ابوالقاسم اقبالیان

ہم بت توڑتے ہیں شیشے نہیں

ترجمہ: یوشع ظفر حیاتی

2022-05-26


 

سن ۱۹۷۸ میں ورامین کی مسجد امیرالمومنین ع میں مجلس پڑھتا تھا۔ حکومت ان علماٗے کرام کے بارے میں حساس رہتی تھی جو وہاں گفتگو کیا کرتے تھے۔ چونکہ بہت سارے انقلابی علماٗے کرام وہاں گفتگو نہیں کرسکتے تھے اور ساواک کو بھی علم تھا کہ عبداللہ کاشانی وہی ابوالقاسم اقبالیان ہے، مجسد کی انتظامیہ نے مجھے تقریر کرنے کے لئے بلایا۔ میں اس سال کی گرمیوں سے مختلف مناسبتوں پر وہاں جایا کرتا تھا۔

ورامین کے انقلابیوں کا مرکز یہی مسجد امیرالمومنین ع اور امام بارگاہ بنی فاطمہ تھا جو دونوں ہی خیابان پیشوا کے سنگم پر بنائے گئے تھے۔ مجھ سے پہلے یہاں شیخ جعفر شجونی اور حاج آقا فلسفی جسے بزرگ انقلابی علمائے کرام ہمیشہ تشریف لایا کرتے تھے۔ یہاں پر انقلابی تقریروں کی وجہ سے ساواک حساس ہوچکی تھی اس لئے اس نے امام بارگاہ ند کروا دیا تھا۔ ابھی امام بارگاہ کو تالا لگے کچھ ہی مہینے ہوئے تھے ایک دن میر رج اور معصوم شاھی صاحبان جو اس امام بارگاہ کے منتظمین میں سے تھے میرے پاس آئے اور مجھ سے تقاضہ کیا کہ میں امام بارگاہ کے دروازے کھلواؤں۔ طے پایا کہ نو جنوری ۱۹۷۹ کو قم کے عوام کے قیام کی یاد میں منعقدہ پروگرام سے مسجد امیرالمومنین ع میں خطاب کروں گا اور مجلس کے بعد لوگوں کو امام بارگاہ کی طرف لے جاؤں گا اور وہان پنچ کر دروازے کھول دیئے جائیں گے۔

اس دن مسجد بہت زیادہ بھری ہوئی تھی، تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی، اس بہانے سے کہ عوام سڑکوں پر نہ بیٹھے میری تقریر کے دوران چپکے سے امام بارگاہ کا دروازہ کھول دیا گیا۔ میں نے اسی دوران لوگوں سے بلند آواز سے درود بھیجنے کو کہا۔ جو لوگ سڑکوں پر بیٹھے ہوئے تھے وہ امام بارگاہ میں جا کر بیٹھ گئے۔ آدھے گھنٹے میں امام بارگاہ بھر گئی تھی، اسکے باوجود بھی عوام کی بڑی تعداد سڑکوں پر بیٹھی ہوئی تھی۔ میں نے بھی تقریر کے دوران پہلوی حکومت کے بارے میں جو کچھ جانتا تھا بیان کردیا۔ عوام کی آنکھوں میں خوشی دیکھی جاسکتی تھی۔

میں نے اس آیت پر اپنی گفتگو کا اختتام کیا۔ و مَن أظلمُ ممّن مَّنعَ مساجدَالله أن یذکر فیها اسمهُ وسعی فی خرابها. لوگ بھی میرے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے اور ہم سب مسجد صاحب الزمان عج کی جانب چل پڑے تاکہ وہاں مغربین کی نماز پڑھی جاسکے۔ ابھی تک سورج چمک رہا تھا اور عوام کا ازدھام میدان شاہ پر پہنچ چکا تھا۔ اسی دوران ورامین کے ایک انقلابی ہادی احمدی نے میرے پاس آکر کہا: " حاج آقا ممکن ہے کہ کچھ لوگ پقلیس کے کیوسک پر حملہ کر کے توڑ پھوڑ کریں اور پھر پولیس والے اسی کو بہانہ بنا کر ہم پر فائرنگ کردیں۔ آپ عوام سے بات چیت کریں کہ یہ وقت ایسے کاموں کا نہیں ہے۔

شاہ اسکوائر پر پہنچنے سے پہلے شہرداری کی بلڈنگ کے پاس عوام کو روک لیا۔ میں خود فائر بریگیڈ کی گاڑی کے پاس پہنچا تاکہ اسکے اوپر چڑھ کر تقریر کرسکوں۔ جیسے ہی گاڑی پر چڑھنے لگا، شہرداری کے ڈائریکٹر نے میرا راستہ روکنے کی کوشش کی، میں نے اس کے سینے پر مکا مار کر اپنے آپ سے دور کیا۔ گاڑی پر چڑھ کر عوام سے مخاطب ہوا: " دوستو ہم بت توڑتے ہیں شیشے نہیں توڑتے۔ ہم کہیں کے بھی شیشے نہیں توڑیں گے۔ ہم مسجد صاحب الزمان عج جانا چاہ رہے ہیں اور کہیں اور نہیں جائیں گے"

میری تقریر کے بعد مشتعل عوام تھوڑی ٹھنڈی ہوگئی اور سب کو علم ہوگیا کہ ہمارا ہدف پولیس اسٹیشن کو نقصان پہچانا نہیں ہے۔ اس دن کا مظاہرہ نہایت پر امن طریقے سے اختتام پذیر ہوا اور ہم نماز مغربین کے لئے مسجد صاحب الزمان عج پہنچ گئے۔

 

 

منبع: حجره شماره دو، خاطرات ابوالقاسم اقبالیان، نویسنده رضا یزدانی، تهران، شرکت انتشارات سوره مهر، 1399، ص 136 – 134.

 



 
صارفین کی تعداد: 327


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
حسن مولائی کی یادیں

سو افراد، سینکڑوں افراد، ہزاروں

وہ لوگ جو چند گھنٹوں پہلے جمرات جا رہے تھے تاکہ رمی جمرات کا فریضہ ادا کرسکیں اب تولیہ اوڑھے سو رہے تھے۔ جب جنازے ختم ہوئے، تو مجھے سمجھ نہیں آئی کہ مجھے کہاں لوٹنا چاہئیے۔ اچانک میرے پیروں نے کام کرنا چھوڑ دیا اور میں نے پہلی مرتبہ وہاں گریہ کرنا شروع کردیا۔ واپس پلٹ کر ان سفید پیکروں کو دیکھنا شروع کیا۔ پوری سڑک جنازوں سے سفید ہوچکی تھی۔ ایک جوان مرد کی آواز پر چونکا جو میرے ساتھ کھڑا تھا اور میرے پیروں کے سامنے چپلیں رکھ رہا تھا۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔