میکائیل احمد زادہ کی یادداشت کا ایک ٹکڑا
عراقی سپاہی چیخنا چاہتا تھا، لیکن ہمارے بہادر کمانڈو نے چاقو پر اور زور دےکر اسے سمجھا دیا کہ اب کچھ نہیں ہو سکتا اور اسے خاموش رہنا چاہیے۔ وہ درخت کے پتے کی طرح کانپ رہا تھا اور اس کی زبان گنگ ہو گئی تھیمحمد ہادی اردبیلی کی یادداشتوں کا ایک ٹکڑا
جب یہ ریلی خیابان ویلا میں موجود اسرائیلی ائیر لائن العال کے دفتر پر پہنچی تو لوگوں نے اس پر پتھراؤ کردیا اور کوکٹل موٹولف پھینک کر آگ لگا دی۔ یہاں پر اچانک ساواک اور پولیس نے مظاہرین پر حملہ کرکے کئی ایک کو گرفتار کرلیا لیکن اکثر افراد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔سید ناصر حسینی کی قید کے دوران کی یادداشت
جب میں نے واپس حراستی مرکز جانا چاہا، تو ہاتھوں کے شدید درد کی وجہ سے مشکل سے عصا کے سہارے وہاں پہنچا۔ جب بجلی کے کیبل سے ہاتھوں پر ضرب لگتی، چھالے پڑ جاتے اور پھر کئی دنوں تک میں اپنے ہاتھ استعمال نہیں کر سکتا تھا۔ بغیر عصا کے ایک پاؤں پر کودتا اور خود کو حرکت دیتا۔محرم آپریشن کا پہلا مرحلہ
ہمارے محاذ سے دس کلومیٹر کے فاصلے پر دشمن ایک گولی بھی ہمارے رزمندگان پر نہیں چلا سکا۔ ہمارے دستے فرنٹ لائن میں عراقیوں پر بجلی کی طرح ٹوٹ پڑے اور "یا حسینؑ" اور "یا زینبؑ" کے نعروں کے ساتھ انہیں تباہ کرتے ہوئے آگے بڑھےفضائیہ کے ایک پائلٹ کی یادداشت
ہیلی کاپٹر کے سامنے چند پرندے تیزی سے گزر گئے، مگر میں بے پرواہ ہو کر عراقی ٹھکانوں پر حملے کے خیال میں ڈوبا رہا۔ نیچے دیکھا تو گاؤں والے اپنے کاموں میں مصروف تھے اور بچے کھیل چھوڑ کر ہمیں ہاتھ ہلا رہے تھے۔ یہ سب مناظر مجھے مزید پُرعزم کر رہے تھے کہ بعثیوں کے خلاف سخت کارروائی کروںمنافقین کے نیرنگ
جب عراقی پناہ گزین بنانے میں ناکام ہوئے تو انہوں نے منافقین سے مدد مانگی۔ منافقین، جنہوں نے اپنی زیادہ تر جنگی قوت "فروغ جاویدان" آپریشن میں کھو دی تھی اور نئے افراد کی ضرورت محسوس کر رہے تھے، صدام کی درخواست کو قبول کر لیا۔شهید سید محمدعلی جہاں آرا کی اہلیہ کی یادیں
یہ بات ایک بار محمد کی چچا زاد بہن کے گھر بھی ہوئی۔ اس نے کہا: "ہم پہلے تم سے زیادہ مل لیا کرتے تھے، لیکن شادی کے بعد ملاقات بھی نہیں ہوتی۔" اس بار محمد نے جواب دیا: "بھئی، جب میری بیوی ہی مجھ سے نہیں مل پاتی تو دوسرے لوگ کیسے ملیں گے!"عبدالحمید رؤفی نژاد کی یادداشت
حسن باقری کے شناسائی کے گروہ کی رہنمائی
حسن باقری نے جنگ کے ہنگاموں میں بھی اپنی فطری اور ہنری ذوق کو محفوظ رکھا تھا۔ شجاع گاؤں کی عمارت میں ایک کمرہ تدارکات کے لیے تھا۔ جب ہم موٹر سائیکل پر سوار ہونے لگے تو دیکھا کہ وہ دوبارہ کمرے میں گئے۔ میں انتظار کرتا رہا لیکن وہ نہیں آئےشہید ہاشمی نژاد کے بھائی کی یادداشت
شہادت کیسے ہوئی؟
علویان صبح حزب کے دفتر آیا، بیت الخلا میں بم تیار کیا اور پائیدان پر بیٹھ گیا۔ جب کلاس ختم ہوئی اور شہید باہر نکلے، اس نے انہیں پیچھے سے پکڑ کر بم دھماکہ کیا۔ شہید کے ہاتھ کٹ گئے اور شکم چاک ہوگیا۔ انہیں فوراً اسپتال لے گئے لیکن دیر ہو چکی تھی۔ اس حملے میں علویان بھی مارا گیا تھا۔محمد؛ کردستان کا مسیحا
جتھےکے سامنے کھڑے لوگ پہلے حملے پر حیران رہ گئے، اس لیے وہ فورا بھاگ اٹھے۔ سڑک پرسکون ہو گئی اور لوگوں نے دکانوں کے شٹر اٹھا کر سکون کا سانس لیا۔1
...
گذشتہ مطالب
سب سے زیادہ دیکھے جانے والے
میکائیل احمد زادہ کی یادداشت کا ایک ٹکڑا
عراقی سپاہی چیخنا چاہتا تھا، لیکن ہمارے بہادر کمانڈو نے چاقو پر اور زور دےکر اسے سمجھا دیا کہ اب کچھ نہیں ہو سکتا اور اسے خاموش رہنا چاہیے۔ وہ درخت کے پتے کی طرح کانپ رہا تھا اور اس کی زبان گنگ ہو گئی تھی"1987 میں حج کا خونی واقعہ"
دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیںساواکی افراد کے ساتھ سفر!
اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!
کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح
دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
