گیارہویں امیر المومنین ڈویژن کے کمانڈر کی یاداشت

 ہیلٹی - 7

 شہید مرتضیٰ سادہ میری
ترجمہ: ابو زہرا

2021-08-31


زیادہ خرچہ

 ایک دن دوسرے دستے والے کھانے لینے  کے لیے گاڑی کے گرد جمع تھے۔  چند لوگوں کو چھوڑ کر جو تیرنے کے لیے دریا پر گئے تھے ، دوسرے  تیرہ افراد جو گاڑی  کے گرد جمع تھے ، 60 م م  مارٹر گولے دشمن کی طرف سے چلائے گئے کئی جوان انکے لگنے سے شہید ہوگٸےاور کچھ زخمی ہوٸے اورجوتنہا محافظ تھاوہ بچ گیا۔
 اسی جگہ، دو 60 ملی میٹر کے مارٹر  ہتھیاروں کے طور پر کمپنی کو بعنوان مدد فراہم کیے گٸے۔  
انتقامی کارواٸی شروع ہوچکی تھی۔ روزانہ راشن کی وجہ سے توپوں اور مارٹر فائر کی کوئی توقع نہیں تھی۔  بلکہ ، یہ "اپنی مرضی سے آگ" اگل رہے تھے، یہ اپنی مدد  دشمن کی خندقوں پر خاموشی سے حملہ کرتے اس کی وجہ سے ، وہ مسلسل، بیچارے60م م مارٹر پر کام چلا رہے تھے۔

 ایک دن میں نے ابراہیم محمد زادہ کو نگہبان کی پوسٹ پر بھیجا۔  میں خود ہینڈل سے کام کرنے جا رہا تھا۔  میں نےعراقیوں کے ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا ، جو عراقی باڈر لائن سے بہت دور تھا اور بریگیڈ یا ٹیکٹیکل بیس کے ہیڈ کوارٹر کے طور پر جانا جاتا تھا ،وہ ان بیچارے 60 ملی میٹر کے ساتھ۔  یہ 60 م م مارٹر کی طاقت اور بساط کے لحاظ سے بہت زیادہ تھا ، لیکن ہم اپنے کم اخراجات کے ساتھ انہیں بیچاروں کے ساتھ کام کرسکتے تھے جبکہ یہ بھی ہمارا ساتھ دے رہے تھے۔  چند گولیاں چلانے کے بعد ، میں نے مارٹرگولے کو اپنی ہی سرنگ میں گرایادیا ، جس سے وہاں دھماکہ ہوا، کالا دھواں اور گولیوں  کا ملبہ میرے چاروں طرف تھا۔  محمد زادہ ، یہ سوچ کر کہ میں شہید ہو گیا ہوں ، جلدی سے نگہبانی چھوڑکر، جوزیادہ دور نہیں تھا ، اور فورا میرے پاس آ گیا۔  اس نے کہا: "مرتضیٰ ، آپ ٹھیک توہیں نا؟"

 "ہاں ، میں ٹھیک  ہوں ،" میں نے کہا۔

 ولی عباسی کی شہادت

 بٹالین کی دفاعی لائن پر دشمن کی فائرنگ کی شدت نے یونٹ کے عہدیداروں نے دشمن کی لائنوں اور خندقوں پر اپنا دباؤ اور حجم بڑھانے کے لیے کہا  درخواست کے سبب  بٹالین کو 81 ملی میٹر رائفل بھیجنے کا کہا۔

 اس کا استعمال کرنے کا بنیادی مقصد براہ راست فائرنگ کرکے واچ ٹاورز کو تباہ کرنا تھا ، جبکہ دشمن کو نقصان پہنچانا اور ہمارے اپنے جوانوں کے حوصلے کو مضبوط کرنا تھا۔

 19/3/65 ، میں بٹالین ہیڈ کوارٹر میں عام انتظامات کی ایک سیریز بنانے گیا تھا ، جس میں "ولی عباسی " کے نائب ، "عبداللہ محسنی" ، "حاج درویش کریمی" اور "علی پاشا قدوسی" شامل تھے بٹالین کے عہدیدار  عباسی نے کہا ، "مرتضیٰ ، چلیں اور 81 رائفل کے ساتھ عراقی گڑھ پر کام کریں۔"

 میں نے کہا: "عباسی بھائی!  "میں آج بہت تھکا ہوا ہوں۔"

 انہوں نے کہا کہ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔  "آج آرام کرو اور جب تک ہم واپس نہیں آتے یہاں بٹالین میں رہو۔"

 انہیں جو راستہ اختیار کرنا تھا وہ بہت قریب تھا۔  ان کے جانے کے آدھے گھنٹے سے بھی کم وقت میں ، درویش کریمی ، گردن کی چوٹ کے ساتھ ، بٹالین ہیڈ کوارٹر میں داخل ہوئے اور کہا ، "بھائی ، سادہ میری!  "تمام جوان شہید یا زخمی ہوچکے ہیں۔"

 میں جلدی وہاں پہنچا۔  اس وقت دشمن کی فاٸرنگ بہت زیادہ تھی۔  شہداء بٹالین کے جوان - ہمارے ساتھ والی کمپنیاں۔ سب خندقوں سے باہر آگٸے اور دور سے دیکھتے رہے۔  ان کا کوئی قصور نہیں تھا  کیونکہ گولا باری شدید تھی۔ رحمانی اور میں زخمی جوانوں  کو فاٸنگ  سے گرتے اور بعد کی گولیوں سے ٹکڑے ٹکڑے ہوتے نہیں دیکھ سکے۔  ہمارے پاس اس سلسلے میں کام کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔  ہم دونوں چلے۔  ہمارے ساتھی، شہیدوں اور زخمیوں کی لاشوں کے قریب پہنچتے تو مارٹر گولہ قریب ہی  زمین پر گرا اور رحمانی موقع پر ہی شہید ہوگئے۔  اب میں چار شہیدوں اور زخمیوں کی لاشوں کے ساتھ رہ گیا تھا۔  میں عباسی کے پاس پہنچا ۔  وہ اسی معمول کی نظروں سے مجھے دیکھ رہا تھا۔  میں نے اسے گلے لگایا اور اس کی آنکھوں کو چوما۔  میں محسنی کے پاس گیا۔  انھوں نے بڑے درد سے آہ بھری  اور شہید ہو گٸے۔

 عباسی کی شہادت بٹالین کے جوانوں کے لیے بہت گراں تھی۔  وہ ہر چیز میں ہمارا رہنما تھے۔  مزاحمت اور خودایثار و قربانی کا نمونہ تھا۔  نماز شب  کے دلدادے  مردوں کے لیے نمونہ۔  خندقوں میں عباسی نے نماز  شب کبھی  نہیں چھوڑی۔  ہر کوئی عباسی کو کھونے کی وجہ سے غمزدہ تھا۔

 شہداء کی منتقلی کے بعد جوانوں  نے میرے خونی کپڑے بدل دیے۔  ہر کوئی سوچ رہا تھا کہ میری عباسی کے ساتھ گہری دوستی کے باوجود میں ان کے جانے سے پریشان کیوں نہیں ہوا ، لیکن خدا جانتا ہے کہ میرے اندر آگ لگی ہوٸی تھی۔  میں نے سوچا کہ شہیدوں کو پہلے منتقل کیا جائے اور پھر انہیں رونا چاہیے۔  اس کے بعد جوانوں نے مجھے بہت تسلی دی ،
 لیکن حقیقت یہ تھی کہ  میں اکیلا رہ گیاتھا۔

 جاری ہے



 
صارفین کی تعداد: 1033


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
حسن مولائی کی یادیں

سو افراد، سینکڑوں افراد، ہزاروں

وہ لوگ جو چند گھنٹوں پہلے جمرات جا رہے تھے تاکہ رمی جمرات کا فریضہ ادا کرسکیں اب تولیہ اوڑھے سو رہے تھے۔ جب جنازے ختم ہوئے، تو مجھے سمجھ نہیں آئی کہ مجھے کہاں لوٹنا چاہئیے۔ اچانک میرے پیروں نے کام کرنا چھوڑ دیا اور میں نے پہلی مرتبہ وہاں گریہ کرنا شروع کردیا۔ واپس پلٹ کر ان سفید پیکروں کو دیکھنا شروع کیا۔ پوری سڑک جنازوں سے سفید ہوچکی تھی۔ ایک جوان مرد کی آواز پر چونکا جو میرے ساتھ کھڑا تھا اور میرے پیروں کے سامنے چپلیں رکھ رہا تھا۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔