پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں

ماموستا 36

مصنف: علی رستمی

ترجمہ: ضمیر علی رضوی
ویرائش: یوشع ظفر حیاتی

2025-4-5


ایران واپسی ۔ دزآور(گاؤں)

قریب دو سال تک سہ رگہ ت گاؤں کے حجرے میں رہنے کے بعد، میں نے تلخ یاد اور ناخوشگوار واقعے کے ساتھ عراق کے کردستان میں اپنی مزید تعلیم کو ترک کردیا، وعدہ خلافی کا وہ واقعہ جسے یاد کرکے میں آج بھی شرمندہ ہوجاتا ہوں۔ میں عراق چھوڑ کر ایران آگیا۔ کچھ عرصے تک میں دورۂ خارج کے تعلیمی استثناء کارڈ کی تجدید کی کوشش میں لگا رہا۔ سن 1971(1350) کے موسم خزاں میں، میں دزآور گاؤں چلا گیا کہ جہاں ماموستا ملا احمد نعمتی نے حال ہی میں حجرے قائم کیے تھے۔ ماموستا نعمتی، بالِک گاؤں میں اپنی دینی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ماموستا محمد باقر بالک[1] صاحب سے اجازت لے کر دزآور آگئے تھے۔ ہم 2500 سالہ شہنشاہی جشن کے دنوں میں دزآور گاؤں میں داخل ہوئے۔ ہر طرف جشن کا سماں تھا اور رقص ہو رہا تھا۔ ہم، تین طالب علموں کے ساتھ دزآور میں ٹھہر گئے۔ دزآور میں اپنے سات ماہ کے قیام کے دوران میں نے ماموستا نعمتی سے علم صرف کی کتاب ’’شرح النظام‘‘ پڑھی۔

ماموستا نعمتی ایک پڑھے لکھے انسان اور ایک اچھے مدرس تھے، لیکن کبھی کبھار وہ عرفی معاملات، دینی اور مقامی رسم و رواج کی رعایت نہیں کرتے تھے اور اسی وجہ سے ہم طلباء ان کے معاشرتی رویے سے نالاں تھے؛ مثلاً: ہم چار طالب علم مسجد کے پیچھے ایک چھوٹے سے کمرے میں رہتے تھے۔ کبھی جب ہم آرام کر رہے ہوتے تھے یا مطالعہ کر رہے ہوتے تھے تو ماموستا بتائے بغیر اور دق الباب کیے بغیر کمرے میں داخل ہوجاتے تھے۔ ہم ان کے اس رویے سے بہت پریشان تھے۔ ہم نے ان کی یاد دہانی کے لیے کمرے کے دروازے کے باہری حصے پر چونے سے لکھ دیا تھا: ’’ یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُیُوتًا غَیْرَ بُیُوتِکُمْ حَتَّى تَسْتَأْنِسُوا وَتُسَلِّمُوا عَلَى أَهْلِهَا  ‘‘[2] لیکن ان یاد دہانیوں کا بھی کوئی اثر نہیں ہوا اور انہوں نے اپنے گزشتہ رویے کو جاری رکھا۔ البتہ ہماری پریشانی کی وجہ یہ تھی کہ ہم ماموستا کو اپنا آئینہ سمجھتے تھے اور ہمیں اپنے قابل احترام آئینے پر چھوٹے سے چھوٹا دھبہ بھی برداشت نہیں تھا۔ ماموستا نعمتی سے اختلاف اور اس کے ساتھ درسی کتابوں پر مزید تسلط رکھنے والے استاد کی ضرورت کے احساس کے باعث سن 1978(1351) کے موسم بہار کے آخر میں، اپنے ساتھ تعلیم حاصل کر رہے ملا ابراہیم سلینی اور ملا حامد ژیواری کے ساتھ میں نے دزآور گاؤں چھوڑ کر مریوان کے دورود گاؤں کی طرف کوچ کیا۔

 


[1]  محمد باقر ولد حسین خان، عرف ناغاگہ ورہ(بڑے صاحب)، آپ سن 1937(1316) کے شوال میں نزار سنندج گاؤں میں پیدا ہوئے اور آپ نے سن 2013(1392) میں اس دار فانی سے کوچ کیا۔ مرحوم نے اپنی بابرکت عمر کے 55 سال تدریس میں صرف کیے کہ جن میں سے 49 سال آپ مریوان کے بالک گاؤں میں رہے۔

[2]  ’’اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا اور کسی کے گھروں میں نہ جایا کرو جب تک اجازت نہ لے لو اور گھر والوں پر سلام نہ کرلو‘‘(نور/27)۔



 
صارفین کی تعداد: 24


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

آپریشن ’’مطلع الفجر‘‘

راوی: مولاداد رشیدی
دشمن اس علاقے کی عسکری اہمیت کو جانتا تھا اور ایک بڑی شکست جس کے نتیجے میں اسے سرپل ذہاب اور مغربی گیلان جیسے بڑے علاقے سے پیچھے ہٹنا پڑتا، سے بچنے کے لیے اس نے اپنی پوری طاقت لگادی تھی۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔