شہید سید یونس حسینی رودباری

ترجمہ: ابو زہرا

2021-07-28


 

تاریخ پیدائش: 1311/07/11

جائے پیدائش: آغزبن رودبار گاؤں

ازدواجی حیثیت  غیرشادی شدہ

شہادت کی وجہ: پہلوی حکومت کے کمانڈوز کے ہاتھوں تشدت

تاریخ شہادت: 1342 کے اوائل

مقام: قم مدسہ فیضہ

مقام: عالم دین

اکتوبر 1311 ہجری کے گیارہویں دن، میر محمد علی حسینی کے خاندان میں ایک بچے کی پیدائش کے ساتھ ہی، خدا کا کرم اور رحمت شامل حال ہو گٸی، اور یہ مذھبی خاندان، جو غربت اور مادی زبوں حالی کاشکار تھا زراعت سے اپنی گزر اوقات کرتاتھا  وہ اس بچے کی پیدائش سے خوش تھا۔


 اس "رودباری" کسان ، میر محمد علی نے اس بچے کی پرورش کے پہلے مرحلے میں اللہ تعالٰی کا شکر ادا کیا اور اس کا نام نبیوں میں سے ایک نبی  "یونس" کے نام پررکھا ، تاکہ بچہ انبیاء ، کا سچا اور شہداء کا سیدھا راستہ چل سکے کلمہ حق اور توحید کے فروغ کا طریقے پر چل سکے۔
  پھر ، کمال اور فضیلت کی راہ میں سرمایہ کاری کرنے میں دشواری اور معاشی دباؤ کے باوجود ، انھوں نے کسی بات کی پروہ نہیں کی۔  اس مستعدی اور توجہ نے سید یونس کو نہ صرف اپنے کنبے اور خطے کے لٸے، بلکہ بعد میں اسلام اور ایران کے لئے بھی فخر سمجھا اور اسے قابل فخر اور اعزاز بخشا  سید یونس بارہ سالہ لڑکا تھا جس نے مرزا بلال طالبانی کے زیر انتظام اپنے آبائی شہر کی لائبریری میں قرآن کی تعلیم حاصل کی تھی ، اور چونکہ ان میں بڑی ذہانت اور قابلیت تھی لہذا اس الہی کتاب کو سیکھنے میں انھوں نے تیزی سے ترقی کی۔  اس سلسلے میں ان کی بھرپور صلاحیتوں نے سید رحمن سیاہ پوش قزوینی  کی طرف مبذول کرائی ، جو محرم ، صفر اور رمضان کے مقدس مہینے کے دوران رودبر آئے اور آغوزبن گاؤں میں منبر جاتے پر جاتے تھے ،انھوں نے میر محمدعلی سے سید یونس کی زھانت کی بناپر اجازت چاہی کہ یونس کواپنے ساتھ قزوین لے جاٸے  اگرچہ اس کا کنبہ غریب تھا اور وہ انکی تعلیم میں اخراجات کی  ادائیگی کا متحمل نہیں تھا ، لیکن وہ اس سے محروم نہیں رہا ،  گائوں والوں کی مدد اور سید قزوینی کا اس پر اصرار ، سید یونس کو قزوین پڑھنے کے لیےروانہ کردیا۔  انہوں نے دو سال تک قزوین کے ایک مدرسے میں دینی علوم کی تعلیم حاصل کی اور اس میدان میں بہت اہم پیشرفت کی۔  ان ایام  کو ضیا باقری  کے ساتھ گزارنے کے بعد ، جو ان  کےروم میٹ تھے کلیشم  رودبر گاؤں سے قزوین آٸے ، وہ وہاں کے مدرسوں میں اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لئے مقدس شہر مشہد گیےاور وہاں کے جید علماء اعلام سے کسب فیض کیا۔ انھوں نے مشہد الرضا (ع)  کے مدارس میں قریب دو سال تعلیم حاصل کی۔  اس عرصے کے دوران ، اپنی علمی قابلیت  اورایمان قلبی میں  اضافے کے ساتھ ، شاہی نظام کے خلاف ان کی سیاسی سرگرمی کا آغاز بھی ہوا۔  اس سلسلے میں ان کی سیاسی سرگرمی کی وسعت سبب  ساواک کے ذریعہ ان کی گرفتاری اور تشدد  بنی۔  تشدت  شدید تھا کہ ان پر کچھ عرصے لکھنا دشوار ہوگیاتھا۔  جب سید یونس علاج کے لئے ڈاکٹر کے پاس جاتے تو ، ڈاکٹر ان  سے کہتے:


 آپ حکومت سے کیاچاہتے ہیں؟  سید یونس نے جواب دیا: قرآن نے ہمیں جبر کا مقابلہ کرنے کا حکم دیا ہے۔  سید ابھی مکمل طور پر صحتیاب نہیں ہوئے تھےکہ ساواکی دوبارہ آپ کے پاس آٸے اور اس بار ان کو چابہار جلاوطنی کردیاگیا چابہار کی بندرگاہ میں تین ماہ کے جبری قیام مکمل کرنے کے بعد ، وہ اپنے آبائی شہر لوٹ آٸے۔  رودبر سے واپسی کے فورا بعد ہی ، انھوں  نے فیصلہ کیا کہ وہ تعلیم جاری رکھیں گے.


انھوں نے مدرسہ فیضیہ  میں اپنی تعلیمی سطح میں اضافے کے لئے قم جانے کا فیصلہ کیا۔ اہل خانہ اعتراض کرتے ہیں، لیکن وہ اپنے فیصلے پر قائم رہے۔  سید کے گھر سے نکلنے کے موقع پر ، ان کی والدہ نے اس سے کہا: "میرے بیٹے!  "وہ آپ کو مار ڈالیں گے اور لوگ ہم پر الزام لگائیں گے۔"  سید یونس نے اپنی والدہ کو جواب دیا: "جس نے بھی میری شہادت کے بعد آپ کو سرزنش کی ،تو آپ  اس کا مقابلہ کریں اور خدا کا شکر ادا کریں کہ اس نے ایسا بچہ پیدا کیا جس نے اسلام ، معاشرے اور ملک کے لئے قربانی دی ہے۔"


 تقریبا 7  سال تک ، انہوں نے امام خمینی (رہ) جیسے عظیم عالم کی نگرانی میں قم کے  مدرسہ فیضیہ  میں تعلیم حاصل کی اور دینی علوم کا مطالعہ کیا۔ اسلامی انقلاب کے بانی کی روشن فکری اور جدوجہد کے مطابق ، انہوں نےظالم حکومت کے خلاف فعال کوششیں شروع کردیں ۔ ایکبار پھرسید یونس کو ساواک نے گرفتار ، قید اور تشدد کا نشانہ بنایا۔  ان کی یہ جدوجہد 1342 میں شاہ کے کمانڈوز کا فیضیہ پر  حملےتک رہی ، جس دن شاہ کے گارڈز نے فیضہ پر حملہ کیا اس دن ان سے جھڑپوں کے بعدرات کو وہ اپنے کمرے میں آگٸے سید یونس  بہت بے چین تھے۔  کیونکہ یہ نوجوان بہادر اور نڈر تھا اور کبھی خوفزدہ ہوتا ہوا نہیں دیکھاٸی نادیا!  لیکن اس دن اسے کمانڈوز نے اتنی بری طرح مارا تھا جسکی وجہ سے ان پر جسمانی اور نفسانی نقاہت طاری ہوگٸی تھی وہ اس قورت حال سے بہت پریشان تھے۔  وہ سو بھی نہیں پا رہےتھے اور خود پر قابو نہیں بھی نہیں رکھ پارہےتھے۔  کمانڈوز کے مدرسہ فیضیہ پر حملہ کرنے کے بعد ، سید اسی حالت میں ایک دن قم میں رہے۔  اگلے دن ، دوسرے طلباء ، یہ دیکھ کر کہ اگر وہ قم میں اس حالت میں رہے تو وہ جان سے جاٸیں گے، چنانچہ انہوں نے سید یونس کو قزوین ، جو ان کے آبائی شہر کا سب سے قریبی شہر ہے ، وہاں بھیجنے کا فیصلہ کیا۔  اورقزوین میں ڈاکٹروں کے ذریعہ ان کے علاج کا بندوبست کرایا۔  ایک یا دو طلباء "سید یونس" کے ساتھ قزوین جانے کے لئے رضاکارانہ خدمات انجام دیتے ہیں ، لیکن وہ انکار کر دیتے ہیں اور قزون کے لئے قم کو تنہا چھوڑنا پسند کرتے ہیں۔  قزوین پہنچنے کے بعد ، وہ وہاں نہیں ٹھہرے اور روبرد کے لئے روانہ ہوے۔  اپنے آبائی شہر میں واپسی کے بعد کچھ ہی گذرےتھے کہ  انکی چوٹوں نے اپناکام کردیا سید یونس نے دار فانی سے الوداع کہا اور اپنے رب سے ملنے چلےگٸے۔  ان کے پیکر کو گلزار  امام زاد حسین آغوزبن (رودبر) میں دفنایاگیا۔

سید یونس کی شہادت کے بعد ، ان کے اہل خانہ نے امام خمینی سے ملاقات کی۔ امام خمینی نے سیدیونس کی شہادت پر افسوس کیا اور تعزیت پیش کی، جب امام خمینی نے شہید کے والد کو روتے ہوئے دیکھا تو آپ نے ان  سے کہا: یہ رونا آپ کا نہیں ہے!  یہ میری فریاد ہے کہ میں اپنے بہترین بچے کو کھویاہے۔

 

 ان کی روح کو سکون نصیب ہو ، اور بہت سارے لوگ اس کے راستے پر چلیں۔



 
صارفین کی تعداد: 318


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
11 ویں امیر المومنین ڈویژن کے شہید کمانڈر کی یاداشت

ہیلٹی - 10

ہمیں اس کا احساس اس وقت ہوا جب عراقی "رسام"  گولی ہم پر تقریبا  چھ بجے پیچھے سے چلائی گئی۔  یعنی ہم مکمل محاصرے میں تھے

جیل میں حصول علم

اسی اثنا میں ایک اور قیدی جو چوری کے جرم میں گرفتار تھا اس نے اپنی گردن کے پاس سے سوئی نکالی جو شاید ہمیشہ ہی اس کے پاس رہتی تھی اور میری ہتھکڑیاں کھول دیں اور میں نے امتحان دینا شروع کردیا۔ جب وہ سپاہی چابی لے کر واپس لوٹا تب تک میں آدھا امتحان دے چکی تھی

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔