اسماعیل سپہ وند کی حکایت

کتاب بلدچی کا تعارف

آٹھ سالہ دفاع مقدس میں لرستان کے جنگجوؤں کے واقعات

تدوین: امین کیانی
ترجمہ: صائب جعفری

2022-02-08


کتاب ’’بلدچی‘‘ لرستان کے جنگجوؤں کی تاریخ شفاہی ہے۔ یہ کتاب اسماعیل سپہ وند کی ذھنی اپچ  کے مطابق ایک سرگذشت کے انداز میں ترتیب پائی ہے۔

پہلی فصل

بلدچی کی پہلی جلد سات فصول پر مشتمل ہے جس میں ولادت سے  آپریشن والفجر ۹ تک کے واقعات درج ہیں۔ پہلی فصل میں قاری کے لئے اسماعیل سپہ وند کے بچپن کے واقعات کی تصویر کشی کی گئی ہے۔

اسماعیل کے خاندان کے مختصر حالات اور ان کے آبائی وطن اور جائے ولادت کے مختصر تذکرے کے بعد قاری ، باغچوں اور کوچوں میں اسماعیل کی شرارتوں اور شیطانیوں سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ بلد چی کی پہلی فصل میں   اسماعیل سپہ و نداپنے بھائی روح اللہ (جو بعد میں شہید ہوگئے تھے) کے ہمراہ نظر آتے ہیں۔ اس کے ساتھ اسی فصل میں ڈاکٹر ہوشنگ اعظمی، انقلاب کی کامیابی اور کشتی کے مقابلوں میں اسماعیل کی شرکت کا تذکرہ راوی کی معلومات کے مطابق درج ہے

دوسری فصل

خوزستان میں تعلیم، محاذجنگ پر تعیناتی، آپریشن رمضان میں شرکت، محاصرہ میں پھنسنا،  اور بسیجیوں اور فوجیوں کے درمیان چھڑپیں، دوسری فصل کے موضوعات و عناوین ہیں۔  یہ فصل اسماعیل کی جنگ سے واپسی اور پھر کشتی کے  ۵۷ کلو گرام کے مقابلوں میں شرکت کے ساتھ ختم ہوجاتی ہے۔

تیسری فصل

اس فصل  میں  ہم  بلدچی کے والد بزگوار ، صید عزیز[1] کی پرواز سے آگاہ ہوتے ہیں۔

’’اذان فجر کے وقت میرے والد میرے  سرہانے آئے اور کہا: ’اٹھو اور نماز پڑھو۔‘ میں نے خود سے کہا: ’یہ ابھی نماز پڑھ کر دوبارہ آئیں گے مجھے اٹھانے۔‘ دس منٹ گذر گئے مگر والد نہ آئےوالدہ محترمہ بیدار ہوچکی تھیں اور وضو کر رہی تھیں کہ عجیب انداز سے انہوں نے مجھ سے کہا: ’اسماعیل دیکھو تمہارے والد جانماز پر  ہی ڈھیر ہوگئے ہیں ! ذرا دیکھو تو ان کی طبیعت ٹھیک ہے؟‘ میں ان کے سرہانے پہنچا، دیکھا کہ وہ ادھ کھلی آنکھوں کے ساتھ لیٹے ہوئے ہیں۔ اسی عالم میں مجھے انہوں نے سر تا پا دیکھا۔ ایسا لگتا تھا کہ وہ کچھ کہنا چاہتے ہوں۔ اتنے میں والدہ بھی پہنچ گئیں۔ میرے والد نے ایک گہری سانس لی اور ان کی آنکھیں سفید ہوگئیں۔‘‘ (صفحہ ۱۹۴)۔

چوتھی فصل

اسماعیل کے اصل واقعات چوتھی فصل سے شروع ہوتے ہیں۔ اس مدت میں اور اس کے بعد اسماعیل جنگجوؤں کے گائیڈ کے روپ میں نظر آتا ہے۔ آپریش کے معلومات کا حصول، جفیر اور قاسم مدھنی سے آشنائی اور پھر دیگر فوجیوں سے آشنائی  اسماعیل کے ساتھ اسماعیل  کے بلد چی بنے کا آغاز ہوتا ہے۔

حساس لمحات کی روایات، اضطراب کی کیفیات، دلچسپ مطالب کا حصول اور وہ اطلاعات اور معلومات کسی کو بھی نہ دینے کے بیانات، حتی بریگیڈ کمانڈر سے بھی ان کا معلومات کا مخفی رکھنا چوتھی فصل کے لذت بخش واقعات ہیں۔

پانچویں فصل

پانچویں فصل کا اصل میدان آپریشن والفجر ۶ ہے۔ یہ فصل ، خرم آباد میں لبیک یاخمینی کی جنگی مشقوں میں پیش آنے والے تلخ واقعہ سے شروع ہوتی ہے۔ یہ جنگی مشقیں بہت سے جنگجوؤں کی شہادت کا باعث بن گئی تھیں۔ اس کے بعد اس فصل میں ہم آپریشن والفجر ۶ میں بلدچی کے مشاہدات  کا نظارہ کرتے ہیں۔ اس فصل میں جزئیات کے ساتھ آپریشن والفجر ۶ کو بیان کیا گیا ہے۔

چھٹی اور ساتویں فصل

اس فصل میں ہم  بلدچی کے ہمراہ زبیدات[2] میں گھومتے پھرتے آپریشن والفجر کے لئے ساتویں فصل میں داخل ہوجاتے ہیں۔ تن بہ تن لڑائیاں تاکہ کاناصر[3] کا انتظام سنبھالا جا سکے۔ یہ وہ موضوعات ہیں جن کو اس فصل کے دلچسپ عناوین کہا جاسکتا ہے۔ علی راست پیر حیاتی کی توکل مصطفی کی شہادت  اور ان کے جنازے کو اٹھا لے جانے کی حکایت کسی حد تک احساساتی اور جذباتی بیان کے بوجھ کو بلدچی کے کاندھے سے کم کر دیتی ہے۔

’’ حسین نے کہا: جوانوں کی کیا خبر ہے؟

علی راست نے کہا: توکل اور پرویز شہید ہوگئے ہیں۔

میں نے توکل کی شہادت کا واقعہ دریافت کیا۔۔۔ اس نے کہا: کچلبر کے بالائی حصہ میں تن بہ تن جنگ شروع ہوچکی تھی۔ توکل اور ہم میں سے چند لوگ  کافی آگے نکل گئے تھے اور سب لڑائی میں مشغول تھے۔ خصوصا توکل ، چند پتھروں کے درمیان کھڑا تھا اور عراقیوں کو چن چن کر مار رہا تھا۔ میں بھی  چند میٹرکے فاصلے پر کھڑا تھا۔ ناگہاں متوجہ ہوا کہ توکل تو نظر ہی نہیں آرہا۔ میں نے اپنا سر اٹھا یا تو کیا دیکھتا ہوں کہ توکل ایک پتھر پر اپنی الٹی کروٹ پڑا ہے اور سارا پتھر اس کے خون سے لت پت ہے۔ میں  اپنا سر پیٹ لیا۔ میں سمجھ گیا کہ توکل گولی لگتے ہی  شہید ہوگیا تھا ۔ پتھر کو غور سے دیکھا تو اس پر خون کے ہمراہ چربی کی طرح کوئی سفید چیز بھی تھی میں سمجھ گیا کہ گولی اس کے دماغ میں لگی ہے اور مغز کے ہمراہ باہر آئی ہے۔

میں توکل کو کندھے پر اٹھا کر لانا چاہا مگر مجھ سے نہ اٹھ سکا۔توکل کی لاٹھی اس کے پاس ہی پڑی تھی۔ بٹالین کا ایک جوان اور بھی وہاں کھڑا تھا۔ اس نے جب حالات کو بھانپا تو وہ ایک پتھر کے نیچے جا چھپا۔ میں نے توکل کی کہنیوں اور کاندھوں کو پیچھے کی طرف کھینچا اور اس کی لاٹھی کو اس کی کہنیوں اور کمر کے درمیان پھنسایا اور اس کی مٹھیوں کو اس کے پیٹ پر رکھ کر رومال سے کس کر باندھ دیا۔  اس طرح کہ لاٹھی ہلنے نہ پائے۔ اس کے بعد ہم ایک پتھر سے دوسرے پتھر کی جانب چھپتے چھپاتے چلے ۔ ہم سیدھی طرف کی چوٹی پر پہنچنا چاہتے تھے۔مجھے معلوم تھا کہ چوٹی گرنے کے قریب ہے۔ میں الٹی جانب پلٹا۔ ہم الٹی جانب پہنچے تو دیکھا کہ عراقی فوجی ابھی ابھی وہاں پہنچے ہیں۔ انہوں نے ہمیں وہاں دیکھا تو کلاشنکوف کے فائر کھول دئیے۔  فائرنگ کچھ کم ہوئی تو میں توکل کو ایک   نشیب میں لے گیا۔ عراقیوں نے پھر ہمیں دیکھ لیا۔ میں نے پشم کی ٹوپی اور اورکوٹ توکل پر ڈال کر اس کو زمیں پر لٹا دیا۔ اس کے علاوہ میرے پاس کوئی چارہ نہ تھا کہ توکل کو اس نشیب سے نیچے پھینک دوں۔ عراقیوں کی تمام گولیاں توکل پر برسنے لگیں۔  اس کا جنازہ نسشیب سے اس قدر تیزی کے ساتھ نیچے گیا کہ عراقی اس کے  پیروں کی خاک کو بھی نہ پا سکے۔  میں بھی ایک گوشے سے فرار کر گیا۔ میں جب عراقیوں  کی پہنچ سے دور ہوگیا  تو توکل کا جنازہ ڈھونڈنے نکلا۔ اس جنازہ مل گیا تو اس کو پیچھے کھینچ لایا ۔ ہمیں معلوم تھا کہ یہ علی راست کا ہی جگر تھا جو ایسا کام کر گیا اگر اس کی جگہ ہم ہوتے تو یقینا توکل کو کھائی میں ہی چھوڑ آتے۔‘‘ صفحہ ۵۶۷ تا ۵۶۸

 کتاب ’’بلدچی‘‘ کی پہلی جلد ۶۸۴ صفحات پر مشتمل ہے ۔ ۲۰۱۶ میں اس کی ۱۰۰۰ کاپیاں انتشارات سورہ مہر نے چھاپی اور اس کی قیمت ۳۵ ہزار تومان مقرر کی گئی۔

 

 

 

 

 


[1] صید لرستان میں ناموں کے ساتھ سابقہ کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔

[2] ایک علاقہ کا نام

[3] کردستان میں ایک علاقہ کا نام



 
صارفین کی تعداد: 570


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
حسن مولائی کی یادیں

سو افراد، سینکڑوں افراد، ہزاروں

وہ لوگ جو چند گھنٹوں پہلے جمرات جا رہے تھے تاکہ رمی جمرات کا فریضہ ادا کرسکیں اب تولیہ اوڑھے سو رہے تھے۔ جب جنازے ختم ہوئے، تو مجھے سمجھ نہیں آئی کہ مجھے کہاں لوٹنا چاہئیے۔ اچانک میرے پیروں نے کام کرنا چھوڑ دیا اور میں نے پہلی مرتبہ وہاں گریہ کرنا شروع کردیا۔ واپس پلٹ کر ان سفید پیکروں کو دیکھنا شروع کیا۔ پوری سڑک جنازوں سے سفید ہوچکی تھی۔ ایک جوان مرد کی آواز پر چونکا جو میرے ساتھ کھڑا تھا اور میرے پیروں کے سامنے چپلیں رکھ رہا تھا۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔