میکائیل احمد زادہ کی یادداشت کا ایک ٹکڑا
انتخاب: فاطمہ بہشتی
ترجمہ: سیدہ رومیلہ حیدر
2026-1-23
ایک رات جب ہماری شناسائی کی ڈیوٹی تھی، ہمیں دشمن کی اپنی فورسز کی طرف آمد و رفت کی راہداریوں کا پتہ چلا جو راتوں رات آگے بڑھ کر مورچے کھودنے آ رہے تھے۔ ایسا لگتا تھا کہ دشمن ہماری فورسز کے خلاف ایک چھوٹی سی کارروائی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جو فرنٹ لائن پر تعینات ہماری فوج کے لیے بہت خطرناک ثابت ہو سکتی تھی۔ اس لیے ہم نے دشمن سے پہلے ہی عمل کرنے کا فیصلہ کیا۔ اگلی رات، تاریکی پھیلتے ہی، ہم نے عراقی گشتی دستوں کے لیے بیابان میں کمین گاہ تیار کی تاکہ دشمن کی چال کو بھانپ سکیں اور اگر ممکن ہوا تو ان میں سے کچھ افراد کو معلومات حاصل کرنے کے لیے قیدی بنا سکیں۔
اگلی رات، ہم جنگی ترتیب میں، بیابان میں محافظوں کو تعینات کرتے ہوئے مطلوبہ مقام کی طرف روانہ ہوئے۔ پہاڑی علاقہ ہونے اور اس موسم میں سخت سردی کے پیش نظر، ہم نے ایسے سبز فوجی لباس پہنے جو رات کو نظر نہیں آتے تھے تاکہ ہمارا مشن دشمن کی نظروں سے اوجھل رہے۔ تقریباً تین بجے کے قریب، عراقی فوج کے گیارہ افراد نہایت سنبھل سنبھل کر سے ہماری پوزیشنوں کی طرف بڑھ رہے تھے۔ کچھ فاصلہ طے کرنے کے بعد، وہ اپنے اپنے مقررہ مقامات پر چلے گئے۔ رات انتہائی تاریک تھی اور ہماری یونٹ، وائرلیس خاموش ہونے کے باعث تاکہ ہماری موقعیت کا پتہ نہ چل جائے، اس وقت تک ہم سے بے خبر تھا کہ اگر ضرورت پڑ جائے تو تیار رہیں فائر سپورٹ اور اضافی فورس بھیج کر ہماری مدد کرسکیں۔
ہم اندھیری رات میں انفراریڈ دوربینوں کی مدد سے علاقے پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ یہ بتانا ضروری ہے کہ ٹیلے کے پاس ایک مشہور اور پُرآب ندی "کنگاکوش" بہتی ہے جو ایران کی سرزمین میں داخل ہوتی ہے۔ پانی کی زیادہ مقدار اور تیز رفتار بہاؤ کی وجہ سے اس میں بارودی سرنگیں یا دھماکا خیز جال بچھانا ممکن نہیں تھا۔ اس کے باوجود، دشمن اس سمت سے بے فکر نہیں تھا۔ وہ ہر رات ایرانی گشتی دستوں کے داخلے کو روکنے کے لیے اس علاقے کے مختلف مقامات پر کئی محافظ تعینات کرتے تھے؛ کیونکہ عراقی پوزیشنوں میں داخل ہونے کا واحد راستہ یہی کنگاکوش ندی تھی۔
کچھ دیر بعد، جب ہم نے حرکت کا ارادہ کیا تو ہمیں دو عراقی فوجی نظر آئے۔ وہ ندی کے کنارے پہرہ دے رہے تھے۔ ہمارے کمانڈوز نے انہیں گرفتار کرنے یا ضرورت پڑنے پر مار ڈالنے کے لیے آہستہ سے ان کی طرف حرکت کی۔ دو کمانڈوز ندی کے محافظ کی طرف بڑھے جبکہ ہم میں سے چار افراد رینگتے ہوئے عراقیوں کے مورچے کی جانب جاسوسی کی غرض سے بڑھنے لگے۔ باقی سب نے ایک دوسرے کی حفاظت اور سیکورٹی کی ذمہ داری سنبھال لی۔ ہماری منصوبہ بندی یہ تھی کہ بیک وقت محافظ کے قریب پہنچ کر اگر ضرورت ہوئی تو اسے ختم کر دیں۔ دو دیگر افراد نے ندی کے محافظ کو گرفتار کرنے کی ذمہ داری سنبھالی۔ ایک لمحے کی عدم ہم آہنگی یا غفلت ہماری جان لے سکتی تھی۔
ہوا انتہائی سرد تھی۔ شدید سردی اور مکمل تاریکی کی وجہ سے عراقی فوجی کسی کونے میں دبک کر اونگھ رہے تھے اور شاید ہماری ممکنہ آہٹوں پر کم ہی دھیان دے پا رہے تھے۔ آخرکار تقریباً ڈیڑھ گھنٹے بعد، ہم عراقی مورچے سے چند قدم کی دوری پر پہنچ گئے۔ اس وقت رات لائیٹ فلئرز کی فائرنگ کا سلسلہ جاری تھا۔ ہم نے اپنے آٹومیٹک اور شارٹ رینج ہتھیار اپنے جیکٹوں کے نیچے چھپا رکھے تھے تاکہ نہ چمک پیدا ہو اور نہ ہی آواز۔ ہم دشمن سے محض پانچ گز کے فاصلے پر تھے۔ فیصلہ کن لمحہ آن پہنچا تھا۔ ہمارے دونوں گروپ اپنے مقام پر پہنچ چکے تھے۔ آسمان ہلکا ہلکا روشن ہونے لگا تھا اور ایک گھنٹے بعد فجر طلوع ہونے والی تھی جس سے ہمارا کام مشکل ہو جاتا۔
وہاں ایک بہت ہی تنگ دراڑ تھی جہاں میں عراقی فائرنگ کی صورت میں پناہ لے سکتا تھا۔ میں مشکل سے اس میں سمٹ پایا۔ میرا آدھا جسم باہر تھا۔ علاقے میں اُگی ہوئی پہاڑی گھاس نے ہمیں دشمن کی نظروں سے نسبتاً چھپا رکھا تھا۔ اسی دوران ایک جنگلی بلا ہماری طرف جھپٹا اور بہت بلند اور خوفناک آواز نکالی۔ ایک عراقی فوجی اچانک نیند سے جاگ گیا اور گھبرائی ہوئی نظروں سے علاقے کو دیکھنے لگا۔ تاریکی اور ہمارے کیموفلیج کی وجہ سے وہ ہمیں پہچان نہیں سکا اور خوش قسمتی سے بلا بھی بھاگ گیا۔
اللہ کا کرنا یہ ہوا کہ ہم نے فائرنگ نہیں کی۔ عراقی سپاہی ہوشیار ہو گیا اور علاقے کو اچھی طرح دیکھنے کی کوشش کرنے لگا۔ اسکے پاس مشین گن تھی اور ہم اس سے چند قدم کے فاصلے پر۔ ہم سب اس کی سایہ کی طرح کی حرکات پر نظر رکھے ہوئے تھے اور ضرورت پڑنے پر جھڑپ کے لیے تیار تھے۔ ہمارا منصوبہ دشمن کو اچانک دبوچنا تھا تاکہ کھلی ہوئی آمدورفت کی راہداریوں کا پتہ نہ چل سکے۔ عراقی سپاہی سب کے سب اونگھنے کی حالت میں تھے۔ ہمارے فوجی عراقی سپاہی سے چند قدم کے فاصلے پر پہنچ چکے تھے اور ایک لمحے میں اسے گرفتار کرنے یا مار ڈالنے کے لیے تیار تھے۔ اسی لمحے ہمارے ایک کمانڈو نے اس پر پیچھے سے حملہ کیا اور چاقو اس کے گلے پر رکھ دیا۔ عراقی سپاہی چیخنا چاہتا تھا، لیکن ہمارے بہادر کمانڈو نے چاقو پر اور زور دےکر اسے سمجھا دیا کہ اب کچھ نہیں ہو سکتا اور اسے خاموش رہنا چاہیے۔ وہ درخت کے پتے کی طرح کانپ رہا تھا اور اس کی زبان گنگ ہو گئی تھی۔
اسی لمحے چڑچڑاہٹ کی آواز سے پاس موجود نگہبان نے آہستہ سے آواز دی: جمیل! جمیل! اس آواز کی وجہ سے ہم سے آگے موجود نگہبان بھی نیند سے بیدار ہوگیا اور اسلحہ ہاتھ میں لے کر ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ ندی کے کنارے عراقی سپاہی کی گرفتاری کے بعد شور غل شروع ہوچکا تھا اچانک ندی کی جانب سے فائرنگ شروع ہوگئی اور عراقیوں کو ہماری موجودگی کا پتہ چل گیا۔ ہمارے آگے والے نگہبان نے اسلحہ اٹھایا ہی تھا کہ فائرنگ کرے کہ ہم نے ایک چھوٹا برسٹ چلا کر اسے مار دیا۔ اسکے بعد چند چھوٹے صوتی اور جنگی گرینیڈز عراقویں کو ڈرانے اور موقع سے فائدہ اٹھانے کے لئے عراقیوں کی جانب پھینکے۔ ان دھماکوں اور آوازوں کا فائدہ یہ ہوا کہ ہم عقب نشینی کرنے میں کامیاب ہوگئے۔
صارفین کی تعداد: 12
گذشتہ مطالب
سب سے زیادہ دیکھے جانے والے
میکائیل احمد زادہ کی یادداشت کا ایک ٹکڑا
عراقی سپاہی چیخنا چاہتا تھا، لیکن ہمارے بہادر کمانڈو نے چاقو پر اور زور دےکر اسے سمجھا دیا کہ اب کچھ نہیں ہو سکتا اور اسے خاموش رہنا چاہیے۔ وہ درخت کے پتے کی طرح کانپ رہا تھا اور اس کی زبان گنگ ہو گئی تھی"1987 میں حج کا خونی واقعہ"
دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیںساواکی افراد کے ساتھ سفر!
اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!
کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح
دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
