عراقی قیدی اور مسلط شدہ جنگ کے راز -10

تالیف: مرتضی سرہنگی
ترجمہ: سید نعیم حسین شاہ

2023-1-20


"میں نے وہاں بھی یہی بات کی اور ابھی آپ سے بھی یہی کہنا چاہوں گا کہ حق اور کامیابی سپاہ اسلام کے ساتھ ہے اور اللہ تعالی خود اس بات کا گواہ ہے، کیونکہ یہ لوگ اللہ کے نیک بندے ہیں، "الیس اللہ بکاف عبدہ" "آیا خدا اپنے بندوں کی مدد کرنے کے لئے کافی نہیں ہے؟"۔ اور ایک اور جگہ اللہ کا ارشاد ہے کہ:" یا ایھا الذین آمنوا ان تنصروا اللہ ینصرکم و یثبت اقدامکم"۔ اے ایمان والو! اگر تم اللہ کی مدد کر گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدموں کو استقامت دے گا"۔ 
اس سپاہی کی موت نے ہمارے لیے ہدایت کے راستے کھول دیئے۔ میں یہ دعا کرتا ہوں کہ اللہ ہمیں کامیابی یا شہادت نصیب کرے اور زمین پر کمزور طبقے کو رہائی ملے جیسا کہ اللہ کا یہ وعدہ بھی ہے۔
میری ڈیوٹی فرسٹ ایڈ میں تھی اور آپ کو پتہ کہ یہ شعبہ جنگی محاذ سے کافی فاصلے پہ قائم کیا جاتا ہے تا کہ آرام و سکون کے ساتھ زخمیوں کا خیال رکھا جا سکے اور ویسے بھی اولین ذمہ داری یہی ہوتی ہے کہ زخمی فوجیوں کا خون بہنا بند کیا جائے اور پھر اس کے بعد ہی زخمیوں کو نزدیک ترین محفوظ ہسپتال منتقل کیا جاتا ہے، کیونکہ صحرائی ہسپتال میں اڑتالیس گھنٹوں سے زیادہ زخمیوں کو رکھنے کی اجازت نہیں ہوتی۔
تو میری ڈیوٹی آپریشن سیکشن سے مربوط تھی۔ آپ کی جانب سے جو فتح المبین آپریشن شروع کیا گیا، یہ اس کے پہلے دن کا واقعہ ہے۔ آپ کی جانب سے حملہ شروع ہوا اور اور ہماری فوج کو بہت زیادہ جانی نقصان اٹھانا پڑا اور بے شمار سپاہی اسیر ہو گئے، عقب نشینی میں ہم نے بہتری سمجھی اور آپ کے سپاہی اتنا آگے بڑھے کہ ہمارے فرسٹ ایڈ کے خیمے آپ کے بھاری اسلحہ کی زد میں آگئے، خیموں میں بے شمار زخمی تھے جو سہمے ہوئے تھے، انہیں سمجھ نہی آ رہی تھی کہ اب کیا کریں۔ اور جب محاصرے کی خبر سنی تو میں پرسکون ہوگیا کہ اب زیادہ سے زیادہ یہی ہوگا کہ آپ کے سپاہی ہمیں قید کر لیں گے لیکن سٹاف اور زخمیوں کی گھبراہٹ میں اضافہ ہورہا تھا اور بھاگنے کی کوشش کر رہے تھے، جو زخمی چلنے کے قابل تھے انہوں نے ایمبولینس گاڑیوں میں راہ فرار اختیار کی۔ میں ان سے یہی کہتا رہا کہ پریشان نہ ہوں، یہ حق کے سپاہی ہیں۔ ہمیں کچھ نہیں کہیں گے، لیکن انہوں نے فرار میں عافیت جانی اور کچھ شدید زخمیوں کے ساتھ میں اکیلا وہاں رہ گیا، اور یہ زخمی بھی رو رہے تھے فرار بھی کرنا چاہتے تھے لیکن چونکہ زیادہ زخمی تھی اس لیے بھاگ نہ سکے"
*جاری ہے۔۔*



 
صارفین کی تعداد: 656


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
اسیری کے برسوں بعد۔۔۔

منیژہ لشکری کے واقعات

جس وقت اس کا خط میرے ہاتھوں میں پہنچا میں کانپ رہی تھی۔ میں یقین نہیں کر پا رہی تھی کہ یہ خط حسین نے لکھا ہے۔ میں خط کو لیا چوما  دیکھا مگر اس وقت میں مکمل سکتہ میں آگئی تھی میرے اطراف موجود لوگوں نے مجھے کرسی پر بٹھایا۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔