شہید مہدی زین الدین

ترجمہ: ریاض حیدر

2021-11-21


مہدی زین الدین, سردار لشکر علی ابن ابی طالب ع,سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی, ایراق ایران جنگ کے دوران آزربایجان غربی میں شہید ہوئے  
 
مہدی زین الدین 18 مہر 1338 ش کو تہران میں متولد ہوئے, جب آپ پانچ سال کے تھے آپکے والدین نے تہران سے خرم آباد ہجرت کی, اپنے اسکول کے دور میں شاہ کی فوج"رستاخیز"(جسمیں حکم شاہ کے مطابق ہر ایک کا داخلہ لینا لازمی تھا) میں داخلہ نہ لینے کے سبب اسکول سے نکال دیے گئے, سن 1356ش  میں ڈپلومہ کی سند لینے بعد یونیورسٹی میں داخلہ کے امتحان میں شرکت کی اور  درجہ چہارم کے ساتھ شیراز کی میڈیکل یونیورسٹی کے لیے پاس کیا, مگر اپنے والد کی جانب سے امام خمینی رح کی حمایت کے سبب شہر بدر ہونے کی وجہ سے تحصیلات جاری نہ رکھ سکے, خرم آباد میں آپکے والد کی کتابوں کی دکان تھی جسمیں آمام خمینی رح کی وہ کتب جن پر پابندی تھی دستیاب ہوتی, آپکے شہر بدر ہونے کے بعد مہدی نے یہ کام سنبھالا اور 1357ش میں آپکے فرانس میں اپنی تعلیم کو دوبارہ شروع کرنے کہ اسباب فراہم ہو گئے, مگر آپنے اپنی انقلابی سرگرمیوں کے مدنظر اس ارادہ کو ترک کیا, کچھ دن بعد آپکے والد کو شہرسقز سے اقلید فارش کی طرف شہر بدر کردیا گیا اور1357 ش کو آپکے والد خفیہ طور پر شہر قم آگئے اور وہی زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا, 
 
"جہاد سازندگی" یعنی ملکی تعمیر و ترقی کے جہاد نامی ادارے کی تشکیل کے بعد 1358ش میں اس میں شامل ہوئے اور کچھ ہی عرصہ بعد سپاہ پاسداران اسلامی میں شمولیت اختیار کی, ابتدا میں اس کے شعبہ ہیومن رسورسز سے وابستہ ہوئے اور اسکے بعد سپاہ قم المقدسہ کے شعبہ اطلاعات کی ذمہ داری انہیں وسنپی گئی اور 1359ش میں 34 افراد کے ساتھ ضد انقلاب سازشوں سے نمٹنے سنندج گئے اس دوران 3 زن اس شہر کا محاصہ رہا اور بلاخر شہر نے آزادی پائی. 
 
عراق ایران جنگ کی ابتدا 13 شہریور 1359ش  میں ملٹری تعلیم کا ایک سلسلہ قم میں مکمل کیا, اور 100افراد کے ایک گروہ کے ہمارای خوزستان روانہ ہوئے, کچھ دنوں بعد مسئول اطلاعات و عملیات سپاہ شہر سوسنگر اور دزفول منتخب ہوئے اور 8 مہینے سوسنگر میں قیام کیا اور بنام امام مہدی عج جنگی آپریشن 24 اسفند 1359 میں شرکت کی اور فوج کی مدد کی پھر دزفول گئے اور وہاں 7 مہینہ قیام کیا  اور اس دوران دشمن کی صورتحال سے آشنائی فتح و کامیابی پر اثرانداز ہوئی,  ثامن الآئمہ آپریشن 5 مہر 1360 سے میں آبادان شہر کا محاصرہ ٹوٹنے سے پہلے  اطلاعات و آپریشنز ڈپارٹمنٹ میں سرگرمیاں انجام دیں اوریہ عہدہ طریق القدس آپریشن 8آزر 1360ش کے بعد تک آپکے ذمہ رہا۔
 
شوش دانیال کے محاذ پر (مجید بقائی سرپرستی میں)اس وقت تک کوئی بھی دستہ و لشکر نہ تھا, دو دستوں میں تقسیم ہوا اور دستہ اول بنام تیپ 17 قم  شہید مہدی کے حوالے کیا گیا 
 
میدی زین الدین نے خرداد 1361ش 23 سال کی عمر میں خانم منیرہ ارمغان کے ساتھ شادی کی جسکے نتیجے میں ایک دختر بنام لیلا متولد ہوئی اور اسکے تین ماہ بعد اھواز روانہ ہوئے,  
 
۲ مرداد 1361 مہدی زین الدین بہ عنوان سربراہ لشکر جدید 17 قم مقرر ہوئے جو بنام لشکر 17 امیر المومنین ع تبدیل ہو گیا اس لشکر کی سربراہی مہدی سے پہلے حسن درویش کے ذمہ تھی.مرحلہ پنجم کی  ماہ رمضان کی پہلی جنک کا پہلا مرحلہ تھا کہ جسمیں مہدی زین الدین بعنوان لشکر شریک تھے(14) 


جب جنگ قرار گاہ کربلا کا حکم صادر ہوا لشکر امیرالمومنین میں أپکو ذمہ داری دی گئی کہ علاقہ دہلگران سے شناسائی حاصل کریں, اس دوران آپکی سربراہی میں منطقہ دہلران کے علاوہ شہر زبیدات بھی ایران کے زیر تسلط آگیا, اس لشکر کا نام بعد میں لشکر امیرالمومنین میں تبدیل ہوگیا۔
 
شہید مہدی نے بطور سربراہ لشکر جنگ والفجر مقدماتی 17 بہمن1361 .الفجر 3, 7 مرداد 1362 . والفجر 4, 27 مہر 1362 اور خیبر 3 اسفند 7362 میں شرکت کی ۔

سن 1362 میں مسؤل عملیات قرارگاہ خاتم الانبیا سپاہ غلام علی رشید  حزب اللہ جنگی تجربوں سے اشنائی دلانے کے لیے شام گئے, اس سفر میں زین الدین کی اہلیی بھی ساتھ تھیں,  

مہدی زین الدین کو ضد انقلاب عناصر نے اس وقت نشانہ بنایا جب وہ اپنے بھائی کے ہمراہ بعض علاقوں کی شناسائی پر نکلے ہوئے تھے۔ انکی جیپ کو دھماکے سے اڑا دیا گیا۔ انکی تدفین گلزار شہداء قم میں انجام پائی۔
 
 



 
صارفین کی تعداد: 781


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح، بیسواں حصہ

ہندوستان میں گذارے ہوئے آخری سالوں میں ہمیں کئی ایک تلخ تجربات ہوئے  جیسے جنگ بندی کی قرارداد اور اس پر امام  خمینی کا ناخوش ہونا، خود امام خمینی کی رحلت اور ۱۳۶۹ میں پاکستان کے صوبہ پنجاب میں تعینات ایرانی  سفیر شہید گنجی کی لاہور میں شہادت۔

گرفتاریوں کا آغاز

ہوں نے بھائی سے کہا کہ کپڑے پہن کر آجائے۔ جب انہوں نے پوچھا کہ کہاں اور کس لئے لے کر جارہے ہیں تو ان کے سوال کے جواب میں کہا سیکیورٹی ایجنسی نے آپ کو بلایا ہےآپ کو ہمارے ساتھ چلنا ہوگا۔ میرے بھائی نے دوبارہ سوال کیا کہ کس لئے لے کر جارہے ہیں تو جواب دیا گیا کہ وہاں پہنچ کر آپ کو تفصیل سے بتائیں گے۔

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔