شیعہ قوم فلسطین کے قابضوں سے متنفر ہے

ترجمہ: ابو زہرا علوی

2022-03-13


امام خُمینی نے فروری ۱۹٦۴میں ایک بیانیے کے ذریعے سے فلسطین کے قابضوں کے تسلط اورپہلوی حکومت کے توسط سے بہت سے کاموں میں ان کی دخل اندازی اور ملک کی اقتصادیات پر قبضے کو افسوسناک ٹھرایا۔  بیانیہ کچھ یوں تھا۔

 

بسم اللّه‌ الرحمن الرحیم

و سَیَعلَمُ الَّذِینَ ظَلَمُوا أَیَّ مُنقَلَبٍ یَنقَلِبُونَ(1)

اگر میں حجتہ السلام جناب طالقانی اور جناب بازرگانی کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے بارے میں کچھ کہتا  تو ان کی مصبتوں میں اضافہ ہی ہوتا دس سال کی قید پندرہ سال میں تبدیل ہوجاتی۔  اب جبکہ ظالم عدالت سے تجدید نظر کا حکم صادر ہوچکا ہے،  میں مجبور ہوں ایران کی صورت حال پر افسوس کروں خاص کر عدالت کی صورت حال پر۔  اتنا خلاف قانون ومقررات عمل ہوتاہے کہ اس پر افسوس و تعجب ہے:  مقدمات کی پوشیدہ شنوائی،  جرم ثابت ہونے سے قبل قید،  مظلومین کے دفاع پر بے اعتنائی۔     میں اور باضمیر افراد و دیانتدار ہمیں افسوس ہے کہ ان افراد کی مظلومیت پر کے جنکا جرم اسلام کا دفاع ہے اور قانون اساسی انہیں عمر قید سناتا ہے وہ بوڑھاپے اور کمزوری کے عالم میں غیروں کے ایما پر قید کاٹ رہے ہیں۔  ووٹ ڈالنے والے اس سے زیادہ سختی کے منتظر رہیں۔

اس سے بڑھ کر افسوس اسرائیل کا تسلط ہے کہ جس نے حکومت کی مدد سے ملک کے حساس اداروں اور ان اقتصادیات پر اپنا قبضہ جمالیاہے۔  اسرائیل اسلامی حکومتوں سے جنگ کی حالت میں ہے،  اور ایران کی حکومت اس سے دوستوں جیسا سلوک کرہی ہے اور اسے اپنی تجارت کو پھیلانے میں  ہر طرح کی سہولیات فراھم کررہی ہے۔

میں مکرر خطرے کا اعلان کررہاہوں:  مقدسات کی دیانت کو خطرہ،  مملکت کے استقلال کو خطرہ،  ملک کی اقتصاد کوخطرہ۔  میں کلمہ«الکُفرُ مِلَّةٌ وَاحِدَةٌ(2)»مجھے افسوس ہے کہ سارے ادارے کھانے میں لگے ہیں، انکی یہ بات کلام الہی کے خلاف ہے،  اسرائیل اور ان کے کارندوں کی پشتبانی کے لئے ہے،  اسرائیل کو پہچنوانے کا مقدمہ ہے،  اسرائیلی کارنوں اور گمراہ اور منحرف گروہ(۳) کی پشتبانی کے لئے ہے۔  مجھے بے افسوس ہے کہ مملکت اسلامی میں اسلامی قانون اساسی کے برخلاف ایسا مواد کہ جو نص قرآن کے خلاف اور ضروریات کے منافی ہے نشر ہورہاہے،  اور حکومتیں انکی حمایت کررہی ہیں۔  کتاب انتقاد کہ جو قرآن کے خلاف لکھی گئی ہے،  خاندان کے قوانین کہ احکام ضروریہ اسلامی کے منافی اور نص قرآن کے خلاف ہے منتشر کئیے جارہے ہیں،  کوئی نہیں کہ جو حکومتوں کی نیتیوں کی وضاحت کرے۔  تبلیغ احکام و عزاداری سید مظلوم کے  ساتھ اداروں کے رویوں پر مجھے افسوس ہے۔  جو بھی  بطورعام ظلم و ظالم کی بات کرتا ہے،  یاتو قید کردیا جاتا ہے یا پھر مدت ہوئی قید میں ہے۔  عزا کی مجلسیں دباؤ کے عالم میں ہیں یا بانئ مجلس دباؤ میں تھے یا ہیں۔

متدین افراد کو اس جرم میں کہ انھوں جلوس نکالا اور اس جلوس میں اسرائیل مردہ باد کے نعرے لگائے،  انہیں قید میں رکھا  اور ان پر  تشدد کیا۔  وہ اب بھی قید میں ہیں۔

میں تمام ممالک اسلامی اورہر جگہ کے مسلمانوں کو یہ بتادینا چاہتاہوں کہ ملت شیعہ اسرائیل اور اسرائیل کے کارندوں سے نفرت کرتی ہے،  جو حکومتیں اسرائیل سے ساز باز کرتیں ہیں ان سے نفرت کرتے ہیں۔  ملت ایران اسرائیل منفور سے سازباز نہیں کررہی ملت ایران اس گناہ سے بری ہے۔  یہ حکومتیں ہیں جنکو ملت کی تائید حاصل نہیں۔ دعا گو ہوں کہ خدا عظمت اسلام واحکام اسلام کی حفاظت کرے۔

روح‌اللّه‌ الموسوی الخمینی

 منبع:

1 ـ آیۀ 227 سورۀ شعراء:اورعنقریب ظالموں کو یہ معلوم ہوجائے گا کہ وہ کس انجام کی جانب پلٹائیں جائیں گے

2 ـیہ حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ سے منسوب ہے

3 ـ فرقۀ بهاییت.

* صحیفه امام، ج 1، صص 261 - 262

 



 
صارفین کی تعداد: 631


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
حسن مولائی کی یادیں

سو افراد، سینکڑوں افراد، ہزاروں

وہ لوگ جو چند گھنٹوں پہلے جمرات جا رہے تھے تاکہ رمی جمرات کا فریضہ ادا کرسکیں اب تولیہ اوڑھے سو رہے تھے۔ جب جنازے ختم ہوئے، تو مجھے سمجھ نہیں آئی کہ مجھے کہاں لوٹنا چاہئیے۔ اچانک میرے پیروں نے کام کرنا چھوڑ دیا اور میں نے پہلی مرتبہ وہاں گریہ کرنا شروع کردیا۔ واپس پلٹ کر ان سفید پیکروں کو دیکھنا شروع کیا۔ پوری سڑک جنازوں سے سفید ہوچکی تھی۔ ایک جوان مرد کی آواز پر چونکا جو میرے ساتھ کھڑا تھا اور میرے پیروں کے سامنے چپلیں رکھ رہا تھا۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔