دفاع مقدس میں کمانڈروں اور عام مجاہدین کی روایات کا موازنہ
یادداشتیں، خواہ کمانڈروں کی ہوں یا عام مجاہدین کی، بکھری ہوئی شکل میں شائع ہوئی ہیں اور ابھی تک ان میں سے اکثر عوام کے لیے دستیاب نہیں ہیں۔ ڈیجیٹل آرکائیو اور جامع ڈیٹا بیس کا قیام ضروری ہے۔شہر دامغان کے ۱۱ محرم بمطابق ۱۲ دسمبر ۱۹۷۸ کا واقعہ
ایک یادداشت، ایک خبر اور پانچ حکومتی رپورٹس کی روشنی میں
محرم الحرام کے مہینے کی آمد اور امام خمینی رح کے اس پیغام کے پھیلنے کے ساتھ کہ مجاہدین، واعظین اور خطیب اس مہینے سے پہلوی حکومت کا اصل چہرہ آشکار کرنے کے لیے استفادہ کریں، عوامی جدوجہد، راہپیمائیوں اور مظاہروں میں گزشتہ کی نسبت اضافہ، شدت اور شرکتکنندگان کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوادفاعِ مقدس میں خواتین اور مردوں کی تحریری یادداشتوں کا موازنہ
یہ کہا جا سکتا ہے کہ خواتین اور مردوں کی تحریری یادداشتوں کا موازنہ نہ صرف جنگ کے بیانیے میں صنفی فرق کو پہچاننے کی ایک کوشش ہے، بلکہ ایرانی قوم کے اجتماعی حافظے کی تعمیرِ نو کی جانب ایک قدم ہے؛ وہ حافظہ جس میں مرد اور عورت دونوں ایک ہی سچائی کے راوی ہیں: معاصر تاریخ کے مشکل ترین دور میں ایرانی انسان کے ایمان، ایثار اور استقامت کی سچائیزبانی تاریخ کی وثاقت؛ امکان سے ضرورت تک
زبانی تاریخ میں اصلیت اور وثاقت کا معاملہ کچھ مختلف ہے۔ یہاں مواد کو معتبر بنانے میں وہ تمام مراحل شامل ہیں جن کے تحت انٹرویو کا ماحول فراہم کیا جاتا ہے، اسے ترتیب دیا جاتا ہے، اسے محفوظ کیا جاتا ہے اور پھر شائع کیا جاتا ہے۔زبانی تاریخ میں سچ اور جھوٹ
ہمارے ملک میں مختلف اسباب، جن میں انقلاب اور جنگ (ایران-عراق) شامل ہیں، کی وجہ سے پچھلے کچھ سالوں میں مختلف بیانیوں (روایتوں) کی تخلیق میں اضافہ ہوا ہے۔ اس امر نے زبانی تاریخ کی اہمیت کو ہمارے معاشرے میں دو چنداں کردیا ہے۔پرواز نا تمام
یہ پانچوں کمانڈر 29 ستمبر 1981 (7 مهر 1360) کو اس وقت شہید ہوئے جب ان کا C-130 طیارہ مہرآباد ہوائی اڈے سے 17 میل دور تھا۔ حادثہ طیارے کے چاروں انجنوں کا بیک وقت بند ہو جانا تھا۔ پائلٹ کی طیارے کو زمین پر اتارنے کی کوشش ناکام رہی"نئی نسل پر مقدس دفاع کی یادوں کے اثرات کا تجزیہ: اقدار کی منتقلی میں کردار و اطلاق"
مقدس دفاع (ایران-عراق جنگ، 1980-1988) کی یادیں محض تاریخی روایتیں نہیں ہیں۔ وہ طاقت ور ثقافتی، تربیتی اور تعلیمی اوزار ہیں جو نئی نسل کو جنگ کی حقیقتوں، قومی شناخت اور انسانی اقدار سے روشناس کرا سکتے ہیںتین بیانات اور چار یادوں کے مطابق
انقلاب کے دوران فیروزآباد کے کوروش سینما کی تباہی(حصہ دوم)
پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا تھا کہ وہ مجھے بغیر بتائے اتنی رات تک گھر سے باہر رہا ہو۔۔۔ رات کے قریب ڈھائی بجے تھے کہ آخرکار دروازے پر دستک ہوئی۔۔۔ جیسے ہی میں نے دروازہ کھولا تو میری جان نکل گئی۔ میں نے دیکھا کہ پولیس موبائل، گویا جلتے پر تیل چھڑک دیا ہو میں مزید پریشان ہوگئی۔انقلاب کے دوران فیروزآباد کے کوروش سینما کی تباہی(حصہ اول)
تین حکایات اور چار یادوں کے مطابق
کچھ طلباء کے ہاتھوں، کوروش سینما گھر کو نذر آتش کیے جانے کا واقعہ بھی انہی دنوں رونما ہونے واقعات میں شامل تھا اور یہ واقعہ پہلوی حکومت کے خلاف تحریکوں کو تیز کرنے میں اس حد تک مؤثر ثابت ہوا کہ شہریوں میں جنوری 1979(بھمن 1357) کے دوران فیروز آباد میں ساواک کی عمارتوں، پولیس ہیڈکوارٹر اور گورنر ہاؤس پر حملہ کرنے کی جرأت آگئی اور انہوں نے انقلاب کی فتح سے پہلے ہی ان جگہوں کو قبضے میں لے لیا۔شہید ناصر کاظمی
۱۹۸۱ میں شہید محمد بروجردی نے محمد ابراہیم ہمت کو پاوہ کی سپاہ کا کمانڈر مقرر کردیا اور شہید ناصر کاظمی کو سپاہ کردستان کا کمانڈر بنا کر سنندج بھیج دیا گیا۔ جہاں شہید کاظمی نے شہداء بٹالین کی بنیاد رکھی جو آگے چل کر شہداء ڈویژن میں تبدیل ہوگئی ۔1
...
گذشتہ مطالب
- انقلابی حلقوں سے اسلامی حکومت کے فوجی بازو تک
- جنگ کے بعد شہر مشہد ایک زائر کی نگاہ سے
- کاکِ خاک (خاک کا بھائی)
- دفاع مقدس میں کمانڈروں اور عام مجاہدین کی روایات کا موازنہ
- ماموستا 72
- شہر دامغان کے ۱۱ محرم بمطابق ۱۲ دسمبر ۱۹۷۸ کا واقعہ
- دفاعِ مقدس میں خواتین اور مردوں کی تحریری یادداشتوں کا موازنہ
- ہم بھی لڑے تھے (ما هم جنگیدیم)
سب سے زیادہ دیکھے جانے والے
عباس دوزدوزانی کی یادوں کا ایک ٹکڑا
انقلابی حلقوں سے اسلامی حکومت کے فوجی بازو تک
ہم نے اسی جملے کو "امام کا حکم" سمجھا اور ان کی خدمت سے رخصت ہوئے۔ جب ہم تہران واپس آئے تو 22 اپریل 1979 کو ایک بیانیہ لکھا۔ جس کا متن لکھنے کی ذمہ داری مجھے سونپی گئی تھی اور اخبارات کو دیا جو اگلے روز شائع ہوا۔ یہ بیانیہ بطورِ خاص سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے وجود کا پہلا اعلان تھا۔"1987 میں حج کا خونی واقعہ"
دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیںساواکی افراد کے ساتھ سفر!
اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!
کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح
دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
