انقلاب اسلامی کے بعد بین الاقوامی سطح پر ایران کا تشخص

انتخاب: فائزہ ساسانی خواہ
ترجمہ: سید نعیم حسین شاہ

2022-07-14


افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ نہ تو انقلاب کے بارے میں اور نہ ہی جنگ کے بارے میں، بین الاقوامی سطح پر سنجیدگی سے کام نہیں ہو رہا تھا۔ انقلاب کے بعد کچھ ممالک ایران کے حوالے سے محتاط اور وحشت زدہ تھے۔ ایران مخالف مہنگے پروپیگنڈوں کی وجہ سے کئی حقائق کو برعکس پیش کیا جارہا تھا اور ایرانی ذرائع پر بھی حقائق پیش کرنے پر پابندی عائد تھی۔ البتہ ہمارے حکومتی ادارے، جو ابھی ہی قائم ہوئے تھے، مستحکم نہ تھے۔ اور وزارت خارجہ میں انقلابی ٹیم کے افراد بھی اپنے فرائض سے بقدر کافی آگاہ نہ تھے، کیونکہ ماضی میں کبھی اس کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی تھی۔


ادارہ راہنمائی براے ثقافتی امور اس عرصے میں بند تھا۔ یہی احساس ہوتا تھا کہ بین الاقوامی سطح پر کوئی کام نہیں ہو رہا۔ اور یہ بات اس امر کا باعث بنی کہ ملک کے ذمہ دار افراد مختلف طریقوں سے انقلاب کے پیغام اور جنگی حقائق کو ملکی حدود سے باہر پیش کرنے کے لئے سنجیدگی سے سوچیں۔ اس وقت ایڈورٹائزنگ آرگنائزیشن نئی نئی بنی تھی جس کی ذمہ داری آقاے جنتی و آقای حقانی کے کندھوں پہ تھی۔


طے یہ پایا کہ ایسے افراد کی ایک ٹیم کو مختلف ممالک کی طرف روانہ کیا جائے، جو ملک کے اندر سیاسی اور ثقافتی امور کو چلا رہے ہیں، تا کہ وہاں جاکر انقلاب اور جنگ کے بارے میں حقائق کو وہاں کے عوام و خواص کے سامنے پیش کریں۔ تجربات اور افراد کے معلومات کی اساس پر ایک کمیٹی بنائی گئی جس کے اراکین میں میں بھی شامل تھا۔ ملکی سطح کے ذمہ دار افراد کو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ 11 فروری1981 کو دس سے پندرہ دنوں کے لئے وفود کی شکل میں دوسرے ممالک کا دورہ کریں اور انقلاب کے مسائل کا تحلیلی جائزہ پیش کریں اور اس موضوع کو عالمی سماعتوں تک پہونچائیں۔


آیت اللہ خامنہ ای کچھ افراد کے ساتھ ہندوستان اور آقای سید محمد خامنه‌ای چین کے لئے روانہ ہوگئے۔ آقاےربانی املشی الجزائر اور دیگر وفود بھی مختلف ممالک کے دورے پر نکل گئے۔ ان وفود کے قائدین، مختلف سیاسی اور انقلابی رہنما تھے۔


یمن اور سعودی عرب کا سفر
ہمیں یمن اور سعودی عرب جانے کا مشن ملا۔ ہمارے وفد کے سربراہ آقاے غلام حسین حقانی تھے جو چند ماہ بعد پارلیمنٹ میں ہونے والے بم دھماکوں میں شہید ہوگئے۔ آقاے عراقی بھی اسی وفد کا ایک رکن تھے۔ آقاے طاھا ہاشمی کہ جنہیں آقاے حقانی کا داماد بنے مختصر وقت ہوا تھا، لوازمات کی سپلائی کے انچارج تھے۔ آقاے عراقی بھی اسی وفد کا ایک رکن تھے۔ اس گروپ میں اٹھارہ انیس سال کا ایک جوان بھی تھا جس کا نام باسم شریعتمداری تھا۔ یہ عراقی باشندہ تھا اور نہایت خوش سلیقہ اور لائق انسان تھا۔ عربی اور فارسی دونوں زبانوں پر عبور رکھتا تھا۔ خیر، ملک شام تک، ہم اور دیگر وفود ساتھ تھے۔ شام پہونچ کر ہم نے الگ ہو جانا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ آقاے ربانی املشی ، آقاے جلال الدین فارسی اور آقاے سروش اپنے اپنے افراد کے ساتھ شام تک ہمارے ساتھ تھے۔ شام ایئرپورٹ پہ اترتے وقت رات ہوچکی تھی۔ آقاے جلال الدین فارسی اور آقاے ربانی املشی کے ساتھ ہم "پاویون" ایئرپورٹ کے اندر چل رہے تھے کہ ہمیں آقاے سروش کی عدم موجودگی کا احساس ہوا۔ انہیں ڈھونڈنے کی خاطر ادھر ادھر دیکھنے لگے۔ وہیں ایک کمرے میں ان کو نماز مغرب ادا کرتے ہوئے پایا۔ میں نے احباب بتایا تو وہ بھی کہنے لگے: "بھتر ھے ہم بھی نماز پڑھنے کی جگہ تلاش کریں" آقای جلال‌الدین فارسی نے کہا: جلدی نہیں، ہم ہوٹل میں پڑھ لیں گے۔ ڈاکٹر سروش نماز کے بعد ہمارے پاس آگئے۔ سب نے کہا: "وقت کافی گذر گیا ہے، بہتر ہے رات کا کھانا ہم ایئرپورٹ میں ہی کھا لیں پھر ہوٹل چلیں گے۔" ہم ایک سینڈوچ شاپ کی طرف بڑھے لیکن آقاے سروش ہمارے ساتھ نہیں آئے۔ استفسار پہ انہوں نے کہا: "میں نہیں کھاوں گا" ہم نے پوچھا: "بھوک نہیں لگی کیا؟" کہنے لگے: "لگی ہے لیکن صبر کرنا بہتر ہے۔" ہم نے کہا: "اس کا راز کیا ہے؟" وہ بولے: "ان دکانوں میں رکھی الکحل کی بوتلیں دیکھیں ذرا، میں ایسی جگہوں پہ کھانا کھانے سے گریز کرتا ہوں۔" ان کی یہ بات سن کر کسی نے بھی وہاں کھانا نہیں کھایا۔ بلکہ ہوٹل جاکر سب نے کھانے کا انتظام کیا۔ پھر حضرت زینب علیھا السلام کی زیارت کر کے سورج نکلنے سے پہلے ہم یمن کے دارالحکومت صنعا کی جانب روانہ ہو گئے۔


انقلاب کی عظمت و وقار کی وجہ سے ایرانی وفد کا شاندار استقبال کیا گیا۔ ہم جس ملک میں بھی پہونچے ہمارے استقبال میں کوئی کمی نہ چھوڑی گئی۔ ہمارے صنعا ایئرپورٹ پر پہونچے ہی یمن کی اہم سیاسی بڑی شخصیات نے ہمارا استقبال کیا۔ وہاں ہمارے سفیر آقای عبد اللہ جہان بین تھے۔ میزبان حضرات نے ہمارے قیام و طعام کا انتظام بھی کر رکھا تھا۔ لیکن شہید حقانی نے کہا کہ ہم تو سفارت خانے جائیں گے۔ ہماری یہ خواہش ان کے لیے عجیب اور وہاں کے رسم و رواج کے خلاف تھی۔ (خیر ہم لوگ سفارتخانےچلے گئے)سفارت خانے میں کسی قسم کے انقلابی آثار نہ تھے۔ اور یمن میں ایرانی سفیر در اصل ایک کردی اھلسنت برادر تھے، جبکہ یمن میں اکثریت زیدی شیعوں کی تھی۔ ہم اس شہر کو تفصیل سے دیکھنا چاہتے تھے اور یہ بات انہیں ہضم نہیں ہورہی تھی۔ بعض اوقات ہم میں سے کوئی ایک فرد خود کو ڈرائیور بتا کر سفارتی گاڑی لے کر باہر نکلنا بھی چاہتا تو ایک باڈی گارڈ ہمارے ساتھ ہو لیتا اور یوں ہمارا کام سخت ہوجاتا۔ اب یہ ڈرائیور ذرا پھرتی دکھاتا تو گاڑی کی رفتار بڑھا کر آگے نکل جاتا اور نتیجتا وہ لوگ ہمیں گم کر دیتے۔ ایک دن ہم سفارت کے کلرک کے بیٹے کو جس کی عمر سات آٹھ سال تھی، ساتھ لے کر نکل گئے، راستے میں اس سے جنگ اور انقلاب کے بارے میں پوچھنے لگے۔ اس نے بتایا یہاں ایسا کچھ نہیں ہے۔ جوں ہی ایک وفد کے پہلی بار آنے کی اطلاع ملی تو امام خمینی رح کی چند تصاویر سفارت کے اندر لگا دی گئیں اور ابھی حال میں ہی ایرانی پرچم بھی لگایا گیا۔ یہ بات بخوبی واضح ہو رہی تھی کہ سفارت نے انقلاب کے حوالے سے کوئی بھی خاطر خواہ فعالیت نہیں دکھائی تھی۔ ہمارا وہاں کوئی بھی ثقافتی دفتر نہ تھا۔ ہم نے مختلف جگہوں پہ تقریر اور جلسہ کرنے کی درخواست کی، ہم مختلف جگہوں جیسے یونیورسٹیوں، سکولوں اور اداروں کا دورہ کرتے۔ آقاے حقانی وفد کے سپیکر کے عنوان سے انقلاب اور جنگ کے متعلق گفتگو کرتے اور مطالعاتی بروشر وغیرہ تقسیم کرتے۔ صنعا شہر دارالحکومت ہونے کے باوجود انتہائی پسماندہ دکھائی دے رہا تھا۔ اتنا بڑا ملک ہوتے ہوئے بھی کئی سڑکیں کچی تھیں، تعمیراتی ڈھانچہ بہت ابتدائی درجے کا تھا۔ کوڑے کرکٹ سے گلیاں بھری پڑی تھیں۔ ظہر کے نزدیک ہم ایک مسجد میں پہونچے۔ لوگوں کو جب پتہ چلا کہ ہم ایرانی ہیں تو انہوں نے بھرپور انداز میں اپنے احساسات و جذبات کا اظہار کیا۔ وہ لوگ مساجد میں تصاویر کو لے جانا حرام سمجھتے تھے، جبھی کوئی تصویر وہاں دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ اور جب ہمارے احباب نے بیگ سے امام خمینی رح کی تصاویر نکال کر دکھائیں تو اب وہ لوگ استثائی طور  امام خمینی رح کی تصاویر پہ مثبت ردعمل دکھانے لگے اور امام کی ایک ایک ایک تصویر کی جانب دسیوں ہاتھ بڑھنے لگے، اب وہ ہمارے ہاتھ اور پیشانیوں کے بوسے بھی لینے لگے۔ ان میں سے کسی نے کہا: "مسجد میں تصویر لانا جائز نہیں ہے۔" ایک جوان نے اس کے جواب مین کہا: اس تصویر کی اور بات ہے۔ "یہ خمینی کی تصویر ہے جو علی ابن ابی طالب ع کی اولاد میں سے ہے،" اور ایسا اس لئے تھا کہ زیدی شیعہ حضرت علی علیہ السلام سے بہت عقیدت رکھتے ہین۔



 
صارفین کی تعداد: 483


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

تم اشارہ کرتے کہ زیادہ نہ ماریں

ہمارے تفتیشی افسر کا نام رحیم خانی تھا، جو بہت عجیب، عمدہ اور ماہرانہ طریقے سے کام کرتا تھا۔ہم میں سے جس سے بھی پوچھ گچھ کرتا ، کہتا تھا،" میں نے سنا ہے کہ تمہیں قید میں مارتے ہیں؟اگر کوئی شکایت  ہے تو بتاوَتاکہ اسکی خبر لگاوَں
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔