ساواک کے دفتر میں طلبی

تلخیص و ترجمہ: یوشع ظفر حیاتی

2022-07-19


شاہ کے لئے دعا منگوانے کے پروگرام سے میرے مقابلے کا معاملہ یہاں تک پہنچ گیا کہ ایک دن اسکول میں ایک خط موصول ہوا۔ اس خط میں مجھ سے کہا گیا تھا کہ میں اگلے دن صبح نو بجے رے شہر کی خیابان ہلال احمر پر واقع سیکیورٹی ڈپارٹمنٹ کے دفتر میں رپورٹ کروں۔ خط کو دیکھتے ہی میں بری طرح مضطرب ہوگیا۔ کہ اگر وہاں گیا اور انہوں نے میرا ریکارڈ نکال کر دیکھ لیا اور انہیں یہ معلوم ہوگیا کہ میں وہی سید تقی موسوی درچہ ای ہوں تو میرے لئے مشکلات کھڑی ہوجائیں گی۔ ناگہاں ایک لمھے کے لئے جیل کی سخت یادیں اور گرفتاری کے مختلف واقعات نظروں کے سامنے گھوم گئے۔

میں نے نہ چاہتے ہوئے بھی یہ خبر اسکول کی مینجمنٹ ٹیم کو پہچنا دی۔ انہوں نے سیکیورٹی ڈپارٹمنٹ کی جانب سے بھیجے گئے خط پر فورا ایک میٹنگ بلا لی۔ گفتگو شروع ہوئی: کیا مجھے کل سیکیوڑٹی ڈپارٹمنٹ جانا چاہئیے یا نہیں؟ میٹینگ میں تقریبا دس افراد شامل تھے۔ بعض افراد نے کہا کہ دس بیس دنوں کے لئے مثلا مشہد مقدس یا کہیں اور سفر پر چلے جاؤ۔ یہ بات رد ہوگئی، چونکہ اگر میں بیس دن مشہد میں رہتا تو پھر بھی مجھے بیس دنوں کے بعد واپس لوٹنا تھا اور اگر وہاں سے واپس نہیں آتا تو یہ ایک طرح سے مفروری ہوجاتی۔ میں خود بھی اس مشورے کے خلاف تھا۔ دوسری طرف سے یہ بات بھی ہوتی کہ میں پہلی بار خط ملنے پر سیکیورٹی ڈپارٹمنٹ کیوں نہیں گیا۔ شاید کسی کو یہ خبر ہوگئی ہو کہ میں یہاں موجود تھا اور خط میں نے ہی وصول کیا تھا، لیکن پھر بھی دفتر نہیں گیا۔ بہرحال ہر زاویے سے اس تجویز کو رد کردیا گیا۔

بعض دوستوں نے تجویز دی کہ مریض بن جاؤ اور گھر میں ہی بستر پر پڑ جاؤ، اور اگر بعض دوست ملنے کے لئے گھر پر آئیں تو انکو کہا جائے کہ فلاں بیماری لگ گئی ہے اس لئے گھر پر ہوں۔

بعض افراد نے کہا: سیکیورٹی ڈپارٹمنٹ جا کر یہ کہا جائے کہ اگر کوئی مسئلہ ہے تو ہمیں بتائیں تاکہ ہم آپ کے جواب دے سکیں۔ ان دوستوں کی نظر یہ تھی کہ مجھے سیکیورٹی ڈپارٹمنٹ بالکل بھی نہیں جانا چاہئیے۔ بہرحال مختلف تجاویز دی گئیں۔ بہت زیادہ گفت و شنید کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ مجھے اس خط کے مطابق اگلے دن سیکیورٹی ڈپارٹمنٹ جانا چاہئیے۔ پوری رات اضطراب اور پریشانی میں گذاری، رات بھر سو نہیں سکا اور اگلے دن صبح خدا پر توکل کرتے ہوئے ساواک کے دفتر پہنچ گیا۔ اندرداخل ہوتے ہی نگہبان کو خط دکھا کر رہنمائی حاصل کی اور اس نے مجھے کمرے میں بٹھا دیا۔ اسکمرے کی کھڑکیاں اندر صحن میں کھلتی تھیں اور کمرے میں بس ایک دری بچھی ہوئی میں جا کر اس دری پر بیٹھ گیا۔ میں بہت زیادہ گھبرایا ہوا تھا اور طرح طرح کے سوالات میرے ذہن میں جنم لے رہے تھے۔

اس کمرے میں ڈیڑھ گھنٹہ اکیلے بیٹھا رہا۔ مجھے معلوم تھا کہ یہ بھی ایک طرح کا ٹارچر تھا جو مجھ پر کیا جا رہا تھا۔ مجھے اکیلے بٹھا کر میری گھبراہٹ اور پریشانیکو بڑھانا چاہتے تھے۔

ڈیڑھ گھنٹے بعد میرے پاس آئے اور اوپر والے کمرے میں چلنے کو کہا۔ اُس کمرے میں ایک دری بچھی ہوئی تھی اور ایک بخاری لگی ہوئی تھی۔ موسم بہت ٹھنڈا تھا۔ میں نے اب دری پر بیھنے کو ترجیح نہیں دی بلکہ بخاری کے پاس جا کر کھڑا ہوگیا۔ اپنی عبا و بخاری کے چاروں طرف پھیلا کر خود کو گرم کرنے کی کوشش کی اور اپنی عبا کو بھی بچا رہا تھا کہ کہیں اس میں آگ نہ لگ جائے۔ ایک گھنٹہ اس کمرے میں یا بیٹھا رہا، یا بخاری کے پاس ٹہتا رہا لیکن مجھ سے ملنے کوئی بھی نہیں آیا۔ اب مجھے ذلت کا احساس ہونے لگا تھا۔

وقت کاٹے نہیں کٹ رہا تھا تقریبا آدھے گھنٹے بعد ایک افسر ہاتھ میں کاغذ لئے تفتیش کرنے اندر آیا۔ مجھے کاغذات تھما کر کہنے لگا یہ فارم ہیں انہیں بھرو اور یہ کہہ کر واپس چلا گیا۔

فارم میں ہر طرح کی اطلاعات لکھنی تھیں۔ میں پریشان ہوگیا اور فارم کو جہاں جہاں بہتر سمجھا پر کردیا۔

وہ افسر دوبارہ آیا اور اس نے جو سوال کیا اس نے مجھے تھوڑا سکون دیا۔ اس نے پوچھا: اسمبلی میں دعا کیوں نہیں مانگتے؟ میں اس لمحے تک یہ سوچ رہا تھا کہ شاید کوئی اور بات ان کو معلوم ہوگئی ہے۔ میں نے اس کے جواب میں کہا: ہم تو دعا مانگتے ہیں؟ کہنے لگا: کیسی دعا مانگتے ہو؟ میں نے اس سوال کے جواب میں گذشتہ رات ہونے والی میٹینگ میں یہ طے کیا تھا کہ اگر یہ سوال پوچھا گیا تو کیا جواب دیا جائے گا۔ میں نے کہا: بعض اوقات الہی عظم البلاء اور بعض اوقات اللھم کل لولیک پڑھتے ہیں، اسی طرح بعض اوقات فارسی میں بھی دعائیں مانگی جاتی ہیں اور ہمارے اوپر کوئی پابندی نہیں ہے کہ کس دن کون سے دعا پڑھنی ہے۔

میں نے یہ دعائیں لکھ کر اپنی جیب میں رکھ لی تھیں جنہیں جیب سے نکال کر اس کو دکھایا اور کہا کہ اصل میں جب آپ کےیہاں سے افسر آیا تو اس دن ہم یہ دعا پڑھ رہے تھے۔ اگر وہ روزانہ اسکول آتا تو اسے معلوم ہوتا کہ ہم کس طرح یہ دعائیں پڑھتے ہیں۔ اور دوسری طرف میں چونکہ اپنے گھر میں اکیلا رہتا ہوں اور بعض اوقات فجر کی نماز کے بعد سوتا ہوں تو آنکھ دیر سے کھلتی ہے اور پھر جب اسکول پہنچتا ہوں تو دیر ہوچکی ہوتی ہے اور تالا کھولنے میں اور گھنٹی بجانے میں اتنی دیر ہوجاتی ہے کہ پھر اسمبلی کا وقت نکل چکا ہوتا ہے۔

وہ افسر میری باتیں سن کر چلا گیا اور پھر ایک گھنٹے بعد آ کر کہنے لگا۔ آپ ایک تحریر لکھ کر دیں۔میں نے فورا بات گھماتے ہوئے کہا کہ مجھے تو اس اسکول میں رہنا ہی نہیں ہے یہ لوگ تنخواہ بہت کم دیتے ہیں ۔ میں نے بات پیسے کے مسئلے طرف گھما دی کہ میری تنخواہ کا مسئلہ ہے۔ میں نے مزید کہا کہ آُ لوگ ہماری مدد کریں یہ تنخواہ بہت کم ہے۔

افسر نے کہا: ٹھیک ہے آپ جائیں ہم آپ کو بتاتے ہیں کیا کرنا ہے۔ اس طرح میں ساواک کے دفتر سے جان چھڑا کر باہر نکل آیا۔ ایک فاتح اور خوشحال شخص کی طرح جو کسی بڑی مصیبت سے نجات حاصل کرلیتا ہے۔

 

 



 
صارفین کی تعداد: 504


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

تم اشارہ کرتے کہ زیادہ نہ ماریں

ہمارے تفتیشی افسر کا نام رحیم خانی تھا، جو بہت عجیب، عمدہ اور ماہرانہ طریقے سے کام کرتا تھا۔ہم میں سے جس سے بھی پوچھ گچھ کرتا ، کہتا تھا،" میں نے سنا ہے کہ تمہیں قید میں مارتے ہیں؟اگر کوئی شکایت  ہے تو بتاوَتاکہ اسکی خبر لگاوَں
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔