کتاب ’’بہ وسعت واژہائی بی مرز‘‘[1] پر ایک طائرانہ نظر

فریدون حیدرملک میان
ترجمہ: صائب جعفری

2022-02-16


یہ کتاب تاریخ شفاہی ایران کے آثار و کتابیات میں سے ایک ہے۔ اس کتاب کے لئے انٹرویوز ژیلا مرادی نے انجام دئیے۔ اسکی پہلی اشاعت ۲۰۲۱ میں ہوئی جو ۴۵۶ صفحات پر مشتمل تھی۔ ناشر بنیاد حفظ آثار و نشر ارزش ہای دفاع مقدس  نے اس کتاب کو ۵۰۰ نسخوں میں چھاپ کر ۵۰ ہزار تومان فی نسخہ کی قیمت پر بازار روانہ کیا۔

یہ کتاب نسبتا اچھے کاغذ پر چھاپی گئی ہے۔ اس کا ظاہر اور جلد خوبصورت ہیں۔ اس کتاب میں سوال جواب کی روش کو برتا گیا ہے یعنی یہ کتاب ایک انٹرویو کی صورت میں قاری کے ہاتھوں میں پہنچی ہے۔ اس کتاب کے آخری ۴۵ صفحات ضمیمہ پر مشتمل ہے جس میں پہلے سیاہ و سفید تصاویر اور اس کے بعد سندیں ہیں اور آخر میں اسماء کی فہرست ہے۔ یہ کتاب ۳۱ حصوں پر مشتمل ہے لیکن ان کو نمبر نہیں دیئے گئے بلکہ صرف عنوان لکھا گیا ہے۔

پہلے حصہ میں سردار رحیم قرہ جہ داغی اپنا تعارف پیش کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں  کہ وہ  سن ۱۹۵۸ میں عجب شیر کے ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ چار سال کی عمر میں اپنے گھر والوں کے ہمراہ ارومیہ ہجرت کر گئے۔ ان کے مطابق ان کے والد ماتمی انجمنوں کے سرگرم رکن تھے اور انہوں نے بھی جب سے ہوش سنبھالا خود کو مسجد و منبر اور انجمنوں میں ہی پایا۔ یہاں سردار رحیم اپنے والد، بھائیوں اور ان افراد سے جو مساجد میں تقریر اور قرآن  کی کلاسوں وغیرہ کے امور انجام دیتے تھے خوب خوب متاثر ہوتے ہیں۔

اس کے بعد کے حصہ میں اس کتاب کے راوی انقلاب اسلامی کے باب میں اپنی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہیں۔ سن ۱۹۷۷ سے وہ باقاعدہ طور پر انقلاب کی سیاسی سرگرمیوں کا حصہ بن جاتے ہیں اور اب وہ  خود کو مساجد اور مظاہروں کے لئے وقف کر دیتے ہیں۔

اس کتاب کا ایک حصہ اس بات کی تفصیل بیان کر تا ہے کہ سردار رحیم انقلاب کی کامیابی کے بعد ہمیشہ کے لئے دفاع دین و ایران کے میدان میں مستقر ہوجاتے ہیں۔ وہ اس کو اپنی طولانی جد و جہد کا آغاز کہتے ہیں۔  کہتے ہیں کہ دفاع کا یہ سلسلہ ان کی ریٹائرمنٹ تک جاری رہتا ہے۔محترم سردار پہلے انقلاب کمیٹی اور اس کے بعد سپاہ سے ملحق ہوجاتے ہیں۔  اول اول وہ ارومیہ کی سپاہ میں شامل ہوتے ہیں اور وہاں تربیت حاصل کرنے کے بعد وہ جنگی فوجوں کا حصہ بن جاتے ہیں اور یوں کئی ایک لڑایوں میں شریک ہوتے ہیں اور انقلاب مخالف عناصر کی سرکوبی میں مشغول ہوجاتے ہیں۔

پہلی لڑائی خلق مسلمان تحریک سے ہوتی ہے۔ سپاہ میں قدم رکھے ابھی بیس دن ہی ہوئے ہوتے ہیں کہ ارومیہ اور تبریز میں خلق مسلمان کا واقعہ پیش آجاتا ہے۔تبریز میں اس کی شدت زیادہ ہوتی ہے مگر ارومیہ میں بھی ان کے کارندے موجود ہوتے ہیں جن کو گرفتار کر کے ان سے اسلحہ لے لیا جاتا ہے۔

اس بعد آنے والے حصوں میں تقریبا کتاب کے اختتام تک ہی، سردار کی یکے بعد دیگرے سرگرمیوں کا احوال موجود ہے ۔ سردار مسلسل جنگ کے میدانوں اور مختلف آپریشنز میں حصہ لیتے ہیں جو ان سرگرمیوں کی بنیاد ہیں۔ ان کی کوشش رہتی ہے کہ جہاں کہیں ان کی ضرورت ہو وہ فوراً وہاں پہنچ جائیں۔ انہیں  یہ بات بڑی بھاتی ہے جہاں کئی کوئی کام پھنس گیا ہو وہ جلد از جلد وہاں پہنچیں اور الجھن کو سلجھا سکیں۔ آذربائیجان کے علاقوں کی صفائی اور تعمیر سے لے کر اپنی مادر وطن کے دفاع تک وہ پیش پیس رہتے ہیں۔ جنوب کے جنگی میدانوں میں اور فتح المبین  اور والفجر ۱۰ آپریشن میں شرکت کرتے ہیں۔ نبیت المقدس بریگیڈ کا حصہ بنتے ہیں، ارومیہ کی جند اللہ بٹالین میں شریک رہتے ہیں۔ دشت باژار اور نجات سر دست میں حاضر ہوتے ہیں۔ نقدہ اور پیران شہر کی جانب عازم ہوتے ہیں۔حج کا سفر کرتے ہیں اور اعلی تعلیمی پروگرامز کے ساتھ ساتھ رشادت کی بٹالین میں شامل ہوتے ہیں۔ ہر ہر جگہ جہاں سردار  جاتے ہیں ان کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنی ذمہ داری کو اول سے آخر تک پوری قوت و طاقت اور ذمہ داری کے ساتھ انجام دیں۔

اس کتاب کے آخری حصوں میں وہ مختصر طور پر اپنی ریٹائرمنٹ  کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔ وہ سنہ ۲۰۰۶ میں کئی بار ریتائرمنٹ کی درخواست دیتے ہیں جس کی دلیل وہ یہ بیان کرتے ہیں کہ عمر  زیادہ ہونے کے علاوہ ان کی خواہش یہ بھی تھی کہ جوان خون   آگے آئے اور ملک و ملت کی خدمت کرے۔ دوسری طرف سے یہ بھی تھا کہ سردار نے اپنی زندگی کا زیادہ عرصہ کو ہ و دشت میں گذارا تھا۔ ان کا جسم سخت محنت کا عادی تھا لیکن کافی عرصہ ہوچکا تھا کہ وہ پیدل چلنے کے بجائے اور بھاگ دوڑ کی جگہ گاڑیوں میں سوار ہو کر مسلسل طویل مسافرتوں میں تھے جس کی وجہ سے وہ فشار خون اور شوگر سے پنچہ آزمائی پر بھی مجبور ہوگئے تھے۔  ان کا کام قدرتی طور پر کم رہ گیا تھا اب  اس علاقہ میں نہ انقلاب مخالف قوتوں کا ہجوم تھا نہ ہی فوج اور دفاعی وسائل کی حفاظت کے لئے ان کو بہت دوڑ دھوپ کی ضرورت رہی تھی۔ اس لئے وہ یہ گمان کرتے ہیں کہ ان کے مسلسل آرام کرنے کے سبب شوگر نے ان کا پیچھا گھیر لیا ہے۔ وہ کئی بار طبیب سے رجوع کرتے ہیں مگر ہر بار طبیب ان کو دوائیں لکھ دیتا ہے جس کے استعمال میں ان کو شکوک و شبہات ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق لکھی جانی والی بعض ادویات ہی اس بات سبب بنتی ہیں کہ وہ خون کی کمی کا شکار ہوجاتے ہیں اور اہم ذمہ داریوں کو نبھانے سے قاصر رہ جاتے ہیں۔

وہ اپنی ریٹائر منٹ کے لئے مصر ہوجاتے ہیں اور ناچار اعلیٰ افسران کو ان کی بات ماننی پڑتی ہے۔ ان کو ریٹائر کر دیا جاتا ہے مگر ان سے یہ تقاضا کیا جاتا ہے کہ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی سپاہ کے دفتر میں اپنی آمد و رفت جاری رکھیں گے تاکہ ان کے وسیع تجربات سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔  ان سے درخواست کی جاتی ہے کہ سپاہ میں جب بھی ماہرین کی کوئی میٹنگ ہو آپ اس میں ضرور شرکت کریں گے۔

۲۰۰۷۔۲۰۰۶ میں سردار کربلا کی زیارت کے لئے درخواست دیتے ہیں ۔ وہ خود سے کہتے ہیں عمر یاحسین یا حسین کرتے گذر گئی۔ مگر کبھی زیارت نصیب نہ ہوئی اب ضرور زیارت پر جانا چاہئے۔

وہ ہمیشہ سوچتے تھے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد کیا کریں گے ان کو اپنے اس سوال کا جواب کربلا میں ہی میسر آیا۔ انہوں نے جواب یہ پایا کہ آج کے بعد سےوہ اپنے پورقد کے ساتھ زائروں کی خدمت پر مامور رہیں گے۔ زیارت سے پلٹنے کے بعد وہ زائرین کے خدمت کے اداروں سے ملاقاتیں کرتے ہیں اور تربیت حاصل کرنے کے بعد امام علیہ السلام کے زائروں کے خادمین میں شامل ہوجاتے ہیں۔

آخر میں اس بات کا ذکر بھی ضروری ہے کہ اس کتاب کی تدوین اور متن کے حصول میں شاید بہت جلد بازی سے کام لیا گیا ہے۔ اس بات کا احساس قاری بالکل ابتدائی صفحات سے ہی کرنے لگتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کتاب کا حق تھا کہ اس کی اچھی تزئین و آرائش کی جاتی۔ ایسا لگتا ہے کہ سوال جواب کو بالکل اسی صورت میں جس طرح سے کہ انٹرویو میں ہوئے ہیں کاغذ پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ ان میں ترتیب کا خیال نہیں رکھا گیا جس کی وجہ سے بعض جگہوں پر مطلب سمجھنے میں انتہائی دشواری ہوتی ہے۔

ہر چند کتاب کو حصوں میں بانٹا گیا ہے مگر کئی بخش پے در پے صرف چند خطوط کے فاصلے سے آجاتے ہیں اور کچھ بخش   اگلے صفحہ سے شروع ہوتے ہیں۔

 

 

 

 


[1] سرحدوں سے ماوراٗ الفاظ کی وسعت کے مطابق



 
صارفین کی تعداد: 586


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
حسن مولائی کی یادیں

سو افراد، سینکڑوں افراد، ہزاروں

وہ لوگ جو چند گھنٹوں پہلے جمرات جا رہے تھے تاکہ رمی جمرات کا فریضہ ادا کرسکیں اب تولیہ اوڑھے سو رہے تھے۔ جب جنازے ختم ہوئے، تو مجھے سمجھ نہیں آئی کہ مجھے کہاں لوٹنا چاہئیے۔ اچانک میرے پیروں نے کام کرنا چھوڑ دیا اور میں نے پہلی مرتبہ وہاں گریہ کرنا شروع کردیا۔ واپس پلٹ کر ان سفید پیکروں کو دیکھنا شروع کیا۔ پوری سڑک جنازوں سے سفید ہوچکی تھی۔ ایک جوان مرد کی آواز پر چونکا جو میرے ساتھ کھڑا تھا اور میرے پیروں کے سامنے چپلیں رکھ رہا تھا۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔