مصطفی چمران

فاطمہ کثیری
تلخیص و ترجمہ: یوشع ظفر حیاتی

2022-04-30


شہید مصطفی چمران ایران اور لبنان کی ایک موثر شخصیت، اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر دفاع اور عراق کی جانب سے مسلط کردہ جنگ میں گوریلا جنگوں کے بانی تھے۔

مصطفی چمران ۹ مارچ ۱۹۳۳کو ایران کے دارالحکومت تہران میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم مدرسہ دارالفنون اور البرز میں حاصل کی اسکے بعد پندرہ سال کی عمر میں تہران کی مسجد ہدایت میں آیت اللہ محمود طالقانی کے تفسیر قرآن کے اور آیت اللہ مطہری کے فلسفے اور منطق کے دروس میں شرکت کی۔

شہید مصطفی چمران نے سن ۱۹۴۳ میں تیل کو قومیائے جانے کی تحریک کے دوران اپنی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ ۲۸ مرداد کی بغاوت اور ڈاکٹر مصدق کا تختہ الٹے جانے کے دوران ایران کی قومی استقامتی تحریک "نھضت مقاومت ملی ایران" میں شامل ہوگئے اور تہران کے ٹیکنیکل کالج میں داخلہ حاصل کیا۔اسی سال ۸ دسمبر ۱۹۴۳ کو تہران یونیورسٹی میں امریکی نائب صدر ریچرڈ نیکسن کی آمد پر اسٹوڈنٹس کی جانب سے مظاہرے میں پیش آںے والے حادثے میں زخمی ہوگئے۔

شہید مصطفی چمران کو اسلامک اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن تہران یونیورسٹی کے اراکین میں بہت جلد ایک موثر اور با صلاحیت شخصیت کے طور پر پذیرائی ملنا شروع ہوگئی اور سن ۱۹۵۸ میں آپ الیکٹرو مکینک کے شعبے میں ڈگری حاصل کرنے کے بعد اسی یونیورسٹی کے ٹیکنکل ڈپارٹمنٹ میں استاد کے طور پر خدمات فراہم کرنے لگے۔ اسی سال ٹیکساس یونیورسٹی میں اسکالر شپ حاصل کی اور ماسٹرز کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد الیکٹریکل انجینئرنگ میں تعلیم کے سلسلے کو آگے بڑھتے ہوئے کیلی فورنیا کی بروکلے یونیورسٹی سے پلازما فزکس میں اپنا پی ایچ ڈی مکمل کیا۔

سن ۱۹۶۱ میں امریکہ میں مقیم ایرانی اسٹوڈنٹس کی آرگنائزیشن کے پہلے اعزازی اور دائمی رکن بنے لیکن اس تنظیم کی خاص جہت کی وجہ سے بعض قابل اعتماد اسٹوڈنٹس کے ساتھ مل کر کیلی فورنیا میں ایرانی اسٹوڈنٹس کی اسلامی انجمن تشکل دی اور پہلوی حکومت کے خلاف سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے آپ کی اسکالر شپ ختم کردی گئی۔

سن ۱۹۶۱ میں محترمہ تھامسن ھیمن کے ساتھ رشتہ ازدواج سے منسلک ہوئے اور امریکہ کے ایک اہم ترین علمی صنعتی تحقیقاتی ادارے بِل انسٹیٹیوٹ سے منسلک ہونے کے بعد نیو جرسی منتقل ہوگئے۔ سن ۱۹۶۳ میں ابراہیم یزدی کے ساتھ مصر کا سفر کیا اور دو سال گوریلا اور پارتیزان جنگوں کی مہارت حاصل کی اور ایرانیوں کو گوریلا جنگوں کی مہارت سکھانے کی ذمہ داری قبول کی۔

شہید چمران سن ۱۹۶۳ کو امریکہ واپس لوٹ گئے اور سن ۱۹۷۰ میں امام موسی صدر کی دعوت پر لبنان چلے گئے۔ انکی اہلیہ لبنان میں سخت حالات زندگی کی وجہ سے اپنے بچوں کے ساتھ امریکہ واپس چلی گئیں اور ان سے جدا ہوگئیں۔ شہید چمران نے لبنان میں اپنی سکونت کے دوران جبل عامل میں ایک ٹیکنیکل انڈسٹریل اسکول چلایا اور سن ۱۹۷۵ میں لبنان میں ہی محترمہ غادہ جابر سے شادی کرلی۔

سن ۱۹۷۲۔ ۷۳ میں غاصب صیہونی حکومت کے ساتھ جنوبی لبنان میں مسلح جنگ میں شرکت کی اور اس دوران فلسطینی قائدین من جملہ یاسر عرفات سے رابطے میں رہے۔ ۳۱ اگست ۱۹۷۸ کو اپنے دوست اور ہم رزم امام موسی صدر کے اغوا کے بعد امام خمینی رح سے ملاقات کے شوق میں ۲۲ سال بعد فروری ۱۹۷۹ کو ایران واپس لوٹ گئے۔

۱۹۷۹ کو اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت دفاع کی جانب سے کردستان کے شہر پاوہ میں علیحدگی پسند عناصر کی سرگرمیوں کا قلع قمع کرنے کے آپریشن کی سربراہی قبول کی اور امام خیمنی رح کے تاریخی فرمان کے بعد ۱۸ اگست ۱۹۷۹ کی صبح شہید چمران اور انکے ساتھیوں کی جدوجہد اور استقامت کے نتیجے میں پاوہ شہر ۱۹ اگست ۱۹۷۹ کو آزاد ہوگیا۔

شہید چمران کو ۷ نومبر ۱۹۷۹ کو امام خمینی رح نے ایران کا وزیر دفاع مقرر کیا اور آپ ۱۰ مئی ۱۹۸۰ کو قومی سلامتی کونسل کے رکن منتخب ہوئے، اسی طرح آپ جون ۱۹۸۰ کو ایرانی پارلیمنٹ مجلس شورائے اسلامی کے پہلے انتخابات میں تہران سے رکن منٹخب ہوئے۔

ایران پر مسلط کردہ جنگ شروع ہونے کے بعد شہید چمران آیت اللہ خامنہ ای کے ہمراہ جو اسوقت قومی سلامتی کونسل میں امام خمینی رح کے نمائندے اور مجلس شورائے اسلامی کے رکن تھے، اہواز گئے اور بعثی فوج پر پہلا گوریلا حملہ کیا جو اسوقت اہواز کے نزدیک پہنچ چکے تھے۔ اسی کے ساتھ ساتھ اہواز میں فوج، سپاہ اور رضاکار فورسز کو ہماہنگ کرکے گوریلا جنگوں کا مشترکہ مرکز تشکیل دیا۔

ڈاکٹر چمران نے اس مرکز میں انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ کی بنیاد رکھی جس نے پورے ملک میں کم ترین مدت میں اسٹریٹجک مواصلاتی نظام کا جال بچھا دیا۔ اس ڈپارٹمنٹ نے دریائے کارون کے کنارے پانی کے پمپ لگا کر اس کا پانی عراقی ٹینکوں کی طرف چھوڑ دیا جس کی وجہ سے اہواز کی سمت عراقیوں کی پیشرفت رک گئی۔

نومبر ۱۹۸۰ میں سوسنگرد کی آزادی کے آپریشن کے دوران آپ کا بایاں پیر زخمی ہوگیا لیکن آپ مکمل طور پر صحتیاب ہونے سے پہلے ہی دوبارہ محاذ جنگ پر پہنچ گئے۔ ۲۱ جون ۱۹۸۱ کو ڈاکٹر مصطفی چمران دہلاویہ کے علاقے میں فرنٹ لائن پرمورچوں کے معائنے کے دوران سر کے پچھلے حصے پر بم کے ٹکڑے لگنے سے زخمی ہوگئے۔ سوسنگرد کے مقامی اسپتال میں آپ کو ابتدائی طبی امداد دی گئی اور وہان سے اہواز کے اسپتال منتقل کئے جانے کے دوران ایمبولینس میں ہی آپ شہید ہوگئے۔ آپ کو ۲۳ جون ۱۹۸۱ کو تہران کے بہشت زہرا قبرساتن میں سپردخاک کیا گیا۔

شہید چمران کی تحریروں میں دعاؤں اور عارفانہ مناجات کے علاوہ متعدد کتابیں شامل ہیں جنہیں شائع کیا جاچکا ہے۔

 



 
صارفین کی تعداد: 776


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

تم اشارہ کرتے کہ زیادہ نہ ماریں

ہمارے تفتیشی افسر کا نام رحیم خانی تھا، جو بہت عجیب، عمدہ اور ماہرانہ طریقے سے کام کرتا تھا۔ہم میں سے جس سے بھی پوچھ گچھ کرتا ، کہتا تھا،" میں نے سنا ہے کہ تمہیں قید میں مارتے ہیں؟اگر کوئی شکایت  ہے تو بتاوَتاکہ اسکی خبر لگاوَں
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔