حسن مولائی کی یادیں

سو افراد، سینکڑوں افراد، ہزاروں

انتخاب: فائزہ ساسانی خواہ

تلخیص و ترجمہ: یوشع ظفر حیاتی

2022-07-24


پکے ہوئے گوشت کی بو آرہی تھی، سڑک کی اسفالٹ کے نیچے سے سورج چھپا ہوا تھا اور سفید تولیہ کے کنارے، ہمیشہ سے زیادہ کالا نظر آرہا تھا۔ میں اپنے پنجے اکڑا کر زمین پر رکھ رہا تھا۔ میں سوچ رہا تھا کہ اگر مصریوں کے خیموں والے علاقے سے باہر نکلتا ہوں تو خیابان ۲۰۴ تیز تیز چلتا ہوا پیچھے کی طرف سے اپنے خیموں تک پہنچ جاؤں گا۔ زمین پر پانی کی بوتلوں کی ایک بڑی تعداد چپٹی ہو ہو کر پڑی ہوئی تھیں۔ ایسا لگ رہا تھا کہ ان پر سے گاڑیاں گذری ہیں یا کچھ لوگ ان پر گر پڑے ہیں۔ خیابان کی ابتدا سے بالکل اسی جگہ جہاں گاڑیوں اور آہنی گارڈز کے ذریعے اسے بند کردیا گیا، پانی نیچے کی جانب رواں دوان تھا اور شہداء کے جنازوں اور پانی کی خالی چپٹی بوتلوں کے درمیان اپنا راستہ بناتا ہوا گذرتا جا رہا تھا۔

۔۔۔

یہ میرا پہلا سفر تھا۔ میرا اپنے دوست جناب اشرفی صاحب سے الگ ہونے کا دل نہیں چاہ رہا تھا۔ ہم ناشتہ کرکے اپنے خیمے سے باہر نکل آئے۔ انڈر پاس سے تھوڑا آگے، پولیس والے سب لوگوں کو ۲۰۴ کی جانب بھیج رہے تھے۔ ہم چند میٹر ہی آگے بڑھے تھےکہ اشرفی صاحب نے کہا: یہ بِھیڑ عام بِھیڑ نہیں لگ رہی۔ یہ ان کا بیسواں سفر تھا اور وہ تمام جگہوں اور تمام چیزوں کا اپنی ہتھیلی کی طرح پہچانتے تھے۔ ہم جیسے جیسے آگے بڑھ رہے تھے خیابان پر رش بڑھتا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔ اشرفی صاحب نے اپنی بات دہرائی۔ ایک مرتبہ ہم نے دیکھا کہ لوگ ایک دوسرے سے چپک سے گئے ہیں۔ ہمارے سینے آگے والے حاجی کی پشت سے چپکے ہوئے تھے۔ میں نے بڑی مشکل سے مڑ کر اپنے پیچھے دیکھا۔ اب بھی لوگوں کی ایک بڑی تعداد پیچھے سے شامل ہورہی تھی۔ بیس منٹ یا آدھا گھنٹہ ہم اسی طرح کھڑے رہے۔ رش کی وجہ سے میں اشرفی صاحب سے الگ ہوچکا تھا۔ مجھے سانس لینے میں بہت پریشانی ہورہی تھی۔ صرف دباؤ کا مسئلہ نہیں تھا۔ اچانک میرے ہاتھوں پیروں میں عضیب قسم کی ناتوانی محصوس ہوئی۔ میری آںکھیں بھاری ہورہی تھیں۔ میرا بدن مجھے اس خطرے سے آگاہ کررہا تھا کہ کچھ ہورہا ہے۔ میں موت کو محسوس کررہا تھا۔ میں نے اپنے آپ کو بڑی مشکلوں سے آہنی دیوار کے نزدیک کیا۔ مجھے معلوم تھا کہ اس بِھیڑ کے وسط میں جتنا زیادہ دباؤ بڑھے گا اسکے کناروں پر اسکے مقابلے میں آرام سے سانس لی جاسکتی ہے۔

اپنے تولیہ کو بڑی مشکلوں سے لوگوں کے درمیان میں سے کھینچ رہا تھا۔

جمرات تک سڑک کے دونوں طرف خیمے لگے ہوئے تھے۔ خیموں کی ہر دو تین لائنوں کے درمیان ایک میٹر کی ایک گلی تھی۔ اور چند لوگ ایک دروازے کے پاس جمع تھے جو مجھ سے نزدیک تھا۔ میں نے بڑءی مشکل سے اپنے آپ کو دروازے کے اندر پہنچایا۔ دروازے کے پاس ہی گر گیا اور کچھ سانس لی تو میری آنکھیں کھلیں۔ ایک سیاہ فام عورت میرے ہی پڑی ہوئی تھی اور اسکی آنکھیں بند تھیں۔ اسکی گردن اسکے سینے پر خم ہوچکی تھی۔ ایک بوڑھا مرد میرے کنارے پڑا گہری سانسیں لے رہا تھا۔ کچھ دور چند افراد خیمے کی خاکی زمین پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ان سب کی کیفیت مجھ سے جدا نہیں تھی۔ اکھڑی ہوئی سانسیں، پیاس، کم فشار خون اور ہاتھوں پیروں کی تانوانی۔

اچانک میرے موبائل فون کی گھٹنی بجی۔ مجھے خیال آیا کہ مجھے اپنی سلامتی کی خبر اپنے دوست کو دینی چاہئیے۔ تہران سے کال تھی۔ خبروں میں واقعے کی کوریج دیکھ کر میرے زندہ بچ جانے یا نہ بچنے کے بارےمیں معلومات لینا چاہ رہے تھے۔ میں نے اپنے ہم سفروں کا کال کی تاکہ انہیں اپنی طرف سے مزید فکر مند نہ ہونے دوں۔ ممکن تھا کہ میرے بارے میں پریشان ہوں۔ کسی نے بھی فون نہیں اٹھایا۔ حاج مسلم اور جناب مآیدی صاحب نے تو اس کے بعد کبھی بھی میری کال نہیں اٹھائی۔

خیمے کے کونے میں پانی اور کھانوں کے باکس ترتیب سے رکھے گئے تھے۔ نارنگیاں اور کھانے انہی پانی کی بوتلوں کے ہمراہ ان مردوں اور عورتوں کی سانسیں بحال کرسکتی تھیں جو خیمے میں جابجا گرے پڑے تھے۔ لیکن یہ کھانے پینے کا سامان الجزائری زائرین کا تھا اور ان کی جانب سے کون تھا جو یہ بذل و بخشش انجام دیتا؟ کون تھا جو کاروان کے انتظام و انصرام اپنے ہاتھوں میں لیتا؟ ان میں سے ایک خیمے کے بیچوں بیچ کھڑا ہمیں دیکھ رہا تھا کہ ہر لمحہ ہماری حالت خراب سے خراب تر ہورہی تھی۔ لیٹے لیٹے دیکھا تو وہ کافی قوی الجثہ نظر آرہا تھا۔ میرے ہاتھ پاؤں اکڑ رہے تھے اور سر میں بری طرح گھنٹیاں بج رہی تھیں۔ میری آنکھیں بند ہی ہونے والی تھیں کہ ایک عرب جوان نے صورتحال کو دیکھتے ہوئے قدم آگے بڑھایا۔ اپنے ہاتھ ہوا میں لہراتے ہوئے بولا: "خانہ خدا کے زائرین کی مدد کریں"۔ اس نے پانی کی بوتلیں کھول کھول کر ہم سب کو دینا شروع کردیں ۔ جب بھی وہ دن یاد آتا ہے میں دل کی گہرائیوں سے اس شخص کو دعائیں دیتا ہوں۔ اگر وہ نہیں آتا تو نہیں معلوم مجھ سمیت وہاں موجود دیگر افراد کے ساتھ کیا ہوتا۔ وہ جب اس سیاہ فام عورت کے پاس پہنچا تو اسکو جتنی بھی آواز دی اس نے پانی کی بوتل لینے کے لئے اپنا ہاتھ نہیں اٹھایا۔ اسکی سانسیں اکھڑ رہی تھیں۔ وہ شخص اس عورت کے سرہانے بیٹھا اور پانی کی بوتل کھول کر اسکے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے اور اسکے پانی پلایا۔ جوان اور قوی ہیکل خاتون تھیں۔ ایسی کیا چیز تھی جس نے اتنے طاقتور انسان کے پیر اکھاڑ دیئے تھے۔ اس نے اسکی گردن میں پڑے کارڈ کو دیکھا۔ اتنے میں اس خاتون کے شانے اٹھے۔ نہایت آرام سے اس کا سر خیمے کی دیوار کی جانب گھوما اور اسکا چہرہ اسکے سینے کی جانب ڈھلک گیا۔ وہ لمحہ اب بھی خوابوں میں دیکھتا ہوں۔ اس خاتون کے پیاسے ہونٹ میں کبھی نہیں بھول سکتا۔

میرے ساتھ بیٹھے بوڑھے شخص کی طبیعت ٹھیک ہورہی تھی اتنے میں دو ایرانی رضاکار خیمے کے اندر آئے۔ بہت زیادہ حیران و  پریشان تھے۔  کہنے لگے جتنا جلدی ہوسکے اٹھیں اور اپنے خیموں کی طرف چلیں۔ میں نے کہا: "یہ ممکن ہی نہیں ہے میرے اندر قوت ہی نہیں ہے" مجھے اپنے اوپر اطمئنان نہیں تھا کہ اگر اپنی جگہ سے اٹھا تو چند قدم بھی چل پاؤں گا یا نہیں۔ وہلوگ میری بات نہیں سن رہے تھے۔ انہوں نے اس بوڑھے شخص کو ہاتھوں پیروں سے اٹھا کر اسٹریچر پر ڈال دیا۔ جب وہ خیمے سے نلکنے لگے تو کہنے لگے: "یہاں سے جتنا جلدی ہوسکے نکل جائیں، اگر وہ لوگ آگئے تو ہوسکتا ہے کہ آپ کو نقصان پہنچائیں"

میں موت کے خوف سے اٹھ کھڑا ہوا۔ تین گھنٹے گذر چکے تھے اور شاید اسوقت تک سب کچھ ختم ہوچکا تھا۔ لوگ اپنے اپنے کاموں پر نکل گئے تھے اور سڑکوں پر رش ختم ہوچکا تھا۔ جب میں اپنے خیمے کے دروازے کے پاس پہنچا تو ایک مرد اور خاتون خیمے کے اندر آکر گر گئے، ان کی چیخوں اور رونے کی آوازوں سے پورا خیمہ گونج اٹھا تھا۔ وہ سیدھا اسی عرب جوان کے پاس پہنچ گئے جو زائرین میں پانی وغیرہ تقسیم کررہا تھا۔ وہ جوان زمین پر بیٹھ کر اپنا سر پیٹنے لگا۔ اسکے خاندان کے چار افراد کچھ میٹر آگے ہی بھگدڑ میں کچل کر فوت ہوچکے تھے۔

مجھے کچھ لمحے تو بالکل اندازہ نہیں ہوا میں کہاں جارہا ہوں۔ اپنے پیر اکڑا کر آہستہ آہستہ زمین پر رکھ رہا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ یہ اسفالٹ نہیں بلکہ دہکتا ہوا لوہا ہے۔ جہاں تک میری نظریں دیکھ پارہی تھیں۔ جنازوں کو لائین سے رکھا ہوا تھا۔ میں جنازوں کے درمیان سے گذر رہا تھا اور اپنے زہن میں مرنے والون کی تعداد کا تخمینہ لگا رہا تھا۔ سو افراد، سینکڑوں افراد، ہزاروں۔ میں یقین نہیں کرپارہا تھا کہ کیا حادثہ پیش آیا ہے۔ پولیس کے اہلکاروں کو دیکھ رہا تھا جو سڑک کنارے کھڑے باتیں کررہے تھے اور جنازوں کے درمیان سے گذر رہے تھے۔ وہ لوگ جو چند گھنٹوں پہلے جمرات جا رہے تھے تاکہ رمی جمرات کا فریضہ ادا کرسکیں اب تولیہ اوڑھے سو رہے تھے۔ جب جنازے ختم ہوئے، تو مجھے سمجھ نہیں آئی کہ مجھے کہاں لوٹنا چاہئیے۔ اچانک میرے پیروں نے کام کرنا چھوڑ دیا اور میں نے پہلی مرتبہ وہاں گریہ کرنا شروع کردیا۔ واپس پلٹ کر ان سفید پیکروں کو دیکھنا شروع کیا۔ پوری سڑک جنازوں سے سفید ہوچکی تھی۔ ایک جوان مرد کی آواز پر چونکا جو میرے ساتھ کھڑا تھا اور میرے پیروں کے سامنے چپلیں رکھ رہا تھا۔



 
صارفین کی تعداد: 494


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

تم اشارہ کرتے کہ زیادہ نہ ماریں

ہمارے تفتیشی افسر کا نام رحیم خانی تھا، جو بہت عجیب، عمدہ اور ماہرانہ طریقے سے کام کرتا تھا۔ہم میں سے جس سے بھی پوچھ گچھ کرتا ، کہتا تھا،" میں نے سنا ہے کہ تمہیں قید میں مارتے ہیں؟اگر کوئی شکایت  ہے تو بتاوَتاکہ اسکی خبر لگاوَں
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔


Table './new_oral/counter_ip' is marked as crashed and should be repaired