کو شروع ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔
لیفٹیننٹ کرنل کیپٹن سعید کیوان شکوہی "شہید صفری" آپریشن کے بارے میں بتاتے ہیں

وہ یادگار لمحات جب رینجرز نے دشمن کے آئل ٹرمینلز کو تباہ کردیا

میں بیٹھا ہوا تھا کہ کانوں میں ہیلی کاپٹر کی آواز آئی۔ فیوز کھینچنے کا کام شروع ہوا۔ ہم ہیلی کاپٹر تک پہنچے۔ ہیلی کاپٹر اُڑنے کے تھوڑی دیر بعد دھماکہ ہوا اور یہ قلعہ بھی بھڑک اٹھا۔