ایک تصویر کی کہانی

امام خمینی کا  پر فکر پورٹریٹ  (نوفل لوشاتو فرانس[1] میں قیام کے آخری ایام میں)

تدوین: جعفر گلشن روغنی
ترجمہ: صائب جعفری

2021-12-09


جس دن امام خمینیؒ کی تصاویر کی اشاعت کے قانون کو توڑا گیا اور روزنامہ  کیہان نے  ۲۹ اگست ۱۹۷۸؁ء کے اخبار کے پہلے صفحہ پر امام خمینیؒ کی تصویر چھاپی، اس دن کے بعد سے انقلاب  کی کامیابی کے دن یعنی ۱۱ فروری ۱۹۷۹ تک امام خمینی کی بے شمار تصاویر اخبارات اور رسائل میں چھپتی رہیں۔ یہ تصاویر امام خمینیؒ کو مختلف زمان و مکان میں رہبریت پر فائز دکھاتی تھیں۔ ان تصاویر کا بے حد و حساب چھپنا خود اس بات کی دلیل ہے کہ امام خمینیؒ کے چاہنے والے اور انقلابی حضرات شدت سے اس بات کے خواہاں تھے کہ ان کے پاس ان کے رہبر کی کوئی نہ کوئی تصویر ہو۔ یہ عشق اس قدر شدید تھا کہ امام کی رحلت یعنی  ۳ جون ۱۹۸۹؁ء کو ہر گھر میں، امام خمینیؒ کی کم از کم ایک تصویر ضرور تھی۔اس تحریر کے راقم کو اپنے بچپن کا زمانہ بہت اچھی طرح یاد ہے۔ انقلاب برپا ہونے سے قبل ہی ہمارے گھر میں امام خمینیؒ اور آیت اللہ طالقانی کی تصاویر موجود تھیں۔ بالخصوص ایک بڑی تصویر تقریبا ۵۰x۷۰ سینٹی میٹر کا پورٹریٹ  ہمارے  گھر میں موجود تھا جس میں امام خمینیؒ ایک دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ یہ وہی مشہور تصویر ہے جو امام خمینیؒ کی جلا وطنی کے آخری ایام کی یادگار ہے۔ اس کے علاوہ ہمارے گھر میں ایک   ڈیکوریشن پلیٹ پر چھپی ہوئی تصویر بھی تھی جو یادوں کے طاقچہ پر دھری خود کو نمایاں کرتی تھی۔

ان تصاویر کی اہمیت اور انقلاب اسلامی میں ان کے خصوصی  مقام کو لوگوں کو پہچنوانے کے لئے اور انقلاب کی تاریخی تحقیق کے  لئ ضروری ہے کہ امام خمینی اور درجہ اول کے انقلابیوں کی تصاویر کو  ان کی تٖصیلات کے ساتھ چھاپا جائے۔ جیسےفوٹو گرافر یا مصور کا نام، تاریخ، جگہ وغیرہ لکھ کر یہ تصاویر مدون ہوں۔ اسی طرح اس موضوع کے بارےمیں بھی تفصیلات ہوں جس کی یادگار یہ تصویر ہے۔ اگر ایسا ہو تو اس طرح ہمارےپاس ایک  عظیم تاریخی سرمایہ جمع ہوجائے گا اور ہم  ان تصاویر کی تحلیل اور ان کی معلومات پر تبصروں کے سبب  انقلاب کی تاریخ قلم بند کرنے میں غنی ہوجائیں گے۔

امام خمینی کی نشر شدہ تصاویر ، انقلاب  اسلامی کی اہم ترین تصویری اسناد ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے ان تصاویر میں پوشیدہ کہانیوں کو قلم بند کیا جائے۔ امام خمینی کی ہزاروں تصاویر میں  سے ان کا ایک پورٹریٹ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ پورٹریٹ ان کی جلا وطنی کے آخری ایام میں نوفل لوشاتو ، فرانس میں بنایا گیا تھا۔ یہ پورٹریٹ  ۲۶ جنوری ۱۹۷۹؁ء کو تہران کے ایک مجلہ ’’مصور‘‘ نے اپنے تیسرے شمارے میں چھاپا تھا اور یوں عوام اپنے رہبر کا تازہ جلوہ دکھنے کی سعادت حاصل کر سکے تھے۔

مجلہ نے اس پورٹریٹ کی تفصیلات لکھتے ہوئے صفحہ نمبر ۱۲ پر تحریر کیا  کہ  یہ تصویر ۲۰ جنوری ۱۹۷۹؁ء کو پیرس میں بنائی گئی تھی۔ اس کے فوٹو گرافر کے بارے میں معلومات حاصل نہیں ہوسکیں۔  مرحوم کاوہ گلستان جو اس مجلہ کی عکاسی کے  انچارج تھے شاید وہ فوٹو گرافر کا نام جانتے ہوں مگر نامعلوم وجوہات کی بنا پر انہوں نے اس کا نام ظاہر کرنے سے گریز کیا۔  ہوسکتا ہے کہ اب ۴۰ سال گذرنے کے بعد شاید کوئی تصویر کے بارے میں مزید معلومات فراہم کردے۔ یہ تصویر سیاہ سفید تھی اور اس کی ریزولوشن بہت ہی اعلیٰ تھی ۔ امام خمینیؒ کے چہرہ کے نقوش حتی جزئیات تک بہت واضح تھیں۔ اس طرح کی تصویر چھاپنے کے لئے لازمی ہے کہ رسالہ والوں کے پاس اس کا اصل نیگیٹو موجود ہو۔ یہیں سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے  کہ یا تو یہ تصویر مجلہ والوں نے  فرانس میں مقیم اپنے کسی کارکن کے ذریعہ بنوائی تھی یا پھر اس تصویر کا انہوں نے خریدا تھا۔ یہ تصویر فریم شدہ  تھی کنٹراسٹ بہت زبردست تھا اور اس میں اعلیٰ درجہ کے پورٹریٹ کی تمام خصوصیات موجود تھیں۔

ایک نکتہ جو اس تصویر کے بارے میں  بیان  کرنے کے قابل ہے وہ یہ کہ اس  تصویر میں امام کے پیچھے ایک اور مولانا کی تصویر بھی ہے مگر وہ بلر ہے واضح نہیں کہ کس کی تصویر ہے۔ اس تصویر کے منظر سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ تصویر امام کی  رہائش گاہ میں ان کی چہل قدمی کے دوران کھینچی گئی تھی۔ اس جانب توجہ مبذول  کرتے ہوئےکہ امام خمینی کے دامام، آیت اللہ اشراقی ہمیشہ ان کے ہمراہ ہوا کرتے تھے اس بات کا احتمال بہت زیادہ ہے کہ امام کے ہمراہ دوسرےمولانا صاحب آیت اللہ اشراقی ہی ہوں۔

مجلہ   مصور نے اس تصویر کے ساتھ انتہائی دلچسپ عبارت لکھی تھی جس سے واضح ہوجاتا ہے  اس وقت نشر اشاعت سے تعلق رکھنے والوں کی عمومی ذہنیت کیا تھی  اور وہ امام خمینی کو کس نظر سے دیکھ رہے تھے؟ اور وہ اس تصویر کو چھاپ کر امام کی کیا تصویر کشی عوام کے سامنے کرنا چاہتے تھے۔ مجلہ کی عبارت کچھ یوں تھی۔

’’بڑا آدمی اب آیا چاہتا ہے۔ ہرچند اسے کچھ ایسے ویسے پسند نہ کریں مگر ہیرو ہمیشہ ہیرو ہوتا ہے۔ ہمیشہ بزرگ ہوتا ہے۔ آیت اللہ امام خمینیؒ کا نام ایران کی تاریخ میں زندہ ہے، بالکل  ایسے ہی جیسے مصدق، امیر کبیر  وغیرہ کا نام زندہ ہے، جیسے قوم کے اور بزرگوں کے نام قوم کے ذہنوں میں محفوظ ہیں۔ خمینی کہ جس کا نام اس وقت بغیر تکبیر کے ہونٹوں پر نہیں آتا ، ہمیشہ سے بزرگ ہے۔ساری ملت جمعہ کے دن ، ان کی مزاحمت اور جلا وطنی کے دنوں کو سراہنے کے لئے، اپنے رہبر کے استقبال کو جائے گی جس کے رگ پے میں رہبریت کا عنصر ازل سے موجود ہے۔ جمعہ کو ہم بدن سے دور ہوجانے والی جان کے استقبال کو نکلیں گے۔  وہی وہ ہے جو روح انقلاب ایران ہے۔ یہ انقلاب جو عوامی انقلاب ہے   پینٹا گون کے طے شدہ  پروگرامز میں سے نہیں ہے،اور ہم جنہوں نے ذرہ برابر بھی اس انقلاب  کے لئے کام کیا ہے، پورے خلوص دل سے اور تمام انسانی  جذبوں کے ساتھ استقبال کو جائیں گے۔ ہم اس بڑے انسان کے استقبال کو جائیں گے جس پر اس وقت سارے ایران کی نظریں لگی ہیں اور ہم اپنی کھوئی ہوئی آزادی کو طلب کریں گے۔ قلم کی آزادی، بیان کی  آزادی، ایسی آزادی کہ  عوام کے پاس انتخاب کا اختیار ہو۔  مقصود وہ بلندی ہے  جو اسلام کا مطمح نظر ہے۔ بلا شبہ امام خمینیؒ ہمیں اس سے نہیں روکیں گے۔ یہی بڑے لوگوں کی شان ہے، یہی امام خمینیؒ کی شان ہے یہی ہمارے ایران کی شان ہے۔ ایران کا بول ہمیشہ بالا رہے۔ ان کے نام کے طفیل جو اس راہ میں شہید ہوئے اور ان کے طفیل جو ایران کے خیر خواہ ہیں اور ایران کو بلندی عنایت کر رہے ہیں۔ امام خمینیؒ کام نام بڑائیوں کا نام ہے۔

 

 

 


[1] Neauphle le Chateau, France



 
صارفین کی تعداد: 726


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح، بیسواں حصہ

ہندوستان میں گذارے ہوئے آخری سالوں میں ہمیں کئی ایک تلخ تجربات ہوئے  جیسے جنگ بندی کی قرارداد اور اس پر امام  خمینی کا ناخوش ہونا، خود امام خمینی کی رحلت اور ۱۳۶۹ میں پاکستان کے صوبہ پنجاب میں تعینات ایرانی  سفیر شہید گنجی کی لاہور میں شہادت۔

گرفتاریوں کا آغاز

ہوں نے بھائی سے کہا کہ کپڑے پہن کر آجائے۔ جب انہوں نے پوچھا کہ کہاں اور کس لئے لے کر جارہے ہیں تو ان کے سوال کے جواب میں کہا سیکیورٹی ایجنسی نے آپ کو بلایا ہےآپ کو ہمارے ساتھ چلنا ہوگا۔ میرے بھائی نے دوبارہ سوال کیا کہ کس لئے لے کر جارہے ہیں تو جواب دیا گیا کہ وہاں پہنچ کر آپ کو تفصیل سے بتائیں گے۔

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔