گیارہویں امیر المومنین ڈویژن کے کمانڈر کی یاداشت

 ہیلٹی- 6

 شہید مرتضیٰ سادہ میری
ترجمہ: ابوزہرا

2021-08-12


خوفزدہ نہ ہوں!  یہ پودینے کی گولی ہے

تصادم کے دو دن بعد، ہمیں بریگیڈ ہیڈ کوارٹر میں میٹنگ کے لیے بلایا گیا۔  یہ ملاقات "سلمان" کیمپ سے "عبداللہ" بھائی کی موجودگی میں منعقد ہوئی۔ جاسوسی رپورٹ کا تجزیہ کیا جانا تھا تاکہ اس بات کا تعین کیا جا سکے کہ عراقیوں سے ہونے والی جھڑپوں اور ہلاکتوں نے آپریشن لیک  کیا ہےیا نہیں۔  مجھے یقین تھا کہ آپریشن لیک ہو گیا ہے اور دشمن کی تیاری کی وجہ سے اس کی کامیابی کے امکانات کم ہیں۔ عبداللہ بھائی نے میری رپورٹ کو پسند کیا، جو مقامی زبان شوہانی لہجے میں پیش کی گئی ، انھوں نے  کہا ، "انکے لہجہ مجھے دیزفل کے جوانوں کی یاد دلاتا ہے۔"  انہوں نے مزید کہا، "اگر دشمن کے علاقے میں کوئی تنازعہ ہے تو آپریشن نہ کریں۔" لیکن دوسرے جوانوں کی رپورٹ، خاص طور پر یونٹ کے عہدیداروں نے اس کے برعکس رپورٹ پیش کی جومان لی گٸی،  آپریشن کی منظوری دے دی ۔  بٹالین کے ڈپٹی "ولی عباسی"  کے بارے میں مجھ سے بات کرنے کے بعد ، میں نے اس مشن کو انجام دینے پر اتفاق کیا۔

 اگلے دن ، ہم آپریشن کے لیے روانہ ہوئے ۔ میں "کرم پور" [1] "عباسی" [2] راستے میں آرام کرنے بیٹھ گٸے۔  کرم پور ،  جو ایک شوخ مزاج شخص تھے - نے مجھ سے ولی عباسی کے بارے میں بات کرنا شروع کی اور کہا:

 جوشیوں کے ساتھ لڑائی میں ، ہیلٹی نے  ان میں سے ایک کے بیگ سے کچھ گولیاں لیں اور ان میں سے ایک کھا لی ، جس نے فورا ہی انکا گلا ٹھنڈا کر دیا ، اور پھر جوانوں سے کہا ، "مت کھانا!  "دیکھو میرے ساتھ کیا ہوتا ہے ، کیونکہ یہ زہریلا ہوسکتا ہے۔"

 اس مقام پر ، میں گیا اور گولیوں کی طرف دیکھا اور مذاق میں کہا ، یہ تو"گاموسلوگ ہے!  یہ ایک پودینے کی گولی ہے۔  یہ زہریلی نہیں ہے۔  "میں پہلے بھی عراق جا چکا ہوں اور کام کر چکا ہوں ، یہ عراقی استعمال کرتے ہیں ..."

جوانوں نے رات کا کھانا کھایا اور آپریشن کے لیے تیار ہو گئے۔ رات کے دس بجے تھے، چاندنی پھیلی ہوئی تھی ، اور ہمیں اندھیرے کو استعمال کرنے کے لیے دس بجے سے پہلے کام کرنا تھا، یعنی خاردار تاروں کے پیچھے، لیکن سڑک اور ستون کے مسائل کی وجہ سے ایسا نہیں ہوپارہاتھا ، اور دشمن کی دفاعی لائن کے قریب ، چاندنی نے ہمیں انڈرگراونڈ رہنے پر مجبور کر دیا۔  خدا کاکرنایہ ہوا، بادلوں نے چاند کو ڈھانپ لیا ، اس وقت اندھیرے کی ضرورت تھی جو ہمیں خدا کی جانب سے اور کام جاری رکھنے کے لیے فراہم کردی گٸی۔ یہ دراصل ایک امداد غیبی تھی۔ جب ہم جگہ پر پہنچے تو ہم نے دیکھا کہ عراقی مکمل طور پر تیار تھے اور ان کے فون بج رہے تھے۔ انہوں نے آپریشن کا کوڈ کہہ کر ہمارے سامنے آپریشن شروع کیا۔  تاہم ، جوانوں نے انکی دفاعی چھاونی  کو تباہ کر دیا۔ آپریشن کے دوران پاسداران انقلاب کے محمد کریم کریمی شہید ہو گئے۔


ایک بسیجی کی چھٹی کرنا
 جب بٹالین نے چنگلولہ کے علاقے میں دفاعی مشن سنبھالا تو ہماری کمپنی نے اس لائن کے ایک مہلک علاقے  زمہ داری سمبھالی۔  جانی نقصان کو روکنے کے لیے ، ہم نے کمپنی کے ہیڈ کوارٹر میں مٹی کا ایک  پشتہ باندھا-  تاکہ ہ خندقوں کو ڈھانپ لےاوررات کو جب جوان  کچھ دیر کے لیے اکٹھے ہو ں تو گولی لگنے کے خطرے کو کم کریں۔

 ایک شام، جب جوان  اکٹھے ہو رہے تھے اور ایک گرم محفل جمی ہوٸ تھی، بسیج بھائیوں میں سے ایک چھٹی لینے میرے پاس آیا۔ اور اس سے اتفاق کرتے ہوئے ، میں نے ایک فارم جاری کرنے کے لیے "برادر بیگی" - جو کمپنی سیکرٹری تھے- کو خندق میں بھیجا۔  چند لمحوں کے بعد ، ہم میں سے باقی لوگ اس کے پیچھے چل پڑے۔  خندق میں داخل ہونے پر ، کئی مارٹر گولوں کی ایک قطار میں داغے جانے کی آواز سنی گئی۔  چند لمحوں کے بعد ، تمام گولے بالکل اسی جگہ لگے جہاں ہم بیٹھے تھے۔  درحقیقت اگر خدا کے فضل اور بسیج کی آمد نہ ہوتی تو وہ تمام لوگ جو کمپنی کے لیڈر تھے شہید ہو چکے ہوتے۔

 جاری ہے

 [1]۔  دونوں ایک ساتھ شہید ہوئے۔

 [2]۔  دونوں ایک ساتھ شہید ہوئے۔



 
صارفین کی تعداد: 1136


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
حسن مولائی کی یادیں

سو افراد، سینکڑوں افراد، ہزاروں

وہ لوگ جو چند گھنٹوں پہلے جمرات جا رہے تھے تاکہ رمی جمرات کا فریضہ ادا کرسکیں اب تولیہ اوڑھے سو رہے تھے۔ جب جنازے ختم ہوئے، تو مجھے سمجھ نہیں آئی کہ مجھے کہاں لوٹنا چاہئیے۔ اچانک میرے پیروں نے کام کرنا چھوڑ دیا اور میں نے پہلی مرتبہ وہاں گریہ کرنا شروع کردیا۔ واپس پلٹ کر ان سفید پیکروں کو دیکھنا شروع کیا۔ پوری سڑک جنازوں سے سفید ہوچکی تھی۔ ایک جوان مرد کی آواز پر چونکا جو میرے ساتھ کھڑا تھا اور میرے پیروں کے سامنے چپلیں رکھ رہا تھا۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔