پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں
ماموستا 73
مصنف: علی رستمی
ترجمہ: ضمیر علی رضوی
ویرائش: یوشع ظفر حیاتی
2026-9-20
پاوہ کی شب قدر(پہلا حصہ)
شہر پاوہ کے پڑوس میں دوریسان گاؤں، ڈیموکریٹک پارٹی کی فرنٹ لائن تھا۔ 16 اگست 1979 جس روز شب قدر تھی، کے آخری گھنٹوں میں (ڈیموکریٹک)پارٹی کے مسلح افراد جو شہر پر حملے کا ارادہ رکھتے تھے، ان کی سپاہ کی فورسز سے لڑائی شروع ہوگئی۔ اس لڑائی کے دوران، ڈیموکریٹک پارٹی کے ایک مشہور کارکن ’مصطفی حسینی‘ کے مارے جانے کے ساتھ ساتھ، سپاہ کے بھی کچھ اہلکار زخمی اور شہید ہوئے اور اس کے ساتھ ہی عملی طور پر جنگ کا نقارہ بجا دیا گیا اور آہستہ آہستہ پاوہ کا محاصرہ شروع ہوگیا۔ دونوں جانب کے دھرنے ختم ہوگئے اور دونوں گروہوں کے افراد ایک حملہ آور اور دوسرا محافظ، مسلح ہو کر ایک دوسرے کے مد مقابل آگئے تھے۔ مسلح افراد نے چاروں طرف سے پاوہ کو گھیر لیا تھا اور پاوہ سے کرمانشاہ جانے والا روڈ بند ہوچکا تھا اور قوری قلعہ سے لے کر پاوہ تک شہر پاوہ کے قریب تک کے روڈ اور اسی طرح دوریسان گاؤں پر مخالف مسلح فورسز کا کنٹرول تھا۔ ان لوگوں نے پاوہ اسپتال اور کویمکال پارک کے قریب عسکری صف آرائی شروع کردی تھی۔ پورے شہر کے اوپر پھیلے پہاڑوں کے ساتھ ساتھ خانقاہ گاؤں پر ختم ہونے والے تمام باغات پوری طرح سے ڈیموکریٹک پارٹی کے کارکنوں کے کنٹرول میں تھے۔ نوریاب گاؤں کے بعد نوسود شہر اور عراقی سرحد تک پورا علاقہ مخالف فورسز کے کنٹرول میں تھا، یہاں تک کہ ان لوگوں کے ساتھ عراقی کُردستان میہنی اتحاد[i] کے گوریلا جنگجوؤں کے تعاون کی مشکوک اطلاعات بھی موصول ہو رہی تھیں۔
میں اپنے پاس ایک چھوٹا ریڈیو رکھتا تھا جس کے ذریعے میں ملکی خبروں پر نظر رکھتا تھا۔ امام خمینی نے فلسطین کی تحریک کی حمایت اور قدس پر غاصب حکومت کے خلاف جدوجہد کے لیے ماہ رمضان کے آخری جمعے کا نام ’’یوم القدس‘‘ رکھا تھا اور ایران اور پوری دنیا کے لوگوں سے اپیل کی تھی کہ وہ اس دن نماز جمعہ میں اکٹھا ہو کر اور ریلی نکال کر، صہیونی غاصبوں کے خلاف فلسطین کی مظلوم عوام کا ساتھ دیں۔ 17 اگست 1979 کو یوم القدس منایا گیا۔ ریڈیو پر پورے ملک سے ریلیوں کی رپورٹس لمحہ بہ لمحہ نشر کی جا رہی تھیں اور پچیس لاکھ نمازیوں کی آیت اللہ طالقانی کی اقتدا میں تہران کی نماز جمعہ اور انقلاب کی کامیابی کے بعد چوتھی نماز جمعہ میں شرکت کو دنیا نے دیکھا۔ اس اہم دن، بے کسی کے عالم میں کچھ لوگ پاوہ شہر کا دفاع کرنے میں مصروف تھے۔
پاوہ میں نماز جمعہ، تجمید، صلوات اور قدس کے معاملے کی کوئی خبر نہیں تھی اور اللہ اکبر کے بجائے شہر سے کچھ دوری پر دشمن کی گولیوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ حملہ آور فورسز چورژی، نُسمَہ، بندرہ، دوریسان اور خانقاہ گاؤں میں تعینات تھیں اور انہوں نے شہر سے بلندی پر واقع چوٹیوں پر قبضہ کرکے انہیں اپنے کنٹرول میں لے لیا تھا۔ پاوہ کے محاصرے کا گھیرا مزید تنگ ہوچکا تھا اور حملہ آور اس حد تک اندر گھس چکے تھے کہ کوئی بھی سکون سے اپنے گھر میں نہیں بیٹھ سکتا تھا۔ سب لوگ اس مشکل سے نکلنے کا راستہ ڈھونڈ رہے تھے۔
پاوہ کا سول رجسٹری آفس جو اس وقت خالصی آستانے کے پیچھے، درویش صمدی کے گھر میں واقع تھا، ایک کلینک اور زخمیوں کے علاج کی جگہ میں تبدیل ہوچکا تھا۔ وہاں بہت کم طبی سہولیات کے ساتھ شہر کے مختلف مقامات سے لائے جانے والے زخمیوں کا علاج کیا جا رہا تھا۔ خاندان اور در حقیقت خواتین اور بچے خوف و ہراس میں مبتلا تھے اور شہر پوری طرح افراتفری کا شکار تھا۔ اپنے کمانڈروں کے ساتھ پاسداران، شہر کے کچھ حصوں میں تعینات تھے۔ ایک گروہ اسپتال میں اور دوسرا، شہر کے اردگرد کے ٹیلوں پر، جیسے کولہ ٹیلہ بظاہر جس پر امامی قبیلے کی مسلح فورسز تعینات تھیں۔ شہر کے بہت سے لوگ آس پاس کے دیہاتوں میں دربدر بھٹک رہے تھے اور باقی کچھ لوگ گولی لگنے کے ڈر سے گھر سے نکلنے کی ہمت نہیں کر پا رہے تھے۔ جو لوگ شہر میں آمد و رفت کر رہے تھے وہ صرف شہر کے محافظ اور مسلح افراد تھے۔ کارتوس کی بیلٹ ہمارے تھکے ہوئے جسموں پر مزید بھاری محسوس ہورہی تھی۔ انقلاب کے حامی مقامی افراد اور مقامی اور غیر مقامی پاسداران کے ہاتھوں میں طرح طرح کا اسلحہ دکھائی دے رہا تھا۔ اگست کی شدید گرمی میں، میں روزے کی حالت میں مسلسل سپاہ کی بلڈنگ سے گارڈ پوسٹ تک بھاگ دوڑ کر رہا تھا۔ ہماری گارڈ پوسٹ ہمارے گھر کے پاس سپاہ کی بلڈنگ کے جنوب میں چند سو میٹر کے فاصلے پر واقع تھی؛ پاوہ اور خانقاہ گاؤں کے درمیان درۂ مخوف اور باغات کے پاس آخری عمارت۔ ہم نے اس پوسٹ کو بنکر کی نچلی جانب اور خانقاہ گاؤں تک جانے پر ختم ہونے والے درے کی طرف بنایا تھا۔ ایک اہم بنکر جس پر قبضہ ہوجانے کی صورت میں سپاہ کی بلڈنگ پر ڈیموکریٹک پارٹی کے لوگ باآسانی قبضہ کرلیتے۔ اس آمد و رفت میں، میں سپاہ کی بلڈنگ سے کارتوس کی بیلٹیں لاکر شہر کے جنوبی فرنٹ پر عبداللہ رشیدی صاحب کی چھت کے اوپر موجود محافظین کو دے رہا تھا۔
اس رات میں، سپاہ کے انٹیلیجنس افسر جمیل بابائی[ii]، میرا بھتیجا نادر قادری، محمد تقی بابائی، صالح ولدبیگی[iii]، ابوبکر امینی اور دوسرے کچھ ساتھی، افطار پر کشاورزی(زرعی) بینک کے ملازم محمد امین رفیعی کے مہمان تھے۔ البتہ ہماری دعوت میدان جنگ کے بیچ ہونے والے ایک دعوت تھی اور ہم ایک پل کے لیے بھی اپنی اہم پوزیشنز اور پوسٹ سے غافل نہیں تھے اور گروہوں کی صورت میں باری باری نگرانی کر رہے تھے۔ دشمن نے متعدد بار باغات اور سپاہ کے سامنے والی گلی سے شہر میں داخل ہونے کی کوشش کی لیکن ہر بار ہمارے گروہ کی فوری فائرنگ سے وہ لوگ وہاں سے فرار ہو رہے تھے۔
افطار کے بعد، لڑائی شدت اختیار کرگئی۔ بھاری اور قریبی فائرنگ کی آواز سے معلوم ہورہا تھا کہ وہ لوگ شہر پر قبضے کا مصمم ارادہ رکھتے ہیں۔ سب لوگ پریشان تھے۔
رفیعی صاحب کہہ رہے تھے: ’’میں جوانرود سے ہوں اور شہر پر قبضہ ہونے کی صورت میں اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ میرے گھر کی تلاشی لی جائے۔‘‘
انہوں نے مجھے پیشکش کی کہ میں ان کے گھر میں رک جاؤں اور کسی کمرے کے اسٹور میں چھپ جاؤں۔ اپنے پڑوسی اور افطاری کے میزبان کی بات اور پیشکش مجھے بالکل بھی اچھی نہیں لگی اور میں نے ان سے کہا کہ یہ پیشکش ہمارے انقلابی جذبے اور کُردی غیرت کے خلاف ہے۔ میں نے کہا کہ میں کسی بھی حال میں کہیں بھی چھپنے کو تیار نہیں ہوں۔ میں نے کہا: ’’آئیں ہم عہد کرتے ہیں کہ شہر، سپاہ اور ہمارے جگہ پر ڈیموکریٹک پارٹی کے لوگوں کا قبضہ ہوجانے کی صورت میں ہم ان کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالیں گے اور اپنے گھر والوں کو خدا کے حوالے کر کے خود ایک جٹ ہوکر پاوہ کے سامنے والے درے کے راستے آتشگاہ[iv] پہاڑیوں کو عبور کرتے ہوئے لڑائی کی جگہ سے دور نکلیں گے اور پہاڑوں میں پوزیشنز لے کر اپنا دفاع کریں گے اور کچھ لوگوں کو متبادل راستوں سے کرمانشاہ بھیجیں گے تاکہ شہر پر قبضے کی خبر حکام تک پہنچا سکیں۔‘‘
افطار کرنے کے بعد میں گھر لوٹ آیا۔ میرے سسر کی عمارت میں ایک چھوٹا سا گھر، جس میں والدہ اور دو چھوٹے بچے تھے۔ ہمارے گھر میں بہت شور شرابا تھا اور ہمارا گھر، شہر کے دفاع کی ایک اہم پوسٹ بن چکا تھا۔ شہر کے مغربی علاقے میں کولہ ٹیلے پر ایک 75 ایم ایم مشین گن کے ساتھ دو غیر مقامی اور قریب تیس امامی قبیلے کے مقامی لوگ تعینات تھے۔ رات کے قریب دس بجے امامی قبیلے کے لوگوں کا گولہ بارود ختم ہوجانے کی وجہ سے ان کے پاس جنگی حکمت عملی تبدیل کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا اور گرفتاری سے بچنے کے لیے وہ اس جگہ کو چھوڑ کر خانقاہ گاؤں کے باغات کے راستے آتشگاہ پہاڑیوں اور وہاں سے اپنے قبیلے کے گاؤں بانَہ ورَہ[v] چلے گئے تھے۔ امامی قبیلے کی جانب سے پوزیشنز تبدیل کرنے کے بعد، 75 ایم ایم مشین گن چلانے والے جن کا گولہ بارود ختم ہو چکا تھا، گھبرا کر شہر میں آگئے تھے۔
[i] کُردستان میہنی اتحاد(Patriotic Union of Kurdistan PUK) جسے کُرد لوگوں کے بیچ ’یہ کیہ تی‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، عراقی کُردستان میں ایک کُرد پارٹی ہے جس کی تأسیس سن 1975 میں ہوئی۔ تأسیس سے لے کر اب تک اس پارٹی کے سربراہ، جلال طالبانی ہیں۔ میہنی اتحاد پارٹی، ایران۔عراق جنگ کے دوران بعث پارٹی کی سخت دشمن اور ایران کی حامی تھی۔
[ii] جنرل انجینیئر جمیل بابائی، دوریسان گاؤں کے پیدائشی، ملک کے مغربی آپریشنز کے ایک کمانڈر تھے۔
[iii] صالح ولدبیگی، جنوری 1980 میں خانقاہ گاؤں کو آزاد کرانے کے دوران شہید ہوئے۔
[iv] آتشگاہ یا آتشکدہ پہاڑ، پاوہ شہر کے سامنے، ایک پہاڑی سلسلہ ہے جو شاہو پہاڑ سے الگ ہوتا ہے اور شمشیر گاؤں کے مغربی حصے سے گزرتا ہوا شمال مغربی سمت میں پھیلا ہوا ہے اور دریائے سیروان پر ختم ہوتا ہے۔
[v] باینگان ضلع سے پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر شیوہ سر دیہاتی ضلع کا مرکز، جو سن 2011 میں شہر بن گیا تھا، بانہ ورہ کے لوگ جاف قبیلے اور امامی خاندان سے ہیں جو انقلاب اسلامی کے اوائل میں اس علاقے میں اکٹھا ہوئے تھے اور آہستہ آہستہ انہوں نے اس شہر کو بسایا۔
صارفین کی تعداد: 8
گذشتہ مطالب
سب سے زیادہ دیکھے جانے والے
راوی کا آخری سفر
بہشت زہرا (س) میں اُن کے والد کے گرد گھیرا تھا، وہ پرسکون اور مطمئن تھے، بالکل خود آقا مرتضی کی طرح، جب غسل خانے کے شیشے کے پیچھے سے اُنہیں اُس کٹی ہوئی ٹانگ کے ساتھ دیکھا۔ ایک عورت آئی تھی جس کی آنکھیں رونے سے سرخ تھیں، لگتا تھا کسی شہید کی ماں ہے، کہنے لگی: «برسوں سے اس آواز پر روئی چلی آئی ہوں لیکن مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ آپ کے صاحب زادے ہیں۔ وہ ہم سب کا بیٹا ہے، خوش نصیب ہیں آپ لوگ۔»"1987 میں حج کا خونی واقعہ"
دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیںساواکی افراد کے ساتھ سفر!
اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!
کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح
دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔







